ہمارے فروری کے مجلس مذاکرہ (جو بدھ ۱۵ فروری کو شام ۴ بجے مشرقی معیاری وقت — EST- کے مطابق منعقد ہوا) میں ہمیں خوشی ہوئی کہ ہم نے مقررین ڈاکٹر رجائی جریدینی ( پروفیسر اخلاقیاتِ مہاجرت و انسانی حقوق ، حمد بن خلیفہ یونیورسٹی، قطر) اور ڈاکٹر حسام الدین محمد (اسسٹنٹ پروفیسر اسلامک اسٹڈیز، کارابک یونیورسٹی، ترکی) کا خیر مقدم کیا، جنہوں نے اپنے مقالے "امت اور قومی ریاست: مہاجرین کے معاملے میں اخلاقی پیچیدگیاں” پر گفتگو پیش کی۔ ان کے مقالے میں مسلم دنیا میں مہاجرین اور ان کے حقوق سے متعلق معاصر مباحث اور پالیسیوں کے تناظر میں امت کے تصور کا جائزہ لیا گیا۔ بالخصوص وہ اس بات کا تجزیہ کرتے ہیں کہ مسلم اکثریتی قومی ریاستوں نے اپنی پالیسیوں اور سیاسی ترجیحات کے ذریعے کس حد تک مسلم اتحاد اور یکجہتی کو کمزور کیا ہے۔ آخر میں وہ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ اسلامی اخلاقیات، قانون اور اُمتی اصولوں کی روشنی میں یہ ریاستیں جاری مہاجر بحرانوں کا بہتر طور پر کس طرح مقابلہ کر سکتی ہیں۔
ہم نے مبصرین ڈاکٹر ساؤل تاکاہاشی (پروفیسر برائے انسانی حقوق اور پیس اسٹدڈیز، اوساکا جوگاکوئن یونیورسٹی، جاپان) اور ڈاکٹر کمال فنشو بدرالدین (محقق برائے کامن لا اور شریعت، یونیورسٹی آف ابوجا، نائجیریا) کا بھی خیر مقدم کیا۔
تقریبا دنیا کے ۷۰٪ مہاجرین مسلمان ہیں، جن میں سے دو تہائی صرف پانچ ممالک سے تعلق رکھتے ہیں: شام، افغانستان، جنوبی سوڈان، میانمار اور صومالیہ۔ فلسطینی مہاجرین کے بحران کو اب ۷۵ برس ہو چکے ہیں، لیکن مہاجرین سے متعلق اخلاقی مباحث ابھی بھی زیادہ تر قومی ریاست کے فریم ورک کے اندر ہی زیرِ بحث آتے ہیں۔ اُمّیٹکس کے فروری ۲۰۲۳ کے مجلس مذاکرہ میں ڈاکٹر رجائی جریدینی اور ڈاکٹر حسام الدین محمد نے اپنے حالیہ مقالے "امت اور قومی ریاست: مہاجرین کے معاملے میں اخلاقی پیچیدگیاں” کا خلاصہ پیش کیا تاکہ مہاجرین کی آبادکاری کے لیے ایک اُمتی اخلاقی تناظر کی ضرورت کو اجاگر کیا جا سکے۔
خلاصۂ مجلسِ مذاکرہ، فروری ، 2023
مقررین:
- ڈاکٹر حسام الدین محمد
- ڈاکٹر رجائی جریدینی
- ڈاکٹر ساؤل جے تاکاہاشی
- ڈاکٹر کمال بدر
خلاصہ
ڈاکٹر حسام الدین محمد نے اپنی گفتگو کا آغاز جدید مہاجر بحران کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کیا۔ مسلم ممالک میں رہنے والے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد نہایت مشکل حالات میں زندگی گزار رہی ہے؛ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زیادہ تر میزبان مسلم ممالک ترقی پذیر ہیں اور دیگر ممالک سے مناسب مہاجر امداد حاصل کیے بغیر اس بحران کا بڑا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سے مسلم مہاجر یورپ کے نسبتاً خوشحال ممالک تک پہنچنے کے لیے جان لیوا راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہ حالات اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ مہاجرین سے متعلق اخلاقی مباحث کے لیے ایک اُمتی نقطۂ نظر کو تصور میں لایا جائے۔ اس مقالے میں اس بات کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ باہمی تعاون سے متعلق اسلامی تعلیمات اور رسول اکرم ﷺ کی ہجرت کے تجربات کو مہاجرین کے بحران سے متعلق پالیسیوں میں کس حد تک استعمال کیا گیا ہے، نیز یہ بھی کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں مسلم ممالک کی مہاجر پالیسیوں کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
