امت کے مسلمانوں کے تخیل پر نوآبادیاتی داغ

 

تفصیل

تاریخی طور پر امت نے مسلمانوں کے لیے اتحاد کا ایک ایسا فریم ورک فراہم کیا جو جغرافیائی، لسانی اور نسلی تقسیمات سے بالاتر تھا۔ تاہم، نوآبادیاتی مداخلتوں اور جدید قومی ریاستوں کے عروج نے اسلامی فکری روایت اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی روابط ٹوٹ گئے اور اجتماعی شناختیں ازسرِنو تشکیل پانے لگیں۔

یہ نشست اس امر کا جائزہ لیتی ہے کہ کس طرح نوآبادیاتی اور جدید اثرات نے امت کے الٰہیاتی، فکری اور سیاسی پہلوؤں کو بدل کر رکھ دیا۔ یہ کلاسیکی مذہبی مقتدرہ کے زوال، اسلامی علم کی نئی تشکیل، اور ان قوم پرستانہ نظریات کو اجاگر کرتی ہے جنہوں نے روایتی وحدت کے تصورات کو کمزور کیا۔ نوآبادیاتی حکمتِ عملیوں نے دانستہ طور پر امت کے تصور کو ایک مقدس امانت کے طور پر مٹانے کی کوشش کی، اور آج کے دور میں امت کے مختلف اور متصادم تصورات کو جنم دیا۔ معاصر نوآبادیاتی حقائق — بالخصوص فلسطین پر اسرائیلی قبضہ اور اسلام کی مقدس جغرافیہ کی نظراندازی — انہی حرکیات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان تاریخی انقطاعات کا تنقیدی مطالعہ ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ امت کو محض ایک مثالی خواب نہیں بلکہ ایک متحرک اور عملی حقیقت کے طور پر ازسرِنو سمجھا جائے۔

ڈاکٹر اوامِر انجم (مقرر) امیٹکس انسٹیٹیوٹ کے بانی اور چیف ریسرچ آفیسر ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف ٹولیڈو کے شعبہ فلسفہ و مذہبیات میں اسلامیات کے پروفیسر اور چیئر ہولڈر ہیں، اور *امریکن جرنل آف اسلام اینڈ سوسائٹی* کے شریک مدیر بھی ہیں۔ ان کی تحقیق کے اہم موضوعات میں اسلامی تاریخ، الٰہیات، سیاسی فکر، اور عمومی تاریخ شامل ہیں۔

ڈاکٹر فرح الشریف اسلامی فکری تاریخ اور معاصر اسلامی فکر کی محققہ اور اسکالر ہیں۔ انہوں نے 2022 میں ہارورڈ یونیورسٹی کے شعبہ مشرقِ قریب کی زبانوں اور تہذیب سے پی ایچ ڈی حاصل کی، جہاں ان کی تحقیق انیسویں صدی کے مغربی افریقہ کے اسلامی علمی ورثے پر مرکوز تھی۔ ان کے تحقیقی دلچسپی کے موضوعات میں مغرب اور شمالی افریقہ میں اسلام، قوم-ریاست، اسلامی قانون اور تصوف کا تعلق، اور اسلام و نوآبادیات شامل ہیں۔ انہوں نے اردن، مصر، مراکش، اور سینیگال میں تحقیقی کام انجام دیا ہے۔

یہ گفتگو اور سوال و جواب کا سیشن ڈاکٹر اوامِر انجم نے معتدل کیا۔

تاریخ: ہفتہ، 26 اپریل 2025، دوپہر 1 بجے (امریکی مشرقی وقت)

