تفصیل

شیخ حسینہ کی حالیہ عوامی برطرفی ایک روشن اُمید کی کرن کے طور پر سامنے آئی ہے، جو امید پیدا کرتی ہے، اگرچہ ماضی کے تجربات اور موجودہ چیلنجوں کے باعث یہ احتیاط کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ایسی ہی امیدوں اور خدشات کے درمیان، ہمارے مہمانوں نے اس انقلاب کے امتی اثرات، چیلنجز اور داؤ پر لگے ہوئے مفادات کا جائزہ لیا، اور بنگلہ دیش کے کردار اور امکانات پر گفتگو کی — کہ وہ وسیع تر اُمتی تناظر میں کیا مقام رکھتا ہے، اور اسلام سیاسی اصلاح میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس اجلاس میں نگران حکومت کے لیے مواقع اور خطرات، بین الاقوامی تعلقات کے انتظام، اور وسیع تر اُمت کے کردار پر بھی بات کی گئی کہ وہ بنگلہ دیش کی ترقی میں کس طرح معاون ہو سکتی ہے۔ یہ مکالمہ دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسلم اکثریتی ریاست کی تاریخ کے ایک نئے باب پر تجزیاتی نظر ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔

ڈاکٹر محمود الرحمٰن بنگلہ دیش کی سیاسی زندگی میں ایک ممتاز شخصیت ہیں جنہوں نے مختلف میدانوں میں نمایاں کارنامے انجام دیے۔ وہ بنگالی روزنامہ “امار دیش” کے مالکان اور قائم مقام مدیران میں سے ایک ہیں۔ صحافت سے ہٹ کر، ڈاکٹر رحمٰن انجینئرنگ اور بزنس کے پس منظر رکھتے ہیں، جس کی بدولت وہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں قومی سرمایہ کاری بورڈ کے ایگزیکٹو چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، اور بعد ازاں بنگلہ دیش کے قومی توانائی مشیر بھی رہے۔ 2008 سے وہ اپنی اخبار کے ذریعے حکومت کے شدید ناقد رہے، جس کے نتیجے میں ان پر ہتکِ عزت اور بغاوت کے متعدد مقدمات قائم کیے گئے — جنہیں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے عدالتی ہراسانی قرار دیا۔ وہ بنگلہ اور انگریزی زبان میں کئی کتب کے مصنف ہیں، جن میں ان کی تازہ ترین کتاب “مسلم بنگال کی سیاسی تاریخ: ایمان کی ایک نامکمل جنگ” ہے۔

ڈاکٹر رفیق عبدالسلام ایک تیونسی سیاستدان اور النہضہ پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ہیں۔ وہ 2011 سے 2013 تک تیونس کی پہلی جمہوری طور پر منتخب حکومت میں وزیرِ خارجہ رہے، جو وزیرِ اعظم حمادی جبالی کی زیرِ قیادت تھی۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے 1980 کی دہائی میں “تیونسی اسٹوڈنٹس جنرل یونین” کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ لندن میں قائم “سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز (CSDS)” کے بانی و ڈائریکٹر، “مغرب ریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن سینٹر” کے بانی، اور “لندن پلیٹ فارم فار ڈائیلاگ” کے سابق چیئرمین ہیں۔ وہ الجزیرہ سینٹر فار اسٹڈیز میں سینئر ریسرچر اور ریسرچ اینڈ اسٹڈیز آفس کے سربراہ کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر سے سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

ڈاکٹر تنزین دوحہ یونیورسٹی آف پٹسبرگ میں بشریات (بشریات) کے وزیٹنگ اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ سنگ میل: اسلامی دنیا پر تبصرہ نامی جریدے کے بانی اور مدیرِ اعلیٰ ہیں، نیز سب کچھ آگ ہے۔ پوڈکاسٹ کے بانی اور میزبان بھی ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس سے بشریات میں پی ایچ ڈی کی ہے، اور کارنیل یونیورسٹی کے "ایناوڈی سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹڈیز” میں “عالمی نسلی انصاف” پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔

