خلاصۂ مجلسِ مذاکرہ: اسلام اور سیاہ فامیت — ڈاکٹر جوناتھن براؤن
خلاصہ
ہمارے اگست ٢٠٢٣ کے مجلس مذاکرہ میں ڈاکٹر جوناتھن اے سی براؤن نے شرکت کی، جنہوں نے اپنی تازہ کتاب "اسلام اور سیاہ فامیت” پر گفتگو پیش کی، جو سائمن اینڈ شوسٹر کی طرف سے ٢٠٢٢ میں شائع ہوئی۔ اس تقریب کی نظامت ڈاکٹر اسامہ العظمی نے کی جبکہ ڈاکٹر جیمز جونز اور ڈاکٹر محمد خلیفہ نے بطور تبصرہ نگار پینل میں شرکت کی۔
یہ کتاب براؤن کی سابقہ تصنیف "اسلام اور غلامی” کا تسلسل ہے اور اسے اس جاری بحث کے تناظر میں تحریر کیا گیا ہے کہ آیا اسلام نصوص اور احادیث کی سطح پر سیاہ فام افراد کے خلاف ہے یا نہیں۔ اگرچہ اس موضوع پر دیگر کتابیں بھی دستیاب ہیں، تاہم براؤن کے مطابق وہ متعدد اہم سیاقی پہلوؤں کا احاطہ نہیں کرتیں، اور ان کی یہ کاوش موجودہ علمی ادب میں پائے جانے والے خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
براؤن اپنی گفتگو کا آغاز اس سوال سے کرتے ہیں کہ اسلامی غلامی اور سیاہ فامیت کے خلاف رویوں پر مغربی مباحث آج کے دور میں بار بار کیوں سامنے آتے ہیں، اور مغرب کے بعض مصنفین اور شخصیات کیوں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عرب اور مسلم دنیا میں ان مسائل پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ مجموعی طور پر تین بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ خدشات بار بار بیان کیے جاتے ہیں۔
پہلی وجہ ایک ایسے تاریخی خوف سے متعلق ہے جس میں مسلمانوں کے ہاتھوں یورپیوں کے غلام بنائے جانے کا تصور شامل رہا ہے۔ یہ تصور ١٥٠٠ء سے ١٧٠٠ء کے درمیان مغربی یورپ کے غلامی سے متعلق تجربات سے جڑا ہوا ہے، جب مراکش، الجزائر اور تیونس کے ساحلی علاقوں کے قریب مسلمان قزاق یورپی جہازوں پر حملہ کرتے، انہیں قبضے میں لیتے اور افراد کو غلام بنا کر ان کے خاندانوں سے تاوان کے حصول کے لیے قید کر لیتے تھے۔ یہ واقعہ مغربی یورپی ثقافتی تخیل کا ایک اہم جزو بن گیا، اور مسلمانوں کی غلام تجارت کے حوالے سے تشویش بھی ایک نمایاں موضوع کی حیثیت اختیار کر گئی۔ جب برطانیہ اور امریکہ کے خاتمۂ غلامی کے کارکنوں نے ١٨٠٠ء کی ابتدائی دہائیوں میں بحرِ اوقیانوس کی غلام تجارت کے خاتمے میں کامیابی حاصل کی تو ان کی توجہ ایک دوسری غلام تجارت کی طرف مبذول ہوئی، جسے وہ "محمدی تجارتِ غلاماں” کہتے تھے۔ ١٨٣٠ء کی دہائی کے بعد یہ مسئلہ خاتمۂ غلامی کی تحریک کا مرکزی موضوع بن گیا، اور یہ تصور پیش کیا گیا کہ افرو۔یوریشیائی دنیا میں غلامی کا یہی آخری باقی ماندہ ذریعہ ہے۔
دوسری وجہ امریکہ میں افرو مرکزیت کے نظریات اور سیاہ فام قوم پرست تحریکوں کے عروج سے متعلق ہے، جنہوں نے اپنی شناخت کو ایک تصوراتی افریقی ماضی سے وابستہ کرنا شروع کیا، جسے غلام بنانے والے مسلمان نے جزوی طور پر تباہ کیا ہوا تھا۔ ان تحریکوں نے یہ تصور اختیار کیا کہ غلام بنانے والا عربی مسلم بھی امریکہ کے سفید فام عیسائی کی طرح ایک دشمن ہے، جس نے افریقی تہذیب کو خطرے میں ڈالا اور اسے تباہ کیا۔ اس تصور کی واضح مثال چانسلر ولیمز کی کتاب "دی ڈسٹرکشن آف بلیک سیولائزیشن” میں ملتی ہے، جو ١٩٧١ میں شائع ہوئی۔ اس ثقافتی بیانیے میں مسلمان اور اسلام کو افریقہ کے لیے مکمل طور پر اجنبی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور انہیں نوآبادیاتی تباہی کے عامل کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔
تیسری وجہ ١٩٦٠ء کی دہائی کے بعد اسرائیل نواز "ہسبارا” یا عوامی سفارت کاری سے متعلق ہے۔ ان بیانیوں کا واضح مفاد اس تصور کو فروغ دینے میں ہے کہ مسلمان اور عرب سیاہ فاموں کے مخالف اور انہیں غلام بنانے والے رہے ہیں، کیونکہ اس سے مغربی آبادکارانہ استعمار کے خلاف تیسری دنیا کی یکجہتی کمزور پڑتی ہے اور صیہونیوں کو نسل پرستی کے مخالف، جبکہ عربوں اور مسلمانوں کو نسل پرست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں اس سوال کو اٹھانے والی بیشتر شائع شدہ تحریریں—کہ عرب اور مسلم معاشروں میں غلامی کے مسئلے پر نسبتاً کم بحث کیوں ہوتی ہے—عموماً دو گروہوں سے تعلق رکھتی ہیں: ایک وہ تعصب پسند حلقے جو "مغرب ہی سب سے بہتر ہے” کے بیانیے کے حامی ہیں، اور دوسرے وہ افراد جو خود کو صیہونی یا اسرائیل نواز قرار دیتے ہیں۔
ان دعوؤں کے جواب میں براؤن کے مطابق عرب اور اسلامی غلامی کے مسئلے پر سنجیدہ مکالمہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم ان متعدد غلط فہمیوں کا براہِ راست جائزہ لیں جو اسلام، عربوں اور افریقہ سے متعلق بنیادی تصورات کے بارے میں پائی جاتی ہیں۔ وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ مباحث میں اس سوال پر خاطر خواہ غور نہیں کیا جاتا کہ وہ عیسائی غلام بنانے والے جو بعد میں اسلام قبول کر لیتے ہیں، آیا اسلامی غلامی کے مظاہر میں شمار ہوتے ہیں یا نہیں؛ اسی طرح افریقی مسلمانوں کو غلام بنانے کے مسئلے پر بھی مناسب توجہ نہیں دی جاتی۔ مزید برآں، براؤن اس بات پر زور دیتے ہیں کہ رنگ اور نسل کے تصورات کی تاریخی تشکیل کا جائزہ لیا جائے، اور یہ سمجھا جائے کہ سیاہ فامیت اور سفید فامیت کی درجہ بندیاں کس نے اور کن مقاصد کے تحت وضع کیں۔
براؤن اپنی کتاب میں ان سوالات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ اسلامی تاریخ میں ان تصورات کے ساتھ کس نوعیت کا تعامل رہا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں عرب ثقافت میں "سیاہی” کی اصطلاح زیادہ تر کسی بیرونی شخص کی پہچان کے لیے استعمال ہوتی تھی، نہ کہ محض جلد کے رنگ کے لیے۔ اگرچہ عام طور پر معروف صحابی بلال کے سیاہ فام ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن یہ کم بیان کیا جاتا ہے کہ دیگر اہم شخصیات، جیسے عمرو بن العاص اور سفیان بن امیہ، بھی سیاہ فام تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں "بیرونی” نہیں سمجھا جاتا تھا، حالانکہ ظاہری اعتبار سے وہ بلال سے مشابہت رکھتے تھے۔
براؤن اپنی گفتگو اس نکتے پر ختم کرتے ہیں کہ جب مسلمان بحیرۂ روم کے وسیع خطے میں پھیلے تو انہوں نے یقیناً یونانی۔رومی ثقافت اور بائبلی روایت، دونوں سے متعدد نسلی تصورات اور تعصبات وراثت میں حاصل کیے۔ اگرچہ اسلامی تہذیب میں سیاہ فاموں کے خلاف تعصب ایک حقیقی مظہر رہا ہے اور آج بھی موجود ہے، تاہم براؤن کے مطابق یہ اسلام کا بنیادی جز نہیں بلکہ ایک اتفاقی یا ثانوی مظہر ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ تاریخی طور پر اہم شخصیات، جیسے ابن خلدون، السیوطی اور ابن الجوزی سمیت دیگر علماء نے سیاہ فاموں کے خلاف بیانیوں کو مسترد کیا۔ مزید برآں، اسلامی فقہ کی بعض آرا میں سیاہ فاموں کے بارے میں منفی بیانیہ دکھائی دیتا ہے؛ مثلاً مالکی فقہ میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ سیاہ فام خواتین کو پردہ کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ انہیں پرکشش نہیں سمجھا جاتا۔ براؤن کے مطابق یہ دراصل مقامی رسم و رواج کی عکاسی ہے، نہ کہ اس قانون کی بنیادی خصوصیت۔ اس دعوے کی تائید اس امر سے ہوتی ہے کہ اس مسئلے میں مالکی نقطۂ نظر کو دیگر علماء نے قبول نہیں کیا؛ چنانچہ مکہ میں ١٥٠٠ء سے ١٩٠٠ء کے دوران ایک عام تصور یہ بھی پایا جاتا تھا کہ حبشی خواتین سب سے زیادہ قیمتی اور خوبصورت سمجھی جاتی تھیں۔
تنقیدی جائزہ
ڈاکٹر جیمز جونز نے براؤن کے موقف کے جواب میں کہا کہ یہ کتاب فکری طور پر فکر انگیز اور علمی اعتبار سے جامع ہے۔ ان کے مطابق فکری چیلنج پیدا کرنا نبوی روایت کا حصہ ہے، اور علم کے فروغ کے لیے اس نوع کی فکری تحریک ضروری ہے، کیونکہ اس سے لوگ اہم مباحث میں شریک ہوتے ہیں۔ جونز مزید کہتے ہیں کہ ماضی اور حال کی سیاہ فام مخالف سوچ کو یکساں قرار دینا فکری سطحیت کی علامت ہے، جو ہمیں غیر منطقی نتائج تک لے جاتی ہے۔ ان کے بقول براؤن کی کتاب اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ سیاہ فام مخالف تعصب کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا موجودہ عوامی بیانیوں میں پیش کیا جاتا ہے۔
جونز مزید نشاندہی کرتے ہیں کہ براؤن کی کتاب میں بعض اہم مصادر کا ذکر نہیں کیا گیا، جن میں ابرام ایکس کینڈی کی کتاب "How to Be an Anti-Racist” بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق ایک اور اہم تصنیف جسے براؤن کو زیرِ بحث لانا چاہیے تھا، گورڈن آلپورٹ کی کتاب "The Nature of Prejudice” ہے۔ یہ کتاب فردی سطح پر نسل پرستی اور سیاہ فام مخالف تعصب کے اثرات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے ایک ابتدائی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
جونز کے بعد ڈاکٹر محمد خلیفہ نے براؤن کے موقف کے جواب میں کہا کہ یہ کتاب ایک اہم علمی اضافہ ہے، بالخصوص اسلام کی تاریخ کے تناظر میں سیاہ فامیت اور سیاہ فام مخالف تعصب کی نظریاتی توضیح کے حوالے سے۔ خلیفہ کے مطابق یہ تصنیف اس تصور کی مؤثر تردید کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ یا اسلامی روایت بنیادی طور پر سیاہ فاموں کے خلاف ہے۔
تاہم وہ یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ کتاب اور اس میں پیش کیے گئے سیاہ فام مخالف تعصب کے تصور پر چند بنیادی سوالات کے ساتھ تنقیدی غور کیا جانا چاہیے۔ ان میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا سیاہ فامیت کے بارے میں بعض عرب رویوں کا دفاع، محض تنقید کے بجائے، واقعی مفید ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ مزید برآں، خلیفہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ کتاب میں سفید فامیت پر زیادہ مفصل بحث دیکھنا چاہتے تھے، کیونکہ تاریخی طور پر یہ تصور سیاہ فامیت کے تصور کے ساتھ گہرے طور پر مربوط رہا ہے۔
