فلسطین: پریمیئر امتی کاز

فلسطین: اُمت کا مرکزی مسئلہ

خلاصہ

اکتوبر ۲۰۲۳ میں منعقد ہونے والی ہماری مجلسِ مذاکرہ مسلم عوام کے کردار اور عوامی رائے کی تشکیل میں ان کے اثرات پر مرکوز تھی، خاص طور پر غزہ پر جاری بمباری کے پس منظر میں۔ اس نشست کی نظامت اسامہ الأعظمی نے کی، جبکہ پینل میں ڈاکٹر رمزی بارود، سمیع حامدی اور لیلیٰ العریان شامل تھے۔

"دی فلسطین کرانیکل” کے مدیرِ اعلیٰ ڈاکٹر رمزی بارود نے ان اسباب پر گفتگو کی جن کی بنا پر فلسطین عالمی مسلم شعور میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے فلسطینی کاز کے ساتھ عالمی مسلم وابستگی کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی۔

ایمی ایوارڈ یافتہ صحافی اور ٹی وی میزبان لیلیٰ العریان نے موجودہ جنگ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کی کوریج اور سوشل میڈیا سرگرمیوں میں اُمتی نقطۂ نظر کی موجودگی اور عدم موجودگی، دونوں پہلوؤں پر گفتگو کی۔

آخر میں، "انٹرنیشنل انٹرسٹ” کے مینیجنگ ڈائریکٹر سمیع حامدی نے موجودہ مسلم عوامی دباؤ کی ممکنہ قوت اور اس کے اثرات کے بارے میں اپنا تجزیہ پیش کیا۔

ڈاکٹر بارود نے گفتگو کا آغاز اس سوال سے کیا کہ عام مسلمان فلسطین کو کس زاویے سے دیکھتا ہے، اور کس طرح اُس کا روحانی شعور اور مذہبی پس منظر فلسطینی کاز کے ساتھ اُس کے تعلق کو تشکیل دیتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب ”الاقصیٰ“ کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں ہوتا، بلکہ ایک وسیع روحانی، تاریخی اور تہذیبی حقیقت مراد ہوتی ہے۔ یہ معاملہ صرف مسجدِ اقصیٰ تک محدود نہیں بلکہ اُس کے گرد و پیش اور اُس پوری تاریخ سے جڑا ہوا ہے جس نے اسے یہ اہمیت عطا کی ہے۔ ڈاکٹر بارود کے مطابق فلسطین کے ساتھ مسلمانوں کی وابستگی کی بنیاد ایک گہرا روحانی اور مذہبی احساس ہے۔

مزید یہ کہ انہوں نے فلسطین سے متعلق مسلم تاریخی شعور کے دو اہم تجربات کا بھی ذکر کیا: صلیبی جنگوں کی تاریخ اور جدید نوآبادیات کا دور۔ ان کے مطابق یہی دونوں عناصر مسلمانوں کے طرزِ فکر اور فلسطین کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں اُن کے ردِعمل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

ڈاکٹر بارود نے اس پہلو پر بھی گفتگو کی کہ معاصر اسرائیلی بیانیے میں "فلسطینی” شناخت کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ فلسطینی کاز پر مسلمانوں کے دعوے کو کمزور کیا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا رجحان ہے جسے پہچاننا اور رد کرنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی کاز کوئی ”مقدس جنگ“ نہیں اور نہ ہی اسے اس زاویے سے دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ امریکہ کے بعض سیاست دان، جیسے لنڈسے گراہم، اس نوعیت کی اصطلاحات استعمال کرتے رہے ہیں، لیکن ان کے مطابق فلسطینی خود اس اندازِ فکر کے قائل نہیں، اور نہ ہی امت کو ایسا طرزِ فکر اختیار کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر بارود کی گفتگو کے جواب میں ڈاکٹر الأعظمی نے دو سوالات اٹھائے۔ پہلا سوال تارکینِ وطن مسلم برادری کے کردار سے متعلق تھا اور یہ کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔ دوسرا سوال فلسطین کے مستقبل اور اس مقصد کے لیے اسلامی یکجہتی کے ممکنہ کردار سے متعلق تھا۔

