بین المسلمین گہرے اختلافات کا انتظام

تفصیل

امت کے اندر گہری اختلافات کا مسئلہ اسلامی تاریخ کے دوران ابھرتا اور ارتقا پاتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں کبھی کبھار انقطاع اور عدم استحکام کے لمحات پیدا ہوئے۔ ان مختلف اور پیچیدہ اختلافات کے باوجود، یہ چیلنجز تقریباً ہمیشہ اسلامی روایت سے ماخوذ ایک امّتی سیاسی فریم ورک کے ذریعے حل کیے گئے۔ آج جب عالمی نظام ہماری صلاحیت کو ان چیلنجز کے ازالے سے محدود کرتا ہے، تو امت کس طرح مسلم دنیا میں مختلف مفادات، وابستگیوں اور اتحادوں کی باریک بینی سے جانچ اور گفت و شنید کو ممکن بنا سکتی ہے؟ ہم کس طرح ایسے کامیاب سیاسی ماڈلز کا تصور کر سکتے ہیں جو جدید سیاسی سیاق میں ابھرتے ہوئے فکری اختلافات کو تسلیم کریں اور انہیں مؤثر طور پر منظم کریں؟ دوسرے لفظوں میں، جب ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان آرا، عقائد اور رسوم و رواج کا تنوع ختم نہیں کیا جا سکتا، تو ہم ان اختلافات کو امت کے اتحاد اور اسلام کی ترقی کے مفاد میں کس طرح سنبھال سکتے ہیں؟

ڈاکٹر اووامر انجم (مقرر) امّیٹکس انسٹیٹیوٹ کے بانی اور چیف ریسرچ آفیسر ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف ٹولیڈو کے شعبہ فلسفہ و مذہبیات میں اسلامیات کے پروفیسر اور اعزازی چیئر ہیں اور American Journal of Islam and Society کے شریک مدیر ہیں۔ ڈاکٹر انجم کے تحقیقی موضوعات میں اسلامی تاریخ، علمِ کلام، سیاسی فکر، اور عمومی طور پر تاریخ شامل ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین دیف اللہ (گفتگو کنندہ) یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سینٹا کروز میں سیاست کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ عرب اور اسلامی سیاسی فکر، بعد از نوآبادیاتی نظریہ، اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں تخصص رکھتی ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے حاصل کی ہے اور UMass-Amherst اور USC میں تدریس کر چکی ہیں۔

مباحثہ اور بعد ازاں سوال و جواب کا سیشن ڈاکٹر میراج یو۔ سید کی نگرانی میں منعقد ہوا، جو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس میں مذہبیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر، اور قرونِ وسطیٰ و اوائلِ جدید پروگرام کے ڈائریکٹر ہیں۔

تاریخ: ہفتہ، 14 ستمبر 2024، صبح 11 بجے (ایسٹرن ٹائم)

 

خلاصہ

 

ناظمِ اجلاس کا تعارف (ڈاکٹر معراج سید)

امیٹکس کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی مجلسِ مذاکرہ سیریز میں امتی وحدت کے حصول کے مسئلے کو شناخت، افراد اور سماجی تحریکات کے حوالے سے—ریاستی، علاقائی اور عالمی سطحوں پر—زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ اس سلسلے کے سابقہ اجلاسوں میں قومی ریاست اور مسلم معاشرتی قوتوں کے درمیان پائے جانے والے تناؤ کا جائزہ لیا گیا تھا، جبکہ اس نشست میں امت کے اندرونی اختلافات کی ان گہری جہتوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جو امتی وحدت کی راہ میں اہم رکاوٹ کے طور پر سامنے آتی ہیں۔  

پیشکش (ڈاکٹر اوامیر انجم)

سیاق و سباق
اختلافی مسائل کا تعین اور تشکیل
  • امت کے داخلی سطح پر پائے جانے والے گہرے اختلافات عموماً مسلکی تقسیمات کے گرد گرد گھومتے ہیں، جیسے سنی–شیعہ، صوفی–سلفی، اور فقہی مذاہب کے باہمی اختلافات۔
  • تاریخی طور پر ان اختلافات کو سیکولر مفکرین نے بطور استدلال استعمال کیا ہے تاکہ سیکولر طرزِ حکمرانی کے حق میں دلیل قائم کی جا سکے۔ ان کے نزدیک یہ طرزِ حکومت عوامی دائرے میں عقلی غیر جانب داری کو یقینی بناتا ہے اور مذہبی عدم رواداری اور مسلکی کشمکش سے بچاؤ کا ذریعہ بنتا ہے۔
 