ڈاکٹر اسامہ الازمی (فری یونیورسٹی، ایمسٹرڈیم) نے گفتگو اور سوال و جواب کے سیشن کی نظامت کی۔

ہفتہ، 31 اگست 2024، بوقت 11 بجے صبح (امریکی مشرقی وقت)

خلاصہ

مقررین

ڈاکٹر محمود الرحمن: جیو پولیٹیکل و تاریخی پس منظر
  • آزادی کے بعد سے بنگلہ دیش اپنے ہمسایہ ممالک، خصوصاً بھارت، کے درمیان طاقت کی کشمکش میں پھنس چکاہے۔ پندرہ برس تک شیخ حسینہ کی حکومت کے دوران بنگلہ دیش عملاً بھارتی بالادستی کے زیرِ اثر رہا، جس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی پامالیاں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور جمہوری آزادیوں کی پامالی دیکھنے میں آئی۔
  • امریکہ کی "دہشت گردی کے خلاف جنگ” میں ایک اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر بھارت نے بنگلہ دیش پر اپنی بالادستی قائم کی اور اس کے پندرہ سالہ جمہوری تجربے (١٩٩١–٢٠٠٦) کو ختم کر دیا۔
  • بھارت بنگلہ دیش کو اپنے علاقائی اسٹریٹیجک مفادات اور ایسے متوقع خطرات، جن میں چین اور سیاسی اسلام شامل ہیں، کے پیش نظر ایک کلیدی حیثیت کا حامل سمجھتا ہے۔
  • بنگلہ دیش میں بھارت کی نسبتاً بڑی اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے باوجود وہاں بھارتی بالادستی کے منصوبوں کی ناکامی نیپال، سری لنکا اور افغانستان میں اس کی سابقہ ناکامیوں سے مشابہ ہے۔
  • موجودہ بنگلہ دیش کی صورتِ حال میں عرب بہار (Arab Spring) کے ساتھ نمایاں مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ دونوں تحریکوں کا آغاز نوجوانوں کے احتجاج سے ہوا، جو آمرانہ نظامِ حکومت کے خلاف اٹھے، اور جنہیں بعض نمایاں احتجاجی شخصیات کی شہادت نے ایک فیصلہ کن تحریک میں تبدیل کر دیا۔ عرب بہار کی غلطیوں سے بچنے کے لیے، بنگلہ دیش کے لیے ضروری ہے کہ وہ قومی خودمختاری (sovereignty) کی بحالی اور جمہوری نظام کی طرف منتقلی پر توجہ مرکوز کرے۔
ڈاکٹر تنزین دوحہ: اسلام کے سوال پر
  • بنگلہ دیشی ریاست اور معاشرے میں اسلام کے کردار کا سوال تاحال غیر متعین ہے۔ جہاں ڈاکٹر رحمان سابقہ نظامِ حکومت کو "فاشسٹ” قرار دیتے ہیں، وہیں ڈاکٹر دوحہ اسے ایک "سیکولر نیکروپولیٹیکل نظام” سے تعبیر کرتے ہیں، جس کی بنیاد آئینی جواز کے ساتھ موت کی سیاست (death-dealing) پر استوار تھی۔ سنہ ۱۹۷۱ء کی تحریکِ آزادی کے بیانیے میں بھی اس کی جھلک ملتی ہے، جہاں بنگلہ دیشی قومیت نے اپنی شناخت کو اُمت اور مسلم سیاسی تشخص کے مقابل قائم کیا۔