مقالے کے پہلے حصے میں "امت” کا نظریاتی تجزیہ پیش کیا گیا ہے، جسے ایک ایسی اجتماعی ہستی کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو دارالاسلام میں رہنے والے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو شامل کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں قومی ریاست کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے، جو ایک متحد اور مربوط بین الاقوامی برادری کی تشکیل میں ایک رکاوٹ کے طور پر سامنے آتا ہے۔
دوسرے حصے میں اردن، بنگلہ دیش اور ترکی کی مہاجر پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مصنفین اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان ممالک میں مہاجرین کے حوالے سے کوئی باضابطہ اُمتی پالیسی موجود نہیں، اگرچہ انہوں نے بعض ایسے اقدامات کیے ہیں جو امید کی کرن پیدا کرتے ہیں۔ ترکی اور اردن نے متعدد مہاجرین کو شہریت بھی دی ہےاور اس عمل میں بعض اوقات اُمتی علامتوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ترکی نے روہنگیا مہاجرین کی مدد کے لیے ۶۰ ملین ڈالر کی امداد بھی فراہم کی ہے۔ تاہم یہ تینوں ممالک — دیگر بیشتر ممالک کی طرح — اب بھی زیادہ تر ایسی غیر انضمامی پالیسیوں پر عمل کرتے ہیں جو صرف عارضی پناہ کی اجازت دیتی ہیں۔ او آئی سی کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ مہاجر بحران کے حل اور مہاجر پالیسی کی ایک اُمتی صورت کی تشکیل میں زیادہ مضبوط کردار ادا کرے۔
ڈاکٹر رجائی جریدینی نے یو این ایچ سی آر ریفیوجی زکوٰۃ فنڈ کو مہاجر بحران کے خاتمے کے لیے ایک قابلِ عمل اُمتی ذریعہ کے طور پر جانچا۔ ۲۰۱۵ میں دنیا بھر میں زکوٰۃ کی مجموعی رقوم کا تخمینہ ۲۰۰ ارب سے ۱ کھرب ڈالر کے درمیان لگایا گیا تھا۔ صرف انڈونیشیا کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ سالانہ ۲۰٫۹۷ ارب ڈالر تک زکوٰۃ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یو این ایچ سی آر نے سب سے پہلے ۲۰۱۶ میں زکوٰۃ کا ایک تجرباتی پروگرام متعارف کروایا، جسے بعد میں ۲۰۱۹ میں ریفیوجی زکوٰۃ فنڈ کی شکل دے دی گئی۔ اس فنڈ نے اپنی شرعی حیثیت کو مضبوط بنانے اور اپنی پالیسیوں کی رہنمائی کے لیے علما سے فتاویٰ حاصل کیے۔ ۲۰۱۹ میں تقریباً ۴۳ ملین ڈالر کی رقم ۱۰ لاکھ سے زائد مستحقین میں تقسیم کی گئی، جن میں زیادہ تر عطیات خلیجی ممالک کی مسلم فلاحی تنظیموں کی جانب سے آئے۔ سب سے بڑا انفرادی عطیہ شیخ ثانی بن عبداللہ کی فلاحی فاؤنڈیشن نے دیا، جس نے روہنگیا مہاجرین اور بے گھر یمنی افراد کی مدد کے لیے ۳۵ ملین ڈالر عطیہ کیے۔
یو این ایچ سی آر نے تین بنیادی اصولوں کی پابندی پر اتفاق کیا، جن کے باعث ادارے کے معمول کے طریقِ کار میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں: اول، مستحقین کو قرآن میں بیان کردہ زکوٰۃ کے آٹھ مستحق طبقات میں سے کسی ایک سے تعلق رکھنا چاہیے۔ دوم، تمام رقوم بغیر انتظامی کٹوتیوں کے تقسیم کی جائیں، جبکہ عموماً ایسی کٹوتیاں عطیات کا ۶٫۵–۷٪ تک ہوتی ہیں۔ سوم، عطیات نقد صورت میں دیے جائیں تاکہ امداد باوقار انداز میں فراہم کی جا سکے اور فنڈ کی نگرانی بھی آسان ہو۔
