تفصیل
قوموں کو جو چیز ایک ساتھ جوڑے رکھتی ہے — مشترکہ اقدار یا مشترکہ دشمن؟ سلطنتِ عثمانیہ کی سرحدوں سے لے کر جنگِ عظیم کے بعد کے معاہدوں اور جدید دور میں دائیں بازو کی انتہا پسند سیاست کے عروج تک، یورپی اتحاد اکثر اشرافیہ کے بیانیوں، علامتی بحرانوں، اور مخالف شناختوں کے ذریعے تشکیل پایا ہے۔ اس کے برعکس، اسلامی تصورِ معاشی اتحاد داخلی اخلاقی اصولوں — توحید، عدل، اور اخلاقی معیشت — سے اخذ کیا گیا ہے، نہ کہ جغرافیائی سیاسی خوف یا مادی مفاد سے۔ سوال یہ ہے کہ کیا الٰہی مقصد پر مبنی ایک بین الاقوامی شناخت، عالمی سرمایہ داری اور جدید قومی ریاستوں کی تقسیم کے دباؤ کو برداشت کر سکتی ہے؟
اس مجلس میں ہم مہرین خان (اقتصادیات کی ایڈیٹر، ٹائمز) کا خیرمقدم کرتے ہیں، جو سابقہ یورپی یونین نمائندہ رہ چکی ہیں فنانشل ٹائمز میں۔ وہ اس بات پر غور کریں گی کہ شناخت، علامتی سرمایہ، اور معاشی تخیل کس طرح مغربی اور امتی (امیٹکس) دونوں قسم کے انضمامی منصوبوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ جب لبرل عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور کثیر قطبی متبادل ابھر رہے ہیں، یہ اجلاس یہ سوال اٹھاتا ہے: کیا اسلامی ثقافتی سرمائے پر مبنی نچلی سطح سے ابھرنے والے، غیرمرکزی ڈھانچے ایک ایسے عالمی نظام میں جائز حیثیت حاصل کر سکتے ہیں جو اشرافیہ کی طاقت اور تکنیکی کنٹرول کو ترجیح دیتا ہے؟
مہرین خان برطانیہ کے ٹائمز میں اکنامکس ایڈیٹر ہیں اور اس سے قبل فنانشل ٹائمز میں برسلز نمائندہ رہ چکی ہیں، جہاں وہ یورپی یونین کی سیاست، معاشی نظم و نسق، اور ریگولیٹری پالیسی پر رپورٹنگ کرتی رہیں۔ ان کی تحریریں عالمی منڈیوں، شناخت، اور سیاسی طاقت کے باہمی تعلق کا مطالعہ کرتی ہیں، خاص طور پر مغربی لبرل فریم ورک سے ماورا متبادل معاشی تصورات کے بارے میں۔
گفتگو اور سوال و جواب کے سیشن کی نظامت ڈاکٹر اسامہ العظمی (حمد بن خلیفہ یونیورسٹی) نے کی۔
خلاصہ مجلس مذاکرہ
پیشکش
بحث کا تناظر: انضمام، شناخت اور حدودِ طاقت
- کیا مسلم ممالک کے درمیان معاشی اتحاد کو یورپی یونین کے بالا دست طبقات کی رہنمائی میں تشکیل پانے والے اور ماہرین کے زیرِ انتظام انضمامی طریقۂ کار سے ہٹ کر کسی مختلف انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے؟
- یورپی یونین کے ارتقائی عمل کو اسلامی معاشی اتحاد کے تصور کے ساتھ تقابلی تناظر میں دیکھنے سے شناخت، جواز، خودمختاری اور اقدار سے متعلق بنیادی نوعیت کے سوالات سامنے آتے ہیں۔
- یہ تجزیہ محض نظری مباحث پر نہیں بلکہ صحافتی تجربے پر مبنی ہے، خصوصاً برسلز سے یورپی یونین کی چھ برس کی کوریج کے پس منظر میں۔ اسی بنیاد پر تین بنیادی موضوعات پیش کیے جاتے ہیں:
- یورپی یونین میں قومی ریاست سے رکن ریاست تک منتقلی کا عمل؛
- یہ امر کہ یورپی یونین منڈی پر مبنی معاشی فکر سے آگے بڑھنے میں کس حد تک کامیاب ہوئی ہے یا نہیں؛
- یورپی یونین کی معاشی خودمختاری کے استعمال کی نوعیت—اس کا دائرہ، اس کی حدود، اور مسلم اکثریتی ممالک کے لیے اس کے مضمرات۔
قومی ریاست سے رکن ریاست تک: مسلم دنیا کے لیے اسباق
- کرسٹوفر بکرٹن کے کام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یورپی یونین کے انضمامی عمل نے ایک نئی سیاسی صورت کو جنم دیا ہے جسے "رکن ریاست” کہا جاتا ہے۔