سیکولرازم اور مذہبی حکمرانی
  • مغرب میں سیکولرازم کے عروج سے متعلق معروف بیانیے میں یورپ کی پروٹسٹنٹ–کیتھولک مذہبی خانہ جنگیوں کی طویل تاریخ کو نمایاں کیا جاتا ہے، جو بالآخر 1648ء میں معاہدۂ ویسٹ فیلیا پر منتج ہوئی۔
  • تاہم اس بیانیے کو اس امر سے چیلنج کیا جاتا ہے کہ یہ تنازعات جلد ہی سیکولر قومی ریاستوں کے مابین جنگوں میں تبدیل ہو گئے، جو بالآخر استعمار اور عالمی جنگوں کی صورت اختیار کر گئے۔
  • مذہبی تشدد کو عموماً اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے مذہبی حکمرانی کو غیر معتبر ثابت کیا جائے، جب کہ سیکولر حکمرانی کو اسی معیار پر پرکھا نہیں جاتا، حالانکہ سیکولر تشدد بھی مسلسل ایک حقیقت کے طور پر موجود رہا ہے۔
 
بقائے باہمی کی روایت
  • مسلم معاشروں نے تاریخی طور پر داخلی مسلم اختلافات اور بین المذاہب تنوع کو مؤثر انداز میں منظم کیا، جس کے نتیجے میں رواداری، بقائے باہمی اور اجتماعی ترقی کو فروغ ملا۔
  • عصرِ حاضر میں مسلمانوں کے مابین فرقہ وارانہ اختلافات کی نوعیت دو سطحوں پر دیکھی جا سکتی ہے: ایک وہ نسبتاً معمولی اختلافات، جیسے میلاد کے حوالے سے صوفی–سلفی مباحث؛ اور دوسرے وہ زیادہ سنجیدہ اختلافات، جیسے سنی اور شیعہ سیاسی بلاکس کے درمیان سرد مہری کی کیفیت، جن میں ہر ایک مختلف غیر مسلم طاقتوں کے ساتھ وابستگی رکھتا ہے۔
  • جدید عہد کی مسلح فرقہ واریت دراصل استعمار، مابعدِ استعمار اور جدید قومی ریاست کے ارتقا کا نتیجہ ہے۔اسلامی روایات کی طرف رجوع ایسے فکری و عملی وسائل فراہم کرتا ہے جن کے ذریعے ان اختلافات کو پُرامن طور پر منظم کیا جا سکتا ہے اور انہیں تصادم کا ذریعہ بننے سے روکا جا سکتا ہے۔
 
شدید اختلافات کی تنظیم: پانچ اصول
1. شدید اختلافات کی تنظیم ایک دینی اور وجودی ضرورت ہے
  • اختلافات کے خاتمے کے بجائے ان کی مناسب تنظیم امتی وحدت اور اسلام کے فروغ کے لیے نہایت ضروری ہے۔ شدید اختلافات، جو تاریخی طور پر تشکیل پاتے ہیں اور تغیر پذیر ہوتے ہیں، اگرمناسب طریقے سے نظم نہ کیے جائیں تو گروہی کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
 
۲. بنیادی اسلامی اصولوں کو ترجیح دینا
  • مشترک اسلامی اصول—توحید، نجاتِ اخروی، نبوت، مقدس مقامات اور اسلام کے پانچ ارکان—کو محدود وابستگیوں پر فوقیت دی جانی چاہیے۔یہ اتفاقِ رائے فکری ہم آہنگی، مشترکہ ثقافتی شعور اور اتحاد کو تقویت دیتا ہے، جبکہ تنوع کے لیے بھی گنجائش برقرار رکھتا ہے۔
 
۳. اسلام: ایک ہمہ گیر وحدت کا تصور
  • اسلام نسلی، قبائلی، فرقہ وارانہ اور قومی وابستگیوں کو مٹانے کے بجائے انہیں منظم اور متوازن بناتا ہے۔ ایک وسیع تر اسلامی شناخت سیاسی سطح پر بقائے باہمی کو ممکن بناتی ہے، جبکہ مسلمانوں کے مفادات کے خلاف قائم ہونے والے اتحادوں کو ممنوع قرار دیتی ہے۔
 
۴. تلاشِ حق اور التزامِ حق کا فروغ
  • علمی و مذہبی مکالمے میں باہمی احترام اور اعتدال بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مسلمان مشترک محرکات اور تقریباً یکساں فکری بنیادوں کے باوجود مختلف نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔
  • باوقار بحث و تنقید فکری ارتقا اور باہمی فہم کو تقویت دیتی ہے اور مشترک اسلامی اصولوں کے دائرے میں اظہار کی آزادی کو برقرار رکھتی ہے۔
 
