خلاصۂ مجلسِ مذاکرہ ، دسمبر ۲۰۲۲
رپورٹ از ابراہیم معیز
مقالہ نگار:
تھامس پارکر: "استنبول بہ حیثیت امتی ہجرت کا مرکز”
ڈاکٹر صادق حمید: "سرحدوں سے ماورا اسلام: اکیسویں صدی میں اُمتی یکجہتی کی تعمیر”
ڈاکٹر عبداللہ العریان: ” فیفا ورلڈ کپ۲۰۲۲ – اُمتی یکجہتی کا ایک تاریخی لمحہ "
خلاصہ:
امیٹکس انسٹیٹیوٹ نے سال کا اختتام تین حصوں پر مشتمل ایک سلسلۂ مباحث سے کیا جس میں اکیسویں صدی میں امتی یکجہتی کی ممکنہ صورتوں کا تجزیہ پیش کیا گیا۔ پہلا مقالہ ڈاکٹر صادق حمید کا تھا جس کا عنوان "سرحدوں سے ماورا اسلام: اکیسویں صدی میں امتی یکجہتی کی تعمیر” تھا۔ اس میں مسلمانوں کے درمیان امتی مسائل کے بڑھتے ہوئے شعور اور عصرِ حاضر کے عالمگیر تناظر میں امتی اتحاد کی اہمیت و ضرورت کو موضوعِ بحث بنایا گیا۔ دوسرا اور تیسرا مقالہ بالترتیب تھامس پارکر اور ڈاکٹر عبداللہ العریان نے پیش کیا، جن میں استنبول کی جانب مسلمانوں کی ہجرت کے بڑھتے ہوئے رجحان اور قطر میں منعقد ہونے والے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۲ کے امتی یکجہتی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
تھامس پارکر کے مقالے کا محوری موضوع استنبول کی جانب مسلمانوں کی ہجرت کا بڑھتا ہوا رجحان تھا۔ حالیہ برسوں میں لاکھوں مسلمان — مہاجرین، شہریت کے متلاشی افراد، سیاح اور طلبہ — مختلف اسباب کی بنا پر ترکی منتقل ہوئے ہیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد تاریخی شہر استنبول میں آ بسی ہے۔ ترکی دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرتا ہے، جن میں تقریباً چالیس لاکھ شامی اور پچاس ہزار ایغور شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے مہاجرین، بالخصوص ایرانی اور عراقی، نہ صرف یہاں مستقل سکونت اختیار کر چکے ہیں بلکہ سرمایہ کاری اور جائیداد کی خریداری کے ذریعے ملکی معیشت میں بھی شریک ہو چکے ہیں۔
سعودی عرب اور ملائیشیا میں پرورش پانے والے بہت سے مسلمان بھی ترکی منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ یورپ میں مقیم دسیوں ہزار ترک ہر سال وطن واپس لوٹتے ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی میں تقریباً ڈھائی لاکھ غیر ملکی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں جن میں سے اکثر حکومتی وظائف سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ان میں طالبانِ علم کی ایک قابلِ ذکر تعداد بھی شامل ہے جو بڑی حد تک وسطی ایشیا سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک کشادہ اور آزاد علمی فضا کی تلاش میں ترکی کا رخ کرتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں استنبول متعدد اہم علمی، ثقافتی اور سیاسی کانفرنسوں، سیمیناروں اور تقریبات کا مرکز بنا ہے، جہاں مسلم علما، تخلیق کار اور سماجی کارکن یکجا ہوتے ہیں۔
حکومتی اقدامات، معاشی محرکات اور مختلف مسلم طبقات کی مشترکہ امنگیں — یہ سب مل کر استنبول کو مسلمانوں کی ہجرت کے ایک نمایاں اور قابلِ مطالعہ نمونے کی حیثیت دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر صادق حمید ے اس بات کی نشاندہی کی کہ امت کی موجودہ سیاسی تقسیم کے باوجود مسلمانوں میں اتحاد کی ایک گہری خواہش موجود ہے۔ یہ خواہش بذاتِ خود ایک زندہ اور فعال امتی شعور کی دلیل ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ اپنے باہمی اختلافات پر قابو پانے کے لیے نئی راہیں تلاش کریں اور ایک مشترکہ امتی مقصد کے حصول کے لیے سرگرم ہوں۔
امت کا تصور — یعنی عالمی مسلم برادری — مسلمانوں کے لیے ہمیشہ سے کشش کا باعث رہا ہے، کیونکہ یہ اہلِ ایمان کی اس بنیادی جماعت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی جڑیں اسلام کے اصل متون میں پیوست ہیں۔ تاریخی اعتبار سے خلافت اس جماعت کی علامت رہی ہے، اور امتی برادری کا یہ تصور جدید دور تک زندہ و پائندہ رہا ہے۔ آج مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ اسلام محض روحانی دائرے تک محدود نہ رہے بلکہ سیاسی میدان میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔
بہت سے مسلمان ایک ماورائے قومی نقطۂ نظر رکھتے ہیں؛ وہ بین الاقوامی روابط برقرار رکھتے ہیں، باقاعدہ دورے کرتے ہیں، مالی اعانت بھیجتے ہیں اور فلسطین و کشمیر جیسے مظلوم علاقوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ یکجہتی اکثر روزمرہ کے تعاملات میں بھی نمایاں ہوتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے اہلِ ایمان کی جماعت کی نمائندگی خلافت کرتی تھی جس کا مقصد اس جماعت کو احکامِ الٰہی کے مطابق منظم کرنا تھا۔ معاصر مسلمانوں کو درپیش بہت سے اجتماعی مسائل ممکنہ طور پر ایک متحد اور خودمختار مسلم تہذیب کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ نچلی سطح پر امتی تعامل کی عملی مثالوں میں — جو اکثر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن ہوئی ہیں — "ورچوئل امت”، تجارتی و معاشی بائیکاٹ، اور جی-۸ جیسے حکمتِ عملی پر مبنی تجارتی اتحاد شامل ہیں۔