ڈاکٹر بارود نے کہا کہ اگرچہ آج بہت سے لوگ فلسطینی کاز کی اسلامی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کے نزدیک یہ رویہ ایک غلط فہمی کے ساتھ ساتھ نوآبادیاتی ذہنیت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ہم اس طرزِ فکر کو قبول کر لیتے ہیں تو ہم خود کو عالمی سطح پر موجود وسیع تر یکجہتی کی تحریک سے فائدہ اٹھانے سے محروم کر دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ فلسطین کو ایک اسلامی کاز قرار دینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ صرف مسلمانوں ہی کا مسئلہ ہے۔

ڈاکٹر بارود کے بعد لیلیٰ العریان نے فلسطین کے ساتھ عالمی یکجہتی پر گفتگو کی، جسے اُنہوں نے اس کاز کی حقانیت کی ایک اہم علامت قرار دیا۔ العریان کے مطابق سیاسی اشرافیہ کی بے حسی دراصل فلسطینیوں کی غیر انسانی تصویر کشی کی عکاس ہے، اور یہی وجہ ہے کہ بعض حلقوں میں اسرائیل کی حمایت اس قدر مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ضروری ہے ہم واضح طور پر یہ سمجھیں کہ فلسطین کی موجودہ صورتِ حال حقیقت میں کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ نہ کوئی "مقدس جنگ” ہے اور نہ ہی اُس صہیونی تصور کی مثال جسے "بغیر لوگوں کی سرزمین، اُن لوگوں کے لیے جو
سرزمین سے محروم ہیں” کے نعرے کے ذریعے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ نسل کشی، نسلی بے دخلی اور آبادکار نوآبادیاتی منصوبے کا معاملہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں صرف سیاست دان ہی نہیں بلکہ بعض مسلم امریکی رہنما بھی شریکِ جرم ہیں۔ اُن کے مطابق ایسی شخصیات اور پروگراموں کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے، چاہے اس کے نتیجے میں ردِعمل یا مخالفت کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

العریان نے نشاندہی کی کہ موجودہ دور میں فلسطین کو قربانی کا بکرا بنانے سے بعض حلقوں کو سیاسی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اُن کے مطابق اسی وجہ سے بعض مسلم امریکی رہنماؤں نے بھی یہی طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم فلسطین کے بارے میں پھیلائی جانے والی جھوٹی کہانیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، اسی طرح اس رویے کے خلاف بھی کھڑا ہونا ضروری ہے۔ ان کے نزدیک سچائی کے حق میں بات کرنا اور اسرائیلی پروپیگنڈا مشین کا مقابلہ کرنا یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ذرائع ابلاغ، امریکی خفیہ اداروں، اور حتیٰ کہ صدرِ امریکہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے غیر مصدقہ دعوؤں کو بھی بے نقاب کیا جائے۔

العریان نے مزید کہا کہ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اسرائیلی تشدد کو اکثر سرد، طبی اور غیر جذباتی زبان میں کیوں بیان کیا جاتا ہے، جبکہ فلسطینی تشدد کے معاملے میں ایسا انداز اختیار نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ فلسطین کے حوالے سے کن پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں اور کنہیں نظر انداز کر دیتے ہیں، اور واقعات کے بیان میں کس نوعیت کی زبان استعمال کی جاتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ فلسطین میں جاری حالات کے بارے میں واضح مؤقف اختیار کرنا اور سچ بولنا صرف مسلمانوں کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری نہیں، بلکہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہماری حکومت اور ہمارے ٹیکس کا پیسہ بھی اس صورتحال سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام اس بات پر کیا کہ اگرچہ باخبر رہنے کے ساتھ ذہنی صدمہ اور کئی مشکلات وابستہ ہیں، پھر بھی ہمیں خود کو ان ابھرتی ہوئی حقیقتوں سے الگ نہیں کرنا چاہیے، اور نہ ہی حق بات کہنے سے خوف زدہ ہونا چاہیے۔

لیلیٰ العریان کے بعد سمیع حامدی نے فلسطین کی موجودہ صورتِ حال کے حوالے سے امت کے طرزِ عمل پر گفتگو کی۔ اُنہوں نے کہا کہ فلسطین ایک اسلامی کاز اس لیے ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے اندر آبادکار نوآبادیات اور اس کے نظریات کو رد کرنے کا ایک فطری احساس موجود ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف فلسطین کے مقدس مقامات تک محدود نہیں بلکہ فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم اور ناانصافی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کاز کی سادگی مسلمانوں کے احساسات پر گہرا اثر ڈالتی ہے، کیونکہ یہ اُن کے بنیادی اخلاقی شعور اور انصاف کے تصور کی نمائندگی کرتی ہے۔