یو این ایچ سی آر زکوٰۃ فنڈ پر ایک تنقید یہ کی جاتی ہے کہ زکوٰۃ ایک خالص مذہبی ادارہ ہے جو بنیادی طور پر مسلمانوں کے مابین ہی ادا اور تقسیم کیا جاتا ہے؛ اس لیے اس کی تقسیم کا انتظام کسی سیکولر ادارے کے سپرد کرنا غیر مناسب ہے۔ ایک اور اعتراض یہ سامنے آتا ہے کہ نقد امداد ہر حال میں ان مہاجرین کی ضروریات پوری نہیں کر سکتی جو انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں—جیسے شمالی شام کے غیر محفوظ کیمپوں میں مقیم افراد—جہاں اکثر مہاجرین کے لیے فنڈ وصول کرنے کی خاطر بینک کھاتوں تک رسائی بھی ممکن نہیں ہوتی۔
مزید برآں خلیجی ممالک کی جانب سے اس بحران کے ردعمل میں دی جانے والی مالی امداد کو "ہمدردی کی سیاست” کے طور پر بھی دیکھا گیا ہے، جس کے تحت عطیہ دینے والے ممالک دور سے مالی امداد فراہم کر کے خود کو مطمئن کر لیتے ہیں جبکہ وہ نسبتاً کم تعداد میں مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دیتے ہیں۔ ورلڈ زکوٰۃ اینڈ وقف فورم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر زینب البہار نور نے بھی یہ مؤقف پیش کیا ہے کہ زکوٰۃ کو مقامی سطح پر ہی تقسیم کیا جانا چاہیے۔
جوابات
ڈاکٹر ساؤل جے تاکاہاشی نے مصنفین کے شہریت سے متعلق مؤقف میں دلچسپی ظاہر کی، کیونکہ مہاجرین کی آبادکاری کے مسئلے میں شہریت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ۱۹۵۱ کے اقوام متحدہ کے مہاجرین کے کنونشن کے مطابق دستخط کرنے والے ممالک کو مہاجرین کو شہریت حاصل کرنے میں سہولت فراہم کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، کیونکہ یہ وہ سب سے بڑی قانونی حفاظت ہے جو ریاستیں افراد کو فراہم کر سکتی ہیں۔ نظریاتی طور پر اگر اُمتی مشترکہ شہریت کا تصور قائم ہو جائے تو مہاجرین کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے، کیونکہ بے گھر افراد مسلم دنیا کے کسی بھی خطے میں خود بخود مساوی شہری بن جائیں گے۔
ڈاکٹر تاکاہاشی نے مہاجرین کے لیے اُمتی تحفظ کے ممکنہ ذریعہ کے طور پر او آئی سی کے بارے میں بھی ملے جلے خیالات کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کی طرح او آئی سی میں بھی کئی کمزوریاں موجود ہیں، تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ فی الحال اس کا کوئی عملی متبادل فوری طور پر دستیاب نہیں ہے۔
آخر میں انہوں نے یو این ایچ سی آر زکوٰۃ فنڈ کے بارے میں تعریف اور تنقید دونوں پیش کیں۔ یہ فنڈ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں صرف نقد عطیات جمع کیے جاتے ہیں اور اس پر انتظامی اخراجات کی کٹوتی نہیں کی جاتی۔ تاہم اس کی ساخت عطیہ دہندگان پر مرکوز ہے، جس کے تحت عطیہ دہندگان کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی رقوم کو اپنی پسند کے ملک یا مقصد کی طرف مختص کر سکیں۔ اس طرح امیر عطیہ دہندہ ممالک کو نمایاں کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے اور اکثر ان مسائل کو ترجیح دی جاتی ہے جو ذرائع ابلاغ میں زیادہ مقبول ہوں۔