۵. سلم عوامی میدان کی تشکیل
  • یہ ضروری ہے کہ ایسا فکری و سماجی میدان تشکیل دیا جائے جہاں مسلمان اپنی محدود وابستگیوں کے بجائے بطور مسلمان مشترک مفادات کو آگے بڑھا سکیں۔
  • ایسی امتی ادارہ جاتی اور سیاسی ساختیں، جو وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ اسلامی اصولوں پر مبنی ہوں، اس میدان کی تشکیل کو ممکن بناتی ہیں اور کسی مخصوص مذہبی تعبیر کو مسلط کیے بغیر بقائے باہمی کو فروغ دیتی ہیں۔
 
امتی سیاست
  • سیاست کا بنیادی کردار اختلافات کی تعمیری رہنمائی کرنا ہے۔اسلامی سیاست کے لیے ضروری ہے کہ اس کی رہنمائی اسلامی اصولوں کے مطابق ہو۔اس کے لیے ایسے ادارہ جاتی ڈھانچوں میں سرمایہ کاری ضروری ہے جو شریعت کے وسیع پیمانے پر متفقہ اصولوں کے تحت مساوات اور انصاف کو یقینی بنائیں، اور جن میں اسلامی سرزمینوں، مقدس مقامات اور مظلوم آبادیوں کے تحفظ کا بھی مکمل انتظام شامل ہو۔
 

بحث ومباحثہ (ڈاکٹر یاسمین ضیف اللہ)

اصطلاحی تعریفات
شدید اختلاف
  • کیا شدید اختلافات اور تنازعات ایک دوسرے سے مختلف ہیں؟
  • کیا شدید اختلافات ممکنہ تنازع کے لیے لازمی شرط ہیں؟
  • بعض اختلافات جو بظاہر بے ضرر نظر آتے ہیں، تاریخی طور پر شدید تنازعات کا سبب بن چکے ہیں۔
  • ایک مضبوط اُمّتی سیاسی نظریہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ مؤثر ادارہ سازی کے عمل میں انسانی فطرت اور حالات کی حساسیت کو پیش نظر رکھے۔
 
سیاست
  • ڈاکٹر انجم کا تصورِ سیاست بظاہر ریاست کے ایک کم سے کم نظریے کی عکاسی کرتا ہے، جو بنیادی ضروریات کی تکمیل اور غیر جابرانہ نگرانی پر مبنی ہے۔ یہ نقطۂ نظر روزمرہ کی سماجی و سیاسی سرگرمیوں اور ان اداروں کو نظر انداز کرتا ہے جو معاشرتی اور سیاسی حرکیات کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں۔
  • ایک وسیع تر فہم میں کمیونٹی کی تعمیر، ثقافتی اصول اور روزمرہ کے سماجی اعمال بھی شامل ہوتے ہیں۔
 
شدید اختلافات کو کس طرح سمجھا جائے
  • اختلافات—خواہ بنیادی ہوں یا سماجی طور پر تشکیل دیے گئے ہوں—طاقت کے عدم توازن، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور سماجی درجہ بندی کے باعث گہرے ہو جاتے ہیں۔ تاریخی ناانصافیاں اور اجتماعی صدمات ان اختلافات کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔طاقت کے عدم توازن کو دور کرنے کے لیے عملی اور مادی اصلاحات ضروری ہیں جنہیں صرف عقلی یا فکری دلائل کے ذریعے مکمل طور پر حل نہیں کیا جا سکتا۔
 

جواب (ڈاکٹر اوامیر انجم)

  • سیاست کی تعریف میں لبرل آئینی رجحان کو تسلیم کیا گیا ہے، ساتھ ہی حقیقی سیاسی حالات اور موجودہ ناانصافیوں کو مدنظر رکھنے کی ضرورت کو بھی اہم سمجھا گیا ہے۔
  • عدم مساوات، ناانصافی اور طاقت کے منصفانہ تعین کے لیے پہلے سے مساوات اور مشترکہ اقدار کی بنیاد قائم ہونا ضروری ہے۔جب ایک سیاسی برادری ان بنیادی اصولوں پر متفق ہو جائے تو اصلاح اور ازالہ ممکن ہو جاتا ہے۔
 

