امیٹکس کے مارچ ۲۰۲۳ کے مجلسِ مذاکرہ میں ہم نے ڈاکٹر سلمان سید کا خیرمقدم کیا تاکہ وہ اپنی اہم تصنیف ریکالنگ دی خلافت: ڈی کولونائزیشن اینڈ ورلڈ آرڈر پر گفتگو کریں۔ اس کتاب میں اسلام اور سیاست سے متعلق مختلف نظریات اور مفروضات کا جائزہ مغربی آفاقیت پر تنقیدی نظر کے ساتھ لیا گیا ہے۔ مباحثے میں اظہارِ خیال کرنے والے ڈاکٹر شرالی ترین اور ڈاکٹر اوامیر انجم نے اس کتاب کی خوبیوں اور جدید مسلم سیاسی تخیّلات پر اس کے اثرات کے حوالے سے اپنے تاثرات پیش کیے۔
خلاصۂ مجلسِ مذاکرہ مارچ 2023
مقررین:
- ڈاکٹر سلمان سید
- ڈاکٹر شرالی ترین
- ڈاکٹر اوامیر انجم
خلاصہ
ریکالنگ دی خلافت کے ۲۰۲۲ کے ایڈیشن کے دیباچے سے استفادہ کرتے ہوئے ڈاکٹر سلمان سید نے اس امر پر غور کیا کہ ۲۰۱۴ میں کتاب کی پہلی اشاعت کے بعد سے حالات کس طرح تبدیل ہوئے ہیں۔ اب بھی صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے پاس ایسا سیاسی تخیل موجود نہیں جو لبرل ازم سے ماورا ہو۔ اگرچہ علمی دنیا میں نوآبادیاتی تنقید پر مبنی فکر نے کچھ پذیرائی حاصل کی ہے، لیکن اس کا بڑا حصہ درحقیقت ہلکے پردے میں ملبوس سیکولر لبرل ازم ہی ہے؛ نوآبادیاتی مباحث اکثر مذہبی فکر اور محرکات کے لیے جگہ پیدا کرنے میں ناکام رہتے ہیں، اور اسلامیکیٹ کا مطالعہ عموماً صرف اس سوال کے جواب کے لیے کیا جاتا ہے کہ آیا مسلمان جمہوری، لبرل اور سیکولر بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ان اصطلاحات کو تاریخی سیاق میں رکھے بغیر استعمال کیا جاتا ہے، جس سے تاریخ کو مغربی بالادستی کی جانب بڑھنے والی ایک واحد یورو مرکزیت پر مبنی سمت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
ان فکری و علمی مسائل کے پیشِ نظر ریکالنگ دی خلافت دو وسیع حصوں پر مشتمل ہے: کلیرنگ اور ڈریمنگ — جنہیں بالترتیب تنقید اور تشکیلِ نو سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یورو مرکزیت پر تنقید اور "یورپ” کے تصور کو تاریخی تناظر میں پرکھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یورپ کی تشکیل اسلامی تہذیبی دائرے کے اخراج کے ذریعے نہیں ہوئی؛ بلکہ اسلام ہمیشہ سے یورپ کا جزوِ لاینفک رہا ہے۔ اسی تاریخی فہم کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے سید نے کریٹیکل مسلم اسٹڈیز کے میدان کو فروغ دیا، جس کا مقصد مسلم تشخص کا مطالعہ کرنا اور یہ جانچنا ہے کہ مستشرقانہ ادب نے مسلم موضوعیت کو کس طرح مسخ کیا ہے۔ اگرچہ مستشرقیت پر تنقید ایک پختہ علمی روایت بن چکی ہے، تاہم اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کے حل کی جانب نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔
مزید برآں، سید نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ استعماریت مخالف فکر اور اسلامی تہذیبی دائرے کے باہمی تعلق و امتزاج پر مزید علمی کام کی ضرورت ہے۔ ان کے نزدیک اسلامی تہذیبی دائرے کی تاریخ کو محض اوقیانوسی مرکزیت پر قائم استعماریت مخالف فکر میں شامل کرنے کے بجائے ایک ایسی عالمگیر تاریخ مرتب کی جانی چاہیے جو اس باہم مربوط فکری روایت کے لیے پس منظر فراہم کر سکے۔ کریٹیکل مسلم اسٹڈیز مابعد اثباتیت سے بھی نسبت رکھتی ہے، کیونکہ یہ سماجی علوم — بلکہ عمومی طور پر علم کے پورے نظام — کو عہدِ روشن خیالی میں قائم ہونے والے طبیعی علوم کے تصور کے مطابق ڈھالنے کی کوششوں پر سوال اٹھاتی ہے۔
سید نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ خلافت سے متعلق لٹریچر پر تاریخ نگاری کا غلبہ رہا ہے، اور بہت کم تصانیف ایسی ہیں جو خلافت کو ایک سیاسی اور نظریاتی مظہر کے طور پر جانچتی ہوں۔ رائج تاریخی بیانیے عموماً یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ خلافت مصطفیٰ کمال کے ہاتھوں اس کے باضابطہ خاتمے سے بہت پہلے ہی اپنی عملی حیثیت کھو چکی تھی، جبکہ خلافت کے احیاء کے لیے مسلمانوں کی کوششوں کو محض رومانوی ماضی پرستی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے-” ریکالنگ دی خلافت” نہ تو محض ایک تاریخی روداد ہے اور نہ ہی کوئی خیالی مثالیہ؛ بلکہ یہ خلافت کو ایک ایسے استعارے کے طور پر پیش کرتی ہے جو ہمیں اسلامی تہذیبی دائرے کے مستقبل کا تصور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
موجودہ عالمی صورتِ حال میں، سید کے مطابق، مسلمان اس قدر مضبوط ہیں کہ عالمی طاقت کے ڈھانچے انہیں مکمل طور پر نظرانداز نہیں کر سکتے، لیکن ابھی اتنے طاقتور نہیں ہوئے کہ انہیں ان ڈھانچوں میں مؤثر شمولیت حاصل ہو سکے۔ اس تناظر میں خلافت ایک ایسے ہمہ گیر نظام کے استعارے کے طور پر سامنے آتی ہے جو مسلم عوامی رائے کو عالمی طاقت کے توازن پر اثر انداز ہونے کی حقیقی گنجائش فراہم کر سکے۔
جوابات
ڈاکٹر شرالی ترین نے ریکالنگ دی خلافت کو سیکولر اقتدار پر ایک فکری طور پر گہری مگر قابلِ فہم تنقید قرار دیا۔ کتاب میں پیش کیے گئے اہم تصورات میں سے ایک "ویسٹرنیز” ہے، جس سے مراد اُن تصورات کا مجموعہ ہے جو سیکولرازم اور لبرل ازم کو یہ معیاری حیثیت عطا کرتا ہے کہ وہ اس امر کا تعین کریں کہ اچھی سیاست کسے کہا جائے۔
ریکالنگ دی خلافت علمی اداروں کی اُن سیکولر بنیادوں پر بھی اہم تنقید کرتی ہے جو استعماریت مخالف فکر میں سرایت کیے ہوئے ہیں اور اسے سیکولر تصور پر ازسرِ نو غور کرنے سے قاصر بنا دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ مفکرین بھی، جو استعماری فکری وراثت کو چیلنج کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، بالآخر ایسے بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں جو مذہب کو ایک پُرتشدد مظہر کے طور پر پیش کرتا ہے، جسے دبانا اور قابو میں رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ سیکولر لبرل ازم پر تنقید اور اس سے براءت کے بغیر حقیقی معنوں میں استعماریت مخالف سیاست ممکن نہیں۔
