عرب دنیا میں اٹھنے والی انقلابی تحریک، جسے عصری اصطلاح میں "عرب بہار” کہا جاتا ہے، کو ایک دہائی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم مسلم اُمت کی مجموعی حالت بدستور نہایت تشویشناک ہے۔ مرکزی او مروجہ اسلامی فکر نہ صرف بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، بلکہ خود اُمت کے اندر بھی فکری انتشار اور تنظیمی کمزوری نمایاں ہو چکی ہے۔ بیرونی خطرات کی وسعت اور تنوع اس قدر زیادہ ہے کہ ان سب کی تفصیل یہاں بیان کرنا ممکن نہیں؛ تاہم اجمالاً کہا جا سکتا ہے کہ مختلف بین الاقوامی این جی اوز، تھنک ٹینکس، اور اسلام مخالف ریاستی عناصر ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت اسلامی تشخص، بالخصوص اس کی خودمختار سیاسی شناخت کے ہر اظہار کو مشتبہ بلکہ قابلِ سزا بنانے کی مہم میں مصروف ہیں۔
اسی دوران کئی عرب آمریتوں نے "دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے بیانیے کو بنیاد بنا کر اپنی اقوام کی جائز اور مقامی سیاسی امنگوں کو نہ صرف سختی سے کچلا ہے بلکہ اُنہیں مجرمانہ رنگ دے کر مکمل طور پر دبا دینے کی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے۔ ان کے آمرانہ طرزِ عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انتشار اور عدم استحکام کی فضا نے ان حکومتوں کو اپنے اقتدار کو مزید مضبوط کرنے کا ایک موقع فراہم کر دیا ہے۔ داخلی سطح پر یہ حکمران جبر و استبداد کے ایک منظم نظام کو فروغ دیتے ہیں، جب کہ عالمی منظرنامے میں خود کو اصلاحات کے علمبردار اور ترقی پسندی کے نمائندہ چہرے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے "ایش سینٹر فار ڈیموکریٹک گورننس اینڈ انوویشن” کے ساتھ 2021ء میں ایک آن لائن گفتگو کے دوران پروفیسر طارق مسعود نے اسی رجحان کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ: "اگر عرب بہار کے دورِ عروج اور موجودہ حالات کے مابین کوئی بنیادی فرق ہے، تو وہ یہ ہے کہ آج کے علاقائی آمر محض استحکام کا دعویٰ کرنے پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ وہ خود کو تبدیلی اور جدیدیت کے نمائندوں کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔”
تاہم اُمتِ مسلمہ کو درپیش سب سے اہم اور پیچیدہ چیلنج وہ ہے جو کسی بیرونی قوت کے بجائے خود اس کے اندر سے جنم لیتا ہے—بالخصوص اُن مسلمانوں کے لیے جو شمالی امریکہ جیسے جدید تہذیبی ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ داخلی دباؤ مختلف سمتوں سے نمودار ہوتا ہے، جنہیں مجموعی طور پر تین فکری رجحانات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ایک جانب بائیں بازو کے وہ عناصر ہیں جو ترقی پسند سیکولر-لبرل سماجی تحریکوں سے وابستگی کے لیے اسلامی اقدار کو پسِ پشت ڈالنے پر آمادہ نظر آتے ہیں؛ جبکہ دوسری جانب دائیں بازو کے وہ حلقے ہیں جو مذہبی افکار کو ایک فرقہ وارانہ اور متعصبانہ "الفا میل” سیاست کے قالب میں پیش کرتے ہیں—ایسی سیاست جس کی جہت عوامی تعلیم و آگہی کے بجائے زیادہ تر عوامی تحقیر و تذلیل کی طرف مائل ہے۔ ایسا اندازِ بیان جو سنجیدہ علمی مکالمے کے بجائے تذلیل، طعن و تشنیع، اور مناظرانہ مزاج سے قریب تر ہوتا ہے، اور جس کی جھلک سوشل میڈیا اور سطحی عوامی اظہار میں نمایاں دیکھی جا سکتی ہے۔