- قومی ریاست کے برعکس، رکن ریاست اپنے اہم اختیارات یورپی یونین کے فوقِ قومی اداروں، جیسے یورپی کمیشن اور یورپی پارلیمنٹ، کے سپرد کر دیتی ہے۔
- اس تبدیلی کے نتیجے میں چند نمایاں امور سامنے آتے ہیں:
- اختیار و جواز کا محور قومی حکومتوں سے منتقل ہو کر یورپی یونین کے اداروں کی طرف ہو جاتا ہے؛
- قومی سطح پر عوام کا فیصلہ سازی کے عمل سے دور ہو جانا، جس کے باعث "جمہوری خلا” پیدا ہوتا ہے؛
- حکمرانی کا ایسا طریقہ کار جس میں عوامی اختیار کے بجائے بالا دست طبقات کے باہمی اتفاق کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
- یہ صورتِ حال مسلمانوں کے لیے بیک وقت تنبیہ اور موقع دونوں پہلو رکھتی ہے۔ ایک طرف قومی ریاستیں اکثر اسلامی اتحاد کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں، مگر دوسری طرف "رکن ریاست” کا تصور ایک زیادہ مربوط نظم کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے—بشرطیکہ اس کی تشکیل نچلی سطح سے ہو اور اسے مشترکہ اسلامی اقدار پر استوار کیا جائے، نہ کہ اس تصور پر کہ بالا دست طبقات عوامی شرکت کے پھیلاؤ سے خائف ہیں۔
- یورپی یونین دوسری عالمی جنگ کے بعد کے صدمات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خوف اور باہمی عدمِ اعتماد کے ماحول میں بالادستی کے انداز سے قائم کی گئی، اسی لیے اسے مضبوط قانونی بندھنوں کی ضرورت پیش آئی۔ اس کے برعکس، مسلم دنیا میں انضمام کا منصوبہ امت کی فطری یکجہتی، مشترکہ اقدار اور اخلاقی بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے۔
معاشی خودمختاری: طاقت، عدم مساوات اور بیرونی پابندیاں
- یورپی یونین داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر معاشی خودمختاری کا استعمال کرتی ہے، اور اکثر یہ عمل غیر متوازن اور غیر جوابدہ انداز میں ہوتا ہے۔
- اندرونی طور پر یوروزون ساختی عدم مساوات کی مثال پیش کرتا ہے:
- مالی طور پر مضبوط "قرض دہندہ” ممالک (جیسے جرمنی، نیدرلینڈز) کمزور "قرض دار” ممالک (جیسے یونان، اٹلی) پر بالادستی رکھتے ہیں۔
- یوروزون بحران کے دوران مالی امداد کے ساتھ سخت کفایتی اقدامات بھی نافذ کیے گئے جنہوں نے کمزور معیشتوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
- مشترکہ کرنسی (یورو) کے باوجود متحدہ مالیاتی پالیسی کے فقدان نے عدم توازن اور باہمی انحصار کو بڑھایا۔
- بیرونی سطح پر یورپی یونین اپنی طاقت کا اظہار درج ذیل طریقوں سے کرتی ہے:
- برسلز ایفیکٹ: عالمی کمپنیاں اور ممالک یورپی یونین کی منڈی تک رسائی کے لیے اس کے ضوابط اور اقدار کو قبول کرتے ہیں۔
- معیاری طاقت: تجارتی رسائی کو یورپی یونین کے طے کردہ معیارات—جیسے ماحولیاتی اصول اور ڈیجیٹل رازداری—کی پابندی سے مشروط کرنا؛
- تجارتی دباؤ: ماحولیاتی تقاضوں کے نام پر غریب ممالک (مثلاً ملائیشیا اور انڈونیشیا کی پام آئل صنعت) پر پابندیاں عائد کرنا۔
- بہت سے مسلم ممالک اس عدم توازن کے اثرات کا سامنا کرتے ہیں، مگر اس کے مقابلے کے لیے نہ ان کے پاس مؤثر قوت موجود ہے اور نہ ہی مضبوط ادارہ جاتی ہم آہنگی۔
معاشی خودمختاری کی حدود
- یورپی یونین کی معاشی قوت کے باوجود اس کے دائرۂ اختیار کی اپنی حدود ہیں:
- یورپی یونین امریکہ اور چین کے بعد دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے۔
- عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی بالادستی کے باعث یہ کئی معاملات میں امریکہ پر انحصار کرتی ہے، جبکہ جدید صنعتی پیداوار کے میدان میں چین کے مقابلے میں اس کی پوزیشن نسبتاً کمزور ہے۔
- یورپی یونین کی خارجہ پالیسی—جس میں پابندیاں اور عسکری اتحاد شامل ہیں—اکثر امریکی مفادات سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے۔
- مثال کے طور پر، صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد، ڈالر کی بالادستی کے سبب یورپی یونین اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر طور پر برقرار نہ رکھ سکی؛ اسی طرح امریکہ کے ساتھ تجارتی اور محصولات سے متعلق مذاکرات میں بھی اس کا اثر و رسوخ محدود نظر آتا ہے۔
خلاصہ: مسلم دنیا کے لیے آغاز کے نکات اور امید
- یورپی یونین کو ایک قابلِ تقلید نمونے کے بجائے تنبیہی اسباق کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کے بالا دست طبقات کے زیرِ اثر ماہرین پر مبنی انتظامی ڈھانچوں کی نقل نہ کریں، بلکہ :
- ایسے ادارے قائم کریں جو اسلامی اقدار پر استوار ہوں اور جنہیں نچلی سطح سے جواز حاصل ہو، تاکہ عوام اور پالیسی سازی کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے سے بچا جا سکے۔
- سی طرح ریاستوں کے باہمی ربط کی بنیاد محض قانونی ضوابط یا منڈی کے اصولوں پر رکھنے کے بجائے مشترکہ اخلاقی بنیادوں پر رکھی جائے، کیونکہ یورپی یونین کے منڈی پر مبنی نظام میں بنیادی تبدیلی کا تصور مشکل دکھائی دیتا ہے۔
- یورپی یونین کی طرح معاشی عدم مساوات، جمہوری خلا اور رکن ممالک کے درمیان عدم توازن کو دوبارہ پیدا ہونے سے بچایا جائے۔
- اس تناظر میں مسلم ریاستوں کو ازسرِ نو اس طرح تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ مغربی سیاسی اکائیوں کی نقل نہ ہوں، بلکہ ایک نئی معاشی وحدت کے اندر اخلاقی بنیادوں پر قائم منفرد شریک کے طور پر سامنے آئیں۔
بحث ومباحثہ
- غزہ اور یورپی یونین اور مسلم ریاستوں میں جوازِ اقتدار کا بحران
- ایک ایسا لمحہ تھا جب یورپی یونین کے دو رکن ممالک—فرانس اور جرمنی—نے عراق جنگ میں امریکہ اور برطانیہ کی پالیسی کے خلاف خود مختار مؤقف اختیار کیا۔
- غزہ اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے حوالے سے حالیہ یورپی یونین کی پالیسی ظاہر کرتی ہے کہ یہ خودمختاری محدود ہو چکی ہے، حتیٰ کہ یورپی عوامی رائے کے خلاف بھی۔
- غزہ میں جاری نسل کشی نے مسلم عوام اور ان کی سیاسی قیادت کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
- غزہ ایک ایسا “حساس مسئلہ” بن گیا ہے جو درج ذیل حقائق کو بے نقاب کرتا ہے:
- اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی بے بسی۔
- مسلم عوام کے جذبات اور ان کی حکومتوں کی پالیسیوں کے درمیان فرق۔
- مسلم اشرافیہ کی یہ ناکامی کہ وہ مغربی بیانیے کے معیار تک بھی نہیں پہنچ پاتی، حقیقی اقدامات تو دور کی بات ہے۔
