خلاصۂ مجلسِ مذاکرہ: ذرائع ابلاغ اور امتی شعور کی تشکیل و تضعیف

>خلاصہ

ہمارے اکتوبر ۲۰۲۳ کے جلسِ مذاکرہ میں ڈاکٹر سلمان العظامی، ڈاکٹر محمد حماس المصری اور ڈاکٹر مائیکل منک شریک تھے۔ ہر مقرر نے میڈیا میں نمائندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر العظامی نے عمومی مسلم بیانیے کی میڈیا میں اسلاموفوبک تصویرکشی کو موضوع بنایا اور اس امر پر زور دیا کہ مسلمان اپنی اصطلاحات کے معانی خود متعین کریں۔ ڈاکٹر محمد المصری نے اعداد و شمار کی بنیاد پر ایسے نکات پیش کیے جو ذرائع ابلاغ میں مسلمانوں کی منفی نمائندگی کو واضح کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مائیکل منک کی تحقیق بھی زیرِ بحث آئی، جس میں صحافتی اسلوبی رہنما اصولوں اور اصطلاحات کے استعمال میں مثبت تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ بعد ازاں ہونے والی گفتگو میں مشترکہ مسلم جذبات کے فروغ کے لیے عملی حکمتِ عملیوں پر توجہ مرکوز رہی۔

ڈاکٹر العظامی نے اپنی آئندہ کتاب (Media Language on Islam and Muslims: Terminologies and Their Effects) کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کیا اور خاص طور پر اس امر پر زور دیا کہ جہاد، شریعت اور "اللہ اکبر” جیسے الفاظ پر میڈیا کا ردِعمل کس طرح اسلاموفوبک رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ ان کے مطابق میڈیا نے ان اصطلاحات کے ساتھ منفی معانی اس طرح جوڑ دیے ہیں کہ عوام ان کے استعمال کے ممکنہ منفی نتائج کو معمول سمجھنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ "اللہ اکبر” جیسی اصطلاح، جو مسلمان روزمرہ زندگی میں ادا کرتے ہیں، دہشت گردی کے ساتھ منسلک ایک علامتی لفظ کے طور پر دیکھی جانے لگتی ہے اور مسلمانوں کے بارے میں شبہات کو تقویت دیتی ہے۔ العظامی کے نزدیک مغربی معاشروں میں بہت سے مسلمانوں کے اندر ایک ہمہ گیر خوف پایا جاتا ہے، کیونکہ ان کی زبان پر مسلسل نظر رکھی جاتی ہے ۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ میڈیا کو مسلم اصطلاحات کے معانی متعین کرنے کا اختیار دینے کے بجائے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اصطلاحات پر دوبارہ اختیار حاصل کریں اور اپنے فہم کو میڈیا کے فہم کے مقابلے میں معیار بنائیں۔ تاہم یہ عمل میڈیا کے ساتھ اور اس کے اندر فعال شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان میڈیا کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کریں اور اس کی سمت متعین کرنے میں پیش قدمی کریں، نہ کہ محض پہلے سے قائم بیانیوں کا ردِعمل دیتے رہیں۔

ڈاکٹر العظامی کے بعد ڈاکٹر المصری نے ذرائع ابلاغ میں مسلمانوں کی نمائندگی کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے۔ انہوں نے ایک حالیہ تحقیقی مطالعے کا حوالہ دیتے ہوئے گفتگو کا آغاز کیا، جس میں بیس برس کے عرصے کے دوران سترہ امریکی اخبارات میں شائع ہونے والے آٹھ لاکھ پچاس ہزار مضامین کا جائزہ لیا گیا اور ان میں مسلمانوں کا تقابل ہندوؤں، یہودیوں اور کیتھولک عیسائیوں سے کیا گیا۔ اس تحقیق سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ دیگر مذہبی گروہوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ منفی انداز میں پیش کیا گیا۔ المصری کے مطابق اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں یہ منفی طرزِ بیان کئی برسوں تک برقرار رہا، اور مخصوص واقعات سے قطعِ نظر اس میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں قائم بیانیہ کس قدر گہرا اور نقصان دہ ہے، اور اس کے اثرات ان افراد پر بھی مرتب ہوتے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں صرف منفی معلومات ہی حاصل کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے غیر مسلم متاثرین کو جس ہمدردانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے، وہ مسلمانوں کے حصے میں نہیں آتا، جس کے نتیجے میں عوام کے ذہنوں میں مسلمانوں کا غیر انسانی تصور راسخ ہونے لگتا ہے۔ المصری کے مطابق اس کے اثرات صرف اسلاموفوبیا تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ مسلم شناخت کے مسئلے سے بھی گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے مسلم اکثریتی معاشروں میں اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی کے مسئلے پر بھی گفتگو کی۔ اگرچہ اس موضوع پر تحقیق محدود ہے، تاہم دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصری، اماراتی اور دیگر ذرائع ابلاغ کے بیانیوں میں بھی مسلمانوں کے بارے میں منفی رجحانات موجود ہیں۔ یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسلمان حتیٰ کہ مسلم اکثریتی معاشروں میں بھی حاشیے پر رکھے جاتے ہیں، اور وقت کے ساتھ یہ صورتِ حال معاشرے میں خاموشی اور خوف کو تقویت دیتی ہے۔ آخر میں المصری نے ڈاکٹر العظامی کی اس رائے کی تائید کی کہ مسلمانوں کو منفی نمائندگی کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے میڈیا کے تخلیقی و تشکیلِی عمل میں زیادہ فعال اور بااثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

