عومیر انجم
یہ مضمون ایک سلسلہ وار علمی تحریر کا مقدمہ ہے، جو عصرِ حاضر میں امیٹکسس کی فوری ضرورت پر جامع، مدلل اور علمی استدلال پیش کرتا ہے۔ اگرچہ یہ تحریر ابتدا میں ایک مفصل تحقیقی مقالے کی صورت میں مرتب کی گئی تھی، تاہم قاری کی سہولت، فکری مکالمے کے فروغ، اور تنقیدی جائزے کے مواقع کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان شاء اللہ، آئندہ چند ماہ میں اسے مرحلہ وار مختصر مضامین کی شکل میں شائع کیا جائے گا۔
یہ سلسلہ متعدد جید علماء، محققین، اور اساتذہ کی بصیرت افروز آرا اور علمی تبصروں کا نچوڑ ہے، جن میں یاسمین ضیاءاللہ، ایاد ہلال، معراج سید، جوزف کمینسکی، حنا حسن، ایلکس تھرسٹن، اسماعیل یایلجی، اور عثمان بدر شامل ہیں۔ ان اہلِ دانش کے علمی تعاون اور فکری رہنمائی کے اعتراف میں، اس تحریر میں "ہم” کے صیغے کا استعمال اختیار کیا گیا ہے۔ تاہم، میں اس حقیقت کا معترف ہوں کہ اگر اس تحریر میں کوئی لغزش، علمی سقم، یا کوتاہی پائی جائے، تو اس کی تمام تر ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔
تعارف
جولائی کی ایک مصروف دوپہر تھی، جب میں استنبول کے دلکش اور پُرکیف ماحول میں دو ماہ گزارنے کے بعد اپنے چودہ سالہ بیٹے احمد کے ہمراہ ایئرپورٹ کی طرف رواں دواں تھا۔ ہمارا ڈرائیور غیرمعمولی حد تک خوش مزاج اور باتونی تھا، مگر وہ انگریزی کا ایک لفظ بھی نہیں جانتا تھا، اور ہم ترکی زبان سے ناآشنا تھے۔ تاہم، گوگل ٹرانسلیٹ کی مدد سے احمد اور میں اس منفرد فن میں مہارت حاصل کر چکے تھے، جس کے ذریعے اجنبی ایک دوسرے سے جُڑ جاتے ہیں—اشارے، ترجمے، اور ٹوٹی پھوٹی گفتگو کا وہ انداز جو زبان کی ناآشنائی کے باوجود انسانی ربط کو ممکن بناتا ہے۔ گفتگو کا آغاز ڈرائیور نے زندگی کی تلخ حقیقتوں پر مبنی ایک نوحے سے کیا۔ اس نے شکوہ کیا کہ معاشی زوال نے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوانوں کو شدید بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے—نہ گھر کا کرایہ ادا ہو پاتا ہے، نہ زندگی کے خواب حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔ شادی، جو کبھی زندگی کا ایک حسین سنگِ میل ہوا کرتی تھی، اب ایک دور افتادہ امکان بن چکی ہے۔اس کے نزدیک، امت مسلمہ کی بدنظمی، باہمی انتشار اور اختلافات ہی تمام مصائب کی جڑ ہے۔ وہ بے تکان میرے فون کے مائیک میں مختلف مسلم ممالک کے نام گنواتا چلا گیا، جیسے کوئی دردمند اپنی امیدوں کی بکھری کرچیاں سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کی فہرست میں ترکیہ، سعودی عرب، ایران، مصر، تیونس، پاکستان، اور کئی دیگر مسلم ممالک شامل تھے—وہ تمام ریاستیں جنہیں وہ ایک وحدت میں پرویا دیکھنا چاہتا تھا۔
یہ دیکھ کر مجھے بیک وقت حیرت اور مسرت کا احساس ہوا کہ ایک عام مگر محنت کش ٹیکسی ڈرائیور کس قدر بے ساختگی اور سادگی سے ایک ایسا جری اور بامعنی نظریہ بیان کر رہا ہے، جسے آج کے مسلم قائدین اور دانشور برملا کہنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب میرے بیرون ملک سفر کے دوران کسی عام مسلمان نے یہی تصور میرے ساتھ شیئر کیا ہو۔ امیٹکسس درحقیقت اسی احساس کو ایک فکری قالب میں ڈھالنے کی کوشش ہےجو ہمارے نزدیک اصلا امتِ مسلمہ کی اجتماعی آواز ہے —ایک صدا جو دنیا کے ہر خطے میں گونج رہی ہے 1۔
ہم پہلے ہی یہاں امیٹکسس کے بنیادی تصور کی وضاحت کر چکے ہیں اور اس مقدمے کے دلائل پیش کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کا اتحاد محض ایک تمنا نہیں، بلکہ ایک الٰہی حکم ہے— ایک ایسی شرعی و عملی حقیقت جو نہ صرف ممکن الحصول ہے، بلکہ فوری توجہ کی متقاضی بھی ہے یہاں۔ اب ہم ان اعتراضات اور شکوک کا جائزہ لینا چاہتے ہیں جو اس تصور کے حوالے سے پیش کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ مضامین میں اس امر پر زور دیا گیا کہ امتِ مسلمہ کی ترقی ہی نہیں، بلکہ اس کی بقا اور تشخص بھی ایک متحدہ اسلامی قیادت کے قیام سے مشروط ہے، جسے محض ایک عملی ضرورت نہیں بلکہ دینی فریضہ سمجھنا لازم ہے۔ اجماعِ امت کے تاریخی تسلسل کے مطابق، مسلم قیادت کا تصور ہمیشہ ایک امام کی موجودگی پر استوار رہا ہے، جسے خلیفہ یا امیر المؤمنین کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے—ایک ایسا سربراہ جو امت کے سیاسی امور کی سربراہی کا اختیار رکھتا ہو ۔ تاہم، محض زبانی تجدیدِ عہد کافی نہیں؛ ہمیں درپیش چیلنجز کی ماہیت اور شدت کو دقیق نظر سے سمجھنا ہوگا، فکری و علمی مباحث کو ایک اعلیٰ تر علمی سطح پر استوار کرنا ہوگا، اور امت کے اہلِ علم و دانش کے درمیان ایک بامقصد اور تعمیری مکالمے کی بنیاد رکھنی ہوگی۔ اس کے ساتھ، ایک جامع حکمتِ عملی وضع کرنا بھی ناگزیر ہے، تاکہ علمی، فکری اور مادی وسائل کو منظم انداز میں بروئے کار لایا جا سکے اور ایسے مستحکم ادارے قائم کیے جاسکیں جو عصرِ حاضر کے پیچیدہ تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر مؤثر انداز میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