ڈاکٹر کمال بدر نے اس بات پر زور دیا کہ مہاجرین کی ہجرت کے بارے میں بحث کو انسانی حقوق کے مسئلے کے ساتھ جوڑنا نہایت اہم ہے۔ عرب بہار کے بعد یورپ میں مہاجرین کی بڑی تعداد کی آمد نے سرحد پار ہجرت کو محدود کرنے والی پالیسیوں کی ناکامی کو نمایاں کر دیا، جس کے نتیجے میں مسلح تنازعات سے فرار ہونے والے افراد کی جانیں مزید خطرے میں پڑ گئیں۔
ڈاکٹر بدر نے یہ بھی کہا کہ یہ طے کرنا ضروری ہے کہ مہاجر کون ہوتے ہیں اور آیا انہیں بنیادی طور پر ہجرت کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ اگر بین الاقوامی قانون اس حق کو تسلیم کرتا ہے تو پھر یہ ریاستوں کے اس حق کے ساتھ کیسے تعامل کرتا ہے جس کے تحت وہ نقل و حرکت اور سکونت کو محدود کر سکتی ہیں؟ چونکہ مہاجرین کا مسئلہ براہِ راست ریاستی خودمختاری سے ٹکراتا ہے — جو ان کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دینے یا نہ دینے سے متعلق ہے — اس لیے ان کے انسانی حقوق کو بحث کا مرکزی محور ہونا چاہیے۔
مباحثہ
جریدینی: میں ڈاکٹر ساؤل سے اتفاق کرتا ہوں کہ شہریت ایک اہم مسئلہ ہے۔ میرے خیال میں خلیجی تعاون کونسل کے ممالک نے ۱۹۵۱ کے مہاجرین کنونشن پر دستخط نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کنونشن میں مہاجرین کو شہریت حاصل کرنے کے راستے فراہم کرنے کی شرط شامل ہے۔ جہاں تک یو این ایچ سی آر زکوٰۃ فنڈ کی عطیہ دہندگان پر مبنی ساخت کا تعلق ہے، عطیہ دہندگان کو اپنی رقوم مخصوص مقاصد کے لیے مختص کرنے کی اجازت دینا دراصل مزید عطیات حاصل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ جب عطیہ دہندگان کو یہ معلوم ہو کہ ان کی رقوم کہاں خرچ ہو رہی ہیں تو اس سے تنظیم پر ان کا اعتماد بڑھتا ہے۔
محمد: شہریت کے حوالے سے امت کو چاہیے کہ وہ اپنے تمام ارکان کو بلا امتیاز شہریت فراہم کرے، اور اسی طرح ان غیر مسلموں کو بھی جو مسلم سرزمینوں میں رہتے ہیں۔ تاریخی طور پر بھی ایسا ہی رہا ہے، جس کی ابتدا مدینہ میں قائم ہونے والی پہلی مسلم ریاست سے ہوتی ہے۔
عائشہ حسن: ڈاکٹر جریدینی، آپ نے یو این ایچ سی آر زکوٰۃ فنڈ پر ہونے والے بعض اعتراضات کا ذکر کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ یہ اعتراضات مکمل جانچ پر پورا نہیں اترتیں۔ آپ کے خیال میں زکوٰۃ کے انتظام میں یو این ایچ سی آر کی مناسبت کے بارے میں کیا رائے ہے؟
جریدینی: یو این ایچ سی آر ایک نہایت عملی تقسیم کار کے طور پر کام کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس مہاجرین کی امداد کے لیے وسیع بین الاقوامی ڈھانچہ موجود ہے۔ اُمتی قیادت کے تحت اسی نوعیت کا فنڈ قائم کرنے میں ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ مسلم فلاحی تنظیموں کو ۹/۱۱ کے بعد سے شدید دباؤ اور نگرانی کا سامنا رہا ہے۔
تاکاہاشی: اگرچہ یہ ہر لحاظ سے مکمل نہیں، لیکن اقوام متحدہ کے نظام کے اندر مؤثر تقسیم کے حوالے سے یو این ایچ سی آر کی ساکھ سب سے بہتر سمجھی جاتی ہے۔ اُمتی عنوان کے تحت قائم ہونے والی اسی نوعیت کی تنظیم کو مسلم ممالک کے اندر اپنی سرگرمیاں چلانے میں نسبتاً آسانی ہو سکتی ہے، لیکن بہت سے مسلم مہاجرین مسلم دنیا سے باہر بھی موجود ہیں۔