  • نقلاب کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ بنگلہ دیشی ریاست اور معاشرے میں اسلام کے کردار سے متعلق سیاسی تشکیل کا تنقیدی ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔
  • "مابعدِ اسلامیت” اور "مابعدِ نظریہ” جیسے تصورات کی قبل از وقت بحث دراصل اس بنیادی سوال کو غیر حل شدہ چھوڑ دینے کی ایک کوشش ہے۔
ڈاکٹر رفیق عبدالسلام: انقلاب کی نوعیت اور اس کے جمہوری امکانات
  • ہر واقعے کی انفرادیت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی، بنگلہ دیشی انقلاب اور عرب بہار کے درمیان مماثلتیں ایک مشترک اُمّتی شعور کی عکاسی کرتی ہیں۔
  • بنگلہ دیش کے انقلاب کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ سابقہ نظام کی ساختوں—بشمول عدلیہ اور سکیورٹی اداروں—کو تحلیل کرے، بصورتِ دیگر انقلاب کے اغوا یا اس کے الٹ جانے کا اندیشہ باقی رہے گا۔ انتخابی عمل پر مبنی تبدیلی کو اس وقت تک مؤخر رکھا جانا چاہیے جب تک پرانے نظام کا خاتمہ اور ایک نئی سیاسی بنیاد کی تشکیل عمل میں نہ آ جائے، تاکہ تیونس اور مصر میں قبل از وقت انتخابی سیاست کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے اجتناب ممکن ہو سکے۔
  • ومی وحدت کے قیام کے لیے نسلی، مذہبی اور مسلکی تقسیمات سے بالاتر ہونا ناگزیر ہے، تاکہ شام، لیبیا اور یمن میں پیش آنے والی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
  • بنگلہ دیش کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جمہوری منتقلی کی تقویت کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر اتحاد قائم کرے۔ عرب بہار کے تناظر میں بیرونی تائید کے فقدان نے انقلابات کو ایک منظم مخالفِ انقلاب محاذ کے مقابلے میں کمزور کر دیا تھا۔ بنگلہ دیش کو بھی اسی نوع کے چیلنجز درپیش ہیں، خصوصاً بھارت کے اثر و نفوذ کا تدارک اور ایسے حلیفوں کی تلاش جو اس کی خودمختاری کا احترام کریں۔
  • اگرچہ کسی ہمہ گیر نظریاتی پروگرام کی فوری ضرورت نہیں، تاہم ایک واضح فکری سمت اور ترجیحات کا تعین ناگزیر ہے، جو مختلف سیاسی قوتوں کو یکجا کر سکے۔ مزید برآں، آزادی اور جمہوریت کی خواہش کو استحکام اور بالادستیِ قانون کے تقاضوں کے ساتھ متوازن رکھنا ضروری ہے، کیونکہ حد سے بڑھی ہوئی بے نظمی عوامی ردِ عمل کو جنم دے سکتی ہے اور سابقہ نظام کے استحکام کی طرف میلان پیدا ہو سکتا ہے۔