حامدی نے مزید کہا کہ مسلمانوں کو اُن تجاویز کا بھی تنقیدی جائزہ لینا چاہیے جو فلسطینیوں کے سامنے اُن کے جابر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اکثر اوقات رہنماؤں کی جانب سے پیش کیا جانے والا ”دو ریاستی حل“ دراصل ایک مستقل ناانصافی کو قانونی حیثیت دینے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

حامدی نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے حالیہ دور کی ایک اہم تبدیلی کی طرف توجہ دلائی۔ اُن کے مطابق اسرائیل اب فلسطین سے متعلق بیانیے پر اپنی سابقہ اجارہ داری کھوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی میں فلسطینیوں کی نئی نسل اور امت، دونوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جنہوں نے آن لائن دنیا میں فلسطینی مؤقف کو مؤثر انداز میں پھیلایا۔ ان کے مطابق اس تبدیلی کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں، کیونکہ ایک طرف عالمی رائے عامہ فلسطین کے حق میں تبدیل ہو رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اُن جعلی بیانیوں کو بھی چیلنج کیا جا رہا ہے جنہیں اسرائیل اور اس کے حامی فروغ دیتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح فلسطینی مسلمانوں کے لیے امید کا ذریعہ بن رہے ہیں، اسی طرح مسلمانوں کا ردِعمل بھی فلسطینیوں کے لیے حوصلے اور امید کا باعث بن رہا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ آن لائن دباؤ برقرار رکھا جائے اور عوامی سطح پر فلسطین کے بارے میں گفتگو جاری رہے۔ ان کے مطابق اب اسرائیل عوامی رائے پر پہلے کی طرح کنٹرول قائم نہیں رکھ سکتا، اور نہ ہی دوبارہ مکمل طور پر ایسا کرنے کے قابل ہوگا۔

حامدی نے اپنی گفتگو کا اختتام اس بات پر کیا کہ اگرچہ فلسطین میں پیش آنے والے واقعات گہرے غم کا باعث ہیں، لیکن وسیع تر تناظر میں یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ بھی ہے، اور بین الاقوامی برادری ایک نئی سمت کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

مباحثہ

تینوں نشستوں کے بعد سوال و جواب کے لیے مجلس کھول دی گئی، جس کی نظامت ڈاکٹر الأعظمي نے کی۔

پہلا سوال عوامی رائے کی اہمیت سے متعلق تھا۔ سوال یہ تھا کہ کیا ہم عوامی رائے کے اثر کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ عراق جنگ کے خلاف وسیع مخالفت موجود ہونے کے باوجود وہ کوئی مؤثر نتیجہ پیدا نہ کر سکی۔

اس سوال کے جواب میں سمیع حامدی نے کہا کہ اگرچہ وہ اس تاثر کو سمجھتے ہیں، لیکن عوامی رائے کو قابو میں رکھنے کے لیے اسرائیلی حکام اور اُن کے حامیوں کا جارحانہ طرزِ عمل خود اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطین کی جدوجہد میں عوامی رائے کتنی اہم اور مؤثر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی رائے کو غیر مؤثر سمجھنے کا تصور اس حقیقت سے کمزور پڑ جاتا ہے کہ اسرائیلی خود اسے جاری تنازع کے اہم ترین عوامل میں شمار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عوامی رائے کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ جنگ میں ایک طاقتور عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔

دوسرا سوال یہ تھا کہ فلسطینیوں کی انسانی حیثیت کو زیادہ مؤثر انداز میں کیسے اجاگر کیا جا سکتا ہے، اور بااثر حلقوں تک اپنی بات زیادہ مؤثر طریقے سے کس طرح پہنچائی جا سکتی ہے۔