امیٹکسس انسٹیٹیوٹ میں تحقیقی دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے، ہم علمی مطالعے کو تین بنیادی جہتوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔ "کیوں” یہ جہت مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ "کیسے” اس میں ایک متحدہ اسلامی نظم کے قیام، اس کے مختلف سطحوں پر انضمام اور اصلاح کے عملی طریقوں پر تحقیق کی جاتی ہے۔ "کیا” یہ جہت جدید خلافت کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو واضح کرتی ہے اور اس کے قانونی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی پہلوؤں کا علمی و تحقیقی تجزیہ پیش کرتی ہے۔
اس سلسلۂ تحریر میں ہماری توجہ بنیادی طور پر "کیوں” کے پہلو پر مرکوز ہے، جس کے تحت ہم امتِ مسلمہ کے سیاسی اتحاد کی ضرورت پر پائے جانے والے عمومی اعتراضات، شکوک اور فکری اشکالات کا تجزیہ کریں گے۔ یہ وہ بین الاقوامی سطح کا اتحاد ہے جو بالآخر دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تقریباً دو ارب مسلمانوں کی اجتماعی حالت پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ عالمِ اسلام میں بسنے والے ان مسلمانوں میں سے ایک بڑی تعداد پچاس سے زائد مسلم ممالک میں منقسم ہے، جب کہ 22 سے 30 فیصد افراد غیر مسلم اکثریتی ممالک میں اقلیت کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں 2۔ قبل اس کے کہ ہم آئندہ مضامین میں "کیوں” کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بحث کریں، ضروری ہے کہ اس ابتدائی تحریر میں چند بنیادی تصورات—وحدت، یکجہتی، اور خلافت—کی وضاحت کی جائے۔ اسی سیاق میں، ہم "کیا” اور "کیسے” کے چند کلیدی نکات کا اجمالی جائزہ بھی پیش کریں گے ۔
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو: اتحاد اور یکجہتی کا حقیقی مفہوم
کسی بھی فکری و نظریاتی بحث میں الفاظ کی صحیح تفہیم بنیادی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اکثر اوقات الفاظ کی غیر واضح تعبیر اختلاف اور فکری انتشار کا سبب بنتی ہے۔ اسی لیے، سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہم "اتحاد” اور "یکجہتی” سے کیا مراد لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتحاد کا حکم دو پہلوؤں سے دیا ہے:
1 بطور ایک بنیادی دینی فریضہ—جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ ((اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو)) 3۔
2۔ بطور ایک ناگزیر شرط—جو امتِ مسلمہ کی بقاء، فلاح، عالمی نظم کی اصلاح، اور دینِ الٰہی کے قیام کے لیے لازم ہے 4۔
اتحاد اور یکجہتی کے مفہوم میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اتحاد عمومی طور پر ہم آہنگی اور یکسانیت کا تقاضا کرتا ہے، جب کہ یکجہتی ایک ایسا تصور ہے جو انفرادی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ اقدار اور مقاصد پر مبنی ربط اور وابستگی کو فروغ دیتا ہے۔ آج کے دور میں، جب انفرادیت پسندی کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہو چکی ہے، یکجہتی کو ایک مثبت قدر کے طور پر سراہا جاتا ہے، جب کہ اتحاد کو غیر ضروری یا ناقابلِ حصول تصور کیا جانے لگا ہے۔
یہ لسانی مغالطہ اس وقت رفع ہو سکتا ہے جب ہم اس اصولی حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ ہر اجتماعی وحدت بعض اختلافات کو قبول کرنے کی متقاضی ہوتی ہے، جبکہ بعض امور میں یکسانیت کو برقرار رکھنا ناگزیر ہوتا ہے۔ اختلاف اور یکسانیت کے مابین توازن قائم کیے بغیر کسی بھی اجتماعیت میں حقیقی اتحاد ممکن نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کن امور میں یکسانیت لازم ہے اور کن معاملات میں اختلاف کو قبول کیا جانا چاہیے، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے؟ کسی بھی مذہب، نظریے یا سماجی نظم کی اصل شناخت اسی توازن سے متعین ہوتی ہے جو وہ یکسانیت اور تنوع کے مابین برقرار رکھتا ہے۔ اگر یکسانیت پر حد سے زیادہ زور دیا جائے تو یہ فکری جمود اور سخت گیری کو جنم دیتا ہے، اور اگر اسے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جائے تو اجتماعی نظم انتشار اور بے سمتی کا شکار ہو جاتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ کسی بھی سماجی یا نظریاتی اجتماعیت میں اتحاد کی نوعیت اور شدت کا تعین اس کے مقاصد اور نصب العین کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کسی گروہ کا مقصد محض بقا اور ایک خوشگوار وقت گزارنا ہو، جیسے کسی تفریحی سفر کے شرکاء، تو ان کے لیے محدود سطح کا باہمی ربط ہی کافی ہوگا۔ تاہم، اگر کسی اجتماعیت کا مقصد مشترکہ عمل اور اجتماعی نصب العین کی تکمیل ہو، جیسے ایک فوجی دستہ یا ایک منظم ادارہ ، تو اس اجتماع کے افراد کے درمیان زیادہ گہرا ربط، فکری ہم آہنگی، اور سخت نظم و ضبط ناگزیر ہوگا۔
مختصراً، اسلامی وحدت کی ماہیت، اس کے عملی مظاہر، اور اس کی حدود و قیود محض انسانی اجتہاد پر مبنی نہیں، بلکہ الٰہی ہدایات کے تابع ہیں۔ یہ انسان کے دائرۂ اختیار میں نہیں کہ وہ ازخود یہ طے کرے کہ کہاں "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا” واجب ہے اور کہاں اختلاف کی گنجائش رکھی جا سکتی ہے، بلکہ یہ تمام امور اسلامی تعلیمات کے واضح اصولوں کے ذریعے متعین کیے گئے ہیں۔ اسلام ہمیں بنیادی عقائد اور عبادات میں کسی بھی قسم کی لچک کی اجازت نہیں دیتا، لیکن انسانی تنوع اور فکری اختلاف کو وسعتِ نظر کے ساتھ قبول کرنے کا درس دیتا ہے 5۔ بسا اوقات، وحدت کے استحکام کے لیے اختلافِ رائے کی گنجائش ضروری ہوتی ہے، جیسا کہ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں سکھاتی ہے 6۔
