تفصیل
یہ گفتگو شام میں حکمرانی کی منتقلی کا تنقیدی جائزہ لینے کی کوشش کرتی ہے، جو تنازع اور انقلاب کی میراث کے پس منظر میں وقوع پذیر ہوئی۔ اس کا بنیادی محور مرکزی اقتدار اور سیاسی نظم کے متبادل تصورات کے درمیان جاری کشمکش ہے۔ انقلابی قوتوں کو درپیش ایک بڑی چیلنج عالمی سطح پر ان کے انقلابی مقاصد کے لیے مستقل حمایت کی کمی تھی، خاص طور پر ان کی "شدید انقلابی زبان” کے سبب، جو ظلم کے گہرے جڑوں والے نظام کو ختم کرنے کے لیے تھی۔ بین الاقوامی حمایت کی عدم موجودگی نے ان کی عالمی سطح پر قانونی حیثیت کو بہت محدود کر دیا، کیونکہ بین الاقوامی رائے عامہ اکثر انقلاب کے نظامی تبدیلی کے اہداف سے ہم آہنگ نہیں تھی۔
آج یہی چیلنج ایک نئے ابھرتے ہوئے نظامِ حکمرانی میں دوبارہ سامنے آرہا ہے، جو اگرچہ انقلابی قوتوں کے اثر سے تشکیل پایا ہے، مگر اب موجودہ بین الاقوامی نظام میں قبولیت اور پہچان حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایک اہم سوال پیدا کرتا ہے: کیا ایک مرکزی ریاست کی ازسرِنو تشکیل اندرونی استحکام کی بحالی اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کے حصول کا قابلِ عمل راستہ فراہم کرتی ہے، یا یہ شام کو تنہائی اور ایک نئے لبادے میں آمریت کی واپسی کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہے؟
دوسری طرف، کیا حکمرانی کا ایک نیا تصور — جو مغربی ماڈلز پر انحصار کم کرے اور امت کے اندر یکجہتی کے نیٹ ورکس کو فروغ دے — ایک پائیدار متبادل فراہم کر سکتا ہے؟ کیا سول سوسائٹی کو بااختیار بنا کر، نچلی سطح پر ترقی کو فروغ دے کر، اور مسلم معاشروں کے درمیان سیاسی اتحاد کو مضبوط بنا کر، ایسا ماڈل باضابطہ بین الاقوامی شناخت کا متبادل بن سکتا ہے، جبکہ ایک مرکزی نظام کے نقصانات کو بھی کم کر سکتا ہے؟ یا پھر یہ طریقہ مزید تقسیم کا باعث بنے گا، نئے اقتدار کے مراکز پیدا کرے گا، اور ریاست کو زیادہ بین الاقوامی تنہائی میں دھکیل دے گا؟
یہ سیشن انقلابی نظریے اور نئے ابھرتے ہوئے نظامِ حکمرانی، دونوں کو درپیش قانونی حیثیت اور شناخت کے مسائل کا جائزہ لے گا، نیز بین الاقوامی نظاموں کے اس کردار پر بھی غور کرے گا جو انقلابی تحریکوں کو یا تو سہارا دیتے ہیں یا محدود کر دیتے ہیں۔
زید العلی نے ہارورڈ لا اسکول، یونیورسٹی ڈی پیرس اول (سوربون)، اور کنگز کالج لندن سے قانون کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انہوں نے 1999 میں بین الاقوامی ثالثی کے میدان میں اپنا کیریئر شروع کیا۔ 2005 سے 2010 تک وہ اقوام متحدہ میں قانونی مشیر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے، جہاں انہوں نے عراق میں آئینی، پارلیمانی، اور عدالتی اصلاحات پر کام کیا۔ 2011 سے اب تک وہ عرب دنیا میں آئینی اصلاحات پر کام کر رہے ہیں، خاص طور پر تیونس، لیبیا، مصر، یمن اور سوڈان میں۔ انہوں نے عراق اور آئینی قانون پر وسیع پیمانے پر تحریریں شائع کی ہیں۔
