بول چال: قومی ریاست کے دور میں مسلم اختلاف۔ ڈاکٹر جوزف کامنسکی

30 نومبر 2022ء

مرتب: ابراہیم معز

مقالہ پیش کرنے والے: ڈاکٹر جوزف کامنسکی، ایسوسی ایٹ پروفیسر و سربراہ، شعبۂ بین الاقوامی تعلقات، انٹرنیشنل یونیورسٹی آف سراجیوو؛ بعنوان "قومی ریاستوں کے دور میں مسلم افتراق” ۔

مبصرین: ڈاکٹر یحییٰ محاصلویچ؛ سمیع حامدی۔

خلاصہ:

بیسویں صدی کے بعد سے قومی ریاست کے ساتھ مسلم دنیا کا تجربہ عموماً تنگ نظری، بدعنوانی اور آمرانہ طرزِ حکمرانی سے عبارت رہا ہے۔ امیٹکس انسٹی ٹیوٹ کے لیے اپنے مقالہ "قومی ریاستوں کے دور میں مسلم افتراق” میں جوزف کامنسکی 2010ء کی دہائی کی عرب بیداریوں کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ کس طرح مسلم قومی ریاستوں نے ایک امید افزا علاقائی اصلاحی تحریک کو کچل دیا اور عوامی مفاد کے بجائے اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دی۔

کامنسکی، جوناتھن لارنس کی 2021ء کی تصنیف "Coping with Defeat” کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ مسلم زوال کی ایک وجہ اسلامی مقتدر حلقوں کی جانب سے قومی ریاست کے ماڈل کو غیر واضح اور غیر مستقل انداز میں اپناناہے—ایسی صورتِ حال جس میں سیاسی اقتدار کے زوال کے ساتھ ساتھ اپنی فکری شناخت کی بنیادیں بھی کمزور پڑ گئیں۔ تاہم کامنسکی اس نکتے پر لارنس سے اختلاف کرتے ہیں کہ مذہبی قیادت کو قومی ریاست کے نظام کو قبول کرتے ہوئے اسی دائرے میں "نرم احیاء” کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ اس کے برعکس، وہ اس ایسے نظام پر دوبارہ سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں جس کی اصلاح ممکن نہیں۔

متعدد مسلم قومی ریاستیں—خواہ وہ عرب بادشاہتیں ہوں یا وسطی ایشیا کی جمہوریتیں—اندرونی کمزوری اور عدم استحکام کے باعث اپنی بقا کے تحفظ میں غیر معمولی طور پر مصروف رہتی ہیں۔ ان ریاستوں میں کارپوریٹ نظم نے حکومت اور اس پر قابض قوتوں کو نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ محنت کش طبقے، تجارت، شہری معاشرے اور حتیٰ کہ مذہبی دائرے تک پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت دے دی ہے۔ اس کے نتیجے میں اسلام کی نیم روایتی، محدود اور محض ایک آلے کے طور پر استعمال ہونے والی "قومی” شکلیں سامنے آئی ہیں۔ ولاء قصیٰ اور تھامس پارکر کے مطابق یہ "اطاعت پر مبنی مذہبی تعبیر ” نہ صرف اختلافِ رائے کو دبانے کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ اسلام کو ایک آلہ بنا دیتی ہے، اور ان بین الاقوامی رجحانات کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو امت کے لیے تقویت کا باعث بن سکتے ہیں۔

لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس محدود فکری دائرے سے نکل کر سیاسی تنظیم کے ایسے متبادل نمونوں پر غور کریں جو زیادہ متوازن، فطری اور اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔

بحث ومباحثہ

محاصلویچ اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ عالمِ اسلام میں سیاسی افتراق کا آغاز نوآبادیاتی دور سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ وہ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ وحدتِ امت کا تصور کس حد تک ایک متحدہ خلافت کی صورت میں ممکن سمجھا جا سکتا ہے، جب کہ تاریخی طور پر خلافتیں اکثر داخلی چیلنجز اور تنازعات سے دوچار رہیں اور ان کی عمل داری بالخصوص اطرافی علاقوں میں محدود اثر رکھتی تھی۔ مزید یہ کہ بیرونی نظم و نسق کو اختیار کرنے کی روایت بھی نئی نہیں، بلکہ اموی اور عباسی ادوار میں رومی اور فارسی نظاموں کو اپنایا گیا اور انہیں مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالا گیا۔ یہاں تک کہ عہدِ عثمانی میں بھی یورپی اثرات کا تسلسل برقرار رہا، اور ترکی کی مثال سے واضح ہوتا ہے کہ قوم پرستی کو محض نوآبادیاتی جبر کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کامنسکی: اگرچہ انیسویں صدی میں قوم پرستی اور یورپیت کے مظاہر نمایاں ہو چکے تھے، تاہم نوآبادیاتی نظام کے قیام، خصوصاً سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے بعد، یہ رجحان غیر معمولی رفتار سے پھیلا اور بڑی حد تک نوآبادیاتی اثرات کے تحت ایک غالب اور خودکار صورت اختیار کر گیا۔