انجم: کیا آپ فلسطینی مہاجرین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تبصرہ کر سکتے ہیں؟ پڑوسی مسلم ممالک بظاہر یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ وہ فلسطینی مہاجرین کو شہریت اس لیے نہیں دیتے تاکہ ان کی وطن واپسی کی خواہش برقرار رہے۔
تاکاہاشی: فلسطینی مہاجرین کا مسئلہ منفرد ہے، اور ۱۹۵۱ کے مہاجرین کنونشن میں دراصل فلسطینی مہاجرین کو اس کے دائرہ کار سے خارج رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یو این آر ڈبلیو اے کے وجود کو قرار دیا گیا، جو خاص طور پر فلسطینی مسئلے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ تاہم یو این ایچ سی آر کے برعکس یو این آر ڈبلیو اے کے پاس مہاجرین کے انسانی حقوق کے تحفظ کا واضح مینڈیٹ موجود نہیں ہے۔
زین احمد: ہم اُمتی شہریت کے تصور کو اسرائیلی شہریت کے ساتھ موازنہ کیے جانے سے کیسے روک سکتے ہیں؟
تاکاہاشی: بعض پہلوؤں میں ان کا موازنہ کیا جا سکتا ہے، لیکن دونوں بالکل مختلف تاریخی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسرائیل کے قیام کے وقت کوئی یہودی اکثریتی ریاست موجود نہیں تھی، جبکہ آج متعدد مسلم اکثریتی ریاستیں موجود ہیں۔ مزید یہ کہ اسرائیلی شہریت بنیادی طور پر نسلی شناخت پر مبنی ہے، اس لیے وہ اس شہریت کے مقابلے میں کہیں زیادہ امتیازی نوعیت رکھتی ہے جو ایسے مذہبی تعلق پر مبنی ہو جس میں کوئی بھی شامل ہو سکتا ہو۔
بدر: اس مقالے میں تین عناصر کو نمایاں کیا گیا ہے جو جدید ریاست کی محدود ہجرتی پالیسی کی بنیاد بناتے ہیں: قوم پرستی، علاقائیت اور خودمختاری۔ تاہم علاقائیت مکمل طور پر اسلامی فقہ کے منافی نہیں ہے اور رسول اللہ ﷺ کی مدینہ کی زندگی کے دوران بھی کسی حد تک اس پر عمل کیا گیا تھا۔ مہاجرین سے متعلق اخلاقی مباحث کا اُمتی تصور کرتے وقت سرحدی تحفظ کی عملی ضرورت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔
زین احمد: ابتدائی اسلامی دور میں جب مسلم علاقوں میں رہنے والا کوئی غیر مسلم محتاج ہوتا تھا تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا تھا؟
انجم: غیر مسلم اسلامی قانون کے تحت ذمی کے طور پر رہ سکتے تھے، جو ایک قانونی حیثیت تھی جس کے تحت انہیں مخصوص حقوق اور ذمہ داریاں حاصل ہوتی تھیں۔ بیت المال (ریاستی خزانہ) ذمیوں کو وظیفہ اور مالی امداد فراہم کر سکتا تھا۔ مسلم علما کی اکثریت کے مطابق زکوٰۃ صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص تھی — اگرچہ چند استثنائی آرا بھی موجود ہیں — تاہم ذمیوں کے لیے صدقہ (عام خیرات) مختص کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔
محمد: ڈاکٹر بدر نے کہا کہ علاقائیت اسلامی فقہ کے منافی نہیں ہے، لیکن میں یہ مؤقف پیش کرتا ہوں کہ جغرافیائی سرحدیں جو مہاجرین — خواہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم — کی نقل و حرکت کو محدود کرتی ہیں، شریعت کے منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: "اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناه طلب کرے تو تو اسے پناه دے دے یہاں تک کہ وه کلام اللہ سن لے پھر اسے اپنی جائے امن تک پہنچا دے ۔ یہ اس لئے کہ یہ لوگ بے علم ہیں۔[…]” (۹:۶)۔ جو بھی پناہ طلب کرے اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