ڈاکٹر نور غزال اسود یونیورسٹی آف الاباما کے شعبۂ ابلاغیاتی مطالعہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ان کی تحقیقاتی بنیاد خطیبانہ روایت، بعد از نوآبادیاتی نظریہ، تنقیدی نظریہ، سماجی تحریک کے نظریے اور ماورائے قومی مطالعے پر ہے۔ ان کے علمی مقالات متعدد جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جن میں *Quarterly Journal of Speech*, *Rhetoric & Public Affairs*, *Critical Studies in Media Communication*, *Environmental Communication*، اور *Presidential Studies Quarterly* شامل ہیں۔
یہ گفتگو اور اس کے بعد ہونے والا سوال و جواب کا سیشن ڈاکٹر اسامہ العظمی (Vrije Universiteit Amsterdam) کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔
تاریخ: ہفتہ، 25 جنوری 2025، بوقت 11 بجے صبح (ایسٹیرن ٹائم)۔
خلاصہ
مرکزی مقالہ
ڈاکٹر نور غزال اسود
تمہید
- شام میں تبدیلی اسد حکومت کے خلاف ٥٣ سالہ جدوجہد کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔
- ادلب، جو ایک وقت میں تنہائی اور محاصرے کا شکار تھا، بالآخر انقلاب کے ایک مضبوط مرکز کے طور پر ابھرا۔
- شامی عوام ایک طرف اس تبدیلی کا جشن منا رہے ہیں، تو دوسری طرف بھاری جانی نقصان اور عظیم قربانیوں پر سوگوار بھی ہیں؛ ان نقصانات میں بارہ لاکھ اموات، وسیع پیمانے پر جبری نقل مکانی، اور مسلسل پیش آنے والی مشکلات و چیلنجز شامل ہیں۔
انقلاب کے دوران اور بعد ازاں یکجہتی کا فقدان
- ایک اہم چیلنج یہ رہا کہ انقلاب کو عمومی طور پر بین الاقوامی حمایت حاصل نہ ہو سکی۔
- مغربی اور عرب ممالک نے حالیہ عرصے میں اسد حکومت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا عمل شروع کیا۔
- شامی عوام نے اپنی جدوجہد کو صرف حکومت کی مخالفت تک محدود نہیں رکھا، بلکہ غلط معلومات، پروپیگنڈا اور سازشی بیانیوں کا بھی مقابلہ کیا۔
- حکومت کے خاتمے کے بعد ابتدائی سرد مہری سے دی جانے والی مبارکبادیں جلد ہی شام کے مستقبل کے خدشات کے عنوان سے دوبارہ غلط معلومات کے پھیلاؤ میں بدل گئیں۔
- مستقبل سے متعلق عالمی سطح پر پھیلایا جانے والا مایوس کن بیانیہ ماضی کے مظالم کو کم تر ظاہر کرتا ہے اور شامی عوام کی ثابت قدمی کو نظر انداز کرتا ہے۔
- شامی عوام آئندہ درپیش چیلنجوں سے بخوبی آگاہ ہیں، تاہم وہ اس امر سے بھی واقف ہیں کہ مشکل ترین مرحلہ گزر چکا ہے۔
انقلاب کی تعبیر اور مستقبل کے بیانیے پر اس کے اثرات
- انتہاپسندی: ١٩٨٢ میں حما کی بغاوت کے سختی سے کچلے جانے کے بعد عوامی بے چینی مسلسل بڑھتی رہی اور بالآخر ٢٠١١ میں ایک پُرامن عوامی یکجہتی تحریک کی صورت میں ظاہر ہوئی۔جب لوگوں نے فوجی جبر کے مقابلے میں دفاع کے لیے ہتھیار اٹھائے تو انقلاب کو بدنام کیا گیا۔ اسلاموفوبیا پر مبنی بیانیے آج بھی مزاحمت اور انسان دوستی کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑتے ہیں۔اسی طرح "اسلام پسند بمقابلہ سیکولر” کی تقسیم دراصل ایک زیادہ بنیادی امتیاز، یعنی "جمہوریت بمقابلہ آمریت”، سے توجہ ہٹا دیتی ہے۔