مسئلہ سیکولر کے کے تناظر میں، ترین نے سید سے درخواست کی کہ وہ اُن حالیہ کوششوں پر اپنے خیالات پیش کریں جن میں “اسلامی سیکولر” کو ایک ایسے تصور کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو اسلام کی اپنی فکری بنیادوں پر مذہبی اور سیکولر کے درمیان امتیاز قائم کرتا ہے۔ چونکہ سیکولر اقتدار جدید ریاستی حاکمیت اور اس کے داخلی تضادات سے وابستہ ہے، اس لیے یہ سوال محلِ نظر ہے کہ آیا سیکولر کے تصور کو دوبارہ اختیار کرنا یا اسے نئے معنی دینا ممکن بھی ہے یا نہیں۔
یہ کتاب اسلامی تاریخ کے اُس مقبول نقطۂ نظر کو بھی محلِ تنقید بناتی ہے جو نوآبادیاتی دور کو ابتدائی اور جدید مسلم دنیا کے درمیان ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس تصور پر سوال اٹھاتے ہوئے ریکالنگ دی خلافت اُن معیارات کو چیلنج کرتی ہے جن کے تحت عہدِ روشن خیالی کی مرکزیت رکھنے والا بیانیہ یہ طے کرتا ہے کہ کس چیز کو تاریخی اہمیت حاصل ہے۔
ترین نے سید سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ خلافت کو ایک استعارے کے طور پر پیش کرنے کے مضمرات پر روشنی ڈالیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی واضح اور حقیقی نصب العین موجود نہ ہو جس کے حصول کی کوشش کی جائے، تو خلافت محض ایک امکان یا تصور کی صورت اختیار کر لیتی ہے جو کبھی عملی وجود نہیں پاتا۔ بظاہر یہ مؤقف امیٹکس کے اُس مشن سے متصادم دکھائی دیتا ہے جس کا مقصد اسلامی حکمرانی کو ایک ٹھوس اور قابلِ تصور شکل میں پیش کرنا ہے۔
ڈاکٹر اوامیر انجم نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ریکالنگ دی خلافت ایک اہم علمی و فکری کاوش ہے، جو اس امکان کو نمایاں کرتی ہے کہ لبرل سامراجی زاویۂ نگاہ اور مسلم ردِعمل — جو عموماً فوری اور حالیہ مسائل تک محدود رہتے ہیں — دونوں سے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ خلافت کو ایک استعارتی تصور کے طور پر برقرار رہنا چاہیے، خواہ وہ کبھی عملی حقیقت کی صورت اختیار کر لے، تاکہ اس کی ہیئت اور عملی صورت پر مسلسل غور و فکر کی گنجائش باقی رہے۔ دوسرے الفاظ میں، خلافت ایک تقاربی نصب العین ہے: ایک ایسا مثالی نمونہ جس کے قریب حقیقی صورت پہنچ سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ مکمل مطابقت اختیار نہیں کر سکتی۔
ریکالنگ دی خلافت میں جرات مندانہ فکری سوالات بڑی تعداد میں اٹھائے گئے ہیں، تاہم اس کے باوجود کتاب فکری تشکیل کے لیے وافر گنجائش باقی رکھتی ہے۔ انجم نے کتاب میں ایمانوئل والر اسٹین کے عالمگیریت سے متعلق ایک اقتباس کی طرف توجہ دلائی، جو محکوم اقوام کو درپیش فکری مخمصے کو نمایاں کرتا ہے۔ جب مغرب تاریخ، عقل، اور انصاف کے بارے میں عالمگیر بیانیے پیش کرتا ہے، تو نوآبادیاتی محکومیت کا شکار اقوام کے سامنے دو راستے رہ جاتے ہیں: یا وہ ان بیانیوں کو قبول کریں اور اس کے ساتھ مغرب کو بھی تسلیم کر لیں، یا پھر انہیں رد کر کے اپنی تنگ نظری اور اُس “بے رنگ” معیار سے حاشیہ نشینی کو قبول کر لیں جو خود کو غیر جانب دار ظاہر کرتا ہے۔ والر اسٹین کے مطابق ان عالمگیر تصورات کو نہ مکمل طور پر قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ مکمل طور پر رد؛ چنانچہ انسان ان دونوں کے درمیان جھولتا رہتا ہے، اور یہی کیفیت بالآخر فکری انتشار کا باعث بنتی ہے۔