حامدی نے مقالے کے برمحل اور اہم موضوع کے انتخاب کو سراہتے ہوئے قومی ریاست کے قیام کے تاریخی پس منظر کی جانب توجہ مبذول کرانے پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ متاخر دورِ خلافتِ عثمانیہ بھی بعض مواقع پر زیرِ تسلط مسلم گروہوں—جیسے شمالی افریقہ میں سنوسی تحریک—کی مؤثر اعانت نہ کر سکا۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں نوآبادیاتی قوتوں کے خلاف مسلم تحریکوں نے، اسلامی حوالہ برقرار رکھتے ہوئے، بالآخر ایک “قومی” رخ اختیار کیا۔ ان کے نزدیک بنیادی مسئلہ ان مسلسل حکومتوں پر عدمِ اعتماد ہے جو عوامی مسلم شعور کی حقیقی نمائندگی کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں قبائل اور اقوام جیسی محدود شناختیں ایک فطری حقیقت ہیں، اگرچہ اسلام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی تناظر میں قوم پرستی بڑی حد تک خلافت کی ناکامی اور اس کے بعد انہی محدود شناختوں کی طرف رجوع کے نتیجے میں ابھری۔ تاہم مسلمانوں میں بین الاقوامیت اور امتی یکجہتی کے فروغ کا جاری رجحان، نیز نوآبادیاتی قوتوں سے بڑھتی ہوئی خودمختاری، ایک مثبت سمت میں پیش رفت کے امکانات کو تقویت دیتے ہیں۔

کامنسکی: یہ امید اپنی جگہ برقرار ہے، لیکن اصل مسئلہ قومی ریاست کی ساخت میں مضمر ہے، نہ کہ قومی، علاقائی یا قبائلی عوامل میں؛ بالخصوص اس صورت میں جب یہی ریاستی ڈھانچہ مسلم آبادیوں کے خلاف جابرانہ اقدامات کا ذریعہ بنتا ہے۔

سوالات و مباحث

عملی جہات

پینلسٹ ہبہ عزت اور شریکِ مجلس صفیان موسی نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ عرب بیداریوں نے صرف امید کی ایک نئی فضا ہی پیدا نہیں کی بلکہ ایک واضح ماورائے قومی شعور کو بھی سامنے لایا۔ ان کے مطابق اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس شعور کو عملی شکل دی جائے۔ تاہم محاصلووچ کے خیال میں جدید دور سے پہلے کی مسلم حکومتیں—جو بعد میں قومی ریاستوں کی صورت اختیار کر گئیں—زیادہ تر کسی مقتدر طاقت کے زیرِ اثر قائم ہوئیں، نہ کہ عوامی جدوجہد کے نتیجے میں۔ اسی وجہ سے آج کی بین الاقوامی تنظیمیں، جیسے تنظیمِ تعاونِ اسلامی، بھی بڑی حد تک موجودہ قومی ریاستی نظام ہی کے دائرے میں کام کرتی ہیں۔

پینلسٹ مصطفیٰ سلامہ اور شریکِ نشست حمزہ رضا، دونوں کا خیال تھا کہ ۲۰۱۰ء کی دہائی کے بیشتر کارکن دراصل قومی ریاست اور موجودہ عالمی نظام کے جمود سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ اسی وجہ سے وہ ریاستی سرحدوں سے بالاتر حقیقی بین الاقوامی روابط کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے برعکس، حمدی کا استدلال تھا کہ ان جماعتوں کے پاس موجودہ ڈھانچوں کے اندر کام کرنے کے سوا کوئی خاص راستہ نہیں تھا، کیونکہ اسلامی بین الاقوامیت کے حوالے سے وسیع پیمانے پر بداعتمادی پائی جاتی تھی۔ مثال کے طور پر اخوان المسلمون اپنی عالمی سطح کی وابستگیوں سے بھرپور فائدہ نہ اٹھا سکے۔ تاہم حمدی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ تیونس کی نہضہ جیسی جماعتیں رفتہ رفتہ جمودِ حال کے ساتھ اس قدر ہم آہنگ ہو گئیں کہ آخرکار اپنے ہی حامی حلقوں سے دور ہوتی چلی گئیں۔