اسلام کی ہر عبادت اور شریعت کے ہر حکم کا مقصد صرف توحیدِ باری تعالیٰ پر ایمان کا اظہار اور اس میں پختگی پیدا کرنا نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے شعوری و اجتماعی رشتے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا بھی ہے۔ یہ اجتماعی وحدت مختلف جہات پر مشتمل ہے، جن میں سے ایک بنیادی پہلو "جذباتی یکجہتی ” ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جو ایک مومن کو اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ، اور شعائرِ اسلام سے گہری وابستگی عطا کرتا ہے۔ حقیقتِ ایمان براہِ راست اس سے جُڑی ہے کہ ایک مسلمان اہلِ ایمان کے لیے محبت اور وابستگی رکھے اور دشمنانِ ایمان کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرے 7۔ اسی طرح، اسلامی شریعت "سماجی یکجہتی” کے قیام پر بھی غیرمعمولی تاکید کرتی ہے۔ اس کا عملی اظہار نہ صرف نمازِ باجماعت، عیدین، حج اور دیگر اجتماعی عبادات میں ہوتا ہے، بلکہ نکاح، تجارت، سماجی تعلقات، تہنیت، تحائف کے تبادلے، اور دیگر معاشرتی امور میں بھی نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
اسلامی وحدت کا ایک اہم پہلو "معاشی یکجہتی” بھی ہے، جو ایک ایسے عادلانہ اور متوازن اقتصادی نظام کا تقاضا کرتی ہے جو ایثار، فلاحِ امت، اور عدل و احسان جیسے بنیادی اصولوں پر استوار ہو۔ اسلام ایک ایسی معیشت کے قیام کا حکم دیتا ہے جو سود ، ناپ تول میں کمی، مالی بدعنوانی، اور استحصالی تجارتی حربوں سے مکمل طور پر پاک ہو۔ تاہم، اسلامی وحدت کا سب سے بنیادی اور مؤثر پہلو "سیاسی و عملی وحدت” ہے۔ یہ وحدت اس امر کی متقاضی ہے کہ مسلمان بحیثیتِ امتِ واحدہ پوری انسانیت کے سامنے حق کی گواہی دیں، احکامِ شریعت کا نفاذ کریں، اہلِ ایمان کے دینی، سماجی اور تہذیبی تشخص کا تحفظ کریں، اور اس مقصد کے حصول کے لیے جہاد اور عملی جدوجہد میں مصروف رہیں۔ درحقیقت، اسلامی وحدت کے یہ تمام عناصر ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں—اگر ان میں سے کسی ایک پہلو میں ضعف آجائے تو باقی تمام اجزا بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم ان دائروں کے بدلتے ہوئے مفاہیم اور ان کے باہمی روابط کو درست تناظر میں سمجھیں۔ ماضی میں معاشی نظام کوسماجی ڈھانچے کا محض ایک جزو تصور کیا جاتا تھا، لیکن سرمایہ داریانہ نظام کے عروج کے بعد معیشت نے غیر معمولی حیثیت حاصل کر لی ہے اور سیاسی نظام کے ساتھ مل کر دیگر تمام سماجی شعبوں پر غالب آ چکی ہے۔ اسی طرح، سیاسی نظام کا مفہوم بھی مختلف ادوار میں بدلتا رہا ہے۔ سب سے نمایاں تبدیلی جدید دور میں واقع ہوئی، جب سیاست نے معیشت، معاشرت، مذہب، اور علم و فکر سمیت زندگی کے تقریباً تمام پہلوؤں پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔
قدیم ادوار میں حکمرانوں اور اشرافیہ کے اختیارات ایک متعین حد تک محدود رہتے تھے، اور ان کا براہِ راست اثر تمام معاشرتی پہلوؤں پر نہیں پڑتا تھا۔ قرونِ وسطیٰ کے اسلامی معاشروں میں، حکمران—خواہ وہ سلطان کہلاتے یا ملک—نہ تو خود قانون سازی کرتے تھے اور نہ ہی اس کی تشریح ان کے دائرہ اختیار میں آتی تھی۔ بلکہ ان کا بنیادی فریضہ صرف شریعت کے نفاذ اور امن و امان کے قیام تک محدود تھا۔ یہ حکمران عوام کے عقائد، اخلاقیات، اور فکری رجحانات پر کوئی گہرا اثر نہیں رکھتے تھے، کیونکہ مسلم معاشرہ بنیادی طور پر شریعت کے اصولوں کے تحت زندگی بسر کرتا تھا۔ ان اصولوں کی وضاحت اور تعبیر علماء، صوفیائے کرام، اور مقامی روایات کے ذریعے کی جاتی تھی۔
اسلامی تمدن میں نسلی امتیاز کو کبھی بھی کوئی بنیادی حیثیت حاصل نہیں رہی، برخلاف قرونِ وسطیٰ کے یورپ کے، جہاں نسل اور قومیت فرد کی شناخت کے مرکزی اجزا سمجھے جاتے تھے 8۔ یہی وجہ تھی کہ مسلم معاشرے میں سیاست کا دائرہ نسبتاً محدود تھا، اور حکمران کا کردار عموماً سرحدوں کے دفاع اور اسلامی قوانین کی روشنی میں داخلی استحکام کو یقینی بنانے تک محدود تھا۔ اسلامی معاشرے دینی، قانونی، روحانی، اور معاشی سطح پر آپس میں گہری وابستگی رکھتے تھے، اور عمومی طور پر سیاسی وحدت کا فقدان کسی بڑے بحران کا سبب نہیں بنتا تھا۔ تاہم، ایسے نازک تاریخی ادوار میں جب امت کو بیرونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا—جیسے بازنطینی حملے، منگول یلغار، اور صلیبی جنگیں—اس وقت سیاسی انتشار کے منفی اثرات شدت اختیار کر جاتے تھے۔ ان بحرانی حالات میں امت کو سخت آزمائشوں سے ضرور گزرنا پڑا، لیکن اسلامی تمدن کی مضبوط دینی اساس اور تہذیبی قوت نے ہمیشہ احیاء اور تجدید کی راہ ہموار کی۔ یہی فکری و تہذیبی توانائی امت کو بار بار سنبھلنے اور نئے امکانات تلاش کرنے میں معاون ثابت ہوتی رہی، جس کے نتیجے میں اسلامی دنیا مختلف آزمائشوں کے باوجود ایک دیرپا اور متحرک تمدنی و فکری قوت کے طور پر قائم رہی۔
مختصراً، اسلامی دنیا کے وسیع جغرافیے اور اس دور میں سفر و مواصلات کی سست روی کے پیش نظر ، سیاسی افتراق کے اثرات آج کے دور کی نسبت کم محسوس کیے جاتے تھے۔ تاہم، اس حقیقت کے باوجود، علمائے اسلام نے خلافت کے قیام کو کبھی ایک اتفاقی امر یا محض سیاسی تعیش نہیں سمجھا، بلکہ اسے دین کا ایک ناگزیر تقاضا قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت کی ضرورت کو ہمیشہ ایک اصولی اور شرعی فریضہ تصور کیا گیا، جس پر صحابہ کرام کے اجماع نے مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ اس اجماعی موقف نے خلافت کو محض ایک تاریخی مظہر کے بجائے ایک شرعی، اجتماعی، اور تمدنی ذمہ داری کے طور پر متعین کیا ، جس کا ترک کر دینا امت کے لیے کسی بھی دور میں قابلِ قبول نہ تھا۔