تیسری دنیا سے وابستہ بہت سی تحریکیں اسی نوع کے تذبذب کا شکار رہی ہیں، مگر یہی صورتِ حال اُس مسئلے کو آشکار کرتی ہے جس کی طرف سید نے استعماریت مخالف فکر کے حوالے سے اشارہ کیا تھا: بالآخر یہ محض نئی ترتیب میں پیش کیا گیا لبرل ازم بن کر رہ جاتا ہے۔ انجم کے مطابق مغربی عالمگیریت سے گریز کی راہ دکھانے کے لیے ایک مختلف نوع کی عالمگیریت درکار ہے۔ اسلام کے ساتھ زیادہ گہری وابستگی اس امکان کو جنم دیتی ہے، کیونکہ اس صورت میں اسلام محض تنقید کا موضوع نہیں رہتا بلکہ موقف اختیار کرنے اور فکری رہنمائی کا بنیادی حوالہ بن جاتا ہے۔
بحث و مباحثہ
سید: خلافت کے استعارہ ہونے کے حوالے سے یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ انسان ہمیشہ استعاراتی تصورات کے دائرے میں زندگی بسر کرتا ہے، اور ہر شے کو ایک استعارے کی صورت دی جا سکتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ خلافت کو ہمیشہ محض امکان کی سطح پر معلق رکھا جائے؛ ایک حقیقی ڈھانچہ امت کی صورتِ حال کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے امکان سے حقیقت میں منتقل کرنے کے لیے مخصوص حالات کے مطابق حکمتِ عملی پر مبنی عملی جدوجہد درکار ہے۔ یہ محض ایک نظریاتی نوعیت کا کام نہیں، اور ریکالنگ دی خلافت بھی اسی مقصد کے لیے مرتب نہیں کی گئی تھی۔
حماد یاسر: ایک سیکولر قومی ریاست میں رہنے والی مسلم اقلیت خلافت کو ایک استعارتی تصور کے طور پر کس طرح سمجھ سکتی ہے، اور سیکولر قومی ریاست کے تناظر میں مسلم موضوعیت کو کس انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے؟
سید: میں وائل حلاق کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا کہ جدید ریاست کی صرف ایک ہی ممکنہ صورت ہو سکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ جدید ریاست کو ازسرِ نو تشکیل دینے کی ضرورت ہے؛ اسے محض ایک وراثت کے طور پر قبول کرنا ضروری نہیں۔ مزید یہ کہ اسلام کے ابتدائی تقریباً تین سے چار سو برس تک مسلمان اقلیت کی حیثیت سے بھی زندگی گزارتے رہے ہیں۔ اس لیے اصل مسئلہ اقلیت ہونا نہیں، بلکہ اس اقلیت کی نوعیت اور صورتِ حال ہے۔ اقلیتی زندگی کے مسائل اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں جب انسان اُن قومی سرحدوں سے آگے سوچنے کے قابل نہ رہے جو اسے اقلیت بناتی ہیں۔
انجم: قومی ریاست کوئی لازمانی حقیقت نہیں جسے ایک ٹھوس اور قابلِ مشاہدہ وجود سمجھ لیا جائے۔ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا ظہور ویسٹ فیلیا کے معاہدے کے ساتھ ہوا اور یہ جدید دور تک برقرار رہی، لیکن سترہویں صدی کی ریاستیں انیسویں اور بیسویں صدی کی سلطنتوں اور جدید قومی ریاستوں سے نمایاں طور پر مختلف تھیں۔ اسی لیے میں سید سے اتفاق کرتا ہوں کہ قومی ریاست کے بارے میں حلاق کی توضیح پر سوال اٹھایا جانا چاہیے۔
جے۔ ایس۔ احمد: موجودہ مرحلے میں آپ پاکستان کے تناظر میں “تنقیح” اور “تشکیلِ نو” کے عمل کو کس صورت میں وقوع پذیر ہوتا دیکھتے ہیں؟