سوال و جواب

سامعین اور عملی اطلاق
ڈاکٹر انجم
  • سیاست ایک سیاسی برادری کے وجود کو لازم کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرد کو اپنے ذاتی مفادات سے آگے بڑھ کر وسیع سیاسی برادری کے مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا۔
  • اُمّتی سیاست کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی برادری کا تصور محدود وابستگیوں سے ماورا ہو۔ یہ تصور اہلِ علم مسلمانوں کے درمیان وحی کی تشریح پر موجود اختلافات کو اہمیت دیتا ہے، خواہ دیگر اختلافات، مثلاً نسلی، طبقاتی یا قبائلی نوعیت کے، زیادہ مرکزی حیثیت کے حامل ہوں، لیکن وہ مذہبی زبان میں محتاط اور معتدل انداز میں ظاہر کیے جاتے ہیں۔
 
ڈاکٹر ضیف اللہ
  • موجودہ تنازعات اور اختلافات سے آغاز کرنا سیاسی برادری کے پہلے سے طے شدہ تصورات مسلط کرنے کے بجائے زیادہ عملی اور حقیقت پسندانہ روّیہ ہے۔
  • جو افراد زمینی سطح پر تنازعات کے انتظام کا تجربہ رکھتے ہیں وہ اس طریقہ کار کے بارے میں بہتر رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔
 
ڈاکٹر انجم
  • اس بات پر اتفاق ہے کہ آغاز زمینی تجربات سے کیا جائے: عام شخص کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے اختلافات کی وجوہات سیاسی، سماجی اور تاریخی نوعیت کی ہیں۔
  • لوگ عموماً فرقہ وارانہ بیانیوں سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ انہی سطحوں پر اختلافات کے حل کی کوشش کرنے سے تنازعات کے مؤثر اور دیرپا حل کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
 
ڈاکٹر ضیف اللہ
  • اختلافات کے اسباب کو صرف سیاسی، سماجی اور تاریخی زاویے سے بیان کرنا عام مسلمانوں کے لیے اکثر فکری الجھن پیدا کر دیتا ہے، کیونکہ وہ زیادہ تر الٰہیات، فقہ اور فرقہ واریت کے تناظر میں سوچتے ہیں۔ اس کے برعکس، اختلافات کو محض مذہبی، فقہی یا فرقہ وارانہ انداز میں پیش کرنا سیاستدانوں اور رہنماؤں کے لیے کم مؤثر ہو سکتا ہے، جو سماجی، سیاسی اور تاریخی عوامل پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
 
شدید اختلافات اور طاقت کے عدم توازن کے حل کی مثالی صورتیں
ڈاکٹر انجم
  • اختلافات لازمی طور پر تنازع میں تبدیل نہیں ہوتے بلکہ ان کا تنازع میں بدلنا ایک انتخاب ہے۔ اس کا واضح ثبوت ماضی میں حل شدہ تنازعات ہیں، مثلاً نیشاپور میں حنفی اور شافعی کے درمیان ہونے والے تشدد کے مواقع اور وہ تاریخی حالات جب اثنا عشری شیعہ نے بازنطینی اور صلیبی طاقتوں کے خلاف مزاحمت کی۔
  • امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں مسلمان اکثر مشترکہ مقاصد کے لیے فرقہ وارانہ اختلافات کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ اختیار اور طاقت کا احساس اتحاد کو فروغ دیتا ہے جیسا کہ تحریر اسکوائر کی مثال میں دیکھا گیا۔
 
ڈاکٹر ضیف اللہہ
  • جنوبی افریقہ کے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن اور امریکہ میں نسلی ناانصافیوں کے خلاف سول سوسائٹی کی سرگرمیاں ماضی کی ناانصافیوں کے ازالے کے لیے معیاری اور اہم نمونہ پیش کرتی ہیں۔
 
کیا مذہبی اختلافات قانونی اختلافات سے زیادہ پیچیدہ ہیں؟
ڈاکٹر انجم
  • مذہبی اختلافات، جو اکثر تاریخی تناظر میں ابھرتے ہیں، مشترکہ عقائد اور مشترکہ تجربات کی بنیاد پر مؤثر طریقے سے منظم کیے جا سکتے ہیں۔ فرقہ وارانہ تقسیمات اکثر بنیادی مذہبی اختلافات کے بجائے تاریخی بیانیوں سے پیدا ہوتی ہیں۔
  • مسائل کو صرف مادی یا عملی پہلو تک محدود کرنا مسلمانوں کے لیے کافی نہیں؛ بلکہ ان اختلافات میں الٰہیات اور فقہی اصولوں کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔ عملی تجربات کی روشنی میں مسلمان مشترکہ عقائد کی بنیاد تشکیل دے سکتے ہیں اور اختلافات کی مبالغہ آمیزی کو کم کر سکتے ہیں۔
 