خلافت ہی کیوں؟ کیونکہ الفاظ معنی رکھتے ہیں
اگر امیٹکسس کا بنیادی نصب العین امتِ مسلمہ کی نشاۃِ ثانیہ ہے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ "خلافت” جیسی اصطلاح پر اصرار کیوں کیا جائے؟ کیا یہ زیادہ مناسب نہ ہوگا کہ ہم "مسلم وحدت” یا "اسلامی حکمرانی” جیسے معتدل اور کم متنازعہ الفاظ استعمال کریں، جو کسی خاص حلقے میں بے جا مخالفت یا غیر ضروری تنازعے کو جنم نہ دیں؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ "خلافت” کی اصطلاح کو بعض شدت پسند گروہوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے، جس کے باعث کچھ حلقوں میں اس کا تذکرہ شبہات پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے میں، کیا کسی غیر متنازعہ متبادل کا انتخاب زیادہ دانشمندانہ اور حکمتِ عملی پر مبنی نہ ہوگا؟ہم اپنی دینی اصطلاحات اور اسلامی ورثے پر کسی استعماری بیانیے یا ردِعمل کی نفسیات کا تسلط قبول نہیں کر سکتے۔ اگر ہم اپنی بنیادی اسلامی اصطلاحات، تصورات، اور شعائر پر سمجھوتہ کر لیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اپنی فکری بنیادوں سے کٹ رہے ہیں اور وحیِ الٰہی سے اپنے تعلق کو کمزور کر رہے ہیں۔
یہ حقیقت بھی نہایت اہم ہے کہ خلافت یا امامت محض ایک سیاسی اصطلاح نہیں، بلکہ دو بنیادی تسلسلوں کی علامت ہے۔ ایک تو یہ نبی اکرم ﷺ کے مشن کا تسلسل ہےاور دوسرا یہ امت کے ہر فرد کے لیے ایک ربط کی حیثیت رکھتی ہے ۔جدید دور کی اصطلاح میں یہ محض ایک حکومتی ڈھانچہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی شناخت اور اس کے روحانی و تہذیبی تسلسل کا سب سے نمایاں مظہر ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی اور تصور، اصطلاح، یا علامت ایسی نہیں جو قرآنی اصول، نبوی منہج، اور امت کے تہذیبی و دینی تسلسل کو اس جامعیت کے ساتھ یکجا کرتی ہو۔ لہٰذا، یہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ خلافت کے حقیقی تصور کو ازسرِنو اجاگر کیا جائے، تاکہ اس اصطلاح کو دہشت گرد گروہوں کے غلط استعمال اور استعماری طاقتوں کی جانب سے مسخ شدہ تشہیر کے خلاف ایک مضبوط اور مستند بیانیہ فراہم کیا جا سکے۔
اب سوال یہ بھی ہے کہ خلافت کیا چیزہے اور خلیفہ کون؟ قرآنِ کریم میں لفظ "خلیفہ” (یعنی جانشین، نائب، یا امانت دار) دو معانی میں بیان ہوا ہے، اور ہر ایک معنی ایک الگ علمی و فکری تناظر رکھتا ہے۔ جدید دور میں ان دونوں تصورات کو باہم خلط ملط کر دیا گیا ہے، حالانکہ ان کے معانی اور دائرۂ کار یکسر مختلف ہیں۔ سورۃ ص (38:26) میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤدؑ کو خلافت اور اقتدار عطا فرمایا۔ تاہم، قرآنِ کریم میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ حضرت داؤدؑ کس کے جانشین تھے، اور اس حوالے سے مفسرین کی دو آراء سامنے آتی ہیں:
پہلی رائے کے مطابق یہ خلافت نبوت اور سیاسی اقتدار کے تسلسل کی علامت ہے، جو حضرت موسیٰؑ اور دیگر انبیائے کرام کو بھی عطا کی گئی تھی۔ اس تناظر میں "خلیفہ” کا مفہوم "جانشین” کے طور پر لیا جاتا ہے ۔ دوسری رائے کے مطابق حضرت داؤدؑ اللہ کے خلیفہ ہیں۔ تاہم، اس تعبیر پر کئی جلیل القدر علماء نے تحفظات کا اظہار کیا، کیونکہ یہ مفہوم بظاہر اللہ کی نیابت کے معنی میں لے جانے کا احتمال رکھتا ہے، جو اسلامی عقیدے کے مطابق ناقابلِ تصور ہے۔ "البتہ، بعض دیگر علماء نے اس رائے کو اس شرط کے ساتھ قبول کیا کہ اس سے مراد اللہ کے احکام کی تنفیذ میں انسان کی بطور خلیفہ، امین، یا نائب ذمہ داری ہے، اور اس میں اللہ کے کسی اختیار میں شراکت کا کوئی پہلو شامل نہیں 9۔ یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ اس آیت میں "خلیفہ” کا حقیقی مفہوم ایک ایسا سیاسی اقتدار ہے، جو وحیِ الٰہی کے تابع ہو اور انبیاء کی سنت پر استوار ہو۔ یہی وہ تعبیر ہے جس کے تحت حضرت ابوبکر صدیقؓ کو "خلیفۃ رسول اللہ ﷺ” کہا گیا، اور بعد میں آنے والے تمام مسلم حکمرانوں کے لیے "خلیفہ” کا لقب اسی بنیادی تصور کی روشنی میں اختیار کیا گیا۔
قرآنِ کریم میں "خلیفہ” کی اصطلاح ایک اور اہم مقام پر سورۂ البقرہ میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے واقعے میں استعمال ہوئی ہے (2:30-39) جہاں یہ ان کی اور ان کی نسل کو سونپے گئے اختیار اور ذمہ داری کی نشان دہی کرتی ہے۔ مفسرین اس کے دو بنیادی مفاہیم بیان کرتے ہیں، بعض کے نزدیک یہ خطاب پوری اولادِ آدم کے لیے ہے، جبکہ دیگر علماء کی رائے میں یہ شرفِ خلافت صرف اہلِ ایمان کے لیے خاص ہے، کیونکہ وہی اللہ کے دیے گئے علم، بیان، اور عبادت کے اختیار کو صحیح طور پر بروئے کار لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں 10۔
گزشتہ صدی میں جب مسلم احیائی تحریکوں نے "خلافت” کے تصور کو خاص طور پر نمایاں کیا۔ اس اصطلاح کو اس لیے اختیار کیا گیا کہ انسانی ارادے، اختیار اور ذمہ داری کو اُجاگر کیا جا سکے، اور شاید اس لیے بھی کہ یہ "عبد” یعنی بندگی کے تصور کی تکمیل کر دے۔ "عبد” کا مفہوم اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندگی، اطاعت اور تعظیم پر مبنی شعوری تعلق کو بیان کرتا ہے، جبکہ "خلیفہ” کا تصور انسانی ذمہ داری اور اختیار کو نمایاں کرتا ہے 11۔