ترین: پاکستان کی صورتِ حال اسلاموفوبیا اور کمالی رجحانات کے باہمی تعلق کو نمایاں کرتی ہے۔ یہاں ایک جدیدیت پسندانہ تصور کارفرما ہے جس کے تحت اسٹیبلشمنٹ مخالف عناصر کو مذہبی شدت پسندی کی طرف مائل سمجھا جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال واضح کرتی ہے کہ لبرل ازم، جدید ریاستی حاکمیت، اور سیکولریت ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے ہیں۔
سلمان: ترین کے اس سوال کے جواب میں کہ “اسلامی سیکولر” سے کیا مراد ہو سکتی ہے، میرے نزدیک یہ ایک متناقض اصطلاح ہے۔ یہ کوئی زیادہ مفید کوشش نہیں، کیونکہ اس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ سیکولرازم محض چرچ یا مسجد اور ریاست کی علیحدگی کا نام ہے، حالانکہ تاریخی طور پر یہ ہمیشہ اس صورت میں آیا ہے کہ ریاست مذہبی اداروں پر اپنا اختیار قائم کر لیتی ہے۔
شہلا خان: استعماریت مخالف فکر کی حدود کے حوالے سے استعماریت مخالف فکر کی حدود کے حوالے سے عمران خان اس کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ وہ ایک لبرل سیاست دان ہیں جو آئین وقانون کی حکمرانی پر زور دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ریاستِ مدینہ کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور مغربی لبرل ازم پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ وہ کسی انتہاپسند رجحان کے حامل نہیں، تاہم ان کے بعض بیانات اس کے باوجود خاصے اشتعال انگیز سمجھے گئے ہیں۔
ترین: یہ مثال سیکولریت کو ایک ذہنی و فکری رجحان اور سیکولرازم کو سیاسی اقتدار کی ایک صورت کے طور پر سمجھنے کے باہمی تعلق کو مزید واضح کرتی ہے۔ سیاسی میدان میں اسلامی تصورات کا حوالہ دینا سامراجی اور سیکولر حساسیتوں کے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
خرم رفیق: تنظیمِ اسلامی جیسی تحریکیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ براہِ راست سیاسی سرگرمی کے بجائے اسلامی تعلیم اور علمی میدان کے ذریعے خلافت کے قیام کے لیے کام کر رہی ہیں۔ طویل المدت تناظر میں ایسی کوششیں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں؟
سید: بیسویں صدی کے بہت سے مفکرین، جیسے مودودی اور شریعتی، نے مارکسزم کے تناظر میں یورپ میں رائج نظریات کے مقابل ایک اسلامی متبادل پر غور کرنے کی کوشش کی۔ مارکسزم کو ایک طرف ایک ایسی سائنس سمجھا جاتا تھا جو معاشرے کا تجزیہ کرتی ہے، اور دوسری طرف ایک ایسے نظریے کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو معاشرے کی تشکیل نو کا دعویٰ رکھتا ہے۔ تاہم ہمیں یہ دعویٰ کرنے کی ضرورت نہیں کہ اسلام بھی ایک سائنس ہے، کیونکہ اس طرح وہ محض مارکسزم کی ایک ثانوی صورت بن کر رہ جائے گا۔ اسلام ایک الٰہی حکم ہے، نہ کہ مخصوص سماجی حالات کی محض تنقید، اگرچہ اسلامی روایت کے اندر ایسی تحریریں موجود ہیں جو ان حالات کا مشاہدہ اور تنقید کر سکتی ہیں۔ اسلام کو سائنس قرار دینا دراصل اسے سائنس اور تجزیاتی علم کے تابع بنا دیتا ہے، جبکہ اسلام کو ان دونوں سے بالاتر ہونا چاہیے۔