غزہ میں نسل کشی کے اثرات
ڈاکٹر ضیف اللہ
  • غزہ نے حالیہ تاریخ میں غیر معمولی انداز میں دنیا بھر کے لوگوں کو متحد کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے۔
 
ڈاکٹر انجم
  • غزہ کے عوام کی بہادری، استقامت اور اجتماعی اتحاد ہر لحاظ سے متاثرکن ہے۔ یہ انسانی المیہ مسلمانوں میں یکجہتی کی کمی کے نتائج اور اجتماعی اقدام کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔
عمیر انجم

اوامِر انجم امیٹکس انسٹیٹیوٹ کے چیف ریسرچ آفیسر ہیں۔ وہ 2019 میں "خلافت کون چاہتا ہے؟" کے عنوان سے یقین انسٹیٹیوٹ میں شائع ہونے والے مضمون کے مصنف ہیں، جو اس منصوبے کی بنیاد اور تحریک کا سبب بنا۔ وہ یونیورسٹی آف ٹولیڈو کے شعبۂ فلسفہ اور مذہبی مطالعات میں اسلامیات کے پروفیسر اور انڈاؤڈ چیئر ہیں، اور امریکن جرنل آف اسلام اینڈ سوسائٹی (جسے پہلے امریکن جرنل آف اسلامک سوشل سائنسز کے نام سے جانا جاتا تھا) کے شریک مدیر ہیں۔ حال ہی میں انہیں یقین انسٹیٹیوٹ کے ریویو بورڈ کے ایڈیٹر اِن چیف کے طور پر بھی مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تحقیق کے اہم موضوعات میں اسلامی تاریخ، الہیات، سیاسی فکر، اور عمومی طور پر تاریخ شامل ہیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں اسلامی فکر میں سیاست، قانون اور برادری: تیمیاں لمحہ (کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2012) اور الہی متلاشیوں کے درجات: ابن القیم کی مدارج السالکین کا ترجمہ (برل، 2020) شامل ہیں، جو چار جلدوں پر مشتمل سلسلے کی ابتدائی دو جلدیں ہیں۔ ان کی منتخب تصانیف تک رسائی کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کریں: https://utoledo.academia.edu/OvamirAnjum

ڈاکٹر یاسمین دافع اللہ

ڈاکٹر یاسمین دافع اللہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سانتا کروز (UCSC) میں سیاست کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، جو عرب اور اسلامی سیاسی فکر، مابعد نوآبادیاتی نظریہ، اور مشرق وسطیٰ کی سیاست میں مہارت رکھتی ہیں۔ اس نے اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے پولیٹیکل سائنس میں، اور اس سے قبل یونیورسٹی آف میساچوسٹس ایمہرسٹ اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں پڑھا چکی ہیں۔ ان کی تحقیقی دلچسپیوں میں تنقیدی اور مابعد نوآبادیاتی نظریہ، تقابلی سیاسی نظریہ، اور جدید عرب سیاسی فکر شامل ہیں۔ ڈاکٹر دافع اللہ کا کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح ثقافتی روایات اور فکری رجحانات اجتماعی زندگی اور فیصلہ سازی کے بارے میں افراد کے نقطہ نظر کو تشکیل دیتے ہیں۔ دافع اللہ نے علمی میدان میں قابل ذکر اشاعتوں کے ساتھ نمایاں خدمات انجام دی ہیں جیسے کہ دی پولیٹکس آف ڈی کالونیل انٹرپریٹیشن: ٹریڈیشن اینڈ میتھڈ ان کنٹیمپریری عرب تھاٹ، جو 2019 میں امریکن پولیٹیکل سائنس ریویو میں شائع ہوئی، اور تورات بطور تنقید: حسن حنفی جدید عرب موضوع کے خلاف دی عربی کتاب، فیچر۔ عمر: موجودہ کی ایک دانشورانہ تاریخ کی طرف۔

مزید دریافت کریں۔

ایڈوانسڈ اے آئی کے لیے ایک امتی وژن کی طرف

دسمبر 20, 2025
ڈاکٹر جنید قادر

کیا اسلام پسند اب بھی اسلام پسند ہیں؟

نومبر 19, 2025
ڈاکٹر سمیہ ساکریا

سائبر امت، الگورتھمک بالادستی، اور ڈیجیٹل ڈیکالونائزیشن

اکتوبر 30, 2025
ڈاکٹر سحر خامس

نیویگیٹ کریں

امّیٹکس فورمز
توجہ کے علاقے
تحقیقی مقالات
اشاعتیں
امّیٹکس کے بارے میں
تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

ہمارے نیوز لیٹر میں سائن اپ کریں۔