آخری مقرر ڈاکٹر مائیکل منک نے اپنی گفتگو کا آغاز بطور سابق صحافی اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کیا اور واضح کیا کہ ان کا تجربہ کس طرح سابقہ مقررین کے نکات سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے صحافیوں اور ان کے ذرائع کے درمیان تعلق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ مسلمانوں کے بارے میں بیانیے اسی تعلق کے دائرے میں مرتب اور تشکیل پاتے ہیں۔ اپنے ایک حالیہ تحقیقی مقالے میں منک نے یہ واضح کیا ہے کہ "فتویٰ” جیسی اصطلاحات، جو عموماً غلط فہمی اور تنازع کا سبب بنتی ہیں، کس طرح صحافتی زبان کا حصہ بن جاتی ہیں اور ان کے پھیلاؤ کے باعث ان کی درستی مشکل ہو جاتی ہے، خصوصاً اس لیے کہ میڈیا سابقہ بیانیوں، مثالوں اور مواد پر انحصار کرتا ہے۔ منک کے مطابق صحافی بالآخر زبان کے انتخاب کا فیصلہ کرتے ہیں، اور وہی پہلو جنہیں وہ نمایاں کرتے ہیں، میڈیا کے مجموعی ڈھانچے اور اسلام و مسلمانوں کی نمائندگی کی صورت گری میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ صحافی خود کو معروضی معلومات فراہم کرنے والے غیر جانب دار افراد کے طور پر پیش کرتے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ بیانیوں کی تشکیل اور انتخاب کے ایک ایسے عمل میں شریک ہوتے ہیں جسے معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔ منک کے نزدیک ضروری ہے کہ خبروں کی رپورٹنگ میں ان اشاروں کی نشان دہی کی جائے جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے زبان کے انتخاب یا ترک کے فیصلے کس طرح کیے جاتے ہیں، اور ایسے مواقع پر صحافی کس نوعیت کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔

>تنقیدی جائزہ / سوال و جواب

تینوں مقررین کی گفتگو کے بعد ناظم ڈاکٹر اسامہ العظامی نے یہ سوال اٹھایا کہ میڈیا کے بیانیوں میں الجھنے کے چیلنج کا مقابلہ کیسے کیا جائے اور عملی سطح پر ایک امتی متبادل کس طرح تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے غور و فکر کے لیے دو نکات پیش کیے: پہلا، قوم پرستی کو ایک طے شدہ اور بنیادی زاویۂ نظر کے طور پر اختیار کرنا؛ اور دوسرا، سیکولر ازم کو اسی نوع کے ایک بنیادی زاویۂ نظر کے طور پر مان لینا۔ پہلی صورت میں یہ مفروضہ قائم کیا جاتا ہے کہ قوم پرستی ایک فطری اور معمول کا فریم ورک ہے، جبکہ دوسری صورت میں سیکولر ازم کو ایک معمول کے فریم ورک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ان دونوں زاویہ ہائے نظر کو منظم انداز میں موضوعِ سوال بنانا اور ان پر تنقیدی نگاہ ڈالنا ضروری ہے، تاکہ ان میڈیا ڈھانچوں اور بیانیوں کو چیلنج کیا جا سکے جو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منفی رویوں کو فروغ دیتے ہیں۔

جواب میں ڈاکٹر سلمان العظامی نے اس موقف سے اتفاق کیا اور کمیونٹی کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق یہ ذمہ داری کسی ایک قوم تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ پوری امت کو اسے اجتماعی طور پر اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ قومی ریاستیں اپنی ساخت کے اعتبار سے تقسیم پیدا کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں دائرۂ عمل محدود ہو جاتا ہے۔ ایک مؤثر اور پیش قدم حکمت عملی کے لیے ایسی فکر درکار ہے جو ان تقسیمات اور محدودیتوں سے آگے بڑھ سکے۔ مزید برآں انہوں نے اس پہلو پر بھی توجہ دلائی کہ متبادل بیانیوں اور فکری سانچوں کی تشکیل میں یہ دیکھا جائے کہ کیا چیز عملاً ممکن اور حقیقت پسندانہ ہے، تاکہ یہ بیانیے فطری، غیر مسلط اور حقیقی نمائندگی کے حامل ہوں۔ آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کے حوالے سے کسی فعال حکمت عملی کی تشکیل میں علمی حلقوں اور کمیونٹی کے درمیان تعلق کو سمجھنا اور مختلف سماجی جہات کے باہمی ربط کا ادراک نہایت ضروری ہے۔

