امت اقتصادی اتحاد کے امکانات

کے بارے میں

ہمارے فروری کی مجلسِ مذاکرہ میں یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے ترقیاتی معاشیات کے ماہر ڈاکٹر عدیل ملک نے اُمتی معاشی اتحاد کے امکانات پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر ملک نے اپنی گفتگو کا آغاز مسلم دنیا میں پائے جانے والے نمایاں معاشی انتشار کی نشاندہی سے کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ اس جاری مسئلے کو اسلام کی اخلاقی معیشت کے تاریخی مطالعے کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اُمتی تجربے میں معیشت کی مرکزی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر ملک نے معاشی یکجہتی کے تصور کو ایک وسیع توحیدی اخلاقی فکر کے حصے کے طور پر پیش کیا۔ اُن کے مطابق یہ اخلاقی یکجہتی اگرچہ بنیادی طور پر مسلمانوں اور اُن کے معاشروں سے متعلق ہے، لیکن ساتھ ہی یہ وسیع انسانی روابط کے لیے بھی ایک قابلِ عمل نمونہ فراہم کرتی ہے۔ ڈاکٹر ملک کے مطابق اسلامی اخلاقی معیشت کا ایک بنیادی تصور "گردش” ہے، جو معاشی روابط اور الٰہی نظم کے درمیان گہرے تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔ اس ضمن میں وہ انسانی تعلقات کے دو پہلو بیان کرتے ہیں۔ ایک ظاہری پہلو، جس میں لوگوں کے درمیان آزاد تجارت شامل ہے، اور دوسرا باطنی پہلو، جو خدا کے ساتھ روحانی تعلق سے مربوط ہے۔ اُن کے مطابق اسلام میں تجارت اور خیرات کے اعمال محض ضمنی اہمیت نہیں رکھتے بلکہ اخلاقی معیشت کے مرکزی اجزا ہیں، کیونکہ یہ اُس الٰہی نظم کا حصہ ہیں جسے اسلام درست اور مطلوب قرار دیتا ہے۔ یہ اس لیے کہ اسلامی اخلاقی معیشت ایک ایسے جامع عالمی تصور کو فروغ دیتی ہے جو جدید سرمایہ داری کے محدود مفاد پر مبنی تصور "زیرو سم” سے مختلف ہے، جہاں بعض لوگوں کا فائدہ دوسروں کے نقصان سے وابستہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اسلام دوسروں اور پوری برادری کی خوشحالی میں حصہ ڈالنے کی ترغیب دیتا ہے، جس سے اجتماعی فلاح و بہبود کا احساس مضبوط ہوتا ہے۔ تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر ملک نے نشاندہی کی کہ اسلام سے پہلے معاشی تحفظ تقریباً موجود نہیں تھا؛ چوری اور لوٹ مار عام تھیں۔ اُن کے مطابق قبل از اسلام مشرکانہ نظام محض بت پرستی تک محدود نہیں تھا، بلکہ اُس کے ساتھ ایک ایسی سیاسی معیشت بھی وابستہ تھی جو قبائلی کشمکش اور اقتدار کی جدوجہد پر قائم تھی، اور جس میں وسائل تک منظم اور مساوی رسائی کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ اسلام نے اس پورے ڈھانچے کو بدلتے ہوئے توحید کی بنیاد پر ایک نیا معاشی اور تجارتی تصور پیش کیا۔ ڈاکٹر ملک کے نزدیک یہ صورتِ حال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سیاسی اور معاشی اتحاد ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کے مطابق اسلام کے ظہور نے ایک ایسا اخلاقی نظام متعارف کروایا جس نے تجارت اور معاشی روابط کو نئے اصولوں کے تحت منظم کیا، اور سماجی انصاف پر مبنی ایک نئی اخلاقی یکجہتی کو فروغ دیا۔ اسی تناظر میں مسلم دنیا کا موجودہ معاشی انتشار دراصل اس کے منتشر سیاسی منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مختلف ریاستیں اپنے اپنے الگ معاشی نظام برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ نتیجتاً یہ سیاسی انتشار مزید مضبوط ہوتا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے قبل از اسلام عرب میں صورتِ حال تھی۔ اسلام اس صورتِ حال کا حل بازار کی دو بنیادی خصوصیات، یعنی خودمختاری اور شرکت، پر زور دے کر پیش کرتا ہے۔ قبل از اسلام بازاروں کے برعکس، اسلام نے بازار کو ہر فرد کے لیے قابلِ رسائی بنایا اور ایک ایسے نظام کو فروغ دیا جو معاشی روابط کو اخلاقی اور دینی اصولوں کے تحت منظم کرتا ہے۔ یکجہتی پر مبنی یہی معاشی تصور اسلامی تہذیب کی ایک بنیادی خصوصیت بن گیا، اور اگر آج اسے صحیح طور پر اختیار کیا جائے تو یہ مختلف برادریوں کو ایک مشترک اُمتی نظم میں جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر ملک نے اپنی گفتگو کا اختتام موجودہ معاشی نظام کو درپیش تین بڑے چیلنجوں پر گفتگو کرتے ہوئے کیا: تجارت سے متعلق منفی بیانیہ، تنگ نظر قوم پرستی، اور شدید معاشی ناہمواری۔ اُن کے مطابق تجارت کے بارے میں منفی تصورات اُس سوچ پر مبنی ہیں جس میں ایک فریق کا فائدہ دوسرے کے نقصان سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح تنگ نظر قوم پرستی مشترک اخلاقی معیشت کی تشکیل میں رکاوٹ بنتی ہے، جبکہ شدید معاشی ناہمواری امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو نمایاں کرتی ہے۔ ڈاکٹر ملک نے اس بات پر زور دیا کہ امت کے بارے میں کوئی بھی گفتگو اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک ان معاشی، تجارتی اور اجتماعی وژن سے متعلق مسائل کو سنجیدگی سے زیرِ بحث نہ لایا جائے۔ اُن کے مطابق مربوط بازار موجودہ جغرافیائی سیاسی منظرنامے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ سرمایہ دارانہ طاقت کے ارتکاز کو چیلنج کرتے ہیں اور امت کے لیے نئے امکانات پیدا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ملک کے نزدیک موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے اور اُمتی اتحاد کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک نئے معاشی اور جغرافیائی سیاسی وژن کی ضرورت ہے۔ اُن کے مطابق یہ نیا وژن موجودہ طاقت کے ڈھانچوں کو چیلنج کرتے ہوئے ایک زیادہ متحد اور خوشحال مسلم دنیا کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر عدیل ملک