عمیر انجم
اوامِر انجم امیٹکس انسٹیٹیوٹ کے چیف ریسرچ آفیسر ہیں۔ وہ 2019 میں "خلافت کون چاہتا ہے؟" کے عنوان سے یقین انسٹیٹیوٹ میں شائع ہونے والے مضمون کے مصنف ہیں، جو اس منصوبے کی بنیاد اور تحریک کا سبب بنا۔ وہ یونیورسٹی آف ٹولیڈو کے شعبۂ فلسفہ اور مذہبی مطالعات میں اسلامیات کے پروفیسر اور انڈاؤڈ چیئر ہیں، اور امریکن جرنل آف اسلام اینڈ سوسائٹی (جسے پہلے امریکن جرنل آف اسلامک سوشل سائنسز کے نام سے جانا جاتا تھا) کے شریک مدیر ہیں۔ حال ہی میں انہیں یقین انسٹیٹیوٹ کے ریویو بورڈ کے ایڈیٹر اِن چیف کے طور پر بھی مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تحقیق کے اہم موضوعات میں اسلامی تاریخ، الہیات، سیاسی فکر، اور عمومی طور پر تاریخ شامل ہیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں اسلامی فکر میں سیاست، قانون اور برادری: تیمیاں لمحہ (کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2012) اور الہی متلاشیوں کے درجات: ابن القیم کی مدارج السالکین کا ترجمہ (برل، 2020) شامل ہیں، جو چار جلدوں پر مشتمل سلسلے کی ابتدائی دو جلدیں ہیں۔ ان کی منتخب تصانیف تک رسائی کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کریں: https://utoledo.academia.edu/OvamirAnjum
ڈاکٹر سلمان سید
پروفیسر سلمان سید یونیورسٹی آف لیڈز میں علمِ بلاغت و استعماریت مخالف فکر کے پروفیسر اور شعبۂ عمرانیات و سماجی پالیسی کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے اسلام پسندی، اسلاموفوبیا، تنقیدی مسلم فکر، اور استعماریت مخالف فکر کے موضوعات پر متعدد علمی تصانیف تحریر کی ہیں۔ وہ ری اورینٹ: دی جرنل آف کریٹیکل مسلم اسٹڈیز کے بانی مدیر بھی ہیں۔
شیر علی ترین
شیر علی ترین لنکاسٹر، پنسلوانیا کے فرینکلن اینڈ مارشل کالج میں مذہبی علوم کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور صدرِ شعبہ ہیں۔ ان کی تحقیق ابتدائی جدید اور جدید جنوبی ایشیا میں مسلم فکری روایات اور علمی مباحث پر مرکوز ہے۔ ان کی کتاب "جدیدیت میں محمد ﷺ کا دفاع" (نوٹردام یونیورسٹی پریس، ۲۰۲۰ء) کو امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز کا ۲۰۲۰ء کا کتابی انعام ملا، جبکہ یہ ۲۰۲۱ء کے امریکن اکیڈمی آف ریلیجن بُک ایوارڈ کے لیے بھی نامزد ہوئی۔ ان کی دوسری کتاب "خطرناک قربتیں: سلطنت کے بعد ہندو۔مسلم دوستی پر بحث" کولمبیا یونیورسٹی پریس کے معروف سلسلے "مذہب، ثقافت، اور عوامی زندگی" کے تحت ۲۰۲۳ء میں شائع ہوئی۔ انہوں نے جرنل آف لا اینڈ ریلیجن، مسلم ورلڈ، پولیٹیکل تھیالوجی، اسلامک اسٹڈیز، جرنل آف دی رائل ایشیاٹک سوسائٹی، اور ری اورینٹ سمیت متعدد علمی جرائد میں مقالات شائع کیے ہیں۔ وہ "نیو بُکس ان اسلامک اسٹڈیز" نامی معروف پوڈکاسٹ کے شریک میزبان بھی ہیں، جس میں اسلامی علوم کے وسیع میدان سے متعلق اہم نئی کتابوں کے مصنفین کے انٹرویوز پیش کیے جاتے ہیں۔