شریکِ مجلس سید شریف نے کمیونزم، سرمایہ داری اور قوم پرستی کے زوال کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ مسلمان اسلامی بنیادوں پر قائم کوئی متبادل فکری اور عملی نظام کیوں پیش نہیں کر رہے، اور اس کے بجائے، مثال کے طور پر، چین کی تقلید کی طرف کیوں مائل ہو رہے ہیں۔ کامنسکی نے وضاحت کی کہ یہی سوال "امیٹکس انسٹی ٹیوٹ” کی توجہ کا مرکزی موضوع ہے۔ انہوں نے پینلسٹ خلدون کارہانلی کے اس سوال—کہ ترجیح نظریے کو دی جانی چاہیے یا عمل کو—کے جواب میں کہا کہ ماضی کی غلطیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی عملی اقدام سے پہلے ایک طویل المدت وژن پر سنجیدہ بحث کی جائے، اسے واضح شکل دی جائے اور امتِ مسلمہ میں عام کیا جائے۔ مزید برآں، عزت نے نہ صرف ریاست بلکہ پورے سیاسی عمل کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی تجویز دی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی ریاستوں کی جانب سے اسلام کو اختیار کرنے کے مختلف مظاہر پر مزید تحقیق ہونی چاہیے۔ اسی طرح قبائلی ساختوں اور ان خطوں—خصوصاً خلیج—پر بھی توجہ دی جانی چاہیے جن پر اب تک نسبتاً کم تحقیق ہوئی ہے، حالانکہ ان کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ساتھ ہی عرب بیداریوں کے مطالعے میں صرف مقامی نہیں بلکہ وسیع سیاسی عوامل، جیسے بڑی طاقتوں کے کردار، کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

قومی ریاست: کیا مجبوری کو خوبی کا نام دیا جا رہا ہے؟

حامدی نے واضح کیا کہ قبائلیت انسانی فطرت کا ایک بنیادی اور فطری پہلو ہے، اگرچہ اسلام اس سے بلند تر اخوت اور یکجہتی کا تصور پیش کرتا ہے۔ ان کے مطابق قبائلیت اس وقت “قومی ریاستی محدودیت” میں بدل جاتی ہے جب اسلامی ہم آہنگی اپنی اصل بنیادوں سے دور ہو جائے، جیسا کہ عثمانیوں اور سنوسی تحریک کے تعلقات میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پینلسٹ ابراہیم معز نے اس بات کی نشان دہی کی کہ الجزائر جیسی کئی قومی آزادی کی تحریکیں ابتدا میں بین الاقوامی روابط اور وسیع تر مقاصد رکھتی تھیں، مگر رفتہ رفتہ قومی ریاست کے دائرے تک محدود ہو گئیں۔ حامدی نے حبیب بورقیبہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ابتدائی اسلامی شناخت اور زبان کو ترک کر کے قوم پرستی کو اپنا لیا۔ شریکِ مجلس شفاعت وانی نے برصغیر کے عالم حسین احمد مدنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک جمہوری، مسلم اکثریتی قومی ریاست کو مابعدِ نوآبادیاتی نظمِ حکومت کی ایک قابلِ عمل صورت کے طور پر قبول کیا۔

تاہم کامنسکی اور سلامہ نے قبائلیت اور عمومی قومی احساس کو براہِ راست قومی ریاست کے مخصوص ڈھانچے سے جوڑنے پر اعتراض کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ قومی ریاست بطور سیاسی ماڈل بڑی حد تک نوآبادیاتی دور کے بعد وجود میں آئی۔ پینلسٹ اوامیر انجم نے یہ نکتہ اٹھایا کہ سیاست میں مبینہ غداریوں یا انحرافات کے واقعات عام ہوتے ہیں، لیکن وہ شاذ ہی ایسی وسیع مفاہمتوں، باہمی اشتراکات اور بنیادی تبدیلیوں پر منتج ہوتے ہیں جیسی خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد یورپی رنگ اختیار کرنے کے عمل میں دیکھنے میں آئیں۔ کامنسکی نے اس صورتِ حال کو بطور نمونہ نہیں بلکہ قومی ریاست سے پہلے کے ایک مرحلے کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس کے برعکس، محاصلووچ کا استدلال تھا کہ عثمانیوں میں “یورپیانہ” رجحان کا آغاز دراصل سقوطِ خلافت سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔

سلامہ اور کامنسکی نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ قومی ریاست کے ماڈل میں موجود “نو حقیقت پسندی” (neorealism) ریاستی مفادات کو ہمیشہ امتی مفادات پر ترجیح دینے کا رجحان پیدا کرتی ہے۔ اس کے برعکس، معز کے نزدیک اصل خطرہ یہ ہے کہ اسلام کو ریاست کے تابع بنا دیا جائے، چاہے ریاست کی نوعیت کچھ بھی ہو۔ تاہم حامدی اور محاصلووچ کا استدلال تھا کہ “ریاستی سرپرستی” میں پیش کیا جانے والا اسلام عموماً عوام میں زیادہ سنجیدگی سے قبول نہیں کیا جاتا، اس لیے اس کے اثرات محدود رہتے ہیں، خصوصاً اس وجہ سے کہ اسلام میں امت اور اس کے ساتھ وابستگی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ حامدی نے مزید نشاندہی کی کہ ریاستی حکمران دراصل امتی شعور کی ممکنہ قوت سے خائف رہتے ہیں، اور یہی بات کامنسکی کی رپورٹ کی برمحل اہمیت کو بھی واضح کرتی ہے۔

اگرچہ مباحثے کے دوران مختلف آرا اور نمایاں اختلافِ رائے سامنے آئے، تاہم اس بات پر عمومی اتفاق موجود تھا کہ ایک طرف قومی ریاست، خصوصاً اس کے کارپوریٹ اور جابرانہ رجحانات، کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف عالمی مسلم معاشرے کے امکانات کے بارے میں امید کی گنجائش بھی باقی ہے۔ امیٹکس انسٹی ٹیوٹ جیسے منصوبوں کا مقصد اسی مکالمے کو آگے بڑھانا اور ایسا فکری ماحول پیدا کرنا ہے جہاں یہ امید بامعنی اور مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکے۔

جوزف کامنسکی

جوزف جے کامنسکی، پی ایچ ڈی، انٹرنیشنل یونیورسٹی آف سرائیوو کے شعبۂ سیاسیات و بین الاقوامی تعلقات میں پروفیسر ہیں۔ انہوں نے 2004ء میں رٹجرز یونیورسٹی سے سیاسیات اور فلسفے میں دوہری تخصص کے ساتھ بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد 2008ء میں سٹی یونیورسٹی آف نیویارک (سیونی) کے گریجویٹ سینٹر سے سیاسیات میں ایم اے مکمل کیا، جبکہ 2014ء میں پرڈیو یونیورسٹی سے سیاسیات میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔
ان کے تحقیقی موضوعات میں مذہب اور سیاست یا بین الاقوامی تعلقات—خصوصاً عالمِ اسلام کے تناظر میں—تقابلی نظریۂ سیاست، اور اسلام و عوامی استدلال سے متعلق نئے فکری مباحث شامل ہیں۔ ان کے علمی مضامین معروف تحقیقی جرائد، جیسے دی جرنل آف پولیٹکس، پی ایس: پولیٹیکل سائنس اینڈ پولیٹکس، سوشل کمپاس، ریلیجس اسٹڈیز ریویو، اور تھنڈر برڈ انٹرنیشنل بزنس ریویو میں شائع ہو چکے ہیں۔
کامنسکی دو اہم کتابوں کے مصنف ہیں: The Contemporary Islamic Governed State: A Reconceptualization (Palgrave, 2017) اور Islam, Liberalism, and Ontology: A Critical Re-evaluation (Routledge, 2021)۔ ان کتابوں میں انہوں نے اسلامی ریاست، لبرل ازم اور وجودیات سے متعلق مباحث کا نئے زاویے سے جائزہ لیا ہے۔ مزید برآں، وہ مئی 2022ء سے امیٹکس انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ بطور ریسرچ ایسوسی ایٹ وابستہ ہیں۔

مزید دریافت کریں۔

ایڈوانسڈ اے آئی کے لیے ایک امتی وژن کی طرف

December 20, 2025
ڈاکٹر جنید قادر

کیا اسلام پسند اب بھی اسلام پسند ہیں؟

November 19, 2025
ڈاکٹر سمیہ ساکریا

سائبر امت، الگورتھمک بالادستی، اور ڈیجیٹل ڈیکالونائزیشن

October 30, 2025
ڈاکٹر سحر خامس

نیویگیٹ کریں

امّیٹکس فورمز
توجہ کے علاقے
تحقیقی مقالات
اشاعتیں
امّیٹکس کے بارے میں
Search

تلاش کریں۔

Search

ہمارے نیوز لیٹر میں سائن اپ کریں۔