وقف: مسلم سول سوسائٹی بمقابلہ قومی ریاست

خلاصہ مجلس مذاکرہ: وقف — مسلم سول سوسائٹی بمقابلہ قومی ریاست

۲۰۲۳ء کی آخری مجلس مذاکرہ میں زاید یونیورسٹی (متحدہ عرب امارات) کے کالج آف ہیومینیٹیز اینڈ سوشل سائنس کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ریہام خفاجی نے شرکت کی۔ ڈاکٹر خفاجی نے مسلم دنیا اور مغرب میں وقف اور سول سوسائٹی تنظیموں کے کردار پر گفتگو کی اور اس ضمن میں اپنی حالیہ کتاب "ویسٹرن سول سوسائٹی انسٹیٹیوشنز آر میسنجرز آف ویلیوز: اے ریڈنگ آف لوکل اینڈ انٹرنیشنل رولز” سے بھی استفادہ کیا۔ انہوں نے قومی ریاست اور مسلم سول سوسائٹی کے مابین موجود تناؤ کو اجاگر کیا اور یہ جائزہ لیا کہ وقف کو فروغ دے کر اس کے تاریخی کردار کو کس طرح بحال کیا جا سکتا ہے، تاکہ مسلم امت کی یکجہتی اور استحکام کو تقویت ملے۔

ڈاکٹر خفاجی نے اپنی گفتگو کا آغاز ایک نظریاتی فریم ورک کے قیام سے کیا جس کا مقصد اسلامی اور مغربی تناظرات کے درمیان بنیادی فرق کو واضح کرنا تھا۔ ان کے مطابق اگرچہ "سول سوسائٹی” کی اصطلاح اسلامی سیاق میں بھی مستعمل ہے، تاہم اس کے مفاہیم بڑی حد تک جدید مغربی فکر سے ماخوذ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مغربی تناظر میں معاشرہ تین بنیادی شعبوں پر مشتمل ہوتا ہے: ریاست، منڈی اور سول سوسائٹی، اور اس ڈھانچے میں سول سوسائٹی دراصل ریاست اور منڈی کے مابین طاقت کے تعلقات اور باہمی تعامل کا نتیجہ ہوتی ہے۔

تاہم اسلامی تناظر میں یہ ترتیب بالکل مختلف ہے۔ اسلامی تہذیب میں ریاست کی بجائے امت کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اور یہی تصور اسلامی معاشرے کے سماجی اداروں کے افعال، مقاصد اور ذمہ داریوں کی سمت متعین کرتا ہے۔ مغربی نظام کے برعکس، اسلامی تناظر میں ریاست کو بالاتر مقام حاصل نہیں، بلکہ وہ امت کی اجتماعی زندگی کے اندر پیوست ہے اور اسی کی رہنمائی میں اپنے فرائض انجام دیتی ہے۔ یہی اجتماعی زندگی اسلامی نظام کا بنیادی محور ہے اور اقتدار، قوت اور ادارہ جاتی جواز کا اصل سرچشمہ بھی۔

ڈاکٹر خفاجی کے مطابق وقف اسلامی نظام کے اندر ایک بنیادی ادارہ ہے۔ ریاست اور منڈی سے اس کی مکمل آزادی کے باعث کسی بھی قانونی اختیار کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ چند مخصوص حالات کے علاوہ وقف کی سرگرمیوں میں ردوبدل یا انہیں منسوخ کرے۔ اصولی طور پر وقف عطیہ دینے والے کی آزادانہ مرضی اور ارادے کا مظہر ہوتا ہے، اور یہی خصوصیت اسے پائیداری کا ایک منفرد نمونہ بناتی ہے جس کی مثال مغربی اداروں میں نہیں ملتی۔ چنانچہ بعض اوقاف صدیوں تک قائم رہے، باوجود اس کے کہ نوآبادیاتی دور کے بعد مسلم دنیا کے سیاسی نظام میں مسلسل تبدیلیاں آتی رہیں۔ نوآبادیاتی دور میں وقف کو سنگین چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس کی قانونی خودمختاری نے اسے محفوظ رکھا اور اس مشکل دور میں بھی اس کے تسلسل کو ممکن بنایا۔

ڈاکٹر خفاجی مزید واضح کرتی ہیں کہ وقف کے اطلاقات تاریخی اور معاصر دونوں حوالوں سے نہایت وسیع اور متنوع ہیں، جن میں تعلیم، صحت، سماجی یکجہتی اور ضرورت مندوں کی کفالت سرفہرست ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وقف علما اور قائدین کو مالی استحکام فراہم کر کے ان کی فکری آزادی اور خودمختاری کا بھی ضامن رہا ہے۔ تاہم ڈاکٹر خفاجی کے مطابق قومی ریاست کے ظہور نے وقف کی تاریخ میں ایک نازک موڑ پیدا کیا، کیونکہ اس نے اس ادارے کو قانونی پابندیوں، ممانعتوں اور مالی وسائل کی ضبطی جیسے سنگین چیلنجوں سے دوچار کر دیا۔

