دلیلِ دوم: ماضی—نشانِ راہ، نہ کہ رکاوٹ

یہ مقالہ وحدتِ امت کے موضوع پر پیش کیے جانے والے ایک سلسلہ وار علمی مکالمے کا دوسرا حصّہ ہے،اس سلسلے کا تعارفی مضمون یہاں ملاحظہ فرمائیں:

خلاصہ

امتِ مسلمہ کی سیاسی وحدت، نہ صرف ایک قطعی قرآنی تقاضا ہے بلکہ تاریخ کے تناظر میں اس کی بقاء اور ترقی کے لیے ایک بنیادی شرط بھی ہے۔ ماضی میں داخلی اختلافات اور نزاعات نے بلاشبہ اس راہ میں رکاوٹیں پیدا کیں، لیکن ان واقعات کو بنیاد بنا کر وحدتِ امت کے نظریے کو رد کرنا یا اسے نقصان دہ قرار دینا درست نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی تہذیب نے اپنے فکری اور اعتقادی ہم آہنگی، مشترکہ قانونی نظام، اور وسیع تجارتی روابط کے ذریعے، سیاسی تقسیم کے باوجود، ایک مربوط تمدنی وحدت قائم رکھی۔ اگرچہ ماضی میں ذرائع ابلاغ کی کمی اور عالمی حالات نے مکمل سیاسی یکجہتی کو مشکل بنا رکھا تھا، لیکن آج کے دور میں یہ رکاوٹیں بڑی حد تک ختم ہو چکی ہیں۔ چنانچہ وحدتِ امت کے امکانات نہ صرف کہیں زیادہ روشن ہیں بلکہ اس کے ممکنہ فوائد اُن چیلنجز پر بھاری ہیں جو اس کے راستے میں آ سکتے ہیں۔ یہ وقت کی ایک واضح اور فوری ضرورت ہے کہ مسلمان، تاریخ سے سبق لیتے ہوئے، نئے عزم اور بصیرت کے ساتھ مستقبل کی وحدت کی طرف پیش قدمی کریں۔

"کاش میری ماں نے مجھے جنم ہی نہ دیا ہوتا، اور میں اس اندوہناک سانحے سے پہلے ہی خاک میں مل چکا ہوتا—ایک ایسا واقعہ ہے جس کی نظیر تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی”۔  یہ دل گرفتہ الفاظ عظیم مؤرخ ابن الاثیر (وفات: 630ھ / 1233ء) نے مشرق کی عظیم اسلامی تہذیبوں کے انہدام پر شدید رنج و اندوہ کے عالم میں رقم کیے۔ لیکن یہ تو گویا محض آغاز تھا۔

وہ مسلم شہر، جو کبھی علم و حکمت کے عظیم مراکز ہوا کرتے تھے، اب ان کے مکتب قیامت کی علامات پر لکھی گئی کتابوں سے بھر چکے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے نہ صرف اسلام کی عظیم داستان اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے، بلکہ دنیا کا باب بھی بند ہونے کو ہے۔ ہر سو ایک ہی نوحہ سنائی دیتا تھا، جیسے آثارِ قیامت زمین پر ظاہر ہو چکے ہوں۔ منگولوں کی خون آشام یلغار کو دیکھ کر بہت سے لوگ اس گمان میں مبتلا ہو چکے تھے کہ یہ وہی یأجوج و مأجوج ہیں جن کی خبر الہامی صحائف میں دی گئی تھی۔ اور پھر  1258ء کا وہ المناک لمحہ بھی بالآخر آ پہنچا، جب بغداد—جو صدیوں سے اسلامی دنیا کا قلب تھا—منگول افواج کے ہاتھوں تاراج ہوا۔ یہ ایسا کاری زخم تھا جس سے بغداد پھر کبھی نہ سنبھل سکا۔

صرف دو صدیاں ہی گزری تھیں کہ اسلام نہ صرف باقی رہا، بلکہ 1453ء میں فتحِ قسطنطنیہ کے تاریخی واقعے کے ساتھ ایک نئے عروج سے ہمکنار ہوا۔ اسی زمانے میں برصغیر میں مغلیہ سلطنت کا سورج طلوع ہونے کو تھا، اور مغربی افریقہ سے جنوب مشرقی ایشیا تک اسلام اپنی جڑیں مضبوط کر چکا تھا۔ نامور امریکی مورخ مارشل ہوڈسن (Marshall Hodgson) نے ایک دلچسپ قیاس پیش کیا کہ اگر پندرہویں صدی عیسوی میں کسی اور سیارے سے کوئی مخلوق، مثلاً مریخ کا باشندہ، زمین پر آتا اور یہاں کے حالات کی روشنی میں آئندہ کے امکانات کا اندازہ لگاتا، تو وہ یقیناً یہی نتیجہ اخذ کرتا کہ عنقریب ساری دنیا پر اسلام کا غلبہ قائم ہونے والا ہے۔اس دور میں اسلام کی پیش قدمی ایک ایسی نا قابلِ مزاحمت تحریک محسوس ہوتی تھی جسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی تھی۔

مسلمانوں کے نزدیک فتحِ قسطنطنیہ محض ایک فوجی کامیابی نہ تھی، بلکہ اس کی حیثیت رسولِ اکرم کی ایک عظیم الشان بشارت کی تکمیل کے طور پر تھی۔ آپ نے اس فتح کی خوشخبری دی تھی اور اس لشکر کو مبارک قرار دیا تھا جو اس شہر پر حملہ آور ہوگا یا اسے فتح کرے گا۔ چنانچہ اسلام کے ابتدائی عہد سے ہی قسطنطنیہ کی فتح اہلِ ایمان کا ایک مقدس ہدف بن گیا تھا —ایسا ہدف جس کے حصول کے لیے کئی عظیم المرتبہ صحابۂ کرامؓ نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق ان مجاہدین میں عبد اللہ بن زبیرؓ، عبد اللہ بن عمرؓ، اور بعض روایات کے مطابق حضرت حسینؓ بھی شامل تھے۔ یہ سب اس بابرکت مہم میں شریک ہوئے، مگر فتح کا اعزاز کسی اور کا مقدر تھا۔

آٹھ صدیوں سے بھی زائد عرصہ گزر جانے کے بعد، عثمانی فرماں روا سلطان محمد فاتح (وفات: 886ھ / 1481ء) نے وہ عظیم کارنامہ سرانجام دینے کا عزم کیا جسے خود صحابۂ کرامؓ، اپنی تمام تر کاوشوں کے باوجود، پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا سکے تھے،اور بالآخر وہ اس میں کامیاب ہوا۔ تاریخ نہ تواُس کے لیے رکاوٹ بنی، اور نہ ہی مایوسی کا حوالہ؛ بلکہ وہ اس کے لیے ایک چراغِ راہ بنی۔ ہمیں بھی تاریخ کو محض ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ مستقبل کی تشکیل کا محرک اور زادِ راہ سمجھنا چاہیے۔

بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ چونکہ اسلامی دنیا تاریخ میں کبھی مکمل طور پر کسی واحد سیاسی نظم کے تحت مجتمع نہیں رہی، اس لیے ایک متحد مسلم مستقبل کا تصور نہ صرف ایک خام خیالی ہے بلکہ ایک خطرناک خوش فہمی بھی۔ ہماری فکری یادداشت پر ماضی کی بعض تعبیرات اس حد تک غالب آ چکی ہیں کہ ہم اپنے داخلی اضطراب کو دبا نے کے لیے نہ صرف اُن عقائد میں تاویلات پیدا کرنے لگتے ہیں جن پر اہلِ علم کا اجماع رہا ہے، بلکہ اُن تاریخی حقائق سے بھی نگاہیں چُرانے لگتے ہیں جو روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں ۔ یقیناً کچھ لوگ ماضی کی رومانویت میں اس حد تک گرفتار ہو جاتے ہیں کہ اپنے اسلاف کو معصوم سمجھنے لگتے ہیں، مگر اس سے کہیں زیادہ فکری پریشانی کا باعث وہ طرزِ فکر ہے جو ماضی کی کامیابیوں کو ایسا بلند نمونہ سمجھتی ہے کہ انسان حال میں کچھ کرنے کی ہمت ہی نہیں کر پاتا، اور مستقبل کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔

اس پوری بحث میں میری اصل تشویش اُن ذہنی رجحانات سے متعلق ہے جو نیم خواندہ افراد، خستہ حال کارکنان، یا اُن عناصر کے ہاں پائے جاتے ہیں جو پس پردہ مستشرقانہ زاویۂ نگاہ کے حامل ہوتے ہیں۔ بدگمانی، مایوسی، اور طنز پر مبنی تجزیے—اگرچہ بظاہر آج کے فکری ماحول میں نہایت شائستہ اور "دانشورانہ” محسوس ہوتے ہیں—درحقیقت ایک مخصوص طبقے کی فکری آسائش کی علامت ہیں، جو وقتی طور پر موجودہ نظام کی عطا کردہ سہولتوں سے متمتع ہو رہا ہوتا ہے۔ ایسے افراد بظاہر امت کے زخموں پر آہ بھرتے دکھائی دیتے ہیں، مگر وہ کسی ایسے اقدام سے گریز کرتے ہیں جو ان کے آرام میں خلل ڈالے۔ لیکن ہمارا فرض اس سے کہیں بڑھ کر ہے—ہم ان لاکھوں مسلمانوں کے مقروض ہیں جن کے صرف جسمانی وجود ہی نہیں، بلکہ جن کی روح، اخلاقی حس، اور انسانی وقار بھی مسلسل مٹائے جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔

قرآنِ مجید اس فکری مایوسی کو کسی طور تسلیم نہیں کرتا۔ ربِّ کریم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انبیاءِ کرام کے مخالفین ہر دور میں حق کا انکار کرتے اور اس کے خلاف صف آرا ہوتے رہے ہیں۔ نیز، انسانی فطرت میں کمزوری، نادانی اور سرکشی کی آمیزش بھی ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ مگر ان حقائق کی بنیاد پر نہ تو انسانیت سے مکمل مایوسی کی اجازت دی گئی ہے، اور نہ ہی دعوتِ دین ترک کرنا کسی صورت حالات کا درست تجزیہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اہلِ ایمان کو بارہا یہ حوصلہ دیا گیا ہے کہ وہ منصبِ شہادت علی الناس کو مزید عزم، تازگی اور حکمت کے ساتھ نبھائیں، اور منکرین و قنوطیت پھیلانے والوں کی باتوں سے دل شکستہ نہ ہوں۔ قرآن کا یہی حوصلہ بخش پیغام وہ تاریخ ساز کامیابیاں پیدا کرتا ہے جن کی مثال انسانی تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ تاریخ اکثر خود اپنے ہی امکانات سے حیران کر دیتی ہے، اور یہی حقیقت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تاریخ کبھی بھی ہماری کم ہمت یا محدود سوچ کا جواز نہیں بن سکتی، اور نہ ہی اسے ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھنا چاہیے۔

اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ سیاسی وحدتِ امت ایک شرعی فریضہ ہے—اور سنّی اعتقادی روایت سے وابستہ کسی بھی سنجیدہ مکالمہ نگار کو ایسا تسلیم کرنا ہی ہوگا—تو پھر تاریخ کی مثالیں دے کر اس وحدت کے فقدان کو دلیل بنانا دو پہلوؤں میں سے کسی ایک کی تائید پر منتج ہوگا:

یا تو (معاذ اللہ) یہ تسلیم کیا جائے کہ شریعت نے ایسی چیز کو واجب قرار دیا ہے جو فی الواقع ممکن ہی نہیں،
یا یہ کہ اہلِ ایمان کو احکام الٰہی سے صرفِ نظر کی اجازت ہے۔یا پھر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ چونکہ عملی سطح پر مسلم وحدت ممکن نہیں رہی، اس لیے اب یہ شرعاً بھی واجب نہیں رہی۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا واقعی ایسا ہی ہے؟

چونکہ مستقبل غیر متعین ہے اور اکثر غیر متوقع انداز سے سامنے آتا ہے، اس لیے تشکیک پسند ذہن ناگزیر طور پر تاریخ کو ایک مخصوص زاویے سے دیکھنے لگتے ہیں تاکہ اپنی آراء کی تائید کر سکیں۔ ان کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ اگر خلافتِ اسلامیہ—جو ایک زمانے میں مراکش سے انڈونیشیا تک وسیع علاقوں پر قائم تھی—کو دوبارہ قائم کیا جائے، تو موجودہ پچاس سے زائد قومی ریاستوں کے درمیان موجود تمام اداروں کو یا تو تحلیل کرنا پڑے گا یا تشدد کے ذریعے ان کا صفایا کرنا ہوگا، اور اس کے ساتھ ساتھ تاریخی و مقامی خصوصیات کو مٹانا اور فکری و تہذیبی تنوع کو کلی طور پر ختم کرنا بھی لازم آ جائے گا—اور یہ سب کچھ صرف شدید اور مسلسل جبر سے ہی ممکن ہوگا۔ لیکن یہ تمام مفروضے ایک بنیادی غلط فہمی پر مبنی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں قائم ہونے والی خلافتیں کبھی ایک ہی طرز یا قالب کی حامل نہیں رہیں، بلکہ وہ اپنے دور کی دستیاب سیاسی و انتظامی صورتِ حال کے مطابق مختلف شکلیں اختیار کرتی رہیں۔ خلافت کو ایک مطلق العنان یا آمرانہ نظام کے طور پر پیش کرنا دراصل ایک انحرافی فکری تاثر ہے، جو اس عظیم ادارے کی پیچیدہ اور ارتقائی تاریخی حقیقت کے ساتھ شدید ناانصافی کے مترادف ہے۔

ممکن ہے کہ بعض اوقات مایوسی متقیانہ حقیقت پسندی کے لبادے میں چھپ کر ہمیں اس فریب میں مبتلا کر دے کہ وحدتِ امت کا حصول صرف ظلم، جبر، اور تباہی کی ایک ناقابلِ تصور حد سے گزر کر ہی ممکن ہے۔ بعض افراد اس کے برعکس یہ تصور قائم کر لیتے ہیں کہ مسلمانوں کی موجودہ پستی و محرومی، اس خوفناک تباہی سے بہتر ہے جس کا انہیں اندیشہ ہے۔ یہ وہی ذہنی رویہ ہے جس کی جھلک ہمیں قرونِ وسطیٰ کے اس مشہور مقولے میں ملتی ہے جسے متعدد روایتی مسلم مصنفین نے دہرایا: "ساٹھ سال کا ظلم، ایک دن کے فتنہ و فساد سے بہتر ہے۔” بلاشبہ، یہ مقولہ انارکی کے خلاف ایک احتیاطی تنبیہ کے طور پر بیان ہوا تھا، لیکن اگر اسے من و عن ایک سیاسی اصول کے طور پر اختیار کیا جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فتنہ و فساد کو مطلق شر مانا جائے—ایسا شر، جس سے بچنے کے لیے کوئی بھی حد عبور کی جا سکتی ہے، خواہ وہ اخلاقی اصولوں کی نفی پر ہی کیوں نہ منتج ہو۔

