امیٹکس انسٹی ٹیوٹ مسلم امہ کے اہم ترین مسائل پر تحقیق اور تجزیے کے لیے علمی مقالات شائع کرتا ہے۔ ان مقالات کا مقصد علماء، طلبہ، اور دلچسپی رکھنے والے افراد کو علمی رہنمائی فراہم کرنا اور امت کی فکری و عملی ترقی میں حصہ ڈالنا ہے۔
یہ مقالات نہ صرف علمی و ادبی حلقوں میں بلکہ عامۃ الناس کے درمیان بھی امتِ مسلمہ کے مسائل پر فکر انگیز مباحث اور سنجیده مکالمے کو پروان چڑھاتے ہیں۔ ان تحریروں کا مرکز و محور وہ سماجی، سیاسی، معاشی، مذہبی اور تاریخی موضوعات ہیں جو امت کے موجودہ دور کے چیلنجز اور اس کے تابناک مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ مضامین نہ صرف امت کے حالات پر گہری نظر ڈالتے ہیں بلکہ اس کے روشن امکانات کو بھی اجاگر کرتے ہیں، جس سے قارئین کو ایک وسیع تر تناظر میں سوچنے اور غور و فکر کرنے کا موقع ملتا ہے۔

امیٹکسس کی ضرورت کیوں ہے؟ایک فکری مناقشہ

اوامیر انجم
August 6, 2025

دلیلِ دوم: ماضی—نشانِ راہ، نہ کہ رکاوٹ

اوامیر انجم
July 15, 2025

امیٹکسس کیا ہے؟

اوامیر انجم
June 4, 2025

خلافت کون چاہتا ہے؟

اوامیر انجم
June 3, 2025

امت کی امتیازی حیثیت اور دوہری رسوائی کا امکان

اوامیر انجم
July 17, 2024

سیاسی نظریات پر ہماری تحقیق کا بنیادی محور امت مسلمہ ہے، جو سیاسیات کے وضاحتی اور تجرباتی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ سیاسی فلسفے کے تجویزی اور اصولی سوالات کے مطالعے کے لیے ایک مرکزی فکری حیثیت رکھتی ہے۔

امیٹک کے سیاسی نظریات مختلف اہم موضوعات پر مشتمل ہیں، جن میں سیاستِ شرعیہ، اقامتِ دین، اور قرآنی مشن کی نوعیت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، انسانی حقوق، اجتماعی زندگی کے مسائل، اور دیگر اہم امور پر بھی غور و فکر کیا جاتا ہے۔ یہ تمام مباحث اسلامی اور انسانی علوم کے معتبر علمی ذخائر کی روشنی میں انجام دیے جاتے ہیں۔

Do Not Remove

خلافت اور اس کے اداروں سے متعلق سیاسی نظریات کا مطالعہ
کلاسیکی اسلامی سیاسی نظریات کا جائزہ، جن میں اہم مفکرین، نظریاتی ماڈل، ارتقا، شجرۂ افکار، اور تنقیدی پہلو شامل ہیں؛ خاص طور پر سیاستِ شرعیہ اور احکامِ سلطانیہ کی نظریاتی جہات پر گہری توجہ
جدید اسلامی سیاسی نظریات کا مطالعہ، جن میں اہم مفکرین، تحریکات، اور نظریاتی ماڈلز شامل ہیں؛ معاصر مسائل کے تناظر میں ان نظریات کا اطلاق اور تجزیہ
تاریخی خلافتوں میں طرزِ حکمرانی کے اصولوں اور طریقوں کا تجزیہ
نوآبادیاتی دور اور موجودہ مسلم دنیا میں استبداد، عدم فعالیت، اور انتشار کے اسباب کا تنقیدی جائزہ
لبرل سیاسی نظریے اور اس کے بنیادی تصورات، جیسے آزادی، جمہوریت، اور سیکولرازم کا تنقیدی مطالعہ
غیر لبرل نظریات کا تجزیہ، جن میں کمیونٹیرین، جدلیاتی فکر، مسیحی، مارکسی، نسوانی، اور غیر نوآبادیاتی نظریات شامل ہیں

جیو پولیٹکس اور بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے میں ہمارا نقطہ نظر ان جغرافیائی، سفارتی، قانونی، اور تنظیمی عوامل کا گہرائی سے جائزہ لینا ہے جو موجودہ مسلم ریاستوں اور عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