سوال و جواب اور مباحثے کے اہم نکات

انقلاب
  • اگرچہ بنگلہ دیش میں ہونے والی تبدیلیاں اہم ہیں، تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا وہ حقیقی معنوں میں انقلاب کی شکل اختیار کرتی ہیں یا نہیں۔ ایک انقلاب سے مراد سیاسی اور سماجی نظام میں گہری اور پائیدار تبدیلیاں ہوتی ہیں، جو محض قیادت کی تبدیلی تک محدود نہیں ہوتیں جیسا کہ عام بغاوتوں میں ہوتا ہے۔
  • سنہ ۲۰۱۳ء کا شاپلا احتجاجی تحریک، جو حکومتی سرپرستی میں چلنے والی شاہ باغ تحریک کے ردِ عمل میں برپا ہوی، ایک ایسی ناکام بغاوت کی مثال ہے جو انقلاب کی صورت اختیار نہ کر سکی۔ ریاست نے اُس وقت مدارس کے طلبہ کے خلاف—جو نبی اکرم ﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے—اپنی پوری جبری قوت استعمال کی، اور اسے “انسدادِ دہشت گردی” کے معاصر بیانیے کے تحت جواز فراہم کرتے ہوئے مغربی حمایت بھی حاصل کی۔ طبقاتی تناظر اس امر کو واضح کرتا ہے کہ جہاں موجودہ احتجاجی لہر کو شہری تعلیم یافتہ متوسط طبقات کی تائید حاصل ہے، وہیں ۲۰۱۳ء کی دیہی پس منظر رکھنے والی، مدارس کی قیادت میں اٹھنے والی تحریک کو اس نوع کی حمایت میسر نہ آ سکی۔
  • بنگلہ دیش میں انقلاب کی ضرورت اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ جو لوگ خود کو سیکولر کہتے ہیں وہ درحقیقت شدید اسلام دشمنی کے حامل ہیں۔ یہ ایک ایسے بنگالی قوم پرستی کے بیانیے میں جڑا ہوا ہے جس کی ابتدا برطانوی قیادت میں ہونے والی ہندو مرکزیت رکھنے والی اٹھارہویں صدی کی بنگال نشاۃ ثانیہ سے ہوتی ہے، جس میں مسلم اکثریت کو بیرونی عناصر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ ایک متبادل بنگالی مسلم بیانیہ تشکیل دیا جائے، جو شاید ڈاکٹر رحمن کے مشورے کے مطابق تیرہویں صدی کی بنگال سلطنت کی بنیاد پر استوار ہو۔
  • انقلاب کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بنگلہ دیشی ریاست اور معاشرے کے ہر سطح پر بھارتی ریاستی اور سکیورٹی ڈھانچوں کے اثر و نفوذ کو کمزور کر کے قومی خودمختاری کی بازیافت کی جائے۔
جمہوریت
  • جمہوریت، جسے مسلم مفکرین ایک عرصے سے قبول کرتے اور اس کی وکالت کرتے آئے ہیں، لازم نہیں کہ صرف مغربی لبرل جمہوریت ہی کے مفہوم میں محدود ہو، بلکہ اس کے بالمقابل اسلامی جمہوریت کا تصور بھی اپنی معنویت رکھتا ہے۔
  • غربی لبرل جمہوریت میں جہاں حدود و قیود کا تعین لبرل ازم اور اس کی اقدار کے ذریعے ہوتا ہے، وہیں اسلامی جمہوریت میں یہ سرحدیں اسلام اور اسلامی اقدار کے تابع متعین ہوتی ہیں۔
  • مسلم دنیا میں خود لبرل جمہوریت بھی اپنی حقیقی صورت میں اس لیے بروئے کار نہیں آنے دی جاتی کہ اس میں عوامی آزادی کا امکان مضمر ہے۔ عوامی سطح پر جمہوریت کو جہاں حصولِ آزادی کے ایک وسیلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، وہیں بین الاقوامی قوتیں اسے مداخلت اور لبرلائزیشن کے آلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
  • اسی طرح، جہاں دیگر معاشروں میں سیکولر ازم کو روشن خیالی اور آزادی کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے، وہیں مسلم دنیا میں اس کی تاریخی تشکیل عوامی امنگوں کے برخلاف استبداد اور آمریت سے وابستہ رہی ہے۔
قومی ریاست
  • قومی ریاست ایک حاکمانہ تصور ہے، جب کہ اُمت فی الحال ایک تصوراتی تصور کی حیثیت رکھتی ہے جس کی کوئی ٹھوس عملی صورت موجود نہیں۔
  • اگرچہ بعض حالات میں اسلام اور قومیت جیسی بظاہر متضاد قدروں کے امتزاج میں کسی حد تک کامیابی بھی دیکھی گئی ہے، جیسا کہ ترکی کی مثال میں،تاہم یہ مثالیں بھی اس امر کی واضح نشاندہی کرتی ہیں کہ قومیت اُمّتی یکجہتی اور اجتماعی عمل کو کس قدر محدود کر دیتی ہے، جس کا اظہار غزہ میں جاری نسل کشی پر ترک ردِ عمل میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
  • بنگلہ دیش میں قومی ریاست کے بیانیے کو چیلنج کرنے کے لیے ١٩٧١ کے بیانیے کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا، جس میں درج ذیل نکات کو اجاگر کرنا ضروری ہے:
    اوّل یہ کہ پاکستانی حکمران اشرافیہ کا جبر و استحصال محض بنگالیوں تک محدود نہ تھا، بلکہ دیگر محروم نسلی گروہوں کو بھی اسی طرح اس کا سامنا تھا؛ دوم یہ کہ بھارت نے اپنے مفادات کے تحت اس تنازع کو بڑھانے میں کردار ادا کیا تاکہ پاکستان کو تقسیم کیا جا سکے، جو بھارتی بالادستی کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔ سوم یہ کہ بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کو سنہ ۱۹۷۱ء کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے: اگرچہ تقسیم کی مخالفت سیاسی اعتبار سے قابلِ فہم تھی، تاہمپاکستانی فوج کی حمایت کی غلطی کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر محمود الرحمن