لیکن جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، اُن کے لیے تاریکی کبھی مستقل نہیں ہوتی۔ ظلم و فساد کے خلاف مزاحمت وقتی طور پر غیر مؤثر لگ سکتی ہے، لیکن وہی راستہ ہے جو دینی اور اخلاقی اعتبار سے درست، لازمی اور معیاری ہے۔ اگر اس کے برعکس، خاموشی و لاتعلقی کو اسلامی سیاست کا بنیادی اصول مان لیا جائے، تو پھر نہ صرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا یزید کے خلاف قیام بے معنی ٹھہرے گا، بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کے خلاف انکار بھی۔

اس مایوسی کے پس پردہ ایک خاص نوع کا سیکولر تاریخی تصور کارفرما ہوتا ہے، جو نہ صرف نصرتِ الٰہی کے امکان کو رد کرتا ہے، بلکہ اُن تاریخ ساز انقلابات کو بھی ناقابلِ تصور ٹھہراتا ہے، جو وقتاً فوقتاً انسانی تاریخ میں رونما ہوتے رہے ہیں—اور جنہیں ہم بارہا اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، لیکن ہر بار ان کے ظہور پر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔

یقیناً یہ ایک نہایت تشویشناک بات ہوگی اگر مسلم وحدت کے قیام کی قیمت ایک آمرانہ ریاست کے قیام، مقامی مسلم ثقافتوں اور طرزِ حیات کے خاتمے، مفید اداروں کی تحلیل، یا ایسے مذہبی جبر کی صورت میں ادا کرنا پڑے جو بالآخر لوگوں کو خود دین سے دور کر دے۔ یہ قابلِ توجہ امر ہے کہ بعض مسلمانوں کے نزدیک خلافت کا تصور یہی ہے: ایک ایسا طاقتور حکمران جو اپنے ناقابلِ مزاحمت عسکری اقتدار، کامل تقویٰ، درست عقیدۂ کلامیہ، اور سخت شرعی التزام کے ذریعے تمام اختلافات کا خاتمہ کرے، ہر مسئلے کو حل کرے، اور اسلامی تاریخ کا کوئی سنہرا دور ازسرِ نو قائم کر دے۔ بلا شبہ، خیالی (یوتوپیائی) تصورات بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، اگرچہ وہ ہر حال میں مضر نہیں ہوتے۔موجودہ مایوس کن دنیا میں، ماضی کی یاد اور اس سے وابستہ امیدیں نہ صرف اخلاقی تحریک کا ذریعہ بن سکتی ہیں بلکہ عملی افادیت بھی رکھتی ہیں۔

اس کے برعکس ایک اور نظریہ نہایت قابلِ اعتراض اور فکری طور پر مہلک ہے، جس کے مطابق مسلم تاریخ محض دائمی تفرقے اور داخلی نزاع پر مشتمل رہی ہے۔ یہ تصور نہ صرف ایک علمی مغالطہ ہے، بلکہ اس کا استعمال ایک بھیانک جمود (status quo) کو تسلیم کرنے اور اسے اخلاقی جواز دینے کے لیے بھی کیا جاتا ہے—بلکہ اس کی آڑ میں اخلاقی سودے بازیوں کی ایک طویل داستان کو بھی سندِ جواز فراہم کی جاتی ہے۔ بظاہر دانائی، علمی غیر جانب داری، یا حقیقت پسندی کے لبادے میں لپٹا یہ نظریہ درحقیقت اس خام خیالی پر مبنی ہے کہ باطل ایک ابدی اور ناقابلِ زوال حقیقت ہے۔ جبکہ قرآن مجید اس کا صریح انکار کرتا ہے:  ‎﴿إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾‏ ((یقیناً باطل مٹ جانے والا ہے))۔

بعض روایت پسند مسلمان ایک نادر طرزِ فکر کے تحت اُمید و یاس—یعنی خیالی مثالیّت (utopianism) اور مایوسی زدہ جمود (cynicism)—دونوں کو بیک وقت جمع کر لیتے ہیں، اور اس کے لیے وہ ظہورِ مہدی سے متعلق احادیث کی ایسی تاویلات پیش کرتے ہیں جو انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کا جواز فراہم کرتی ہیں۔ یوں وہ نہ صرف قرآنِ مجید کے واضح احکام اور اسوۂ نبویؐ کو نظر انداز کرتے ہیں، بلکہ ملتِ اسلامیہ اور نوعِ انسانی کے مصائب و آلام سے بھی شعوری تغافل برتنے لگتے ہیں۔

ہر مبالغہ آمیز تصور بالآخر اپنے ردِعمل کی راہ خود ہی ہموار کرتا ہے۔ تاہم، اگر تاریخ کو غور کے ساتھ پڑھا جائے—خصوصاً سیرتِ نبوی اور خلافتِ راشدہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ادوار کو — تو یہ سطحی خیالات خود بخود بے بنیاد ثابت ہو جاتے ہیں۔

آئیے ہم اس دعوے پر دوبارہ غور کریں کہ مسلم تاریخ اندرونی تفرقات، باہمی نزاعات، جابر حکمرانوں، اور خونریز جنگوں سے عبارت ہے۔ یہ تصور پیش کیا جاتا ہے کہ چونکہ تاریخِ اسلام میں سیاسی انتشار کا تسلسل موجود رہا ہے، اس لیے مسلمانوں کے اتحاد کی کوئی بھی کوشش نہ صرف لاحاصل ہے، بلکہ اس کے ممکنہ نتائج نقصان دہ اور مہلک بھی ہو سکتے ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں یہ واضح کیا جائے گا کہ اگرچہ یہ دعوے کسی محدود مفہوم میں جزوی سچائی پر مشتمل ہو سکتے ہیں، تاہم ان کی تعبیر عمومی طور پر گمراہ کن، زمانی سیاق سے کٹی ہوئی ، اور فکری سطح پر ناقص اور سطحی ہے۔

اس تاریخی مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اسے دو اہم سوالات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. کیا مسلمانوں کا یہ عقیدہ تھا کہ سیاسی وحدت کا قیام ایک شرعی فریضہ ہے؟
  2. کیا مسلمانوں نے اس وحدت کے حصول کے لیے عملی کوشش کی؟ اور اگر کی، تو کیا وہ اس میں کامیاب ہوئے؟

1. کیا مسلمانوں کا یہ عقیدہ تھا کہ سیاسی وحدت کا قیام ایک شرعی فریضہ ہے؟

اس سوال کا جواب بلا تردد اثبات میں دیا جا سکتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے نہایت پُرآشوب ادوار—خواہ وہ منگول یلغار ہوں یا صلیبی حملے—میں بھی جلیل القدر علما نے امت کے اجماعی موقف سے کبھی دستبرداری اختیار نہیں کی 1 ۔ اس فریضے کی علمی و تاریخی معنویت کو، مختلف مکاتبِ فکر میں اس کی تعبیرات اور اسلامی ادوار میں اس کے تسلسل سمیت، پوری وسعت اور گہرائی سے اجاگر کرنے کے لیے امیٹکسس انسٹیٹیوٹ نے مسلم علمی روایت کی ممتاز شخصیات کی تحریروں پر مشتمل منتخبات کی محققانہ حواشی و تعلیقات کے ساتھ ترجمہ و اشاعت کے ایک اہم سلسلے کی بنیاد رکھی ہے 2۔