البتہ یہ بات ہمیشہ سے مسلم رہی ہے کہ قرآن، سنت اور اسلامی روایت میں بندگی (عبد، عبادت، عبودیت) ہی اللہ اور انسان کے تعلق کی بنیادی اساس ہے 12۔
اگر انسان کے "خلیفہ” ہونے کے تصور کو اس کے درست دینی اور فکری پس منظر میں سمجھا جائے تو یہ ایک مفید وضاحت بن سکتی ہے۔ لیکن اگر اس تعبیر کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ اس کے نتیجے میں خلافت کے باقاعدہ سیاسی اور شرعی ادارے کی اہمیت کم ہو جائے، یا عبدیت جیسے بنیادی قرآنی تصور کی جگہ لے لی جائے، تو یہ فکری اور دینی اعتبار سے ایک شدید انحراف ہوگا، جو اسلامی روایت کی درست ترجمانی کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں خلافت کا سیاسی مفہوم ایک مستند اور اجماعی حقیقت کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔ اس کے برعکس، تمام انسانوں یا تمام مسلمانوں کو محض ایک تجریدی معنی میں "خلیفہ” قرار دینا، اور اس تعبیر کو سیاسی و شرعی خلافت کے اصل، واضح اور متعین تصور پر مقدم کرنا، علمی دیانت اور قرآنی منہج سے انحراف کے مترادف ہوگا 13۔
خلافتِ نبوی کا اُمّتی تصور
آئندہ قائم ہونے والی خلافت کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو امت کے سامنے جوابدہ ہو اور جس کی بنیاد امت کے ہر فرد، ہر برادری اور ہر خطے کی ایمانی استقامت، علمی برتری، اور معاشی خودکفالت پر استوار ہو۔ اگر،جیسا کہ مالک بن نبی نے کہا تھا، امت استعمار کے شکنجے میں آنے سے پہلے ہی استعمار کی راہ ہموار کر چکی تھی، تو امیٹکسس کا مقصد یہ ہے کہ امت اس درجے پر پہنچے کہ وہ خود اپنی حکمرانی قائم کر سکے اور اسے برقرار رکھ سکے 14۔ آج امت کو اس کی اشد ضرورت ہے، کہ قیادت کی بنیاد صلاحیت، دیانت اور عدل پر رکھی جائے، نہ کہ جبر، ظلم اور اختلافِ رائے کو دبانے کی طاقت پر، اور اسلام کا تقاضا بھی یہی ہے۔ امتِ مسلمہ کی ثقافتی اور فکری تنوع اس کی کمزوری نہیں، بلکہ سب سے قیمتی اثاثہ ہے، اور خلافت کا صحیح تصور اسی وقت عملی شکل اختیار کرے گا جب یہ تنوع ایک نظم و ضبط کے تحت یکجا ہوگا۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصلاحِ امت سے پہلے براہِ راست خلافت کیوں نہ قائم کی جائے؟ کیوں نہ سیاسی قوت کے قیام پر فوری توجہ دی جائے اور خلافت کو ایک مرکزی طاقت کے طور پر متعارف کرایا جائے جو تمام معاملات خودبخود درست کر دے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں امت ہی وہ بنیادی اکائی ہے جسے براہِ راست وحی کا مخاطب بنایا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں بار بار﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ ((اے ایمان والو!) ) کہہ کر پوری امت کو اجتماعی طور پر مخاطب کیا گیا ہے، نہ کہ کسی فردِ واحد یا کسی مخصوص حکمران کو۔ اسی طرح، نبی کریم (ﷺ ) کی بعثت کا بنیادی مقصد بھی امت کو ایک فکری و عملی وحدت میں پرو دینا تھا، نہ کہ کسی مخصوص خاندان یا گروہ کو اقتدار سونپنا۔ تاریخی اور منطقی طور پر بھی، پہلے امت تشکیل پاتی ہے، پھر وہ اپنے اجتماعی نظم کے تحت قیادت منتخب کرتی ہے، جو اس کے حقوق کا تحفظ کرے اور اس کے مشن کو آگے بڑھائے، بالفاظِ دیگر، اسلام کا مرکز و محور امت ہے 15۔
امیٹکسس محض خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے قیام کی تمہید نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت فکری و عملی تحریک ہے، جو امت کے اجتماعی شعور کو بیدار کرتی، خودانحصاری کو فروغ دیتی، اور قیادت کے احتساب کی راہ ہموار کرتی ہے۔ حقیقی نبوی خلافت کی اساس امت کی خدمت پر ہے، نہ کہ کسی فردِ واحد یا کسی مخصوص طبقے کے جابرانہ تسلط پر۔ اس کے قیام اور استحکام کی شرط یہ ہے کہ امت کے ہر فرد، ہر طبقے، اور ہر خطے کے مسلمان اس کے لیے فکری اور عملی سطح پر خود کو تیار کریں اور اسے ایک اجتماعی نصب العین کے طور پر اپنائیں، اور بعد ازاں اس کے احتساب کو بھی یقینی بنائے۔
یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ خلافت کب اور کس طریقے سے قائم ہوگی، لیکن امیٹکسس درحقیقت اسی فکری و عملی جدوجہد کا نام ہے جو اس کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔ ہم، برعکس اُن لوگوں کے جو خلافت کو محض چند انتقامی مسلح گروہوں کی کارروائیوں سے جوڑتے ہیں، یہ یقین رکھتے ہیں کہ خلافت ایک وسیع، ہمہ گیر، اور حقیقی اسلامی تمدن کا نام ہے۔ یہ ایک ایسا متنوع، ترقی یافتہ اور دانش افروز تہذیبی نظام ہے جو اللہ کی حاکمیت کو محور بناتے ہوئے انسانی فطرت، عدل و انصاف، اور سماجی ہم آہنگی کے اعلیٰ اصولوں کو بھی اپنی بنیاد بناتا ہے۔ یہ ایک ایسی تہذیب ہے جو وحیِ الٰہی کی اساس پر قائم ہوتی ہے، ایک ایسا فکری نظام جو انسانی علم، فکر، اور عملی زندگی کو بامقصد سمت عطا کرتا ہے۔ اس تمدن کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ امت کے اندرونی تنوع اور تاریخی تجربات کو سموئے ہوئے ہے، اور ساتھ ہی ساتھ انسانی دانش اور اجتماعی حکمت سے استفادے کے دروازے بھی کھلے رکھتا ہے۔