- یہ صورتِ حال یورپی یونین میں پائے جانے والے جوازِ اقتدار کے بحران کی جھلک پیش کرتی ہے، تاہم مسلمانوں کے لیے یہ احساسِ بے وفائی زیادہ گہرا اور وجودی نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ امر اس ضرورت کو واضح کرتا ہے کہ ایسے متبادل سیاسی اور معاشی ڈھانچے قائم کیے جائیں جو عوامی تائید اور اخلاقی ذمہ داری پر مبنی ہوں۔
مسلم معاشی اتحاد کی ابتدائی صورتوں کا تصور
- یورپی یونین کے ابتدائی ادارے، جیسے یورپی کوئلہ و فولاد کمیونٹی (ECSC)، کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے مسلم ممالک بھی عملی اور محدود نوعیت کے معاشی تعاون سے آغاز کر سکتے ہیں، خصوصاً اجناس اور توانائی کے شعبوں میں۔
- وسائل سے مالا مال مسلم ممالک (جیسے قطر، سعودی عرب) کو غریب مسلم ممالک کو ترجیحی شرائط فراہم کرنی چاہئیں۔
- ضروری اشیاء (جیسے مائع قدرتی گیس (LNG)، خوراک اور بجلی) میں ترجیحی تجارت پاکستان جیسے ممالک کی معاشی مشکلات کو کم کر سکتی ہے۔
- اس نوعیت کے انتظامات کی بنیاد محض منافع پر نہیں بلکہ انصاف اور باہمی یکجہتی جیسی اسلامی اقدار پر ہونی چاہیے۔
- یورپی ممالک اپنی اقدار کو ایک مؤثر ذریعہ بنا کر ان ممالک کو ترجیح دیتے ہیں جو ان اقدار کو قبول کرتے ہیں، اور اس طرح وہ اپنے معیارات کے مطابق دوسروں کو ڈھالنے کی صلاحیت استعمال کرتے ہیں۔
- مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے لیے "پسندیدہ ترین ملک” (MFN) کا درجہ اختیار کرنا چاہیے، جو عالمی تجارتی تنظیم کے قواعد کے تحت قانونی ہے اور جسے مغربی اتحاد پہلے ہی منتخب انداز میں بروئے کار لا رہے ہیں۔
بنیادی معاشی عدم توازن اور بیرونی انحصار کا مقابلہ
- مسلم ممالک کے درمیان معاشی تفاوت عموماً یورپی یونین کے رکن ممالک کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہے۔
- کچھ ممالک اجناس برآمد کرنے والے ہیں جبکہ دیگر بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتے ہیں ۔
- کچھ ممالک کے پاس نوجوان آبادی اور آبادی کے مثبت امکانات موجود ہیں (جیسے پاکستان اور نائجیریا)، جبکہ کچھ وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود آبادیاتی حدود کا سامنا کر رہے ہیں۔
- اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے مسلم ممالک کو چند بنیادی اقدامات کی ضرورت ہے:
- باہمی سطح پر زیادہ منصفانہ معاشی ڈھانچے کی تشکیل؛
- علاقائی معاشی اتحاد کے ذریعے ہجرت اور معاشی انحصار میں کمی کی کوشش؛
- یوروزون کی طرز کی اس مالیاتی یکجائی سے اجتناب، جس میں حقیقی معاشی ہم آہنگی کا فقدان رہا۔
چین کا کردار: متضاد پہلو
- اگرچہ بعض حلقے چین کو مسلم ممالک کے لیے ایک متبادل حمایتی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں، تاہم اس معاملے میں باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے:
- چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) مسلم اکثریتی ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں معاون ثابت ہوا ہے۔
- تاہم غزہ کے معاملے میں چین کی خاموشی اور اخلاقی بنیادوں پر قائم خارجہ پالیسی میں اس کی عدم دل چسپی بھی قابلِ توجہ ہے۔
- مزید یہ کہ چینی عسکری اور معاشی امداد اکثر شفافیت سے خالی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ مختلف شرائط وابستہ رہتی ہیں۔
- اس لیے واضح اقدار پر مبنی شرائط کے بغیر مغربی بالادستی کے متبادل کے طور پر چینی سرپرستی کو اختیار کرنے میں احتیاط ضروری ہے۔
ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا: مواقع اور چیلنجز
- برکس کے ابھرنے اور امریکی تجارتی پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں نے عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی عالمی نظام میں مرکزی حیثیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
- تاہم برکس ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات محدود ہیں۔ مزید یہ کہ ذخیرہ جاتی کرنسیاں محض قائم نہیں کی جا سکتیں، بلکہ ان کے ساتھ ایسی ذمہ داریاں وابستہ ہوتی ہیں جنہیں بہت کم ممالک قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔
- برکس سے بڑھ کر اہم رجحان یہ ہے کہ ممالک اپنی معاشی سلامتی کے لیے دوبارہ سونے کی خریداری کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، اور اسی کے ساتھ کرپٹو کرنسی اور اسٹیبل کوائنز جیسے نئے مالیاتی ذرائع بھی سامنے آ رہے ہیں۔
افریقہ کا جنوبی صحارا
- نائجر جیسے ممالک اور سعودی عرب جیسے ممالک کی معیشتوں کے درمیان نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
- اس نوعیت کے ممالک کو سب سے زیادہ ترقیاتی معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔
- چین اور ترکی جیسے ممالک اس طرح کی ترقیاتی سرگرمیوں میں پہلے ہی شریک ہو چکے ہیں، تاہم دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی اس عمل میں شامل ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
یورپی یونین اور نیٹو
- دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ، اور بالخصوص یورپی یونین، کی معاشی ترقی امریکی عسکری بالادستی کے زیرِ اثر ہوئی، جس کی نمائندگی نیٹو کرتا ہے۔
- یورپ سے امریکی فوجی تعاون کے تدریجی انخلا کے ساتھ یہ امکان بڑھ رہا ہے کہ یورپی یونین نئے ارکان کو شامل کرنے کے بجائے اپنے موجودہ رکن ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے پر زیادہ توجہ دے۔
تکنیکی جدت اور معیشت
- تکنیکی جدت کے میدان میں امریکہ یورپی یونین سے بہت آگے ہے—امریکی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ قدر کئی یورپی معیشتوں سے زیادہ ہے۔
- چین نے بڑی تکنیکی جدتیں اس لیے پیدا کیں کیونکہ وہ ابتدا میں تکنیکی طور پر پیچھے تھا اور امریکہ کی پابندیوں کا سامنا کر رہا تھا، جس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی تک رسائی کی رکاوٹیں کم ہوئیں اور یہ ٹیکنالوجیاں زیادہ لوگوں کے لیے قابلِ رسائی ہو گئیں۔
- مسلم ممالک ان جدتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، خصوصاً کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجیوں سے۔

مہرین خان
مہرين خان دی ٹائمز (برطانیہ) میں اکنامکس ایڈیٹر ہیں اور اس سے پہلے فنانشل ٹائمز میں برسلز کی نامہ نگار کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں، جہاں انہوں نے یورپی یونین کی سیاست، معاشی حکمرانی اور ریگولیٹری پالیسی کو کور کیا۔ ان کی تحریریں عالمی منڈیوں، شناخت اور سیاسی طاقت کے باہمی تعلقات کا جائزہ لیتی ہیں، اور وہ خاص طور پر مغربی لبرل فریم ورک سے ماورا متبادل معاشی تصورات میں دلچسپی رکھتی ہیں۔