عدیل ملک ایک مضبوط کثیر الضابطہ رجحان کے ساتھ ایک ترقیاتی میکرو اکانومسٹ ہیں۔ ان کی تحقیق طویل المدتی ترقی، سیاسی معیشت اور معاشی تاریخ پر مرکوز ہے، جس میں مسلم معاشروں پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ مقداری اور معیاری تحقیقی طریقوں کو یکجا کرتے ہوئے، وہ ترقی کے بارے میں کراس کنٹری تجرباتی مطالعات میں مشغول ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 'دی اکنامکس آف دی عرب اسپرنگ' پر ان کے حالیہ مضمون کو بہترین کاغذ کا ایوارڈ ملا اور اس کا عربی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو کر دی اکانومسٹ میگزین میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ ڈاکٹر مالک IFPRI کی مالی اعانت سے چلنے والے منصوبے کے ایک حصے کے طور پر پاکستان میں مذہب، زمین اور سیاست کے درمیان تعامل کو بھی دریافت کرتے ہیں۔ انہوں نے آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک سٹڈیز میں مسلم معاشروں کی معیشتوں میں گلوب فیلوشپ حاصل کی ہے اور وہ پالگریو ڈکشنری آف اکنامکس (مشرق وسطی معاشیات اور مالیات) کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سیاسی معیشت پر ان کی تحقیق CNN، فارچیون میگزین، اور دیگر ممتاز میڈیا آؤٹ لیٹس میں نمایاں ہوئی ہے۔

مزید دریافت کریں۔

ایڈوانسڈ اے آئی کے لیے ایک امتی وژن کی طرف

دسمبر 20, 2025
ڈاکٹر جنید قادر

کیا اسلام پسند اب بھی اسلام پسند ہیں؟

نومبر 19, 2025
ڈاکٹر سمیہ ساکریا

سائبر امت، الگورتھمک بالادستی، اور ڈیجیٹل ڈیکالونائزیشن

اکتوبر 30, 2025
ڈاکٹر سحر خامس

نیویگیٹ کریں

امّیٹکس فورمز
توجہ کے علاقے
تحقیقی مقالات
اشاعتیں
امّیٹکس کے بارے میں
تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

ہمارے نیوز لیٹر میں سائن اپ کریں۔