اگرچہ اس مسئلے پر امت کا اجماعی مؤقف ہر دور میں نہایت واضح رہا ہے، تاہم آج کے دورِ ابہام میں—جب نیم خواندہ افراد اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کا غلبہ ہے—اس موضوع پر نئی تحقیق اور گہری تدقیق کی اشد ضرورت باقی ہے۔اسلامی تاریخ کی کسی بھی معتبر روایت—چاہے وہ سنّی ہو، شیعہ یا اباضی—میں اِمامت کے قیام کے وجوب پر اختلاف نہیں پایا جاتا۔محض اس بنیاد پر کہ معتزلہ نے اِمام کے تقرر کو عقلی فریضہ قرار دیا، جبکہ اہلِ سنت نے اسے شرعی دلائل سے ثابت کیا، یا اس اختلاف کی بنا پر کہ نبی اکرم کے بعد خلافت کا حق کس شخصیت کو حاصل تھا—ان تمام فقہی و کلامی نزاعات کے باوجود، اِمامت کے وجوب پر اصولی اتفاق امت کے ہر دور میں برقرار رہا ہے۔

بعض اکابر علما کی آرا کے بارے میں پائے جانے والے شدید ابہام کی علمی سطح پر اصلاح نہایت ضروری ہے۔
امام ماوردیؒ پر یہ الزام کہ انہوں نے اِمامت کے اصول پر کسی طرح کا سمجھوتہ کیا، قطعی بے بنیاد ہے۔ انہوں نے اضطراری حالات میں محض اس صورت کو قبول کیا کہ اگر کوئی سنّی خلیفہ—جو شرعی طور پر جائز ہو—کسی دوسری مسلم عسکری قوت کے زیرِ تسلط آ جائے، تب بھی اس کی خلافت برقرار رہ سکتی ہے، بشرطیکہ نئی قوت اس کی شرعی حیثیت کو تسلیم کرتی ہو۔

امام غزالیؒ نے نہ بادشاہت کو معمول کا نظام تسلیم کیا، نہ حکمرانوں کی کثرت کو جائز قرار دیا؛ بلکہ وہ بار بار اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ مسلم معاشرے کی دینی بقاء کا انحصار ایک شرعی خلیفہ کے وجود پر ہے۔ وہ اپنے عہد کی بادشاہت کو اضطراری حالت میں ایسی شے سے تشبیہ دیتے ہیں جسے شریعت اضطراری حالت میں بقدرِ ضرورت مباح قرار دیتی ہے۔

امام ابن تیمیہؒ نے بھی خلافت کے وجوب کا انکار نہیں کیا۔ ان کے نزدیک بھی خلافت ایک شرعی فریضہ ہے، جبکہ بادشاہت بذاتِ خود غیر شرعی ہے۔البتہ، انہوں نے—دیگر سنّی علما کی طرح—اضطراری حالات میں ایک یا زیادہ مسلم سلاطین کی حکومت کو بقدرِ مجبوری جائز قرار دیا، تاکہ فتنہ و فساد سے بچاؤ ممکن ہو اور دین کی حفاظت کا تسلسل برقرار رہے۔

یہ تمام سنّی متقدمین، اگرچہ بعض جزوی تفصیلات میں اختلاف رکھتے تھے، لیکن امتِ مسلمہ کی وحدت ایک شرعی امام کے تحت قائم ہونی چاہیے—اس عقیدے پر ان کا کوئی اختلاف نہ تھا۔ان کا اختلاف اہلِ تشیع سے اس بنیاد پر تھا کہ اہلِ سنت کے نزدیک ایمان کی صحت کے لیے امام کی معرفت شرط نہیں؛ یعنی ایک شخص کسی معین امام کی معرفت کے بغیر بھی مؤمن قرار پا سکتا ہے۔ان کے نزدیک امامت کا مسئلہ عقائد کے بنیادی ستونوں میں شمار نہیں ہوتا، بلکہ دیگر شرعی فرائض کی طرح ایک واجب امر ہے، نہ کہ اصولِ ایمان کا جزو۔

اس موضوع سے متعلق کئی غلط فہمیاں اور سوالات ایسے ہیں جن پر تفصیلی گفتگو ہو سکتی ہے، اور جن میں مسلم و غیر مسلم محققین نے مختلف آرا پیش کی ہیں۔ مگر اس مضمون کا مرکز ان تاریخی حقائق پر ہے جو اس بحث کی بنیاد کو واضح کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

۲۔ کیا مسلمانوں نے اس وحدت کے حصول کے لیے عملی کوشش کی؟

تاریخی فہم ہمیں عقائد و احکام کے متون سے آگے بڑھ کر یہ سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ تصورِ وحدت کس طرح امت کے شعور، جذبات، اداروں، سیاسی مزاحمتوں اور بعض اوقات ناگوار انحرافات کا محور رہا ہے۔اگر کوئی سیکولر مزاج مبصر اس عقیدے کو محض ماضی کے بعض مذہبی جذبات کی نمائندگی کرنے والا ایک علامتی دعویٰ قرار دے، تو ہم تاریخ کی روشنی میں یہ دکھا سکتے ہیں کہ عباسی خلافت کے زوال اور سلطنتِ عثمانیہ کے ظہور کے درمیانی پانچ صدیوں میں، باوجود شدید جغرافیائی و سیاسی اضطراب کے، امتِ مسلمہ کا یہ نظریہ نہ صرف باقی رہا، بلکہ اس نے اسلامی قانون، ریاستی نظم، اور اجتماعی شعور کو مسلسل متاثر کیا۔یہ تصور ایک زندہ، متحرک اور مؤثر قوت کے طور پر اسلامی معاشرے کی تشکیل میں کارفرما رہا ہے۔

مسلمان معاشروں کے مابین جغرافیائی فاصلہ کتنا ہی وسیع کیوں نہ رہا ہو، تصورِ خلافت اور اس سے وابستگی کا احساس ان کے اجتماعی شعور سے کبھی معدوم نہیں ہوا۔اس کی متعدد تاریخی مثالیں ہمیں مختلف ادوار میں ملتی ہیں۔ چین کے ایک شہنشاہ نے باقاعدہ حکم صادر کیا کہ ملک بھر میں مسلمان نمازِ جمعہ کے خطبے میں صرف عثمانی سلطان کا نام لیں، تاکہ مذہبی اختلافات اور فرقہ وارانہ کشیدگی سلطنتِ چین میں جنم نہ لے 3 ۔ اسی طرح 1511ء میں جب سلطنتِ آچے کے سلطان علی مغایت شاہ نے پرتگالی قبضے کے خلاف ملاکا (Malacca) میں جہاد کی کوشش کی، تو انہوں نے براہِ راست خلافتِ عثمانیہ کے امین سلطان سلیمان قانونی سے مدد طلب کی۔ وہ انہیں
محض ایک سیاسی قوت نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کا مرکز اور خلافتِ اسلامیہ کے منصب پر فائز ایک سیاسی مرجع تصور کرتے تھے 4.