خلیفہ ایک اور اہم سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا براؤن کی پیش کردہ تاریخی توضیح مسلم معاشروں میں سیاہ فام مسلمانوں کے بارے میں رائج کم تر اور غیر انسانی رویوں کی وضاحت کر پاتی ہے یا نہیں، اور وہ اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے پر مستقل اور آزادانہ تحقیق کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، خلیفہ اس بات پر بھی توجہ دلاتے ہیں کہ سیاہ فام علمی روایتوں اور طرزِ وجود کو نہ سمجھنا اور نہ تسلیم کرنا بھی سیاہ فام مخالف تعصب کی ایک صورت ہو سکتی ہے۔
خلیفہ کا آخری نکتہ طاقت اور ثقافتی مقامات سے متعلق ہے، بالخصوص مساجد کے تناظر میں، جہاں مساوات کے دعووں اور عملی امتیازی رویوں کے درمیان تضاد نمایاں ہو جاتا ہے۔ شرمن جیکسن کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے خلیفہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا سیاہ فام مخالف تعصب کو بذاتِ خود کفر کی ایک صورت قرار دیا جا سکتا ہے، اور وہ تجویز کرتے ہیں کہ معاصر مباحث میں اس نوع کے سوالات پر زیادہ سنجیدگی اور وضاحت کے ساتھ غور کیا جانا چاہیے۔
بحث ومباحثہ
براؤن: یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک نسل پرستی کا تعلق نیت سے نہیں بلکہ کسی خاص نظام سے وابستگی سے ہوتا ہے۔ آج کے دور میں نسل پرستی کی دو مختلف تعریفیں رائج ہیں اور دونوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
براؤن: زیادہ تر قبل از جدید مسلمانوں کے لیے سیاہ فامیت صرف ایک توضیحی اصطلاح تھی۔ ١٢٠٠ء کے بعد اس میں تبدیلی آئی اور یہ ایک تحقیر آمیز درجہ بندی بن گئی۔
براؤن: اگرچہ سفید فامیت (Whiteness) کے تصور سے مکالمہ ضروری ہے، تاہم وہ اس کے کسی مثبت تصور کی حمایت نہیں کرتے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ بنیادی طور پر ایک منفی تاریخی تشکیل ہے جس کا مقصد بعض گروہوں کو "غیر ” قرار دینا ہے۔
براؤن: امریکہ میں مساجد کو کمیونٹی کی بھلائی، اس کے تحفظ اور دیگر نسل پرستی مخالف وجوہات کے پیشِ نظر سیاہ فام مسلمانوں کی قیادت میں ہونا چاہیے۔
العظامیٰ: عمومی طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ نسل پرستی معاصر امت میں ایک اہم اور مرکزی مسئلہ ہے۔ امتی تناظر میں اس کا کردار کیا ہے؟ اگر ہم اربوں مسلمانوں کے درمیان یکجہتی کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں تو نسلی، لسانی اور قومی تقسیمیں کس طرح رکاوٹ بن جاتی ہیں؟
جونز: اگر آپ مسلم کمیونٹی کا حصہ ہیں تو آپ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ نسل پرستی کے مسئلے کی وسعت کو سمجھیں۔ مثال کے طور پر یہ ادراک کہ آج کی سیاہ فامیت پچاس سال پہلے کی سیاہ فامیت سے مختلف ہے، اسی ذمہ داری کا حصہ ہے؛ تاہم مسلمانوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سیاہ فامیت کو ایک غیر انسانی درجہ بندی کے طور پر بھی برتا جاتا رہا ہے۔
خلیفہ: نوآبادیاتی دور کے بعد کے زمانے میں سیاہ فام مخالف تعصب کے خلاف اسلامی ردِعمل کہاں ہے؟ موجودہ عہد میں سفید فامیت ایک معمول بن چکی ہے اور ایک غیر مرئی معیار کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جس کے باعث سفید اور سیاہ افراد کے یکساں رویوں کو مختلف انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ہماری اسلامی روایت اس حوالے سے گفتگو کی گنجائش رکھتی ہے اور کرتی بھی ہے، لیکن اسے زیادہ واضح اور براہِ راست انداز میں سامنے لانے کی ضرورت ہے۔