- فرقہ واریت: انقلاب کو مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے لیے خطرہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اسد کو اقلیتوں کے حقوق کے محافظ کی حیثیت سے دکھایا جاتا رہا۔ اس تعبیر کے نتیجے میں کئی اہم حقائق اوجھل ہو جاتے ہیں، جن میں سنی اکثریت کے خلاف اسد حکومت کی سخت پالیسیاں اور اقلیتوں کی وہ طویل تاریخ شامل ہے جس میں فرقہ وارانہ ناانصافی نمایاں نہیں تھی۔ اس تنقید کا بڑا حصہ اسلاموفوبیا سے متاثر ہے۔
- سامراجیت: اسد حکومت نے فلسطینی مسئلے کو ایک سیاسی آلے کے طور پر استعمال کیا، جبکہ شام میں فلسطینیوں کے خلاف مظالم بھی ڈھائے گئے؛ ان میں یرموک پناہ گزین کیمپ—جو اب تقریباً خالی ہو چکا ہے—میں ہونے والی کارروائیاں اور شامی خفیہ ادارے کی سب سے بڑی شاخ، یعنی فلسطین برانچ، کے ذریعے کیے گئے اقدامات شامل ہیں۔ انقلاب کو سامراجی سازش قرار دینا دراصل حکومت کا پھیلایا ہوا بیانیہ تھا، جس کا مقصد عوامی بغاوت میں شامی عوام کے خودمختار کردار کے امکان کو تسلیم کرنے سے انکار تھا۔
- معکوس اخلاقی استثنائیت: ایک رجحان یہ بھی پایا جاتا ہے کہ مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ، کو دنیا میں برائی یا سامراجی کردار کا واحد ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ اس تصور کے نتیجے میں قاسم سلیمانی جیسے کرداروں کے منفی کردار پر سنجیدہ غور کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے؛ حالانکہ ان کی موت پر شامی عوام نے ان کے اعمال کے باعث خوشی کا اظہار کیا، نہ کہ اس بنیاد پر کہ انہیں کس نے ہلاک کیا۔
حاصلِ بحث
- انقلاب کا مقصد محض اسد کو اقتدار سے ہٹانا نہیں، بلکہ ایک جمہوری شام کی تشکیل ہے۔
- شامی عوام کی امیدوں اور خدشات کو نسل پرستانہ اور مستشرقانہ دقیانوسی تصورات سے بالاتر ہو کر سنجیدگی سے سمجھنا ضروری ہے۔
- دیگر عرب بہار کی تحریکوں کے برعکس، شامی انقلاب کے نتیجے میں ریاستی ڈھانچے کا مکمل انہدام ہوا، جس کے باعث اصولی طور پر جوابی انقلاب کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
زید العلی
تمہید
- ایک آئینی وکیل کے طور پر، جو ٢٠٠٥ سے عرب دنیا کے بیشتر آئینی عمل سے وابستہ رہے ہیں، العلی شام کو درپیش آئندہ چیلنجز کو ایک وسیع تناظر میں واضح کرتے ہیں۔
- عرب آئین عموماً دو بڑی اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں، اور دونوں ہی ہائبرڈ نوعیت کے ہیں، جہاں اختیارات کے توازن اور مؤثر نگرانی کا فقدان پایا جاتا ہے اور طاقت ایک مرکز میں جمع ہو جاتی ہے:
- ہائبرڈ صدارتی نظام (تیونس، مصر، شام) — جس میں طاقت صدر کے ہاتھ میں مرکوز ہوتی ہے۔