خلاصۂ مجلسِ مذاکرہ

پروفیسر اوامیر انجم کے ابتدائی کلمات

ابراہیمی معاہدے: تین بنیادی اعتراضات

تمہید
  • آج امت کیا ہے؟
  • غزہ کے تناظر میں ہم دو حقیقتوں کا سامنا کر رہے ہیں:
    • غزہ کے لوگوں کی جرأت، ایمان اور قربانی، جو نبوی روح کی عکاسی کرتی ہے۔
    • عرب اور مسلم حکومتوں کی بے حسی اور غداری، حتیٰ کہ وہ بھی جو اسلام سے وابستگی کا دعویٰ کرتی ہیں، یہ طرزِ عمل خیانت، نفاق اور سازباز کی علامت بن چکا ہے ۔
  • امت ایک زندہ اور حقیقی وجود ہے ، جس میں ہر وہ روح شامل ہے جسے قرآن میں "اے ایمان والو” کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔
  • غزہ کے تناظر میں شکوک رکھنے والے افراد بآسانی اس بات پر سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا "امت” محض ایک نعرہ تو نہیں۔
  • یہ ان شیطانی وسوسوں میں سے ایک ہے جن کا مقابلہ کرنا ضروری ہے، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شیطان کا مقابلہ کیا تھا۔
معاصر شیطانی وسوسے جن پر ہمیں کنکریاں مارنی چاہئیں
  • امت کبھی وجود ہی نہیں رکھتی تھی: ہمیں اسلام کے بجائے قومی ریاست کو وحدت اور تہذیبی تشکیل کی واحد بنیاد کے طور پر قبول کر لینا چاہیے، یا پھر "امت” کو علاقائی، قومی یا لسانی بنیادوں پر ازسرِ نو متعین کر دینا چاہیے، یا اسے صرف انسانیت کے ایک عمومی تصور تک محدود کر دینا چاہیے۔ گویا قرآنی اور محمدی امت کے علاوہ ہر تصور کو قبول کر لیا جائے۔
  • "ابراہیمی معاہدے”: یہ دراصل کوئی نیا منصوبہ نہیں، بلکہ "امن کے بدلے امن” کے اسی تصور کا تسلسل ہیں جسے نیتن یاہو نے اپنی پہلی وزارتِ عظمیٰ (١٩٩٦–٩٩) کے دوران پیش کیا تھا۔ ١٩٦٧ کے بعد عرب ممالک کی جانب سے پیش کیے جانے والے "زمین کے بدلے امن” کے معاہدوں کے جواب میں اس تصور نے یہ مطالبہ رکھا کہ عرب اور مسلمان بغیر کچھ حاصل کیے مکمل شکست تسلیم کریں اور اپنے قابضین سے ذلت برداشت کرنے کی اجازت مانگیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ فلسطین کے مسئلے کو فراموش کر دیں اور اپنی حکومتوں کے تحفظ کے نام پر اپنے ممالک کو ایسی کھلی جیلوں میں بدلنے دیں جن کی نگرانی وہ خود کریں۔
  • مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کر دیا جائے: شیعہ کو سنی کے خلاف، صوفی کو سلفی کے خلاف وغیرہ۔اور اسی طرح دوسری تقسیمات کو ہوا دی جائے۔ یہ طرزِ عمل درحقیقت امت کے قلب میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔
  • غزہ کے لوگوں نے ان تینوں شیطانی منصوبوں کو پہلے ہی رد کر دیا ہے، اور اب ان کی بنیادیں ہلنا شروع ہو گئی ہیں۔
  • امت کے ردِعمل کی سست رفتاری کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ امت کوئی چھوٹی کشتی نہیں بلکہ ایک عظیم جہاز ہے؛ اس کا رخ بدلنے کے لیے وقت اور صبر دونوں درکار ہوتے ہیں۔
  • اللہ ہمارے دلوں کو حق پر ثابت قدم رکھے، ہمارے بازو مضبوط کرے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو فیصلہ کن لمحوں میں حق کا ساتھ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر فرح الشریف کے تأملات