براؤن: امریکہ میں مسئلہ یہ ہے کہ سفید فام معاشرتی اقدار بطور عرف غالب ہیں اور سب سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ انہی کو اپنائیں۔ جو افراد کسی حد تک "سفید” بن جاتے ہیں وہ بالآخر قبول کر لیے جاتے ہیں، جیسے اطالوی؛ تاہم سیاہ فام افراد کو اسی طرح قبول نہیں کیا جاتا۔ مسلم کمیونٹی کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس میں سیاہ فام مخالف تعصب موجود ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم سب سفید فام برتری کو ایک ثقافتی ماحول کے طور پر قبول کر چکے ہیں۔ امریکہ میں کامیاب مضافاتی دیسی اور عرب اکثر سفید فام طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں؛ ان کی رہنمائی کا بنیادی معیار بھی سفید فامیت ہی ہے، اور یہی تصور اس بات کو بھی متعین کرتا ہے کہ وہ "اچھا مسلمان” کس کو سمجھتے ہیں۔
العظامیٰ: جب ہم سفید فامیت کی بات کرتے ہیں تو ہم جسمانی شکل یا رنگ کی نہیں بلکہ ایک تمدنی رویے کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ امریکہ میں مسلمانوں کے ضم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بعض تمدنی تقاضوں کو اختیار کریں۔
خلیفہ: بہت سے نوجوان مسلمان سفید فام برتری کے خلاف ہیں لیکن وہ مسلم عوامی مقامات میں مہاجر برتری کے مسئلے کو اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
جونز: کلاس روم اور معاشرہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کلاس روم میں سیاہ فام مخالف تعصب اور سفید فام برتری کے مسئلے پر گفتگو کرنا ایک بات ہے جہاں ہر موضوع زیرِ بحث آ سکتا ہے، لیکن عملی اقدامات اور رویوں کے نمونے ایک مختلف معاملہ ہیں۔
جونز: ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ نسل پرستی اور جنس پرستی جڑواں مظاہر ہیں۔ اگر ہمیں آگے بڑھنا ہے تو ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ دونوں مسائل کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر جوناتھن اے سی براؤن
جوناتھن براؤن جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے اسکول آف فارن سروس میں اسلامی تہذیب کے الولید بن طلال چیئر کے منصب پر فائز ہیں۔ انہوں نے 2000 میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے تاریخ میں بی اے اور 2006 میں یونیورسٹی آف شکاگو سے مشرقِ قریب کی زبانوں اور تہذیبوں میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر براؤن نے مصر، شام، ترکی، مراکش، سعودی عرب، یمن، جنوبی افریقہ، بھارت، انڈونیشیا اور ایران میں تعلیم و تحقیق کے سلسلے میں قیام کیا۔
ان کی نمایاں تصنیفات میں شامل ہیں: The Canonization of al-Bukhari and Muslim: The Formation and Function of the Sunni Hadith Canon (Brill, 2007)؛ Hadith: Muhammad’s Legacy in the Medieval and Modern World (Oneworld, 2009; expanded edition 2017)؛ Muhammad: A Very Short Introduction (Oxford University Press, 2011)؛ جسے ثقافتی پل سازی: مسلم اسفار کی منتخب کتابوں کی فہرست کے لیے منتخب کیا گیا؛ Misquoting Muhammad: The Challenges and Choices of Interpreting the Prophet’s Legacy (Oneworld, 2014)؛ جسے اخبار "دی انزیپنڈنٹ" نے 2014 میں سال کی نمایاں مذہبی تصنیفات میں شامل کیا؛ Slavery and Islam (Oneworld, 2019)۔