یہ تمام مقاصد، اصول اور اخلاقی اقدار محض کسی سیاسی وحدت کے قیام کا ذریعہ نہیں، بلکہ درحقیقت یہ وحدت خود ان اعلیٰ اہداف کے حصول کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ یہ آپس میں جڑے ہوئے تصورات ہیں جو ایک دوسرے کی تقویت کا سبب بنتے ہیں اور ایک جامع اسلامی تمدن کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہیں۔ ہر اسلامی نصاب میں امیٹکسس کو ایک مستقل موضوع کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے، اور اسی طرح، ہر جدید فقہی تصنیف میں امت کے اجتماعی امور پر ایک مستقل باب شامل ہونا چاہیے۔ گویا، اگر کل ہی شریعت کے اصولوں پر مبنی کوئی جائز خلافت قائم ہو جائے، تب بھی امتّی شعور، اور عملی نظم کی ضرورت باقی رہے گی، تاکہ خلافت کو استقامت اور عملی راہنمائی فراہم کی جا سکے، اور احتسابی نظام مضبوطی سے قائم اور مؤثر طور پر نافذ کیا جا سکے۔
وحدتِ امت کے لیے فکری ہم آہنگی کی اہمیت
حقیقی اسلامی وحدت اسی وقت ممکن ہے جب امت کے تمام طبقات میں اس کا شعور بیدار ہو، اور وہ ایسے اسلامی اداروں کے قیام کا مطالبہ کریں جو شرعی اصولوں پر استوار، جوابدہ، اور امت کے اجتماعی نظم و استحکام کے ضامن ہوں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ امت کے مختلف فکری و جغرافیائی پس منظر سے تعلق رکھنے والی علمی و روحانی قیادت کو یکجا کیا جائے، تاکہ وہ امت کے فکری رجحانات، تہذیبی تنوع، اور عملی تقاضوں کی حقیقی معنوں میں نمائندگی کر سکے، اور امت کے افراد کو علمی و عملی شرکت کے مؤثر مواقع فراہم کرے۔ اسی ہمہ گیر فکری و عملی اشتراک کو میں "امت کی فکری ہم آہنگی” کہوں گا، جس کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک جامع فکری و نظریاتی فریم ورک میں باہمی مکالمہ کر سکیں، اپنے مسائل، احساسات، اور ترجیحات پر آزادانہ تبادلہ خیال کر سکیں، اور یہ تمام سرگرمیاں امت کے اپنے اصولوں اور اقدار کے تحت انجام پائیں۔
امت کی فکری وحدت کی ایک محدود مگر قابلِ ذکر مثال 2011ء کے عرب بہار کے دوران سامنے آئی، جب تیونس میں ایک بظاہر معمولی واقعے نے بیس سے زائد عرب ممالک میں عوامی بیداری کی زبردست لہر پیدا کر دی۔ اس وسیع تر تحریک کے پھیلاؤ میں ذرائع ابلاغ کا کردار نمایاں رہا، جس نے عرب و اسلامی دنیا میں ایک مشترکہ عوامی فضا پیدا کر دی جو عمان سے لے کر مراکش تک پھیلی ہوئی تھی۔ اگرچہ یہ تحریک مکمل طور پر امت کے تصور پر مبنی نہ تھی اور نہ ہی کسی واضح فکری ڈھانچے کے تحت منظم کی گئی تھی، مگر اس میں امت کے لیے غور و فکر کے کئی نکات اور قابلِ استفادہ اسباق موجود ہیں، جو امت کی فکری بیداری اور اسلامی احیا کی راہ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔
امتِ مسلمہ کی فکری وحدت اور عملی یکجہتی کی سب سے روشن دلیل، اور اس کے بالمقابل اُس کی امت دشمن قیادت کے مہلک خطرے کی سب سے نمایاں شہادت، غزہ کی موجودہ مزاحمت سے بڑھ کر کوئی اور نہیں۔ اللہ تعالیٰ مسجد اقصیٰ اور اہلِ اقصی کو آزادی عطا فرمائے اور امت کو اس کے فرائض کی ادائیگی کے لیے قوت اور بصیرت عطا کرے۔ غزہ نے امت کے اجتماعی شعور اور اس کی امیدوں کو نئی زندگی عطا کر دی ہے۔ آج غزہ ایک فرقان بن چکا ہے، جو اس حقیقت کو نمایاں کر رہا ہے کہ امت کا غالب اکثریتی طبقہ اپنی اسلامی شناخت اور اجتماعی وحدت کے شعور سے جڑا ہوا ہے، جبکہ وہ حکمران طبقہ، جو امت کے اجتماعی موقف سے منحرف ہے، دشمنوں سے ساز باز کر کے اپنی ہی قوم کی نسل کشی میں شریک ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جو استعمار نواز قوتوں سے تعلقات معمول پر لانے کے عوض، قرآنی اصطلاح میں "تھوڑی سی قیمت” پر اپنی آخرت فروخت کر چکا ہے۔
امت کی فکری وحدت کا تقاضا ہے کہ دنیا بھر میں جاری احیائی تحریکوں، اسلامی مزاحمتی جدوجہدوں، اور فکری و عملی اصلاحی اقدامات کو نہ صرف مکمل شعور کے ساتھ پہچانا جائے، بلکہ ان کے مابین ہم آہنگی اور ربط پیدا کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ مسلم دنیا میں موجود فکری و نظریاتی جزائر (Silos) کو دریافت کیا جائے اور ان کے درمیان ایک مربوط فکری و عملی ربط استوار کیا جائے۔ مزید برآں، فکری اختلافات کی حقیقی وجوہات کو سمجھنا اور ان متضاد فکری رجحانات کے درمیان ایسے علمی و فکری مجامع تشکیل دینا ضروری ہے جہاں مکالمہ، مفاہمت، اور اختلافات کے تعمیری حل کے امکانات پیدا کیے جا سکیں۔ یہ عمل گزشتہ ادوار کے جلیل القدر علماء، مجددین، اور قائدین کے علمی ورثے کے احیا کا بھی متقاضی ہے۔ اس میں نہ صرف وہ شخصیات شامل ہیں جو تاریخ میں نمایاں حیثیت حاصل کر چکی ہیں، بلکہ وہ مفکرین اور مصلحین بھی شامل ہیں جو کسی وجہ سے نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔ ان کے افکار، نظریاتی تحریکات، اور اصلاحی کوششوں کا تنقیدی جائزہ لینا اور ان سے رہنمائی حاصل کرنا امت کے فکری و تہذیبی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
سب سے بڑھ کر، اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ایسے ابھرتے ہوئے رہنماؤں، تخلیقی صلاحیتوں کے حامل مفکرین، اور نظر انداز کیے گئے عبقری اذہان کی نشاندہی کی جائے، جو موجودہ دور میں امت کے اندر نبوی بصیرت کے ساتھ فکری و عملی تحرک پیدا کر سکیں۔ ایسے افراد کو سامنے لانا اور انہیں ضروری وسائل اور مواقع فراہم کرنا جو ان کی فکری اور عملی توانائیوں کو امت کے اجتماعی نصب العین کی طرف مرکوز کر سکیں، اسلامی وحدت کے استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ان شاء اللہ، آئندہ کسی مضمون میں ہم اس موضوع پر تفصیل سے گفتگو کریں گے کہ کس طرح "امت کی فکری ہم آہنگی” مختلف شعبوں میں اتحاد امت کی راہ ہموار کرتی ہے۔