برِصغیر کا مسلم ہندوستان شاید اس باب میں سب سے واضح مثال پیش کرتا ہے۔ ایک ممتاز مؤرخ کے الفاظ میں:

سلطنتِ دہلی (1205–1526) اپنی پوری مدتِ وجود میں قانونی طور پر عالمگیر خلافتِ اسلامیہ کا ایک جزو بنی رہی، جو عباسی خلفاء کی نظری بالادستی کے تحت قائم تھی۔ دہلی کے سلاطین خود کو خلیفہ کا نائب (نائبِ خلافت) سمجھتے تھے، اور اپنے سیاسی و انتظامی اختیارات کی قانونی حیثیت صرف اسی بنیاد پر اخذ کرتے تھے کہ وہ خلافت کی طرف سے تفویض شدہ تھے۔ چونکہ امتِ مسلمہ کی اعلیٰ ترین قانونی اتھارٹی خلیفہ کے پاس مسلّم حیثیت رکھتی تھی، اس لیے ہر بادشاہ اور حکمران اپنی حکومت کو امامِ اسلام کے نمائندے کی حیثیت سے چلاتا، اور اسی حیثیت میں اپنے فرائض انجام دیتا تھا 5۔”

اس نوع کی مثالیں تاریخی ریکارڈ میں بکثرت موجود ہیں، جو امتِ مسلمہ کے باہمی ربط و تعلقات کو نمایاں کرتی ہیں۔تاہم یہ حقیقت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ مسلم حکمران ہمیشہ امت کے لیے وہ مثالی دینی و سیاسی حالات پیدا نہ کر سکے، جو شرعی طور پر مطلوب تھے۔اکثر اوقات حرص، دینداری کی کمی، یا سیاسی مصلحت پرستی ان کے لیے مانع بن گئی۔لیکن اگر کسی دور میں ان سے واقعی کوتاہی ہوئی ہو، تو ان کی یہ غفلت ہمارے لیے وحدتِ امت سے چشم پوشی کا ویسا ہی ناقابلِ قبول عذر ہے، جیسا کہ ان کی نماز میں سستی یا شراب نوشی کی عمومی روش ہمارے لیے نہ شریعت میں تغیر کا جواز بن سکتی ہے، اور نہ ہی عبادات سے غفلت کا شرعی سبب۔

درحقیقت یہ سوال کہ آیا ماضی کے مسلمان اُس دینی فریضے کو، جسے وہ کسی نہ کسی سطح پر واجب سمجھتے تھے، پوری سنجیدگی سے ادا کرنے کی کوشش کرتے رہے یا نہیں—بظاہر جتنا سادہ دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی پیچیدہ ہے۔ اس کی حقیقی تفہیم اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم اپنے دور کے فکری تعصبات اور مسلم ذہن میں تاریخ کی محدود تعبیر کو پہچاننے اور قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ اگرچہ حالیہ دہائیوں میں مسلم تاریخ کے مطالعے میں قابلِ قدر پیش رفت ہوئی ہے اور اس علمی سرمایہ نے فکری مباحث کو نئی جہتیں فراہم کی ہیں، لیکن یہ کوششیں بھی اپنے بعض ماخذی نقائص اور متنازع تعبیرات کے باعث حتمی نہیں کہلائی جا سکتیں۔ ذیل میں چند نکات پیش کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد انہی غلط فہمیوں اور فکری الجھنوں کی اصلاح ہے۔

ذرا غور فرمائیے، سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جس تصور کو ہم آج "عالمِ اسلام” یا اسلامی اصطلاح میں "دارالاسلام” کے نام سے جانتے ہیں، وہ اپنے تاریخی ارتقاء میں وسعت، تنوع اور تہذیبی گہرائی کا حامل رہا ہے۔

عباسی خلافت کے زوال (چوتھی صدی ہجری / دسویں صدی عیسوی) کے بعد اسلامی دنیا منگولوں اور دیگر خانہ بدوش اقوام کی شدید یلغاروں کا نشانہ بنی—ایسے ہی جیسے اُس دور میں یورپ سے لے کر چین تک کی کئی بڑی تہذیبیں بھی ان ہی یلغاروں کا شکار بنیں۔ مؤرخین ان خطوں کو "یوریشیا” (Eurasia) کہتے ہیں کیونکہ ان کے انقلابات میں فکری و سیاسی مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں، جہاں ایک طرف سیاسی انتشار نے مسلم وحدت کو چیلنج کیا، وہیں اسلام کا پیغام اُن علاقوں تک پہنچنے لگا جہاں ابھی تک اس کی روشنی نہ پہنچی تھی—یعنی نِیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی تھی کہ سیاسی وحدت کے روایتی تصور کو نئے جغرافیائی، تمدنی اور تہذیبی تناظر میں ازسرِنو سمجھا جائے۔

اس زمانے میں اسلامی دنیا کے روحانی و تمدنی مراکز شمال سے آنے والے نومسلم ترک قبائل کا مسکن بن چکے تھے، جب کہ دوسری طرف اسلام اپنے روایتی جغرافیائی حدود سے آگے نئے، غیر روایتی راستوں سے پھیل رہا تھا۔
بعض علاقوں میں مسلمانوں کی موجودگی صرف اہم تجارتی راستوں اور مراکز تک محدود تھی (جیسا کہ مغربی افریقہ میں)، بعض جگہوں پر وہ علما یا سپاہی کی حیثیت سے صدیوں تک بقا کی جدوجہد میں مصروف رہے (جیسا کہ اناطولیہ میں)، اور کہیں وہ غیر مسلم حکمرانوں کے تحت انتظامی خدمات انجام دے رہے تھے (جیسا کہ منگول چین میں)۔
بعض خطوں میں حکمران اگرچہ مسلمان تھے، مگر آبادی کی اکثریت غیر مسلم تھی (جیسا کہ ہندوستان میں)، جب کہ بعض مقامات پر اس سے بھی زیادہ متنوع اور پیچیدہ صورتیں سامنے آئیں۔ یہاں تک کہ ایک زمانے میں ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا بھی اسلامی دنیا کے لیے اُتنے ہی اجنبی تھے جتنا کہ آج کا مغرب۔

درحقیقت، دارالاسلام نہ صرف وسعت کے اعتبار سے مسلسل پھیل رہا تھا—اور رقبے کے لحاظ سے اس کا دائرہ پیش از جنگ امریکہ (Antebellum United States) سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکا تھا—بلکہ تہذیبی اور نسلی تنوع کے اعتبار سے بھی کہیں زیادہ متنوع اور ہمہ گیر تھا۔تاہم، یہ توسیع اس نوع کی ہرگز نہ تھی جو یورپی نوآبادیاتی قوتوں نے اختیار کی تھی؛ وہ قوتیں نسل پرستی، تہذیبی یکسانیت اور سفاکانہ جبر کے بل پر اپنا اقتدار قائم کرتی تھیں۔اس کے برعکس، دارالاسلام نے اپنی توسیع مختلف النوع صورتوں اور تدریجی ذرائع کے ذریعے ممکن بنائی، جہاں مختلف اقوام اور تہذیبوں کو ان کی جداگانہ ثقافتی اور سیاسی شناختوں سمیت اپنی وحدت میں سمو لیا گیا۔ یوں اسلامی تمدن ایک ہمہ گیر، قابلِ انضمام، اور تکثیری وحدت (pluralistic unity) کی صورت میں ڈھلتا چلا گیا۔