انہوں نے حدیث، اسلامی قانون، سلفیت، تصوف، عربی لغوی نظریہ اور قبل از اسلام شاعری جیسے موضوعات پر متعدد مقالات شائع کیے ہیں اور وہ آکسفورڈ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام اینڈ لا کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ ڈاکٹر براؤن کی موجودہ تحقیقی دلچسپیوں میں اسلامی قانونی اصلاحات اور صحیح البخاری کا ترجمہ شامل ہے۔ وہ یقین انسٹیٹیوٹ میں ڈائریکٹر آف ریسرچ کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر جیمز جونز
جیمز (جمی) جونز اسلامک سیمینری آف امریکہ کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ ہیں اور عالمی مذاہب کے پروفیسر ایمیریٹس رہ چکے ہیں۔ وہ مینہیٹن ویل کالج (پرچیز، نیویارک) میں شعبۂ عالمی مذاہب اور افریقی مطالعاتی پروگرام دونوں کے سابق چیئرمین بھی رہے ہیں۔ ڈاکٹر جونز کی تحقیق تعصب کے سماجی و ثقافتی اثرات اور جنس پرستی و نسل پرستی کے باہمی تعلق پر مرکوز ہے۔ وہ مالک ہیومن سروسز انسٹیٹیوٹ کے صدر ہیں، دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ازدواجی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، اور ایسوسی ایشن آف پروفیشنل چیپلینز کے رکن ہیں۔
ڈاکٹر محمد خلیفہ
ڈاکٹر محمد خلیفہ یونیورسٹی آف مینیسوٹا، ٹوئن سٹیز میں شعبۂ تنظیمی قیادت (آرگنائزیشنل لیڈرشپ)، پالیسی اور ترقی میں رابرٹ بیک اینڈاؤڈ پروفیسر ہیں۔ ان کی تحقیق شہری اسکولوں کے قائدین کے کردار پر مرکوز ہے، بالخصوص اس بات پر کہ وہ ثقافتی طور پر حساس قیادت اور جبر کے خلاف تعلیمی طریقوں کو کس طرح عملی صورت دیتے ہیں۔ انہوں نے اقلیتی پس منظر رکھنے والے طلبہ کی شناخت اور اس امر پر وسیع تحریری کام کیا ہے کہ اسکول نوجوانوں کے لیے آزادی بخش ماحول کیسے فراہم کر سکتے ہیں۔ ڈیٹرائٹ میں شہری معلم کی حیثیت سے اپنے سابقہ تجربے کے علاوہ وہ افریقہ اور ایشیا کے وزرائے تعلیم کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں اور انہیں تعلیمی اہداف اور اصلاحات کی تشکیل میں معاونت فراہم کی ہے۔
وہ حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب Culturally Responsive School Leadership (Harvard Education Press) کے مصنف ہیں، اور تین دیگر کتابوں کے مشترکہ مدیر بھی ہیں: Handbook on Urban Educational Leadership (Rowman & Littlefield)، Becoming Critical: The Emergence of Social Justice Scholars (SUNY Press)، اور The School to Prison Pipeline: The Role of Culture and Discipline in School (Emerald Books)۔ ڈاکٹر خلیفہ نے حالیہ عرصے میں اعلیٰ درجے کے تعلیمی جرائد میں بھی مضامین شائع کیے ہیں، جن میں Review of Educational Research، Teachers College Record، QSE، Urban Review، Educational Administration Quarterly، اور Race, Ethnicity, and Education شامل ہیں۔
انہوں نے امریکہ کے اسکولوں کے لیے ایک جدید آن لائن “Equity Audit” ٹول بھی تیار کیا ہے، جو تحقیق پر مبنی طریقہ ہے اور تعلیمی کارکردگی اور نظم و ضبط میں پائے جانے والے تفاوت کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مزید برآں، Culturally Responsive School Leadership Institute (crsli.org) کے ذریعے وہ اور ان کی ٹیم ایسے تعلیمی ماڈیولز تیار کر رہے ہیں جو اسکولوں کو ثقافتی طور پر زیادہ حساس بنانے میں معاون ہوں گے۔