تاہم ان دونوں فکری انتہاؤں سے بڑھ کر جس طبقے کو سب سے زیادہ فکری تشویش کا باعث سمجھا جانا چاہیے، وہ ہے بے عمل درمیانی طبقہ—یعنی وہ لوگ جو نہ صرف سیاسی طور پر لاتعلق ہیں، بلکہ اُمتِ مسلمہ کے مستقبل کے حوالے سے کسی سنجیدہ فکری خاکے یا عملی سمت سے بھی محروم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی مذہبی وابستگی محض رسمی ہےجیسے مردم شماری میں بطور مذہب "اسلام” درج کروا دینا یا عید جیسے معاشرتی تہواروں میں علامتی طور پر شریک ہو جانا—جبکہ ان کی روزمرہ زندگی میں دین کی فکری اور عملی موجودگی تقریباً معدوم ہو چکی ہے۔ یہی بےرغبتی—جو نہ شعوری انکار ہے، نہ علانیہ مخالفت—درحقیقت وہ خاموش بحران ہے جو وقت کے ساتھ اُمت کے اجتماعی شعور کو کمزور کرتا جا رہا ہے، اور جو طویل المدت زوال کی بنیاد بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
یقیناً یہ ایک افسوس ناک مگر قابلِ توجہ حقیقت ہے کہ اُمتِ مسلمہ آج ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے ، تاہم یہ کوئی غیر متوقع بات نہیں۔نبی اکرم ﷺ نے اس کی خبر پہلے ہی ان الفاظ میں دی تھی: "ایسا وقت آنے والا ہے کہ دوسری قومیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو ایسے بلائیں گی جیسے کہ کھانے والے اپنے پیالے پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ۔” تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے ۔” (سنن ابی داؤد، حدیث: 4297)
اُمتِ مسلمہ کو اس وقت جن فکری مشکلات اور عملی الجھنوں کا سامنا ہے، اُن کے سنجیدہ اور بامعنی جواب کے طور پر امیٹکس کا تصور ایک اہم اور بروقت علمی پیش رفت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ موجودہ حالات میں ایک ایسے فکری ماحول کی سخت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جہاں باہمی احترام کے ساتھ سنجیدہ تبادلۂ خیال ممکن ہو، اور” جس کی بنیاد خلافت کے ایک ہمہ گیر اور مشترکہ تصور پر رکھی گئی ہو—ایسا تصور جو اُمت کے اجتماعی مستقبل پر غور و فکر کے لیے ایک وسیع تر فکری پلیٹ فارم مہیا کرے” (انجم، 2019، ص 50)۔ راقم کے نزدیک یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو امیٹکس کی فکری بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ پروفیسر انجم نے اپنے مضمون "Who Wants the Caliphate؟” (یقین انسٹیٹیوٹ، 2019) میں واضح کیا ہے کہ جو مسلمان میری اصطلاح میں ‘خلافتی-مکالماتی فکر’ (Caliphic-discursive thinking) میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے سامنے اصل کام یہ ہے کہ وہ محض نظریات پر گفتگو کرنے کے بجائے اُنہیں عملی سطح پر نتائج سے جوڑنے کی کوشش کریں۔ انجم کے بقول، امیٹکس فکری لحاظ سے مسلمانوں کو نہ صرف سوچنے کی دعوت دیتا ہے بلکہ انہیں انکی فوری اور انفرادی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتا ہے۔ یہ تصور اس بات پر زور دیتا ہے کہ مسلمان اپنی روزمرہ زندگی میں مقامی سطح پر عملی طور پر متحرک رہیں، لیکن اپنی فکر میں امت کے عالمی امکانات کو بھی مدنظر رکھیں۔ امیٹکس، دراصل، مشترکہ غور و فکر، فکری ربط، اور اسلامی سیاسی شعور کی نئی تشکیل کے لیے ایک سنجیدہ علمی کاوش ہے۔
امیٹکس نہ تو کسی مخصوص فقہی یا کلامی مکتبِ فکر کی نمائندگی کرتا ہے، اور نہ ہی اس کا مقصد ان عقائدی مباحث کو پھر سے چھیڑنا ہے جو صدیوں سے اہلِ علم کے درمیان اختلافی حیثیت رکھتے چلے آئے ہیں—جیسے صفاتِ الٰہی کی نوعیت، یا جنت و جہنم کی ابدیت کے مباحث۔ یہ فکری منصوبہ اس طرزِ عمل کا قائل نہیں کہ ایسے مسائل کو بنیاد بنا کر مخالف آراء رکھنے والوں کو تنقید یا خارجیت کا نشانہ بنایا جائے۔امیٹکس کی اصل توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ مسلمان عصرِ حاضر میں ایک ایسا سماجی، فکری اور تہذیبی کردار ادا کریں جو ان کی اپنی دینی روایات، داخلی ترجیحات، اور اجتماعی امیدوں سے ہم آہنگ ہو۔