ڈاکٹر محمد المصری نے ڈاکٹر العظامی کی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے شناخت کی تشکیل اور اس کی نشوونما میں بیانیے کی مرکزی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر مسلمان اپنے بیانیے خود تشکیل نہ دیں تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ ان کے مطابق اس کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان مسلسل دفاعی پوزیشن میں رہتے ہیں۔ اگر "مائیکروفون مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوتے” تو بیانیے کی سمت بدل جاتی اور وہ اس دفاعی حالت میں نہ رہتے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ مسلمان بیانیوں کی تشکیل میں زیادہ اختیار اور ذمہ داری حاصل کریں۔

اسلاموفوبیا کی تعریف سے متعلق اٹھائے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر العظامی نے اس تعریف کی تائید کی جس کے مطابق اسلاموفوبیا نسل پرستی کی ایک ایسی صورت ہے جو مسلمان ہونے کے اظہار اور مسلمانوں کے طور پر پہچانے جانے کو نشانہ بناتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلاموفوبیا کی مختلف تعریفوں کا موجود ہونا قابلِ قبول ہے۔ اس پر اضافہ کرتے ہوئے ڈاکٹر منک نے کہا کہ ان کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ صحافتی اسلوبی رہنما اصول اسلاموفوبیا کی کسی متعین یا مضبوط تعریف پر قائم نہیں ہوتے، بلکہ اس کے استعمال کا انحصار زیادہ تر "بیانیاتی رہنما اصولوں” پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اس اصطلاح کو کس طرح برتا جائے۔

سامعین کی جانب سے ایک اور سوال ان موضوعات، شعبوں اور طریقہ ہائے کار سے متعلق تھا جن میں مسلم ماہرینِ تعلیم کو کام کرنا چاہیے، تاکہ ایسا مستقبل تشکیل دیا جا سکے جہاں امت کو بہتان تراشی، منفی تصویر کشی اور ان ضوابط سے خوف زدہ نہ ہونا پڑے جو اسے طاقت کے مراکز سے دور رکھنے کے لیے وضع کیے جاتے ہیں—جن میں میڈیا بھی شامل ہے مگر صرف اسی تک محدود نہیں۔ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر المصری نے کہا کہ اس وقت امت ایسی صورتِ حال سے گزر رہی ہے جہاں داخلی سطح پر بھی متعدد عوامل مسلمانوں کی ترقی اور بااختیاری کو کمزور کر رہے ہیں، اور یہی غالباً ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلمانوں کو میڈیا اور علمی میدانوں میں ایسے پیشہ ورانہ راستوں پر غور کرنا چاہیے جو ایک نئی نسل کی تربیت میں مدد دیں، تاکہ وہ اس نوع کے سوالات پر سنجیدگی سے غور کر سکے اور آگے بڑھنے کے امکانات تلاش کر سکے۔ ڈاکٹر العظامی نے بھی اس مؤقف کی تائید کی اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے پیشوں کے انتخاب پر غور ضروری ہے جو امت کی ضروریات کے مطابق اس کی خدمت کر سکیں۔ اس پر ڈاکٹر منک نے اضافہ کیا کہ اگرچہ وہ اس رائے سے متفق ہیں، تاہم موجودہ حالات میں نوجوان مسلمانوں کے لیے علومِ انسانی اور سماجی علوم میں کیریئر اختیار کرنا دشوار ہو گیا ہے، کیونکہ یہ شعبے خود بھی وسیع نوعیت کے چیلنجز سے دوچار ہیں۔

ایک اور سوال یہ اٹھایا گیا کہ مسلم اکثریتی حکومتوں اور نجی اداروں کا میڈیا میں موجود غلط تصورات کی اصلاح میں کیا کردار ہونا چاہیے، اور کیا اس مسئلے کا حل کسی ایک فریق سے متوقع ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر العظامی نے کہا کہ ان کے نزدیک حکومتیں میڈیا میں غلط نمائندگی کا مؤثر حل فراہم نہیں کرتیں، بلکہ اس ضمن میں کمیونٹی کی سطح پر ہونے والی کوششیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔

جلسِ مذاکرہ کا اختتام سیلف سنسرشپ اور اس سے نمٹنے کے طریقوں پر گفتگو کے ساتھ ہوا۔ ڈاکٹر المصری نے کہا کہ اپنی تحقیق اور علمی کام کے دوران انہیں بعض مواقع پر حکمتِ عملی کے طور پر سیلف سنسرشپ اختیار کرنا پڑتی ہے، اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو مختلف درجات میں تقریباً ہر جگہ پائی جاتی ہے اور کسی نہ کسی حد تک ناگزیر ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان امور پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینے کے بجائے، جن میں مکمل طور پر حصہ لینا ممکن نہیں، بہتر یہ ہے کہ ان مسائل پر توجہ مرکوز کی جائے جن کا ہم بامعنی اور نتیجہ خیز انداز میں مطالعہ کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر سلمان العظامی

ڈاکٹر سلمان العظامی لیورپول ہوپ یونیورسٹی کے اسکول آف ہیومینٹیز میں زبان، میڈیا اور ابلاغیات کے سینئر لیکچرر اور انگریزی زبان کے لیول سی کوآرڈینیٹر ہیں۔ ان کے تحقیقی میدانوں میں زبان، مذہب اور میڈیا، اسلاموفوبک بیانیہ، لسانی تنوع، تعلیم میں زبان، زبان اور تنوع، زبان کا تحفظ و تغیر، سیاسی بیانیہ اور جنوبی ایشیائی عوامی ثقافت شامل ہیں۔ ڈاکٹر العظامی متعدد علمی مطبوعات کے مصنف ہیں، جن میں: Media Language on Islam and Muslims: Terminologies and Their Effects (Palgrave, 2023); Religion in the Media: A Linguistic Analysis (Palgrave Macmillan, 2016), and Language of Advertising in Bangladesh (Open House Press, 2007). شامل ہیں۔

ڈاکٹر محمد حماس المصری

ڈاکٹر محمد حماس المصری دوحہ انسٹی ٹیوٹ برائے گریجویٹ اسٹڈیز کے میڈیا اسٹڈیز پروگرام میں پروفیسر ہیں۔ ان کی تحقیق عرب ذرائع ابلاغ کے ڈھانچے، نسلی امور سے متعلق خبروں کی پیشکش، عرب میڈیا، میڈیا اور دہشت گردی، اور مغربی دنیا میں مسلمانوں کی تصویر کشی جیسے موضوعات پر مرکوز ہے۔ ان کے تحقیقی مضامین معروف علمی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جن میں جرنلزم، جرنلزم پریکٹس، جرنلزم اسٹڈیز، انٹرنیشنل کمیونیکیشن گزٹ، اور انٹرنیشنل جرنل آف کمیونیکیشن سمیت دیگر جرائد شامل ہیں۔ ڈاکٹر المصری کو جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے الولید سینٹر برائے مسلم-کرسچن افہام و تفہیم، ڈی پال یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ٹورنٹو، یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو، یونیورسٹی آف ڈینور، یونیورسٹی آف ٹینیسی چٹانوگا، کارٹر سینٹر، ووڈرو ولسن انٹرنیشنل سینٹر فار اسکالرز، اور ورلڈ سوشل فورم سمیت متعدد اداروں میں مدعو مقرر کے طور پر خطاب کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔

ڈاکٹر مائیکل منک

ڈاکٹر مائیکل منک کارڈف یونیورسٹی میں سماجی علوم کے نظریاتی اور تحقیقی طریقوں کے سینئر لیکچرر اور ڈائریکٹر برائے تدریس و تعلیم ہیں۔ ان کی تحقیق میڈیا اور مذہب کے باہمی تعلق پر مرکوز ہے، خصوصاً برطانیہ میں خبر رساں ذرائع اور مسلمانوں کی نمائندگی کے حوالے سے، جس حوالے سے وہ متعدد علمی مضامین شائع کر چکے ہیں۔ برطانیہ میں تدریسی و علمی خدمات سے وابستہ ہونے سے قبل، وہ کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں سی بی سی ریڈیو کے ساتھ بطور نشریاتی صحافی کام کر چکے ہیں۔

مزید دریافت کریں۔

ایڈوانسڈ اے آئی کے لیے ایک امتی وژن کی طرف

December 20, 2025
ڈاکٹر جنید قادر

کیا اسلام پسند اب بھی اسلام پسند ہیں؟

November 19, 2025
ڈاکٹر سمیہ ساکریا

سائبر امت، الگورتھمک بالادستی، اور ڈیجیٹل ڈیکالونائزیشن

October 30, 2025
ڈاکٹر سحر خامس

نیویگیٹ کریں

امّیٹکس فورمز
توجہ کے علاقے
تحقیقی مقالات
اشاعتیں
امّیٹکس کے بارے میں
Search

تلاش کریں۔

Search

ہمارے نیوز لیٹر میں سائن اپ کریں۔