اس سوال کے جواب میں لیلیٰ العریان نے کہا کہ فلسطین سے متعلق ذرائع ابلاغ کی جانبدارانہ کوریج کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے، اور اس مقصد کے لیے میڈیا کے طریقِ کار اور اس کے اثرات کو سمجھنا بھی اہم ہے۔ اُن کے مطابق غیر انسانی زبان اور طرزِ بیان کا مقابلہ اسی صورت ممکن ہے جب لوگوں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے، سچائی کو واضح انداز میں بیان کیا جائے، اور زمینی سطح پر عملی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے غصے اور تشویش کا اظہار کیا جائے۔

تیسرا سوال اسرائیلی لابی سے متعلق تھا، اور یہ کہ مسلمان اس کا مؤثر مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں، نیز کس طرح اپنی ایسی متبادل کوششیں سامنے لا سکتے ہیں جو عملی طور پر نتیجہ خیز ثابت ہوں۔

اس سوال کے جواب میں سمیع حامدی نے کہا کہ اس کا ایک پہلو اُس نکتے سے جڑا ہے جس کا وہ پہلے ذکر کر چکے ہیں، یعنی عوامی رائے کی اہمیت اور اُس پر اثر انداز ہونے کی ضرورت۔ اُن کے مطابق ہمیں تخلیقی طریقے اختیار کرنے ہوں گے، لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ لابنگ کی منظم کوششیں پہلے ہی جاری ہیں، خصوصاً ذرائع ابلاغ کے میدان میں، اور یہی کوششیں اُن سیاسی حقائق کو مضبوط بناتی ہیں جنہیں ہم تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہمارا ردِعمل دنیا کو یہ دکھاتا ہے کہ ہمارے اندر لابنگ کی صلاحیت موجود ہے اور ہم تبدیلی لانے کی قوت رکھتے ہیں۔

چوتھا سوال "بائیکاٹ، سرمایہ کاری کے خاتمے اور پابندیوں” کی تحریک (بی ڈی ایس) اور اس کے اثرات و حدود سے متعلق تھا۔

اس سوال کے جواب میں لیلیٰ العریان نے کہا کہ بی ڈی ایس نے جنوبی افریقہ کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا تھا، اور اگر یہ تحریک واقعی مؤثر نہ ہوتی تو امریکہ میں اس پر پابندی عائد کرنے یا اسے جرم قرار دینے کے لیے اس قدر قانون سازی کی کوششیں نہ کی جاتیں۔ اُن کے مطابق یہ جاری اسرائیلی قبضے اور نسلی امتیاز کے خلاف مزاحمت کی اہم ترین پُرامن صورتوں میں سے ایک ہے۔

آخری سوال اس بارے میں تھا کہ نوجوان فلسطین کے مسئلے پر اپنے سیاسی نمائندوں کے ساتھ کس نوعیت کا طرزِ عمل اختیار کریں۔

اس سوال کے جواب میں سمیع حامدی نے کہا کہ ہمیں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور بلا خوف اپنے سیاست دانوں پر واضح کرنا چاہیے کہ یہ مسئلہ ہمارے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اُن کے مطابق نوجوان پہلے ہی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور وہ سوشل میڈیا کے الگورتھمز کے فلسطین سے متعلق رویوں کو بھی بدل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے جہاں فلسطین کے بارے میں کھل کر گفتگو کی جا سکتی ہے، اور ہمیں اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ان کے مطابق فلسطین کے بارے میں عالمی جذبات میں جو تبدیلی رونما ہو رہی ہے، وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنا دباؤ برقرار رکھیں اور اپنے سیاسی نمائندوں کو یہ احساس دلاتے رہیں کہ ہم ایک مؤثر عوامی قوت ہیں۔

مزید دریافت کریں۔

ایڈوانسڈ اے آئی کے لیے ایک امتی وژن کی طرف

دسمبر 20, 2025
ڈاکٹر جنید قادر

کیا اسلام پسند اب بھی اسلام پسند ہیں؟

نومبر 19, 2025
ڈاکٹر سمیہ ساکریا

سائبر امت، الگورتھمک بالادستی، اور ڈیجیٹل ڈیکالونائزیشن

اکتوبر 30, 2025
ڈاکٹر سحر خامس

نیویگیٹ کریں

امّیٹکس فورمز
توجہ کے علاقے
تحقیقی مقالات
اشاعتیں
امّیٹکس کے بارے میں
تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

ہمارے نیوز لیٹر میں سائن اپ کریں۔