تمہید
  • غزہ کے مصنف ثائر ابووردہ کے مطابق امت نے اپنی پوری تاریخ میں کبھی ایسے شدید حملے، ایسے ہمہ گیر محاصرے اور ایسی کھلی غداری کا سامنا نہیں کیا جیسا آج غزہ کو درپیش ہے۔ یہ معاملہ اب صرف غزہ یا فلسطین تک محدود نہیں رہا بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور خود اسلام کا مسئلہ بن چکا ہے۔
  • فلسطین کے لوگ—جو حقیقت کو اسی طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ ہے، حتیٰ کہ نام نہاد "مابعد نوآبادیاتی” نظام میں بھی جاری نوآبادیاتی اثرات کو پہچانتے ہیں—ہمیں اپنے ایمان کو تازہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے اس بے جان "اسلام” سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں جو موجودہ عالمی طاقتوں کے مفادات کا آلہ بن چکا ہے۔
امت کے معنی
  • ذخیرۂ احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے امت کا ذکر بکثرت "میری امت” کے عنوان سے فرمایا ہے، جو اس امت کے ساتھ آپ ﷺ کے گہرے تعلق اور خصوصی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
  • اسی اسلوب میں "میرے اہلِ بیت”، "میری سنت”، "میرا خاندان” اور "میرے صحابہؓ” جیسی تعبیرات بھی ملتی ہیں، یعنی وہ شخصیات اور امور جو رسول اللہ ﷺ کے نزدیک نہایت محبوب اور قریبی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم ان تمام تعبیرات میں "میری امت” سب سے زیادہ نمایاں اور کثرتِ کے ساتھ وارد ہوئی ہے، جس سے اس تعلق کی اہمیت اور مرکزیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ اسی لیے امت سے بے رخی دراصل رسول اللہ ﷺ سے بے رخی کے مترادف قرار پاتی ہے۔
  • قرآنِ مجید میں بھی اسی تعلق کو اجتماعی انداز میں "تمہاری امت” کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے، تاکہ اہلِ ایمان کے اندر تعلق، وابستگی اور ذمہ داری کا احساس بیدار ہو۔
  • لہٰذا امت کے ذکر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس کے تعلق کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے؛ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے محبت اور ان کے طریقے پر چلنے کا دعویدار ہو، مگر ان کی امت سے بے اعتنائی برتے۔
  • مزید یہ کہ محبتِ رسول ﷺ اگر حقیقی ہو تو وہ ایک فعال ایمانی کیفیت کی صورت اختیار کرتی ہے، جو لوگوں کے دفاع اور ان کے حق میں کھڑے ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ اس کے برعکس بعض معاصر حلقوں میں "محبتِ رسول ﷺ” کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے جو ریاستی اقتدار کے ساتھ مفاہمت اور سیاسی سکوت کو فروغ دینے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

 

قیادت
  • خلافت کا ادارہ براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے نسبت رکھتا ہے، اسی لیے اس کا مکمل عنوان “خلیفۃُ رسولِ اللہ” قرار پایا۔
  • امت سیاسی ریاست کے قیام سے پہلے وجود میں آتی ہے؛ یہی قرآن و سنت کے پیغام کی اصل امین ہوتی ہے۔
  • رسول اللہ ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ گمراہ کن حکمرانوں اور ایسے علما سے تھا جو اقتدار کے تابع ہو جائیں۔ آپ ﷺ نے اس کیفیت کو شرک کی ایک باریک صورت سے تعبیر فرمایا۔ موجودہ دور میں شاید یہ شرک ان حکمرانوں اور ریاستوں کی اندھی اطاعت میں ظاہر ہوتا ہے جو امت کے مفادات سے غداری کے مرتکب ہوتے ہیں۔
  • مسلمان بڑی حد تک “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے بیانیے اور انسدادِ انتہاپسندی کی منطق کو داخلی طور پر قبول کر چکے ہیں۔ چنانچہ بعض لوگ اپنی توانائیاں چھوٹے غیر ریاستی مسلم گروہوں کے خلاف صرف کرتے ہیں، مگر ریاستی جبر اور تشدد کے مقابلے میں خاموش رہتے ہیں۔
  • عدل اسلام کا بنیادی حکم ہے، یہ محض مارکسی تصور نہیں ہے،اس پس منظر میں یہ سوال اہم ہے کہ بعض مسلم علما نے اس اصول کو عملاً کیوں نظرانداز کر دیا ہے۔
  • ہمیں اپنی حالیہ تاریخ کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم نے کن شخصیات کو اپنا امام اور رہنما بنا کر پیش کیا اور سراہا ہے۔
  • کوئی قوم اس قوم کا احترام نہیں کرتی جو خود اپنی ذات اور اپنے دینی اصولوں کا احترام نہ کرتی ہو۔
  • امت ان بدعنوان حکمرانوں اور ان علما سے زیادہ دیرپا حقیقت ہے جنہوں نے اس کے ساتھ غداری کی۔
  • امت نہ کوئی وقتی عوامی تحریک ہے، نہ “عرب اسٹریٹ” کا محدود تصور، اور نہ ہی کسی خاص حلقے کا نام۔ یہ ایک تاریخی اور تہذیبی حقیقت ہے جس میں انبیا، شہدا اور حق گو انسانوں کی مسلسل نسلیں شامل ہیں۔

 