"گلوبل اربن مسلمز ایجوکیٹڈ اینڈ انگلش اسپیکنگ” (جیومییز) تعلیم یافتہ، سماجی سرگرمیوں میں متحرک اور مذہبی وابستگی رکھنے والے مسلمانوں کا ایک عالمگیر سطح پر فعال اور بااثر طبقہ ہے جو حالیہ برسوں میں سماجی تبدیلی کا ایک مؤثر محرک بن کر ابھرا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس طبقے کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کریں اور امتی اتحاد کے لیے باہمی ہم آہنگی پر مبنی حکمتِ عملی اپنائیں۔ اس میں وسائل اور صلاحیتوں کو یکجا کرنا، اخلاقی بنیادوں پر نچلی سطح کے نیٹ ورکس تشکیل دینا، اور درپیش مسائل کے حل کے لیے اجتماعی طرزِ عمل اختیار کرنا شامل ہے تاکہ ایک بہتر امتی مستقبل کی تعمیر ممکن ہو سکے۔
ڈاکٹر عبداللہ العریان نے اس سوال کا جائزہ لیا کہ قطر میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ نے کس حد تک امتی کیفیات کی عکاسی کی، کیونکہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے اسے غیر معمولی جوش و خروش کے ساتھ قبول کیا۔ اگرچہ ورلڈ کپ بنیادی طور پر ایک منظم اور منصوبہ بند عالمی ایونٹ ہے جو کارپوریٹ اداروں اور ریاستی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بنتا ہے، تاہم فٹبال عوامی جذبات کے اظہار کے لیے نسبتاً محفوظ ماحول میں ایک نادر موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
چونکہ یہ پہلا ورلڈ کپ تھا جس کی میزبانی کسی مسلم اور عرب ملک نے کی، اس لیے ۲۰۲۲ کے اس ایونٹ کے دوران یکجہتی کے متنوع مظاہر دیکھنے میں آئے۔ ان میں سب سے نمایاں فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تھا جو علاقائی، نسلی، براعظمی اور مذہبی — بشمول اسلامی — بنیادوں پر ظاہر ہوا۔ اگرچہ قطری حکومت نے اسلام کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے باقاعدہ اقدامات کیے، تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا بڑا حصہ دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمانوں کے درمیان ہونے والے بے ساختہ تعاملات کا ثمرہ تھا۔
قطر میں منعقد ہونے والے اس ایونٹ پر سیاسی اعتراضات اور بعض پالیسیوں — جیسے جبری پابندیوں — پر قبل از وقت تنقید نے عالمی سطح پر مسلمانوں کو امارتِ قطر کے گرد متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اس کے قابلِ اعتراض پہلو پسِ پردہ چلے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم علما کی جانب سے فٹبال کو محض ایک تفریحی مشغلہ یا توجہ بھٹکانے کا ذریعہ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنانے کا رجحان بھی اس موقع پر نمایاں طور پر کم رہا۔
ورلڈ کپ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا حج جیسے لازمی مذہبی شعائر کے علاوہ دیگر عالمی اجتماعات بھی بین الاقوامی مسلم یکجہتی اور امتی روح کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے اس نوعیت کی مثالیں انیسویں صدی میں یورپی کنونشنوں میں ہونے والے مسلم اجتماعات، بیسویں صدی کی نوآبادیت مخالف کانفرنسوں، اور ورلڈ مسلم لیگ جیسے ثقافتی و سیاسی اداروں میں ملتی ہیں۔ تاہم موجودہ صورتِ حال اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک نسبتاً نیا تجربہ ہے جو مستقبل کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔

صادق حمید
صادق حمید برطانیہ کی یونیورسٹی آف ویلز ٹرینیٹی سینٹ ڈیوڈ میں ریسرچ فیلو ہیں۔ اس سے قبل وہ یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، نیز لیورپول ہوپ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف چیسٹر میں معاصر اسلامی علوم، علومِ مذاہب، برطانیہ میں مسلمانوں اور مسلم نوجوانوں کے سماجی کام سے متعلق مضامین میں لیکچرر بھی رہے ہیں۔ ڈاکٹر حمید کی تحقیقی دلچسپیوں میں برطانوی مسلمان، امریکہ اور یورپ میں اسلام، اسلامی جدوجہد ، مذہبی انتہاپسندی، بین المذاہب تعلقات اور مذہب و عوامی پالیسی شامل ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں اسلام، مسلم نوجوانوں اور اسلامی احیاء کی عالمی صورتوں پر وسیع علمی کام کیا ہے۔
ان کی حالیہ تصانیف میں شامل ہیں: "معاصر برطانوی مسلم فنون اور ثقافتی پیداوار: شناخت، وابستگی اور سماجی تبدیلی" (روٹلیج، ۲۰۲۳)؛ "برطانوی مسلمان: اسلامی فکر، تخلیقی صلاحیت اور جدوجہد میں نئی جہتیں" (ایڈنبرا یونیورسٹی پریس، ۲۰۱۸)؛ اور "سیاسی مسلمان: عالمی تناظر میں نوجوانوں کی مزاحمت کو سمجھنا" (سیراکیوز یونیورسٹی پریس، ۲۰۱۸)۔