امیٹک کا مطالعۂ جیو پولیٹکس امت مسلمہ کو عالمی تناظر میں سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ یہ نہ صرف امت کے مسائل کے حل کے لیے نئی اور تخلیقی سوچ کو پروان چڑھانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے بلکہ اس میں امتی مکالمے کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے، جو اس تحقیق کا محور ہے۔

مسلم دنیا موجودہ دور میں طاقت کی تبدیلی اور خلا کے چیلنجز کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے؟ جیو پولیٹکس میں کون سے ایسے رجحانات ہیں جن سے آگاہی ضروری ہے تاکہ مسلم معاشروں کو درپیش فوری مسائل حل کیے جا سکیں؟ مسلمان کس طرح ایسے علمی فورمز تشکیل دے سکتے ہیں جو ایک نئی نسل کے ان مفکرین کو پروان چڑھائیں جو قومی حدود سے بالاتر ہو کر جیو پولیٹکس میں امتی نقطہ نظر اپنائیں؟ کلاسیکی ادب سیر (اسلامی بین الاقوامی قوانین) کو کس طرح ازسرنو زندہ کیا جا سکتا ہے تاکہ معاصر بین الاقوامی تعلقات پر گہری نظریاتی گفتگو کی جا سکے؟ امت مسلمہ کو درپیش وہ کون سے مادی اور فکری چیلنجز ہیں جو اس کے اتحاد کی راہ میں حائل ہیں، اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کون سے مؤثر اور عملی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں؟

ہمارے معاشرتی اور تہذیبی مطالعے کا مقصد یہ ہے کہ نظریہ اور عمل کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے امت مسلمہ کے سامنے آنے والے اتحاد کے مواقع اور رکاوٹوں کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا جائے۔

یہ تحقیقی کاوش اس بنیادی سوال کے گرد گردش کرتی ہے کہ امتِ مسلمہ کی وحدت کس طرح مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں نئی روح پھونک سکتی ہے اور اسے تحرک بخش سکتی ہے۔ ساتھ ہی، یہ مطالعہ اس یکجہتی کے نظریاتی، فکری اور عملی جہات کو پرکھتا ہے اور اس کے اثرات کو مسلمانوں کی روزمرہ زندگی کے تناظر میں جانچتا ہے۔ مزید برآں، اس تحقیق میں سماجی تبدیلی کے مختلف تصورات اور حکمتِ عملیوں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے، جس میں قدیم و جدید اسلامی مفکرین کے افکار کو بھی شامل کیا گیا ہے، جنہوں نے اپنی تحریروں میں تاریخی، ثقافتی اور سماجی تغیرات کے متنوع پہلوؤں پر بصیرت افروز تجزیہ پیش کیا ہے۔ علاوہ ازیں، جدید سماجی علوم، جیسے مستقبل شناسی، ثقافتی مطالعات اور نظاماتی تفکر کو بھی اس تحقیق کا حصہ بنایا گیا ہے، تاکہ امتِ مسلمہ کو درپیش سماجی و تہذیبی چیلنجز کا گہرائی سے تجزیہ کیا جا سکے۔ ہمارا مقصد مسلمانوں کو اکثریتی اور اقلیتی دونوں تناظرات میں درپیش مسائل کا ایک جامع اور متوازن تجزیہ فراہم کرنا ہے۔ یہ تجزیہ مختلف سطحوں—جزوی، درمیانی اور کلی—پران چیلنجز کی باریک بین تفہیم پیش کرتا ہے، تاکہ امت کے روشن مستقبل کے لیے ایک مؤثر اور عملی راہ متعین کی جا سکے۔