ثانیاً، جدید دور میں جس طرزِ حکمرانی کو "سیاسی وحدت” کا نام دیا جاتا ہے، ماقبلِ جدید دنیا کی وسیع تمدنی اکائیوں کے لیے اس کا تصور بھی محال تھا۔ انیسویں صدی سے پہلے کے ایک ہزار سالہ عرصے میں اسلامی دنیا کے بیشتر خطے ایک ایسے تہذیبی بندھن میں جڑے ہوئے تھے، جسے کسی حد تک پیش از جنگ امریکہ (Antebellum United States) کی وحدت سے مماثل قرار دیا جا سکتا ہے۔اس وحدت کی بنیاد شریعت کے مشترکہ قانونی نظام، علمی و روحانی ربط، تجارتی نیٹ ورکس، متفقہ عقائد اور باہم پیوستہ ثقافتی اقدار پر استوار تھی۔

اگرچہ بعض ادوار میں خلافت کے خلاف بغاوتیں ہوئیں، تاہم رسمی بیعت کا تعلق بطورِ نشانِ وحدت مسلسل تسلیم کیا جاتا رہا۔ یہ امر درست ہے کہ عباسی خلافت کے بعد سیاسی انحلال نے بعض پہلوؤں پر منفی اثرات ڈالے، مگر یہ اثرات اس حد تک گہرے نہ تھے کہ مسلم تمدن کی توانائی اور جوش کو ختم کر دیتے، کیونکہ اسلامی معاشرے بدستور ایک زندہ و متحرک تہذیب کا حصہ تھے، اور انہیں کسی بڑی عالمی تہذیب سے کوئی حقیقی چیلنج لاحق نہ تھا۔ یہاں یہ ہرگز مراد نہیں کہ داخلی تفرقے اور سیاسی انتشار کے تباہ کن اثرات کو نظرانداز کر دیا جائے۔ تاریخ میں متعدد مواقع ایسے آئے جب امتِ مسلمہ کا ضعف نمایاں ہو کر سامنے آیا—جیسا کہ اُس وقت جب صلیبیوں کا ایک منتشر اور غیر منظم لشکر، اسلامی دنیا کے قلب سے گزرتا ہوا بیت المقدس پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہو گیا۔اس عظیم سانحے کا تدارک اس وقت ممکن ہوا جب زنگیوں اور بعد ازاں ایوبیوں کی قیادت میں ایک نیا سیاسی اتحاد وجود میں آیا۔ تاہم، یہ وحدت بھی زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکی، اور مسلم دنیا ایک بار پھر داخلی انشقاق اور ضعف کا شکار ہو گئی۔

ثالثاً، اس امر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت سازی کے وسائل اور طریقے اُس دَور میں سراسر مختلف تھے؛ جس نوع کی جدید سیاسی و انتظامی وحدت کو ہم آج تسلیم کرتے ہیں—خواہ وہ اپنے نتائج کے اعتبار سے مفید ہو یا مضر—وہ اُس زمانے میں ممکن ہی نہ تھی۔ یہ کیفیت محض عباسی خلافت کے چوتھی صدی ہجری / دسویں صدی عیسوی میں رونما ہونے والے انحلال کے بعد کے ہزار سالہ دور تک محدود نہ تھی، بلکہ اس سے پہلے، حتیٰ کہ خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی یہی حقیقت غالب تھی۔ مسلم حکمرانی کی حدود عالمی تاریخی عوامل سے متعین تھیں؛ اور جس طرح مسلمانوں کو ان قیود کا سامنا تھا، اسی طرح ماضی کی دیگر عظیم طاقتیں بھی ایسی ہی حدود میں مقید تھیں۔

رابعا، اس امر کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ مسلم سلطنتوں کو ہمیشہ ایسے عالمی تاریخی عوامل کا سامنا رہا، جنہوں نے ان کے نظمِ حکومت کو ہمہ وقت مصالحت، تطبیق، اور عملی حکمتِ عملی اپنانے پر آمادہ رکھا۔اگرچہ ابتدائی اسلامی تعلیمات میں مساوات اور اہلیت پر مبنی قیادت کی واضح ترجیحات موجود تھیں، لیکن جب اسلام نے قدیم تہذیبی مراکز کو اپنے دائرۂ اختیار میں شامل کیا، تو سیاسی اور تمدنی سطح پر اسلامی حکمرانی کا ڈھانچہ رفتہ رفتہ اپنی مادی اور ادارہ جاتی ساخت میں اُنہی معیارات سے ہم آہنگ ہونے لگا جو اس کے ہم عصر نظاموں میں رائج تھے۔اس تبدیلی کے پسِ پشت سیاسی و معاشی تقاضے بھی کارفرما تھے، اور زندہ رہنے اور طاقتور تہذیبوں کے ساتھ برابری پر قائم رہنے کی ناگزیر ضرورت بھی۔عباسی خلافت اور عثمانی خلافت کے درمیانی صدیوں میں جو سیاسی انتشار رونما ہوا، اُس پر گھڑ سوار حملہ آور اقوام—مثلاً سلجوق ترک اور بعد ازاں منگول—کی یلغار نے مزید گہرے اثرات ڈالے، اور یہ کیفیت صرف اسلامی دنیا ہی تک محدود نہ رہی بلکہ پوری یوریشیا (Eurasia) میں اسی شدت کے ساتھ محسوس کی گئی۔

اسی پیرائے میں، جب مغربی جدیدیت کا سیلاب امتِ مسلمہ کے دروازے پر دستک دے رہا تھا، تو اُس وقت عثمانی اور مصری حکومتوں نے جس برق رفتاری سے اصلاحات اور جدید ادارہ سازی کی کوششیں کیں، وہ محض تقلیدِ مغرب کا مظہر نہ تھیں، بلکہ اسلام کی بقا اور سربلندی کی ایک سنجیدہ اور مدبرانہ کاوش تھیں۔ ان اقدامات کو محض جبرِ واقعہ کے آگے سپر ڈالنے سے تعبیر کرنا ایک تاریخی ناانصافی ہوگی؛ بلکہ یہ درحقیقت اس قرآنی ہدایت کا عملی مظہر تھا: ((اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو )) (الأنفال: 60)۔ آج اگر اسلامی تہذیب اس جدوجہد کو ازسرِنو کسی بہتر اور مؤثر انداز میں جاری رکھتی ہے تو یہ نہ کوئی اجنبی طرزِ عمل ہوگا اور نہ کوئی نیا رجحان، بلکہ اسلامی تمدن کی سب سے فطری اور تاریخی روایت کا تسلسل ہوگا۔ بالفاظِ دیگر، موجودہ عالمی تناظر نہ صرف تہذیبی اور علاقائی وحدت کے لیے سازگار ہو چکا ہے، بلکہ شدت سے اس کا تقاضا بھی کر رہا ہے۔

اختتامیہ

مندرجہ بالا بحث سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں نے نہ صرف وحدتِ امت کو ایک دینی اور عملی ضرورت کے طور پر تسلیم کیا، بلکہ مختلف ادوار میں اس کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں بھی کیں۔ یہ جدوجہد، دیگر تمام اخلاقی و دینی مساعی کی طرح، اپنے نتائج میں جزوی کامیابیوں اور زمانی و مکانی تنوع کی حامل رہی۔ تاہم اس سے کہیں زیادہ اہم امر یہ ہے کہ ماضی میں سیاسی افتراق کے اثرات نسبتاً محدود تھے، جس طرح وحدت کے امکانات اور ذرائع بھی محدود تھے۔ آج دنیا میں ذرائع ابلاغ اور متحدہ نظمِ حکومت کے وسائل عام ہو چکے ہیں، جب کہ افتراق کے نقصانات پہلے سے کہیں زیادہ مہلک اور گہرے ہو چکے ہیں۔