امیٹکس نہ تو تصوف کی باطنی جہتوں پر مرکوز کوئی تجریدی فکری منصوبہ ہے، اور نہ ہی مابعد الطبیعیات پر مبنی کوئی فلسفیانہ مکتبِ فکر۔ تاہم جب اُمتِ مسلمہ کی اجتماعی پیش رفت اور فکری سمت کے تعین کی بات آتی ہے، تو امیٹکس اُن پہلوؤں کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کرتا۔ اسی طرح، امیٹکس محض نعرہ بازی یا مبہم دعوؤں پر مبنی طرزِ فکر کو بھی اختیار نہیں کرتا—جیسے "لا شرقية ولا غربية – إسلامية إسلامية”، "جمہوری اسلامی”، یا "الاسلام ھو الحل” جیسے عمومی اور غیر واضح نعرے۔ نہ ہی یہ اس تصورِ خلافت کا داعی ہے جس میں کسی ایک شخصیت کو مطلق العنان اقتدار دے کر اس کے ہاتھ پر عمومی بیعت لی جائے۔ ماضی میں ایسے سطحی تصورات اُمت کو فکری الجھن اور عملی جمود کی صورت میں بھاری نقصان پہنچا چکے ہیں۔
امیٹکس کو ایک ایسا سنجیدہ فکری میدان سمجھا جانا چاہیے جس کا مقصد اُمتِ مسلمہ میں اجتماعی سیاسی شعور کی ازسرِنو تشکیل کے لیے علمی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں وائل حلاق کی معروف تصنیف (The Impossible State 2013) خاص اہمیت رکھتی ہے، جس میں انہوں نے جدید ریاست کے تناظر میں اسلامی نظمِ حکمرانی کے امکانات پر نہایت بصیرت افروز گفتگو کی ہے۔ یہ کتاب اُن افراد کے لیے ایک مفید فکری رہنمائی مہیا کرتی ہے جو موجودہ حالات میں اسلامی سیاسی شرکت کے لیے مؤثر اور بامعنی امکانات تلاش کر رہے ہیں۔
حلاق اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگرچہ شریعت کے وہ ادارہ جاتی سانچے جو ماضی کی مسلم معاشرت میں قائم تھے اب موجود نہیں رہے، اور اُن کے دوبارہ ظہور کا امکان بھی کم دکھائی دیتا ہے، لیکن شریعت کی اخلاقی اثر انگیزی آج بھی پوری معنویت کے ساتھ برقرار ہے۔ ان کے بقول، یہ اخلاقی نظام ایک ایسا فکری و عملی سرمایہ ہے جس کی قدر و قیمت معمولی نہیں۔ وہ اس نکتے کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے کسی بھی مستقل، سنجیدہ اور بامقصد سیاسی شرکت کی بنیاد اسی اخلاقی میراث پر رکھی جا سکتی ہے، جو ان کی دینی روایت کی اصل روح کی ترجمان ہو۔
یہ طرزِ فکر روایتی سانچوں سے ہٹ کر ایک نیا فکری زاویہ اختیار کرنے کا تقاضا کرتا ہے—ایسا زاویہ جو اجتہادی بصیرت اور مقامی فکری تخیل پر مبنی ہو۔ اس لیے کہ وہ سماجی اکائیاں جو کسی جامع تر سماجی و سیاسی نظم کا حصہ بنیں گی، اُنہیں محض رسمی اداروں کے طور پر نہیں بلکہ ایسی اخلاقی برادریوں کی حیثیت سے سمجھنے کی ضرورت ہے جن کی بنیاد شعور، اقدار، اور باطنی وابستگی پر استوار ہو۔ ایسی برادریاں جو اپنی فکری اساسات کو ازسرِنو دریافت کریں، اور جن کا اجتماعی وجود روحانی معنویت اور اخلاقی مرکزیت سے توانائی حاصل کرے۔ اس مقصد کے لیے اسلامی تاریخ میں محفوظ اخلاقی ورثہ ایک رہنما نمونہ فراہم کرتا ہے—ایسا علمی سرمایہ جو اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ معیشت، تعلیم، نجی و اجتماعی زندگی، اور بالخصوص ماحول اور فطری نظام کے ساتھ ایک باوقار، متوازن اور بامعنی تعلق کس طرح قائم کیا جا سکتا ہے۔ اسی اخلاقی بنیاد پر فرد اور معاشرے کے حقوق و ذمہ داریوں کا ایک نیا، جامع اور فکری طور پر مضبوط تصور تشکیل دیا جا سکتا ہے—ایسا تصور جو لبرل نظامِ حقوق کے فوائد اور اس کی حدود کو سنجیدگی سے سمجھنے کے بعد اُجاگر ہو، اور جس پر کوئی متبادل نظمِ حیات استوار کیا جا سکے۔ (حلاق، 2013، ص 168)