حالیہ برسوں میں مسلم دنیا کے بعض حصوں میں وقف کے احیا کی نئی لہر دیکھنے میں آئی ہے۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کے بعد یہ رجحان خصوصاً خلیجی خطے میں نمایاں ہوا، تاہم شمالی افریقہ، بالخصوص مصر اور تیونس میں بھی قابلِ ذکر سرگرمی دیکھی جا سکتی ہے۔ چونکہ یہ احیا قومی ریاست کے دائرۂ اقتدار کے اندر ہو رہا ہے، اس لیے یہ بنیادی طور پر دو صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے: انتظامی اصلاحات اور فلاحی شراکت داریوں کا قیام۔ڈاکٹر خفاجی کے مطابق اس احیا کو داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر چیلنجز درپیش ہیں۔ داخلی چیلنجز کا تعلق بالعموم بہتر انتظام و انصرام کے معیارات سے ہے، جبکہ خارجی چیلنجز احتساب اور شفافیت سے متعلق ہیں جو وقف پر قومی ریاست کے اختیار سے جڑے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر خفاجی کے نزدیک ان مسائل کے حل کا ایک مؤثر راستہ یہ ہے کہ نئے اور پرانے دونوں اوقاف کے لیے داخلی اور خارجی سطح پر مقصد پر مبنی اہداف کو شعوری طور پر متعین کیا جائے۔

ڈاکٹر خفاجی کے خطاب کے بعد سوال و جواب کی ایک طویل نشست منعقد ہوئی۔ زیرِ بحث آنے والے سوالات میں سے ایک اہم سوال یہ تھا کہ کیا وقف کو ایک ایسے فعال ادارے کے طور پر ازسرنو استوار کرنا ممکن ہے جو امت کو حقیقی معنوں میں توانا بنائے، اور کیا اسے قومی ریاستوں کے قلیل المدت مفادات کی نذر ہونے سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ جواب میں ڈاکٹر خفاجی نے اعتراف کیا کہ آج بھی قومی ریاست کا شکنجہ مضبوط ہے، جو وقف کی مکمل اور حقیقی بحالی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ آئندہ برسوں میں غیر ریاستی عناصر — سیاسی اور سماجی دونوں — کا اثر و رسوخ بڑھنے کا امکان ہے، جو آنے والے وقت میں قومی ریاست کے مقابلے میں ایک مثبت توازن پیدا کرنے والی قوت ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک اور سوال میں یہ مسئلہ اٹھایا گیا کہ امت کے مفاد میں قومی ریاست کیا کردار ادا کر سکتی ہے، اور کیا وہ وقف کے نظام کی تجدید میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر خفاجی نے جواب میں کہا کہ قومی ریاستیں یقیناً ایک مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ مالی وسائل کی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر تقسیم کے طریقۂ کار پر ازسرِ نو غور کریں، تاکہ اس سے مقامی معاشروں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر امت کو بھی تقویت حاصل ہو۔

ایک سوال مغرب میں مقیم مسلم اقلیتوں کے حوالے سے بھی اٹھایا گیا کہ وقف کے احیا میں ان کا کیا کردار ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر خفاجی نے جواب میں کہا کہ مسلم اقلیتوں کے پاس ایک بڑا موقع موجود ہے کہ وہ نئے منصوبوں کو عملی جامہ پہنائیں اور عالمی سطح پر وقف کے احیا میں بھرپور کردار ادا کریں۔ وہ نہ صرف شریعت سے ہم آہنگ قوانین و ضوابط کی بنیاد پر وقفی ادارے قائم کر سکتے ہیں، بلکہ بعض صورتوں میں یہ کام اس آزادی کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں جو آج بعض عرب ممالک میں میسر نہیں۔

اجلاس کے اختتامی سوالات میں سے ایک یہ تھا کہ آیا وقف کی بحالی ایک فردی ذمہ داری ہے یا اجتماعی فریضہ۔ بالفاظِ دیگر، کیا یہ ایک ایسی تہذیبی ضرورت ہے جس کا بوجھ فرد پر عائد ہوتا ہے یا پوری جماعت پر؟ ڈاکٹر خفاجی نے جواب میں واضح کیا کہ اسے خالصتاً فردی ذمہ داری قرار دینے میں عملی مشکلات ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انفرادی فرائض کو فرضِ کفایہ کے تناظر میں بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر خفاجی نے گفتگو کا اختتام اس اہم نکتے پر کیا کہ تاریخی اعتبار سے وقف ہمیشہ مقامی سطح پر پروان چڑھا ہے، اس لیے اسے عالمی تناظر میں دیکھنا کسی حد تک دشوار ہو سکتا ہے۔ ان کے نزدیک اصل چیلنج یہ ہے کہ وقف کو مقامی سطح پر مستحکم کیا جائے اور ساتھ ہی اسے عالمی روابط سے بھی جوڑا جائے۔‎‎

ڈاکٹر ریہام خفاجی

ریہام خفاجی مسلم دنیا اور مغرب کے تناظر میں وقف اور سول سوسائٹی تنظیموں کے کردار پر متعدد علمی تصانیف کی مصنفہ ہیں۔ ان کی تازہ ترین کتاب "مغربی سول سوسائٹی تنظیمیں… اقدار کی پیامبر: مقامی اور بین الاقوامی کردار" کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔ وقف کے مطالعے میں ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں کویتی اوقاف جنرل فاؤنڈیشن کی جانب سے خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔

مزید دریافت کریں۔

ایڈوانسڈ اے آئی کے لیے ایک امتی وژن کی طرف

December 20, 2025
ڈاکٹر جنید قادر

کیا اسلام پسند اب بھی اسلام پسند ہیں؟

November 19, 2025
ڈاکٹر سمیہ ساکریا

سائبر امت، الگورتھمک بالادستی، اور ڈیجیٹل ڈیکالونائزیشن

October 30, 2025
ڈاکٹر سحر خامس

نیویگیٹ کریں

امّیٹکس فورمز
توجہ کے علاقے
تحقیقی مقالات
اشاعتیں
امّیٹکس کے بارے میں
Search

تلاش کریں۔

Search

ہمارے نیوز لیٹر میں سائن اپ کریں۔