اگرچہ ماقبلِ جدید دور میں اسلامی سرزمینوں کی وسعت اور تہذیبی تنوع نے ایک مرکزی اور متحد نظمِ حکومت کے قیام کو تقریباً محال بنا دیا تھا، تاہم وحدتِ امت کا تصور ہمیشہ ایک ایسا دینی نصب العین رہا جسے عقائد اور فقہی متون میں پوری صراحت اور اجماعی اتفاق کے ساتھ محفوظ رکھا گیا۔ یہ نظریہ امت کے فکری و اعتقادی سانچے میں اس حد تک راسخ تھا کہ اس کے حصول کی کوشش کو کبھی ترک نہیں کیا گیا، اگرچہ حالات اکثر اس کے لیے سازگار نہ رہے۔ تاہم آج کے دور میں وہ تاریخی رکاوٹیں—جیسے کہ زمین کی وسعت، آبادی کا تنوع، اور وسائل کی قلت—جو ماضی میں سیاسی وحدت کی راہ میں حائل تھیں، اب بڑی حد تک ختم ہو چکی ہیں، جیسا کہ ہندوستان، چین، روس اور امریکہ جیسے وسیع و متنوع ممالک کی مثالوں سے بخوبی واضح ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں، جدید دنیا میں محض قومی ریاستوں تک محدود رہنے کا تصور فرسودہ ہوتا جا رہا ہے، اور بین الاقوامی سیاسی اتحادوں—جیسے یورپی یونین، افریقی یونین، اور آسیان کی تشکیل اس حقیقت کا مظہر ہے کہ عالمگیر وحدت اب کوئی ناقابلِ تصور خواب نہیں، بلکہ ایک زندہ عالمی رجحان ہے۔چنانچہ اگر امتِ مسلمہ آج سیاسی وحدت کی جانب کوئی مؤثر قدم اٹھاتی ہے تو وہ اس تاریخی قافلے کے آخری مسافر ہوں گے۔

بالفاظِ دیگر، وحدت محض ایک قرآنی مطالبہ ہی نہیں، بلکہ ایک تاریخی ناگزیر ضرورت بھی ہے۔ اور جب غیر مسلم اقوام وحدت کے اصول کو اپنانے میں کامیاب ہو سکتی ہیں، تو امتِ مسلمہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے، بدرجہا بہتر انداز میں، اس راہ میں پیش رفت کر سکتی ہے۔ عصرِ حاضر کا عملی تجربہ ہمیں یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ بقا اور عزت صرف اُنہی قوموں کا مقدر ٹھہرتی ہے جو تنوع میں وحدت کا راز سمجھ کر اجتماعی اقدام کی حکمت کو شعار بنائیں۔ جو قومیں اس امتحان میں ناکام رہیں، تاریخ نے اُن کے لیے ہمیشہ ذلت یا فنا کا نوشتہ لکھا ہے۔

یقیناً اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم محض کمزور اور پسماندہ ہو چکے ہیں، بلکہ حقیقی بحران یہ ہے کہ ہماری تہذیبی پیش قدمی کسی بامعنی اور قابلِ فخر مقصد سے محروم ہو گئی ہے۔ اسی محرومی کے نتیجے میں ہم فکری و عملی سطح پر محدود الذہن اور منتشر قوم کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ سیاسی انتشار نہ صرف داخلی مسلکی، نسلی اور لسانی اختلافات کو مزید گہرا کرتا ہے، بلکہ ایسے حالات پیدا کرتا ہے جہاں موقع پرست عناصر اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں۔ وہ الٰہی حکم—جو توحید پر مبنی وحدت کے ذریعے ہمیں قیادتِ عالم کی منزل تک پہنچا چکا ہے—آج بھی ہمارے لیے ممکن الحصول ہے۔ لہٰذا اس فریضے سے دامن بچانے کی ہر کوشش خود ہمارے لیے وبال بن جائےگی۔

اس بنیادی اسلامی فریضے سے غفلت برتنا آج کے دور میں جس ہولناک انجام کا پیش خیمہ بن چکا ہے، وہ گزشتہ دو صدیوں کے تلخ تجربات سے پوری طرح آشکار ہو چکا ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ جیسے بعض مسلم معاشروں میں دینی علم میں خواتین کی شرکت کو نظرانداز کیا گیا، یا رنگ و نسل اور لسانی بنیاد پر امتیازات کو گوارا کر لیا گیا—یہ تمام مظاہر اگرچہ ماضی میں کسی حد تک مقامی یا محدود نوعیت کے نقصان کا باعث تھے، مگر آج عالمگیر سطح پر اسلامی تہذیب کی بنیاد کو خطرے میں ڈالنے لگے ہیں، اور ان کے مضمرات اس قدر سنگین اور دور رس ہو چکے ہیں کہ ان کا بوجھ اٹھانا مشکل ہو چکا ہے۔ اسی تناظر میں یہ حقیقت بھی پوری شدت سے سامنے آتی ہے کہ سیاسی وحدت کے فریضے سے غفلت برتنا، نہ تو نقصان کے اعتبار سے کم ترہے اور نہ گناہ کے لحاظ سے کوئی معمولی کوتاہی۔

مسلمانوں کی وحدت کے بعض شکست خوردہ ناقدین اپنے موقف کو "حقیقت پسندی” کے پردے میں پیش کرتے ہیں، مگر جب وہ تاریخِ اسلام کا تجزیہ کرتے ہیں تو اسے مکمل اور غیر جانب دارانہ نگاہ سے سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اگر ان کا استدلال یہ ہے کہ آج اسلامی وحدت اس لیے ناممکن ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں بھی یہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی، تو اسی منطق کے تحت یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اُس دور میں نہ قانون پر عمومی عملدرآمد تھا، نہ علم کی عام ترویج، اور نہ ہی خواندگی کوئی امتیازی وصف۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح مؤثر سیاسی ادارے جدید دنیا کی پیداوار ہیں، اسی طرح عوامی خواندگی، مؤثر حکمرانی، اور سائنسی و فنی ترقی بھی عصرِ حاضر ہی کی خصوصیات ہیں—اور یہی عناصر آج کی دنیا کی تہذیبی ساخت کو متعین کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ شکست خوردہ رومان پسند ہمیں ماضی کو جوں کا توں اپنانے کا مشورہ دیں، لیکن اگر ایسا ہے تو درحقیقت وہ اسی مسلم جمود کی تائید کر رہے ہیں جسے موجودہ مطلق العنان حکمرانوں نے مضبوط کر رکھا ہے—ایسے حکمران جو مسلم اقوام کو تعلیم، آزادی اور صلاحیت کے میدانوں میں دنیا کی پست ترین صف میں رکھنے کے باعث بن چکے ہیں۔ چنانچہ اگر وہی ماضی دوبارہ لوٹ آئے جس میں جہالت اور بیماری معاشرتی زندگی کا معمول تھیں، تو یہ کوئی غیر متوقع امر نہ ہوگا۔