بحث ومباحثہ

اردن کے تناظر میں ڈاکٹر الشریف کی فکری و سماجی تشکیل
  • مجھے یہ خوش نصیبی حاصل رہی کہ میری پرورش ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں امت، بالخصوص فلسطین کا مسئلہ، اخلاقی شعور کا محور اور فکری رہنمائی کا بنیادی حوالہ تھا۔
  • تاہم اس کے ساتھ ہی مجھے ایک ایسے تعلیمی نظام سے بھی گزرنا پڑا جو برطانوی نوآبادیاتی روایت کا امین اور اشرافیائی نوعیت کا حامل تھا۔ دینی تعلیم کے باب میں سرکاری نصاب محض حفظ و تکرار تک محدود تھا، اور سماجی و معاشی اعتبار سے جس طبقے سے واسطہ پڑا، اس میں اسلام کے تعلق سے ایک نوع کا احساسِ کمتری موجود تھی۔
  • اردن اس تاریخی المیے کا ایک اہم مرکز رہا ہے جس میں خلافت کا خاتمہ ہوا، اور یہاں کی سرکاری تاریخ نویسی اس واقعے کو مثبت اور قابلِ فخر انداز میں پیش کرتی آئی ہے۔
  • عرب قوم پرستی نے "عرب امت” کی اصطلاح کو رواج دے کر امت کے اصل اسلامی تصور کو دھندلانے میں نمایاں کردار ادا کیا، اور یہ اثر فکری سطح پر نہایت نقصاندہ ثابت ہوا۔
  • میرے بعض رشتہ داروں نے 1948ء کی جنگ میں فلسطین کی خاطر بے جگری سے لڑائی کی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ خاموش ہو گئے اور بالآخر اسرائیلی قبضے کو ایک ناگزیر حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا۔

 

مغربی افریقہ کے تصوف پر تحقیق
  • اس موضوع میں دلچسپی کا بنیادی محرک ایک ایسے نمونے کی تلاش تھی جو عرب فکری روایت میں مغرب کے حوالے سے پائے جانے والے احساسِ کمتری سے یکسر پاک ہو۔
  • پہلی ہجرتِ حبشہ کا فیصلہ وہاں کے بادشاہ کی عدل پروری کے سبب کیا گیا تھا۔ افریقی حکمرانی میں انصاف کی یہ روایت نہ صرف برقرار رہی بلکہ جب یہ مسلم علمی روایت سے ہم آہنگ ہوئی تو اس نے ایک مضبوط اور پائیدار فکری بنیاد فراہم کی۔
  • سترہویں سے انیسویں صدی تک کے اہم مسلم ریاستی نظام مغربی تہذیب کے سحر سے آزاد تھے اور انہوں نے نبوی محبت کو اپنی حکمرانی اور سماجی زندگی کا مرکز و محور بنائے رکھا۔
  • معاصر "دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے بیانیے دراصل اسی زبان اور اسی سوچ کی بازگشت ہیں جو یورپی استعماری طاقتوں نے کبھی مغربی افریقہ کی مسلم سلطنتوں کے خلاف استعمال کی تھی۔

 

سوال و جواب

نوآبادیاتی بوجھ سے نجات کے عملی اقدامات
  • یہ مسئلہ مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے اتنا گمبھیر نہیں جتنا مسلم ممالک کے سیکولر اشرافیہ کے لیے ہے۔ مغربی مسلمان اس منفرد پوزیشن میں ہیں کہ وہ اسلام اور جدیدیت کی مطابقت کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کر سکتے ہیں، اور مغربی تہذیب کی مبینہ برتری کے تصور کو بھی چیلنج کر سکتے ہیں۔
  • اسلامی علوم میں ایک اہم اور ضروری قدم یہ ہے کہ اس سیکولر رجحان کو سرے سے مسترد کیا جائے جو "مذہبی” علم کو دیگر علمی شعبوں سے کاٹ کر الگ کر دیتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے اسلام کو ایک زندہ اور متحرک روایت کے طور پر ازسرنو بحال کیا جا سکتا ہے۔
  • جو والدین خود صدمات اور مشکلات سے گزر چکے ہوں، وہ اپنے ان بچوں کے بارے میں فطری طور پر خوف محسوس کر سکتے ہیں جو بے باکی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔
  • والدین کے جذبات اور ان کے خوف کا احترام لازم ہے، تاہم اس کے ساتھ ہمیں ان کے خوف اور صدمات کی حدود سے آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی رکھنا ہوگا۔
  • اس سلسلے میں ہمیں نبوی سیرت سے رہنمائی لینی چاہیے۔ آپ ﷺ نے کون سے بت توڑے؟ کون سی قربانیاں دیں؟ اور کن رشتوں کو حق کی خاطر قطع کیا؟ یہ سوالات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

 