امت کی وحدت پر اعتراضات: ایک متوقع بحث
پچھلی مباحث میں ہم نے ‘کیا’ اور ‘کیسے’ کے نکات پر غور کیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ‘کیوں’ کے سوال پر توجہ دیں: آخر مسلم امہ اور عالمی برادری کے لیے امیٹکسس کا قیام کیوں ناگزیر ہے؟ اس کا جواب نہایت واضح اور غیر مبہم ہے، کیونکہ امت کا متحد ہونا اور ایک عادل و صالح قیادت کے تحت منظم ہونا، تمام مسلم مکاتبِ فکر کے اجماعی فیصلے کے مطابق، ایک اسلامی فریضہ ہے۔وحدت اور صالح قیادت محض ایک اختیاری امر نہیں، بلکہ یہ اسلامی شریعت کا بنیادی تقاضا بھی ہے اور امت کے وجود و وقار کے تحفظ کا ذریعہ بھی۔ اسلامی عقائد کی اصطلاح میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں تقاضے وحی اور عقل، دونوں کے تحت لازم ہیں، اور اس ترتیب کے ساتھ کہ وحی کو اولیت حاصل ہے۔
ایک ایسی مستحکم اور بااختیار امت، جو مؤثر قیادت اور خود ارادیت کی حامل ہو، وہی اللہ کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے ، شریعت کے احکامات کے نفاذ، اور پوری انسانیت کے سامنے حق کی گواہی دینے کا فریضہ ادا کر سکتی ہے۔ یہی وہ قیادت ہے جو آج کے دور کے فکری انحرافات، مادیّت پرستی، اور استبدادی حکمرانیوں کے مقابلے میں انسانیت کو ایک مضبوط اور دیرپا متبادل فراہم کر سکتی ہے۔ اس کے بغیر امت نہ تو اپنے الٰہی منصب کو پورا کر سکتی ہے اور نہ ہی دنیا کو حقیقی فلاح اور عدل و حکمت پر مبنی نظام فراہم کر سکتی ہے۔
امت میں ایسے افراد کم ہی ہوں گے جو وحدتِ امت کی بنیادی ضرورت سے انکار کر سکیں۔ لیکن موجودہ دور میں، جب ہمارے فکری شعور، زبان، علمی بیانیے اور یہاں تک کہ خوابوں تک پر اجنبی نظریات کا غلبہ ہے، بہت سے اذہان شکوک و شبہات میں مبتلا ہو چکے ہیں۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ امت زوال اور عملی صلاحیت کی کمی میں مبتلا ہے، وہ نہ کوئی مؤثر منصوبہ بندی کر سکتی ہے اور نہ ہی کسی ٹھوس عمل کو بروئے کار لا سکتی ہے ۔ بعض کے نزدیک ہم اس قدر منتشر ہو چکے ہیں کہ دشمن بآسانی ہمیں یکے بعد دیگرے نشانہ بناتے رہیں گے۔
ایک اور نقطۂ نظر یہ ہے کہ مسلم دنیا کو خاص طور پر انتہا پسندی اور جابرانہ طرزِ حکمرانی جیسے مسائل کا سامنا ہے، اور جب تک اسلام کی کسی واحد مستند تعبیر پر اتفاق نہ ہو، اتحاد کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ بعض حلقے یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ ہمیں بس انفرادی نیکی اور روحانی اصلاح تک محدود رہنا چاہیے، کیونکہ نظامی سطح پر اصلاح کی جدوجہد سراسر بے سود ہے، اور وحدتِ امت کا تصور ایک خیالی تصور سے زیادہ کچھ نہیں۔مزید برآں، ہماری جدید تاریخی تفہیم جو مغربی سیکولر بیانیے کے زیرِ اثر پروان چڑھی ہے، اس مایوسی کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر گزشتہ ہزار سال میں تمام مسلمان کسی ایک عادل قیادت کے تحت متحد نہ ہو سکے، تو اب یہ اتحاد کیونکر ممکن ہوگا؟ کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ موجودہ قومی ریاستوں (nation-states) کی حکمرانی ایک ناقابلِ تبدیل حقیقت بن چکی ہے، اور کسی اسلامی وحدت کا تصور محض ایک خواب ہے جس کا عملی نفاذ ناممکن ہے۔
یہ تمام فکری اعتراضات اور ابہام بعض اوقات مخلصانہ خدشات کی صورت میں ابھرتے ہیں، لیکن ان کے مستند، مدلل اور معقول جوابات فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلۂ مقالات میں ہم انہی نکات کا تفصیلی علمی تجزیہ پیش کریں گے اور جامع تجزیاتی تحریروں کے ذریعے ان شکوک و شبہات کا علمی، تاریخی اور فکری جائزہ لیں گے۔

اوامیر انجم
اووامر انجم امیٹکسس انسٹیٹیوٹ میں چیف ریسرچ آفیسر ہیں۔ وہ 2019 میں یقین انسٹیٹیوٹ میں شائع ہونے والے مضمون “خلافت کون چاہتا ہے؟” کے مصنف ہیں، جو اس منصوبے کے لیے تحریک کا باعث بنا۔ وہ یونیورسٹی آف ٹولیڈو کے شعبہ فلسفہ و مذہبیات میں اسلامیات کے پروفیسر اور چیئر ہولڈر ہیں، *امریکن جرنل آف اسلام اینڈ سوسائٹی* (جسے پہلے *امریکن جرنل آف اسلامک سوشل سائنسز* کہا جاتا تھا) کے شریک مدیر ہیں، اور حال ہی میں یقین انسٹیٹیوٹ کے ریویو بورڈ کے ایڈیٹر ان چیف مقرر ہوئے ہیں۔
ان کی تحقیق کے شعبہ جات میں اسلامی تاریخ، الٰہیات، سیاسی نظریہ، اور عمومی تاریخ شامل ہیں۔ ان کی تصانیف میں اسلامی فکر میں سیاست، قانون اور برادری: تیمیاں لمحہ (کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2012) اور الہی متلاشیوں کے درجات: ابن القیم کا ترجمہ مدارج السالکین (بریل، 2020) شامل ہیں، جو چار جلدوں پر مشتمل سیریز کی ابتدائی دو جلدیں ہیں۔
ان کی منتخب تصانیف یہاں دستیاب ہیں:
https://utoledo.academia.edu/OvamirAnjum
نوٹس
- متعدد مطالعے اسی موقف کی تائید وتوثیق کرتے ہیں، جیسا کہ درج ذیل مستند حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے۔