ڈاکٹر محمود الرحمن بنگلہ دیشی سیاسی زندگی کی ایک ممتاز شخصیت ہیں جن کی مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں ہیں۔ وہ بنگالی روزنامہ امر دیش کے مالک اور قائم مقام ایڈیٹر میں سے ایک ہیں۔ صحافت سے ہٹ کر، رحمان کا انجینئرنگ اور کاروبار کا پس منظر ہے جس کی وجہ سے وہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں قومی سرمایہ کاری بورڈ کے ایگزیکٹو چیئرمین کے طور پر کام کر سکے اور بعد میں بنگلہ دیش کے قومی توانائی مشیر بن گئے۔ 2008 کے بعد سے، وہ اپنے اخبار کے ذریعے حکومت کے ایک بھرپور ناقد رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے خلاف بے شمار ہتک عزت اور بغاوت کے مقدمات درج کیے گئے جن کی خصوصیت بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپوں نے عدالتی ہراسانی کے طور پر کی تھی۔ رحمان بنگلہ اور انگریزی میں کئی کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں سے تازہ ترین کتاب "مسلم بنگال کی سیاسی تاریخ: ایمان کی ایک نامکمل جنگ" ہے۔

ڈاکٹر رفیق عبدالسلام

ڈاکٹر رفیق عبدالسلام تیونس کے سیاست دان اور النہضہ پارٹی کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ہیں۔ انہوں نے 2011 اور 2013 کے درمیان وزیر خارجہ کے طور پر خدمات انجام دیں، وزیر اعظم حمادی جبالی کے تحت تیونس کی پہلی جمہوری طور پر منتخب حکومت کی نمائندگی کی۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے 1980 کی دہائی میں تیونس اسٹوڈنٹ جنرل یونین کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ لندن میں قائم سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز (CSDS) کے بانی اور ڈائریکٹر ہیں، تحقیق اور ترجمہ کے لئے مغرب مرکز کے بانی، اور لندن پلیٹ فارم فار ڈائیلاگ کے سابق چیئر ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے ایک سینئر محقق اور الجزیرہ سینٹر فار اسٹڈیز میں ریسرچ اینڈ اسٹڈیز آفس کے سربراہ کے طور پر بھی کام کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر سے سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی کی ہے اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

ڈاکٹر تنزین دوحہ

ڈاکٹر تنزین دوہا یونیورسٹی آف پٹسبرگ میں بشریات کے وزٹنگ اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ جرنل میگزین سنگ میل: اسلامی دنیا پر تبصرہ کے بانی اور جنرل ایڈیٹر ہیں، ساتھ ہی ساتھ پوڈ کاسٹ ہر چیز آگ ہے۔ کے بانی اور میزبان ہیں۔ اس نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس سے بشریات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور کارنیل یونیورسٹی کے عینودی سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹڈیز میں "عالمی نسلی انصاف" کے پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو تھے۔

مزید دریافت کریں۔

ایڈوانسڈ اے آئی کے لیے ایک امتی وژن کی طرف

دسمبر 20, 2025
ڈاکٹر جنید قادر

کیا اسلام پسند اب بھی اسلام پسند ہیں؟

نومبر 19, 2025
ڈاکٹر سمیہ ساکریا

سائبر امت، الگورتھمک بالادستی، اور ڈیجیٹل ڈیکالونائزیشن

اکتوبر 30, 2025
ڈاکٹر سحر خامس

نیویگیٹ کریں

امّیٹکس فورمز
توجہ کے علاقے
تحقیقی مقالات
اشاعتیں
امّیٹکس کے بارے میں
تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

ہمارے نیوز لیٹر میں سائن اپ کریں۔