راقم کے نزدیک، امیٹکس کا فکری تصور دراصل اُس فکری جہت کا ایک بامعنی اور مؤثر جواب ہے جسے وائل حلاق نے عصرِ حاضر میں مسلم سیاسی عمل کے امکانات کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ اسلامی روایات میں محفوظ اخلاقی ورثے سے رہنمائی لیتے ہوئے، امیٹکس ان وسیع اور پیچیدہ سوالات پر سنجیدہ غور و فکر کی دعوت دیتا ہے جو اُمتِ مسلمہ کی فلاح، بقا، اور تہذیبی تشکیلِ نو سے براہِ راست متعلق ہیں—بالخصوص ایک ایسی دنیا میں جو دن بدن پیچیدگیوں میں اضافے اور انسانی رشتوں میں اجنبیت کا باعث بنتی جا رہی ہے۔
یہ منصوبہ مفاد پرستانہ عقل یا جدید لبرل معاشی منطق کا تسلسل نہیں، بلکہ اس محدود طرزِ فکر سے آگے بڑھنے کی ایک سنجیدہ علمی کاوش ہے۔ یہ اُس فکری جمود کا متبادل پیش کرتا ہے جسے معروف سیاسی مفکر ولسن کیری مکویلیئمز (Wilson Carey McWilliams) نے "مایوسی کی سیاست” (the politics of disappointment) سے تعبیر کیا ہے—یعنی وہ افسردہ اور بدگمان سیاسی رویہ جو بیسویں صدی کے آخری عشروں میں امریکی سیاست کے غالب رجحان کے طور پر ابھرا۔ امیٹکس اس کے برعکس ایک ایسی متحرک فکر کی نمائندگی کرتا ہے جو قرآنی اقدار سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے مسلم سیاسی سوچ کو نئی معنویت اور وسعت فراہم کرے، اور ان علمی مباحث کو ازسرِنو زندہ کرے جو نجی اور اجتماعی دائروں کے درمیان پائے جانے والے ابہام، فاصلے اور تناؤ سے متعلق ہیں۔ یہ اُن افراد کے لیے بھی اُمید کی ایک ممکنہ سمت ہے جو اس فکری اور عملی سفر کو آئندہ کسی نئی فکری منزل تک لے جانے کی صلاحیت اور عزم رکھتے ہوں۔
تاہم اس منصوبے کی کامیابی اُس وقت حقیقی معنی میں ممکن ہو گی جب اُمت کے عام افراد بھی سنجیدہ شعور اور ذمے دارانہ وابستگی کے ساتھ اس میں شریک ہوں؛ کیونکہ بالآخر ہم سب اپنی اجتماعی تقدیر کے شریک و معمار ہیں۔ راقم کو یہ اُمید ہے کہ ان سطور کا مطالعہ کرنے والے، اس دعوت کو سنجیدگی سے لیں گے اور اپنے خیالات کو تحریری صورت میں پیش کر کے فکری عمل کو آگے بڑھائیں گے۔ ہم آپ سب کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ آپ اپنی آراء کو ہمارے علمی فورم میں پیش کریں۔ اس منصوبے سے وابستہ ابتدائی افراد وہ باشعور مسلمان ہیں جو تنقیدی بصیرت اور فکری دیانت کے ساتھ موجودہ نظام سے آگے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں—ایسا نظام جو فی الحال سیکولر، لبرل اور سرمایہ دارانہ سیاسی اصولوں پر استوار ہے۔ ہم اس فکری و عملی سفر میں آپ کی شمولیت کے منتظر ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جیسے جیسے یہ منصوبہ ارتقائی منازل طے کرتا جائے، آپ کے ساتھ ہماری شراکت بھی مضبوط ہوتی چلی جائے۔
جوزف جے. کامنسکی
انٹرنیشنل یونیورسٹی آف ساراژیو
17 جون 2021
مصادر ومراجع
ابو داؤد السجستانی۔ (2008)۔ سنن ابی داؤد، 5 جلدیں۔ ترتیب و تحقیق: حافظ ابو طاہر زبیر علی زئی؛ ترجمہ: ناصر الدین الخطاب۔ ہیوسٹن، ٹیکساس: دارالسلام پبلشرز۔
Anjum, O. (2019). Who Wants the Caliphate? Yaqeen Institute for Islamic Research. Accessed online at https://yaqeeninstitute.org/ovamiranjum/who-wants-the-caliphate
Hallaq, W. (2013). The impossible state: Islam, modernity, and modernity’s moral predicament. New York: Columbia University Press.
Masoud, T. (2021). Tarek Masoud reflects on the Arab Spring ten years later [interview]. Ash Center for Democratic Governance and Innovation. Accessed online at https://ash.harvard.edu/tarek-masoud-reflects-arab-spring-ten-years-later
McWilliams, W.C. (1995). The politics of disappointment: American elections 1976–94. Chatham, NJ: Chatham House.