Mujtaba Ali Isani, Muslim Public Opinion Toward the International Order: Support for International and Regional Actors (Cham: Palgrave-MacMillan, 2019), 25; and Mujtaba Ali Isani, Daniel Silverman, and Joseph J Kaminski, “The Other Legitimate Game in Town? Understanding Public Support for the Caliphate in the Muslim World,” American Journal of Islam and Society 41, no. 2 (forthcoming, 2024). - مسلم اقلیتوں کی صورتحال پر ایک جامع تجزیے کے لیے مزید تفصیل درج ذیل مستند ماخذ میں ملاحظہ فرمائیں۔ Yahya Birt, “Ummah at the Margins: The Past, Present and Future of Muslim Minorities,” Ayaan Institute, Oct 10, 2022, https://ayaaninstitute.com/research/publications/ummah-at-the-margins-the-past-present-and-future-of-muslim-minorities/
- القرآن، آل عمران: 103
- القرآن، الانفال:46؛ آل عمران: 152
- الحجرات: 13، ((لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے))۔
- متعدد احادیث مبارکہ اس مضمون پر دلالت کرتی ہیں۔ ایک حدیث میں ایسے مسلمانوں کے لیے اجر کی بشارت دی گئی ہے جو حق پر ہونے کے باوجود سخت کلامی اور بے جا بحث و مباحثہ (مراء) سے اجتناب کرتے ہیں (سنن ابی داؤد، حدیث: 4800)۔ ایک اور حدیث میں قرآن کریم کے بارے میں غیر ضروری مناظرانہ بحث سے گریز کرنے کی تاکید کی گئی ہے (مسند احمد، حدیث: 17821)۔
- مثال کے طور پر، سورۃ الفتح، آیت 29، ((محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں))۔
- Michael Cook, Ancient Religion, Modern Politics: The Islamic Case in Comparative Perspective (Princeton University Press, 2014),
بابِ اول میں اسلامی دنیا میں نسلی تشخص کے کردار پر ایک گہرے اور تحقیقی تجزیے کو پیش کیا گیا ہے، جو اس موضوع کے مختلف پہلوؤں کو علمی و فکری اسلوب میں نمایاں کرتا ہے۔
- امام فخر الدین رازی نے "خلیفة” کے ان دونوں مفاہیم کا ذکر کیا ہے، تاہم دوسرے معنی کے سلسلے میں ایک اہم شرط بھی بیان کی ہے (https://tafsir.app/alrazi/38/26) دوسری جانب، کئی جلیل القدر علماء، بالخصوص علامہ ابن تیمیہ، نے اس دوسرے مفہوم کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ امام ابن جریر طبری نے صرف پہلے مفہوم کو اختیار کیا ہے، جب کہ قاضی ابن عطیہ کا مؤقف یہ ہے کہ "خلیفة اللہ” کا اطلاق صرف انبیاء پر ہو سکتا ہے، اور اگر غیر انبیاء کے لیے یہ تعبیر استعمال کی جائے تو اس سے مراد صرف وہ حکمران ہوں گے جو اپنےسابقین کے اقتدار کو برقرار رکھتے ہیں (https://tafsir.app/ibn-atiyah/38/29) ، جدید علمی مباحث اور اس موضوع پر ہونے والی تحقیق: Patricia Crone and Martin Hind’s claim in God’s Caliph میں پیش کردہ مؤقف کے تنقیدی جائزے کے لیے دیکھیے، Anjum, Politics, Law, and Community in Islam: The Taymiyyan Moment (Cambridge University Press, 2012), 42-48.
- امام طبری نے ابتدائی اسلامی صدیوں میں "خلافت” کے متعدد معانی ذکر کیے ہیں، تاہم ان میں سے کسی بھی تعبیر میں خلافت کو عمومی انسانی نیابتِ الٰہی یا اللہ تعالیٰ کے نائب السلطنت ہونے کے مفہوم میں نہیں لیا گیا (https://tafsir.app/tabari/2/30) ان کے نزدیک "خلیفة” یا تو حضرت آدم علیہ السلام کے لیے مخصوص ہے، جو اللہ کے برگزیدہ نبی ہونے کے ناطے زمین میں ایک ذمہ دار منصب پر فائز کیے گئے تھے (یہی مفہوم سورۃ ص کی متعلقہ آیت کے مطابق ہوگا)، یا پھر اس سے تمام بنی آدم مراد ہیں، تاہم اس دوسرے مفہوم میں خلافت کو سیاسی اقتدار یا حکومتی نظم و نسق کے معنی میں نہیں لیا گیا۔اس مفہوم میں خلافت سے مراد صرف یہ طبیعی حقیقت ہے کہ انسانی نسلیں ایک کے بعد دوسری زمین پر آتی رہی ہیں، یا مجموعی طور پر نوعِ انسان نے زمین پر کسی سابقہ مخلوق کی جگہ سنبھالی ہے۔ امام قرطبی کی تفسیر میں بھی یہی دو تعبیرات بیان کی گئی ہیں۔ بعد کے مفسرین ان دونوں معانی کو مختلف زاویوں سے یکجا کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے کہ "خلافت” محض ایک حکومتی یا سیاسی تصور نہیں، بلکہ اس کا دائرہ ایک روحانی و اخلاقی ذمہ داری تک بھی وسیع ہے، جو تمام مؤمنین کے لیے بحیثیتِ امانت عائد ہوتی ہے۔ یہ تمام تفسیری معانی اس شرط کے ساتھ معتبر سمجھے گئے ہیں کہ ان کی تعبیر نصوصِ محکم اور اسلامی عقائد کی روشنی میں کی جائے، تاکہ ان مفاہیم کی تشریح مستند اسلامی اصولوں کے مطابق ہو اور ان میں کسی ایسی تاویل کی گنجائش نہ ہو جو قرآن و سنت کے مسلمہ عقائد سے متصادم ہو.
- ان دونوں مفاہیم پر مزید وضاحت کے لیے دیکھیے Muftī Taqī Usmānī, Islam and Politics (London: Turath Publishing, 2018), 33.
- اللہ اور انسان کے تعلق کی نشان دہی کے طور پر خ-ل-ف اور اس کے مشتقات قرآن میں چند مقامات پر وارد ہوئے ہیں، جب کہ ع-ب-د اور اس کے مشتقات کو بنیادی اصطلاح کے طور پر اختیار کیا گیا ہے، جو دو سو سے زائد مرتبہ قرآن میں مذکور ہیں۔
- اس طرزِ استدلال کی ایک مثال ہارون مغل کی تصنیف Two Billion Caliphs: A Vision of a Muslim Future (Beacon Press, 2022) میں دیکھی جا سکتی ہے۔
- الجزائری مفکر مالک بن نبی نے اپنی مشہور فرانسیسی تصنیف Colonisabilité: Problèmes de la civilisation میں colonisabilité کی اصطلاح متعارف کرائی۔ ان کے فکری مباحث کا ایک حالیہ تعارف دیکھنے کے لیے ملاحظہ کیجیے: احمد جعفری، “The Colonizability of African and Asian Societies from the Perspective of Malek Bennabi (Historical Insights),” Psychology and Education 60, 2 (2023): 1829-1841۔
- تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ کیجیے Ovamir Anjum, Politics, Law, and Community in Islamic Thought (Cambridge University Press, 2012), Ch. 6.