- ہائبرڈ پارلیمانی نظام (لبنان، عراق) — جس میں طاقت پارلیمانی قیادت کے ہاتھ میں مرکوز ہوتی ہے۔
- اسد کے دور میں شام ١٩٧٠ اور ٢٠١٢ دونوں آئینوں کے تحت ایک ہائبرڈ صدارتی نظام کے تحت رہا، جو اب غیر مؤثر ہو چکا ہے، اور ملک مختلف گروہوں میں منقسم ہے۔
- ہیئت تحریر الشام دمشق، ادلب اور کئی دیگر علاقوں پر قابض ہے—تقریباً ٣٠٬٠٠٠ افراد پر مشتمل نسبتاً محدود قوت کے ساتھ—جبکہ شمال مشرقی علاقوں سمیت دیگر خطے مختلف قوتوں کے زیرِ کنٹرول ہیں۔
- ہیئت تحریر الشام نے دمشق میں نسبتاً جامع طرزِ حکمرانی کا عندیہ دیا ہے، اور ایک قومی مکالمہ کانفرنس پر غور کیا جا رہا ہے۔
شام کی حکمرانی کو درپیش چیلنجز
- طریقۂ کار سے متعلق چیلنج: شام کے نظامِ حکومت، سماجی معاہدے اور فرد و ریاست کے باہمی تعلق کی تعیین کے لیے کسی متعین قانونی مجموعے پر انحصار کے بجائے ایک نئے طریقۂ کار کی ضرورت ہے۔
- اقوامِ متحدہ کا عمل: اقوامِ متحدہ کے تحت جاری اس عمل کو برقرار رکھنے پر غور کیا گیا تھا -جو درحقیقت ایک نمائشی نوعیت کا عمل تھا- تاہم اب اسے ترک کر دیا گیا ہے۔
- موضوعاتی چیلنج: شام کو آئین سے لے کر انسانی حقوق تک حکمرانی کے تمام پہلوؤں پر ازسرِ نو غور کرنا ہوگا۔
دیگر ممالک کے تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق
- لیبیا: یر سیاسی ماہرین کی جانب سے جلد بازی میں آئین سازی کے باعث ١٤ سال تک ملک مؤثر آئین سے محروم رہا۔ اس عمل میں سیاسی شمولیت کی کمی تھی اور ٢٠١٧ میں تیار کیا گیا مسودہ تمام سیاسی قوتوں نے نظر انداز کر دیا۔
- عراق: قبضے کے بعد عراق نے جلد بازی میں آئین اپنایا، جو ٢٠ سال بعد بھی نامکمل ہے اور جزوی طور پرنافذ العمل ہے، جبکہ حکمرانی اور قانون سازی کے میدان میں نمایاں مسائل برقرار ہیں۔
- سوڈان: ٢٠١٩ کی بغاوت کے بعد قائم ہونے والے عبوری دور میں ترجیحات کی غلط ترتیب اور اس عمل پر اعتماد کے فقدان کے باعث ناکام ہو گئی، جس کے نتیجے میں ٢٠٢١ کی بغاوت پر عوامی ردعمل کمزور رہا۔ معاشی اور سیاسی اصلاحات کو بیک وقت آگے بڑھانا ضروری ہے تاکہ ایک کو دوسرے پر قربان نہ کرنا پڑے۔
- مصر اور تیونس: ناقص مذاکرات کے نتیجے میں تیار ہونے والے آئین—جو بالترتیب ٢٠١٢ اور ٢٠١٤ میں منظور ہوئے—نے صدر کے ہاتھ میں غیر معمولی اختیارات مرکوز کر دیے، جس کے نتیجے میں آمریت کی واپسی ہوئی۔
اس کے شام کے لیے مضمرات
- صدارتی نظام، قانون کی حکمرانی کے کمزور ہونے کی صورت میں، اکثر آمریت پر منتج ہوتے ہیں۔
- پارلیمانی نظام دنیا کے متعدد خطوں میں کامیاب رہے ہیں، تاہم عراق اور لبنان میں یہ کامیاب نہ ہو سکے۔
- شامی عوام کو نظامِ حکومت کے بارے میں کھلے اور تخلیقی انداز میں غور کرنا چاہیے، جس میں ایسا کم مرکزیت کا حامل ڈھانچہ بھی زیرِ بحث آ سکتا ہے جہاں صدر کا کردار نسبتاً محدود ہو۔
- اختیارات کے توازن اور مؤثر نگرانی کا نظام نہایت اہم ہے—مصر کی تاریخی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ نہ حد سے زیادہ طاقتور صدر اور نہ ہی حد سے زیادہ بااختیار عدلیہ ایک پائیدار نظام فراہم کر سکتی ہے۔