Accordion Content

موجودہ عالمی سماجی، ثقافتی اور تہذیبی رجحانات کون سے ہیں جنہیں مسلم مفکرین اور تبدیلی کے خواہاں افراد کے لیے جاننا ضروری ہے؟
انفرادی مسلم ریاستوں کو درپیش فوری اور طویل المدتی سماجی چیلنجز کیا ہیں اور ان کا مؤثر حل کیسے ممکن ہے؟
غیر مسلم مفکرین اور سماجی تحریکات، خصوصاً موجودہ اور حالیہ ادوار میں، ہمیں کون سے اسباق فراہم کر سکتے ہیں، اور ان کے تجربات سے ہم کس طرح استفادہ کر سکتے ہیں؟
ہم کس طور ایسے مؤثر اور منظم نیٹ ورکس قائم کر سکتے ہیں جو مسلم علماء، سماجی کارکنوں، تاجروں اور بااثر شخصیات کی تربیت کا فریضہ سرانجام دیں اور ان میں امت پر مبنی فکر کو فروغ دینے کا ذریعہ بنیں؟
وہ کون سے مؤثر ترین طریقے ہیں جن کے ذریعے ہم اپنے علیحدہ ممالک میں موجود سماجی اور تہذیبی چیلنجز کا اجتماعی طور پر سامنا کر سکتے ہیں، امت کے اتحاد کو مضبوط بنا سکتے ہیں، اور انسانی اقدار کو فروغ دے سکتے ہیں؟

خلافت کون چاہتا ہے؟

اوامیر انجم
June 3, 2025

اسلامی اصولوں کے مطالعے میں وہ بنیادی سوالات اور مسائل شامل ہیں جو اسلامی روایت کے علمی اور عملی دونوں پہلوؤں سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ مطالعہ قرآنِ حکیم اور اسوۂ رسول کی روشنی میں ان مسائل کو سمجھنے، ان کی وضاحت کرنے، اور ان کی فکری گہرائی کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف اسلامی تعلیمات کی بنیادی تفہیم ممکن ہوتی ہے، بلکہ ان کے عملی اطلاق کے راستے بھی روشن ہوتے ہیں۔

یہ میدان اصول الفقہ، اصول الدین، اور فقہ کے متنوع موضوعات پر مشتمل ہے، جن میں ان پہلوؤں پر خاص توجہ دی جاتی ہے جو امت مسلمہ کی فکری تشکیل اور عملی نظام کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس مطالعے میں اسلامی روایتی علوم کے مستند ذخائر کے ساتھ ساتھ جدید دینی اور مذہبی مطالعات کی علمی کاوشوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
امیٹک انسٹی ٹیوٹ اسلامی معیاری روایت کے تحفظ اور فروغ کے لیے وقف ہے، جس کی بنیاد قرآن اور نبوی ماڈل پر قائم ہے۔ اس ادارے کا محور اسلامی اصولوں پر علمی تحقیق اور ان کے مباحثے کا فروغ ہے۔ شریعت کے اصول امت مسلمہ کی سماجی اور سیاسی امنگوں کی تکمیل اور ان کے عملی اقدامات کی ترتیب و رہنمائی کے لیے مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔
اگرچہ ان اصولوں میں سے کئی واضح اور اجماعی بنیادوں پر مستحکم ہیں، لیکن متعدد معاملات ایسے ہیں جو اختلافِ رائے، علمی تفکر، بحث و تمحیص، اور تعمیری مکالمے کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہیں جنہیں ہم علمی طور پر آگے بڑھانے اور فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

Accordion Content

شریعت کی روشنی میں امتی اصولوں کی وضاحت اور ان کی تشریح
قطعی اور ظنی اصولوں کے درمیان حدِ فاصل کیا ہے، ان کی تعیین کا طریقہ کیا ہے، اور ظنی اصولوں میں علمی اختلاف کی گنجائش اور دائرہ کار کیا ہے؟
شریعت کے اصولوں پر ان مباحث کا جائزہ جو خاص طور پر سیاسی، اقتصادی، اور سماجی ماڈلز اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ہیں۔
متعلقہ شعبوں میں احکام الشریعہ کے تعین میں مقاصد الشریعہ اور جدید تقاضوں کا کیا کردار ہے؟

امیٹکسس کی ضرورت کیوں ہے؟ایک فکری مناقشہ

اوامیر انجم
August 6, 2025

دلیلِ دوم: ماضی—نشانِ راہ، نہ کہ رکاوٹ

اوامیر انجم
July 15, 2025

امت کی امتیازی حیثیت اور دوہری رسوائی کا امکان

اوامیر انجم
July 17, 2024

نیویگیٹ کریں

امّیٹکس فورمز
توجہ کے علاقے
تحقیقی مقالات
اشاعتیں
امّیٹکس کے بارے میں
Search

تلاش کریں۔

Search

ہمارے نیوز لیٹر میں سائن اپ کریں۔