اس کے برعکس ہمارا مؤقف یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ماضی کو چھوڑ کر کے آگے بڑھیں، اپنے اسلاف کی اعلیٰ روایات اور اقدار کو اخلاص کے ساتھ اپنائیں، اور اسلام کے جامع نظامِ حیات کو اپنی عملی زندگی کا حقیقی شعار بنائیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف علم، حکمت اور تنظیم کے میدانوں میں امتیاز حاصل کریں، بلکہ عصرِ حاضر کے مواقع کو بھی بالغ نظری اور دانش مندی کے ساتھ بروئے کار لائیں—تاکہ امتِ مسلمہ علم، کردار اور قیادت کے میدانوں میں دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکے اور انسانی تہذیب کی رہنمائی میں اپنا عظیم کردار ادا کر سکے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اسلامی وحدت کا مطالبہ نہ تو کوئی ماضی پرستی کا نعرہ ہے اور نہ ہی صرف جذباتی تسکین کا ذریعہ، بلکہ یہ ایک ہمہ وقتی اور دائمی اصول ہے، جو عصرِ حاضر میں نئی توانائی، گہری حکمت، اور عزمِ راسخ کا تقاضا کرتا ہے۔ ماضی کی فتوحات اور اس کی کوتاہیاں—دونوں ہماری راہ کی بصیرت افروز نشانیاں ہیں، لیکن یہ کسی صورت میں ہماری پیش رفت کو روکنے کا جواز فراہم نہیں کرتیں۔ آج امتِ مسلمہ جس حالت سے گزر رہی ہے—جو اندرونی انتشار، فکری پراگندگی اور عملی کمزوریوں سے عبارت ہے—وہ وحدت کی ضرورت کے احساس کو پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ اجاگر کر رہی ہے۔ اگر ہم اپنی متنوّع دینی، تہذیبی اور فکری روایت کو کشادہ دلی سے قبول کریں، اور موجودہ دور کے وسائل کو حکمت و بصیرت کے ساتھ بروئے کار لائیں، تو امتِ مسلمہ ایک باوقار، متحد اور بااختیار مستقبل کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمتِ مردانہ، ژرف نگاہی، اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر غیر متزلزل ایمان کا تقاضا کرتا ہے—اور یہی بنیاد ہماری موجودہ بقا اور آنے والی نسلوں کی سربلندی کی واحد ضامن بن سکتی ہے۔

اوامیر انجم

اووامر انجم امیٹکسس انسٹیٹیوٹ میں چیف ریسرچ آفیسر ہیں۔ وہ 2019 میں یقین انسٹیٹیوٹ میں شائع ہونے والے مضمون “خلافت کون چاہتا ہے؟” کے مصنف ہیں، جو اس منصوبے کے لیے تحریک کا باعث بنا۔ وہ یونیورسٹی آف ٹولیڈو کے شعبہ فلسفہ و مذہبیات میں اسلامیات کے پروفیسر اور چیئر ہولڈر ہیں، *امریکن جرنل آف اسلام اینڈ سوسائٹی* (جسے پہلے *امریکن جرنل آف اسلامک سوشل سائنسز* کہا جاتا تھا) کے شریک مدیر ہیں، اور حال ہی میں یقین انسٹیٹیوٹ کے ریویو بورڈ کے ایڈیٹر ان چیف مقرر ہوئے ہیں۔

ان کی تحقیق کے شعبہ جات میں اسلامی تاریخ، الٰہیات، سیاسی نظریہ، اور عمومی تاریخ شامل ہیں۔ ان کی تصانیف میں اسلامی فکر میں سیاست، قانون اور برادری: تیمیاں لمحہ (کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2012) اور الہی متلاشیوں کے درجات: ابن القیم کا ترجمہ مدارج السالکین (بریل، 2020) شامل ہیں، جو چار جلدوں پر مشتمل سیریز کی ابتدائی دو جلدیں ہیں۔

ان کی منتخب تصانیف یہاں دستیاب ہیں:
https://utoledo.academia.edu/OvamirAnjum

نوٹس

  1. اجماع (Consensus) اُصول الفقہ میں دلیل کی سب سے مضبوط اور قطعی ترین صورت ہے۔ بظاہر یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ جب اصولِ فقہ میں اجماع کو قرآن و سنت کے بعد تیسرے درجے کا ماخذ شمار کیا جاتا ہے، تو پھر اسے اتنا قوی اور حتمی مقام کیوں حاصل ہے؟ یہ اعتراض بجا ہے؛ تاہم اجماع ایک اضافی اور نہایت اہم وظیفہ بھی سرانجام دیتا ہے—یعنی وہ قرآن و سنت کی تعبیر سے متعلق بعض مخصوص مسائل میں اختلافِ رائے کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیتا ہے۔ مثلاً، دن میں پانچ فرض نمازوں کا تعین سنت کے ذریعے معلوم ہوا ہے، لیکن اس امر پر کسی نئی بحث کا سدِّ باب اجماع نے کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے میرا مقالہGhiyāth al-Umam: “Political Metaphors and Concepts in the Writings of an Eleventh-Century Sunni Scholar, Abū al-Ma‛ālī al-Juwaynī (419 – 478/1028 – 1085),” Journal of the Royal Asiatic Society 26, no. 1–2 (2016): 7–(18 جس میں میں نے امام جوینیؒ کے اس استدلال کی وضاحت کی ہے کہ خلافت کے باب میں قطعی اجماع کا قیام کس طور ممکن ہے (بحوالہ: غیاث الأمم)۔
  2. Uthman Badar, ed., Classical Texts Series, Ummatics, https://ummatics.org/classical-texts-series/.
    یہ سلسلہ فی الوقت پانچ مقالات پر مشتمل ہے، اور مزید کی اشاعت متوقع ہے۔
  3. پندرھویں اور سولہویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ اور ہندوستان میں مسلم حکمرانوں نیز چین میں مسلم برادریوں کے درمیان تعلقات کی تفصیلات کے لیے دیکھیے: Giancarlo Casale, The Ottoman Age of Exploration (New York: Oxford University Press, 2010).
  4. خلیفہ نے درخواست منظور کر لی، لیکن عثمانی بیڑا 1539ء میں، یعنی پورے اٹھائیس برس بعد پہنچا۔ "چونکہ اناطولیہ سے سوماترا تک عسکری سازوسامان پہنچانا نہایت دشوار تھا، لہٰذا انہوں نے وہاں دنیا کے اولین عسکری معاونتی تربیتی پروگراموں میں سے ایک پروگرام قائم کیا؛ جس کے تحت انہوں نے آچینیوں کو خود اپنے لیے توپیں ڈھالنے کی تربیت دی”۔ William Polk, Crusade and Jihad: The Thousand-Year War between the Muslim World and the Global North (New Haven: Yale University Press, 2018), 147.
  5. Shashi S. Sharma, Caliphs and Sultans – Religious Ideology and Political Praxis (New Delhi: Rupa & Co., 2004), 247.

مزید دریافت کریں۔

ایڈوانسڈ اے آئی کے لیے ایک امتی وژن کی طرف

دسمبر 20, 2025
ڈاکٹر جنید قادر

کیا اسلام پسند اب بھی اسلام پسند ہیں؟

نومبر 19, 2025
ڈاکٹر سمیہ ساکریا

سائبر امت، الگورتھمک بالادستی، اور ڈیجیٹل ڈیکالونائزیشن

اکتوبر 30, 2025
ڈاکٹر سحر خامس

نیویگیٹ کریں

امّیٹکس فورمز
توجہ کے علاقے
تحقیقی مقالات
اشاعتیں
امّیٹکس کے بارے میں
تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

ہمارے نیوز لیٹر میں سائن اپ کریں۔