پینل مباحثہ
ڈاکٹر نور غزال اسود
- شامی عوام نے دیگر عرب اور مسلم ممالک (لیبیا، عراق، افغانستان، لبنان وغیرہ) کے تجربات سے سیکھنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
- طویل عرصے تک سیاسی شعور سے محرومی کے بعد اب شامی معاشرے میں سیاسی آگاہی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔
- انقلاب کے دوران قائم کیے گئے مقامی رابطہ کونسلیں (LCCs) ایک وقت میں ٨٠٠ تک پہنچ گئی تھیں، جو غیر مرکزی طرزِ حکمرانی کی مہارتوں کو ظاہر کرتی ہیں اور منتقلی کے مرحلے میں استعمال ہو سکتی ہیں۔
- جمہوری ممالک میں تعلیم یافتہ شامی تارکینِ وطن بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
زید العلی
- شام عملاً پہلے ہی انتشار کا شکار ہو چکا ہے؛ بنیادی چیلنج اس انتشار کو دور کر کے قومی وحدت کی بحالی ہے۔
- اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور وفاقیت، دونوں اپنے اپنے فوائد اور حدود رکھتی ہیں۔
- عراق کی مثال اس ضمن میں اہم ہے: ٢٠٠٥ کے آئین کی تدوین کے وقت، جب ملک کے دیگر حصے انتشار سے دوچار تھے، کردستان—جو ١٩٩٠ کی دہائی کے اوائل سے بڑی حد تک خودمختار تھا—نے اپنے طرزِ حکمرانی کو پورے ملک پر نافذ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم یہ حکمتِ عملی معکوس اثرات کا باعث بنی اور اس نے حد سے تجاوز کے ممکنہ خطرات کو نمایاں کر دیا۔
- علاقائی کشیدگی سے بچنے کے لیے باہمی یکجہتی نہایت اہم ہے۔
- ٢٠١١ کے بعد شامی عوام نے جو سیاسی تجربہ حاصل کیا ہے، وہ عراق اور تیونس کے مقابلے میں زیادہ مثبت اور پختہ دکھائی دیتا ہے، جہاں تبدیلی کے لیے مناسب تیاری موجود نہ تھی۔
- سیاسی شعور کی کمی کے تناظر میں سول سوسائٹی کی اہمیت کو حد سے زیادہ بڑھا کر نہیں دیکھنا چاہیے؛ تیونس میں مضبوط سول سوسائٹی بھی ٢٠٢١ کی بغاوت کے سامنے مؤثر ثابت نہ ہو سکی۔
سوال و جواب سیشن
حکمرانی اور تقسیم ((العلی))
- شام کو حکمرانی سے متعلق مسائل کو مرحلہ وار مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہوگا، نہ کہ "سب کچھ یا کچھ بھی نہیں” کے طرز پر۔
- توجہ حکمرانی کے بنیادی سوالات پر مرکوز ہونی چاہیے، جیسے مرکزیت، عدم مرکزیت اور وفاقیت۔
- آئینی عمل کے ہر پہلو پر علیحدہ اور منظم مذاکرات ہونے چاہئیں، تاکہ تدریجاً حاصل ہونے والے چھوٹے معاہدوں کی بنیاد پر وسیع تر اتفاقِ رائے قائم کیا جا سکے، جیسا کہ امن کے عمل میں ہوتا ہے۔
- افراد کے حقوق کو انتخابات اور جمہوری اداروں کے ذریعے مؤثر طور پر محفوظ بنایا جانا چاہیے۔
- ریاستی اداروں کو اس امر سے روکا جانا چاہیے کہ وہ غیر شفاف اور محدود النوع، قبائلی نوعیت کے ڈھانچوں میں تبدیل ہو جائیں جو بدعنوانی اور بدانتظامی کا شکار ہوں۔