بدر: میرا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ ایک بین الاقوامی مسلم سیاسی نظام عملاً اس حد تک مکمل کھلی سرحدوں کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ کوئی بھی شخص کہیں بھی آزادانہ طور پر منتقل ہو سکے، اور مدینہ میں بھی صورتحال اس طرح نہیں تھی۔
ڈاکٹر رجاء جریدینی
رجائی "رے" جریدینی قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کے کالج آف اسلامک اسٹڈیز (CIS میں ایم اے پروگرام اِن اپلائیڈ اسلامک ایتھکس اور ریسرچ سینٹر فار اسلامک لیجسلیشن اینڈ ایتھکس (CILE) میں اخلاقیاتِ مہاجرت اور انسانی حقوق کے پروفیسر ہیں۔ ۱۹۹۰ کی دہائی میں انہوں نے آسٹریلیا میں عرب مخالف نسل پرستی کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیے گئے آسٹریلین عربک کونسل کی مشترکہ بنیاد رکھی اور اس کے نائب چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر جریدینی جرنل آف عربک، اسلامک اینڈ مڈل ایسٹ اسٹڈیز کے بانی اور مدیر بھی رہے ہیں۔ آسٹریلیا کی پانچ جامعات میں عمرانیات کی تدریس کے بعد انہوں نے امریکن یونیورسٹی آف بیروت میں چھ سال گزارے، جہاں انہوں نے لبنان میں مہاجر گھریلو ملازمین کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحقیق اور اشاعت کا آغاز کیا۔ بعد ازاں امریکن یونیورسٹی قاہرہ میں وہ سینٹر فار مائیگریشن اینڈ ریفیوجی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر بنے اور مہاجرین و تارکینِ وطن کے مسائل پر متعدد تحقیقی منصوبوں کی قیادت کی۔ ۲۰۱۱ سے ۲۰۱۴ کے درمیان وہ دوبارہ لبنان گئے اور لبنانی امریکن یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ فار مائیگریشن اسٹڈیز میں کام کیا۔ ۲۰۱۲ میں انہوں نے ایک سال کے لیے قطر فاؤنڈیشن (QF) کے مائیگرنٹ ورکر ویلفیئر انیشی ایٹو کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے ٹھیکیداروں اور ذیلی ٹھیکیداروں کے لیے قطر فاؤنڈیشن کے مہاجر کارکنوں کی فلاح کے معیارات کی تیاری میں حصہ لیا اور قطر میں مزدوروں کی بھرتی کے نظام پر ایک رپورٹ مکمل کی۔
ڈاکٹر حسام الدین محمد
حسام الدین محمد ترکی کی کارابک یونیورسٹی میں اسلامی اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ اس سے قبل وہ مختلف اداروں میں تدریسی اور تحقیقی مناصب پر فائز رہے ہیں، جن میں قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی، چین کی نارتھ منزو یونیورسٹی اور اسکول آف انٹرنیشنل ایجوکیشن، اور برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی شامل ہیں۔ ان کی حالیہ مطبوعات میں: "امت اور قومی ریاست: مہاجرین کے معاملے میں اخلاقی پیچیدگیاں" (جرنل آف انٹرنیشنل ہیومینیٹیرین ایکشن، ۲۰۲۲)؛ "کووڈ-۱۹ وبا: ایک فقہی اور تقابلی مطالعہ" (جرنل آف کنٹیمپریری فقہی اینڈ فنانشل ایشوز، ۲۰۲۲)؛ "فرنچائز معاہدہ اور اس کے احکام اسلامی فقہ میں، شہری قانون کے ساتھ تقابل کے ساتھ" (دار حسن اینڈ ماڈرن لائبریری، ۲۰۱۸)؛ اور "اسلامی فقہ میں حقوقِ مجردہ کا معاوضی تبادلہ (الاعتِياض): مثبت قانون کے تقابلی مطالعے اور اس کی معاصر تطبیقات کی مثالوں کے ساتھ" (دار حسن اینڈ ماڈرن لائبریری، ۲۰۱۸) شامل ہیں۔