مسلم بچوں کی تربیت
  • بچوں کی تربیت میں کہانی سنانے کی روایت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ عالمی سطح پر امت کی جدوجہد اور کامیابیوں کو بیان کیا جائے تاکہ بچوں کے دل میں اس عالمگیر امت سے گہرے تعلق اور وابستگی کا احساس پروان چڑھ سکے۔
  • بچوں کو مساجد کی زیارت کروانا بھی تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، کیونکہ وہاں مختلف نسلوں، قومیتوں، زبانوں، ثقافتوں اور معاشی پسِ منظر کے حامل مسلمان یکجا نظر آتے ہیں۔ اس تجربے سے بچوں میں امت سے تعلق کا وہ وسیع احساس پیدا ہوتا ہے جو کسی محدود نسلی یا قومی شناخت سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔

 

ذکر کے حلقوں کو دوبارہ قائم کرنا
  • روحانی حلقوں میں فکر اور عمل کا توازن انتہائی ضروری ہے، کیونکہ جب یہ دونوں پہلو ہم آہنگی کے ساتھ موجود ہوں تو دھوکے باز اور منافق افراد کے لیے اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
  • روحانی تبدیلی کے لیے لازمی طور پر برسوں کی طویل تربیت شرط نہیں۔ عمل کی راہ سے یہ تبدیلی بعض اوقات فوری اور اچانک بھی رونما ہو سکتی ہے۔

 

اسلام اور مابعد نوآبادیاتی حالت کے درمیان سمجھے جانے والے تناؤ
  • فعال مسلم نوجوان اکثر اپنے اسلامی عقیدے اور بائیں بازو کے نظریاتی بیانیوں کے درمیان ایک کشمکش محسوس کرتے ہیں ۔
  • مسلم نوجوانوں کو یہ یقین دلانا ضروری ہے کہ اسلام انصاف اور مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کے لیے ایک مکمل اور مضبوط نظام رکھتا ہے۔
  • اس سلسلے میں ایک اہم قدم یہ بھی ہے کہ ان تصورات کو ان کے اصل معنوں میں بحال کیا جائے جنہیں مغربی اشرافیہ نے بدنام کیا، جیسے "جہاد” اور "شریعت”۔
  • لبرل ازم کی منافقانہ ناکامی اور دائیں بازو کی نسل پرستی، اخلاقی دیوالیہ پن اور طاقت پرستی کے بے نقاب ہونے کے بعد اسلام ایک مینارِ نور بن کر سامنے آتا ہے، جو ان کے "قدامت پسندی” اور "خاندانی اقدار” کے تمام دعووں کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔
  • آج مغرب نے رسول اللہ ﷺ کو رد کرتے ہوئے اپنی تہذیب کو خود اپنے ہاتھوں جلانے کا راستہ اختیار کر لیا ہے، اور وہ دن ضرور آئے گا جب وہ جوابوں کی تلاش میں مسلمانوں کی طرف رجوع کریں گے۔

 

ڈھانچے اور افراد
  • مسلم فکری روایت کا بڑا حصہ ناانصافی کو ایک ساختی مسئلے کے طور پر سمجھنے کی بجائے اسے محض فرد کی اخلاقی کمزوری تک محدود کر کے دیکھتا ہے، اور یہ رویہ ایک بڑی علمی کمزوری ہے۔
  • جدید ڈھانچے، خواہ سرمایہ داری ہو، بیوروکریسی ہو یا عسکری نظام، یہ سب ذاتی تقویٰ کے باوجود اجتماعی ظلم کو ممکن بلکہ معمول بنا دیتے ہیں۔
  • اسلامی فقہ کو اپنی ابتدائی علمی روایت کی طرف لوٹنا ہوگا جس میں ساختی مسائل پر سنجیدگی سے غور کیا جاتا تھا، برخلاف بعد کے قرونِ وسطیٰ کی روایت کے جو بتدریج فرد پر مرکوز ہوتی چلی گئی۔

 

آزاد علمی روایت
  • ریاستی مذہبی ادارے اسلام کو سیاسی مفادات کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔
  • حقیقی علما کو اس عمل کی مزاحمت کرنی چاہیے اور اپنی علمی دیانت کو برقرار رکھنا چاہیے۔
  • فکری خودمختاری اور خود احتسابی کی صلاحیت اسلامی اصالت کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
  • اس امت کی نمایاں خصوصیت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے، اور یہی خود احتسابی کا عمل امت کی اجتماعی دیانت اور سلامتی کا ضامن ہے۔
  • بدعنوانی وہیں جنم لیتی ہے جہاں آزادانہ اظہار اور احتساب کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔

 

ابراہیمی معاہدے
  • فلسطینی مسئلہ ایک زمانے میں ایسے اشرافیہ کے نزدیک بھی خلوص کے ساتھ اہم سمجھا جاتا تھا جو بذاتِ خود کامل نہیں تھے، خواہ وہ خلیجی حکمران ہوں یا سیکولر عرب قوم پرست۔
  • ابراہیمی معاہدات دراصل غداری کا کھلا مظاہرہ ہیں، جن میں فلسطینی حقوق کی قیمت پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔
  • حالیہ مظالم نے اس نام نہاد معمول پر آنے کے عمل کی اصل حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج ابراہیمی معاہدات کا کھل کر دفاع کرنا ممکن نہیں رہا۔
  • یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ حکمرانوں کو اس سرخ لکیر سے آگاہ کریں اور یہ باور کرائیں کہ فلسطین مسلمانوں کے لیے کوئی قابلِ سودے بازی مسئلہ نہیں۔
ڈاکٹر فرح الشریف

ڈاکٹر فراح الشریف، اسلامی فکری تاریخ اور معاصر اسلامی فکر کی محقق اور اسکالر ہیں۔ 2022 میں انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی کے شعبۂ نیئر ایسٹرن لینگویجز اینڈ سیولائزیشن سے پی ایچ ڈی حاصل کی، جہاں ان کی تحقیق کا مرکز انیسویں صدی کے مغربی افریقہ کی اسلامی علمی روایت تھا۔ ان کی علمی دلچسپیاں مغربی اور شمالی افریقہ میں اسلام، قومی ریاست، اسلامی قانون اور تصوف کے باہمی تعلق، اور اسلام اور نوآبادیات کے مباحث کے گرد مرکوز ہیں۔ وہ اردن، مصر، مراکش اور سینیگال سمیت مختلف ممالک میں تحقیقی کام سرانجام دے چکی ہیں۔

اوامیر انجم

اووامر انجم امیٹکسس انسٹیٹیوٹ میں چیف ریسرچ آفیسر ہیں۔ وہ 2019 میں یقین انسٹیٹیوٹ میں شائع ہونے والے مضمون “خلافت کون چاہتا ہے؟” کے مصنف ہیں، جو اس منصوبے کے لیے تحریک کا باعث بنا۔ وہ یونیورسٹی آف ٹولیڈو کے شعبہ فلسفہ و مذہبیات میں اسلامیات کے پروفیسر اور چیئر ہولڈر ہیں، *امریکن جرنل آف اسلام اینڈ سوسائٹی* (جسے پہلے *امریکن جرنل آف اسلامک سوشل سائنسز* کہا جاتا تھا) کے شریک مدیر ہیں، اور حال ہی میں یقین انسٹیٹیوٹ کے ریویو بورڈ کے ایڈیٹر ان چیف مقرر ہوئے ہیں۔

ان کی تحقیق کے شعبہ جات میں اسلامی تاریخ، الٰہیات، سیاسی نظریہ، اور عمومی تاریخ شامل ہیں۔ ان کی تصانیف میں اسلامی فکر میں سیاست، قانون اور برادری: تیمیاں لمحہ (کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2012) اور الہی متلاشیوں کے درجات: ابن القیم کا ترجمہ مدارج السالکین (بریل، 2020) شامل ہیں، جو چار جلدوں پر مشتمل سیریز کی ابتدائی دو جلدیں ہیں۔

ان کی منتخب تصانیف یہاں دستیاب ہیں:
https://utoledo.academia.edu/OvamirAnjum

مزید دریافت کریں۔

ایڈوانسڈ اے آئی کے لیے ایک امتی وژن کی طرف

December 20, 2025
ڈاکٹر جنید قادر

کیا اسلام پسند اب بھی اسلام پسند ہیں؟

November 19, 2025
ڈاکٹر سمیہ ساکریا

سائبر امت، الگورتھمک بالادستی، اور ڈیجیٹل ڈیکالونائزیشن

October 30, 2025
ڈاکٹر سحر خامس

نیویگیٹ کریں

امّیٹکس فورمز
توجہ کے علاقے
تحقیقی مقالات
اشاعتیں
امّیٹکس کے بارے میں
Search

تلاش کریں۔

Search

ہمارے نیوز لیٹر میں سائن اپ کریں۔