- عدلیہ کا بنیادی فریضہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ افراد کو ریاست کے ممکنہ تجاوزات سے تحفظ فراہم کرے، نہ کہ اس کے برعکس۔
- ججوں کے احتساب کا عمل ایسے ججوں کے سپرد نہیں ہونا چاہیے جن کے ساتھ ان کی گروہی وابستگی ہو، بلکہ اس میں معاشرے کے دیگر نمائندہ عناصر کی شمولیت ہونی چاہیے۔
عالمِ اسلام سے یکجہتی ((ڈاکٹر اسود))
- حقیقی یکجہتی محض زبانی اظہار تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے لیے عملی سیاسی اور مادی تعاون درکار ہوتا ہے۔
- بہت سے مسلمان جابرانہ حکومتوں کے زیرِ سایہ اختیار سے محروم ہیں، جس سے یہ تصور تقویت پاتا ہے کہ "ہم میں سے کوئی بھی اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتا جب تک سب آزاد نہ ہوں” —بالخصوص فلسطین اور شام کے درمیان یکجہتی کے تناظر میں۔
- ایک مضبوط اور خودمختار شام فلسطین کی آزادی کے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
باغی عالمی کردار کے طور پر ((ڈاکٹر اسود))
- مغربی ممالک شام کے مستقبل کے معاملے میں عملاً الگ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں علاقائی طاقتیں (ترکی، سعودی عرب، قطر) اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
- ملکی تقسیم بدستور ایک بڑا چیلنج ہے، اور جوابی انقلابی قوت SDF/YPG اپنی نمائندگی سے کہیں زیادہ وسیع علاقوں پر قابض ہے۔
- امریکہ کے جلد انخلا کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ SDF/YPG کے اپنے زیرِ اثر علاقوں تک محدود ہونے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
کیا شامی آئین اسلامی ہوگا؟
العلی:
- العلی کے نزدیک آئین میں اسلام کو قانون کا واحد ماخذ قرار دینا مناسب نہیں۔ اس کی تشریحات مختلف ہو سکتی ہیں، مذہبی تنوع کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے، اور ایسی شق کی عملی معنویت بھی واضح نہیں۔
- تاہم اسلامی اصول آئینی ڈھانچے کے لیے رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں، جیسا کہ جنوبی افریقہ کے آئین کے تاریخی پس منظر سے تشکیل پانے والے دیباچے میں نظر آتا ہے۔
- اصل خطرہ یہ ہے کہ ایک چھوٹا اور غیر نمائندہ گروہ اقتدار پر اجارہ داری قائم کر لے۔
ڈاکٹر اسود:
- بعض حلقوں کی رائے ہے کہ ٢٠١٢ کا شامی آئین اصولی طور پر درست ہے اور اس کا بنیادی مسئلہ اس کے مؤثر نفاذ کا فقدان ہے۔
- آئین ہر مسئلے کا حتمی حل فراہم نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر، ایکواڈور کا آئین ماحولیاتی امور کو نہایت جامع انداز میں پیش کرتا ہے، اس کے باوجود ماحولیاتی انصاف کے لیے احتجاج کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔
- آئین کے متن سے زیادہ اس کا مؤثر نفاذ اہمیت رکھتا ہے۔
العلی:
- سیاسی عزم اس ضمن میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے: ایسے افراد اور گروہوں کی معقول تعداد درکار ہوتی ہے جو آئین کے ساتھ حقیقی وابستگی رکھتے ہوں، اس کے مؤثر نفاذ کے لیے سرگرم عمل ہوں اور اس سے وابستہ خطرات کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہو۔
- ٢٠٠٦ میں عراق اس کی بدترین مثال کے طور پر سامنے آیا، جہاں ایک غیر مقبول آئین کے نفاذ کے بعد تشدد میں چار گنا اضافہ ہوا۔
- درحقیقت ٢٠١٢ کا شامی آئین ایک نہایت کمزور متن ہے—حقوق سے متعلق بظاہر دلکش دفعات بھی اس کے بنیادی مسئلے کو چھپا نہیں سکتیں، اور وہ مسئلہ صدر کو دیے گئے غیر معمولی اور تقریباً مطلق اختیارات ہیں۔
شام اور فلسطین
ڈاکٹر اسود:
- جنگ سے نڈھال شام فوری طور پر فلسطین کی آزادی کی ذمہ داری سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں۔ تاہم آزاد شام کے تناظر میں اسرائیل کی فوری فوجی دراندازیاں اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ وہ اسد حکومت کے مقابلے میں ایک خودمختار شام سے زیادہ خائف ہے۔
العلی:
- صدام کے زوال کے بعد عراق نے ابتدا میں فلسطینی مسئلے سے کسی حد تک فاصلہ اختیار کیا، تاہم عرب اور مسلم دنیا میں فلسطین کے ساتھ یکجہتی برقرار ہے۔
- ممکن ہے کہ ہیئت تحریر الشام حکمتِ عملی کے تحت اس مسئلے کو نسبتاً کم اہمیت دے رہی ہو، لیکن شام کے اندر اسرائیل کی فوجی توسیع پسندی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کا بالآخر سامنا کرنا پڑے گا۔
ڈاکٹر نور غزل اسود
ڈاکٹر نور غزال اسود، یونیورسٹی آف الاباما کے ڈیپارٹمنٹ آف کمیونیکیشن اسٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ اپنی تحقیق میں خطابت کی روایت، نوآبادیات کے بعد کی نظریات (مابعد نوآبادیاتی نظریہ)، تنقیدی نظریہ (تنقیدی نظریہ)، سماجی تحریکوں کے نظریات، اور بین الاقوامی مطالعات سے استفادہ کرتی ہیں۔ ان کا تحقیقی کام متعدد معتبر جرائد میں شائع ہو چکا ہے، جن میں سہ ماہی جرنل آف سپیچ، بیان بازی & پبلک افیئرز، میڈیا کمیونیکیشن میں تنقیدی مطالعہ، ماحولیاتی مواصلات اور صدارتی مطالعہ سہ ماہی شامل ہیں۔
زید العلی
زید العلی نے ہارورڈ لا اسکول، یونیورسٹی آف پیرس اول (سوربون)، اور کنگز کالج لندن سے قانون کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انہوں نے 1999 میں بین الاقوامی ثالثی کے میدان میں عملی سرگرمی کا آغاز کیا اور اس کے بعد سے آئینی قانون کے ایک نمایاں ماہر کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔ 2005 سے 2010 تک، زید نے اقوامِ متحدہ کے لیے قانونی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جہاں ان کا کام عراق میں آئینی، پارلیمانی اور عدالتی اصلاحات پر مرکوز تھا۔ 2011 سے، وہ عرب خطے میں آئینی اصلاحات کے لیے سرگرم ہیں، خصوصاً تیونس، لیبیا، مصر، یمن اور سوڈان میں۔ زید نے عراق اور آئینی قانون کے موضوع پر متعدد تحریریں شائع کی ہیں، جو اس خطے میں قانونی اور سیاسی اصلاحات کے مباحث میں قابلِ قدر حصہ ڈالتی ہیں۔


