خلافت: ایک فکری جائزہ

عوامیر انجم کا فکری و تجزیاتی مقالہ "خلافت کون چاہتا ہے؟” (۲۰۱۹ء) معاصر مسلم مفکرین کے ہاں خلافت کے تصور پر ایک منفرد اور عمیق علمی تجزیہ فراہم کرتا ہے 1 ۔ یہ مقالہ خلافت کی شرعی حیثیت، عملی امکان اور عصری ضرورت جیسے تین بنیادی پہلوؤں پر مدلل اور منظم انداز میں گفتگو کرتے ہوئے اُس فکری جمود پر تنقید کرتا ہے جو اسلام کے حقیقی سیاسی و تمدنی اظہار کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مصنف مسلم فکری روایت کو جدید قومی ریاست یعنی (Nation-State) جیسے مغربی فکری قالب سے آزاد کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اسی فکری تناظر میں، زیرِ نظر تحریر میں ہم ان دو مروجہ فکری بیانیوں کا تنقیدی جائزہ پیش کریں گے جو خلافت کی شرعی حیثیت یا کم از کم اس کی دینی اہمیت سے انکار پر مبنی ہیں۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ بیانیے فکری اعتبار سے غیر مستحکم ہیں، کیونکہ یا تو وہ سیکولر دباؤ کے تحت تشکیل پاتے ہیں، یا روایتی فکری قیود سے باہر نکلنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ یہی فکری محکومیت درحقیقت ان کی علمی کمزوری کی بنیاد ہے۔

خلافت کی شرعی حیثیت کے موضوع پر عوامیر انجم کا موقف نہایت واضح اور دوٹوک ہے۔ وہ اس مسئلے کو اجماعی نوعیت کا حامل قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: "تمام موجودہ مسلم مکاتب فکر اور مذہبی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ امت مسلمہ کے لیے ایک رہنما (امام) کا تقرر فرض ہے” (انجم 2019، ص 24)۔ مصنف نے اس اجماعی موقف کی تائید میں متعدد معتبر علماء کرام کے اقوال پیش کیے ہیں، جن میں امام ابو محمد علی بن احمد بن حزم الظاهری (456ھ/1064ء)، امام ابو حفص نجم الدین عمر النسفی (537ھ/1142ء)، شیخ الاسلام تقی الدین احمد بن تیمیہ (728ھ/1328ء)، سعد الدین مسعود بن عمر التفتازانی (792ھ/1390ء)، عبدالرحمن بن محمد بن خلدون (808ھ/1406ء)، اور علاء الدین محمد بن علی الحصکفی (1088ھ/1677ء) شامل ہیں۔ اس فہرست میں دیگر فقہی مکاتب کے متعدد ائمہ و متکلمین کا اضافہ بھی ممکن ہے، جو اسی موقف کے حامل رہے ہیں۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ اسلامی علمی روایت میں خلافت کی فرضیت اور اس کے بنیادی تشخص پر اجماع پایا جاتا ہے۔ تاہم، جدید اسلامی علمی روایت کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ وہ اس فرضیت کو نئے اور تخلیقی انداز میں دوبارہ زیرِ بحث لاتی اور اس پر غور و خوض کرتی ہے۔

روایتی تصور خلافت کو بہت سے جدید فکری چیلنجز کا سامنا ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں ہم دو اہم رجحانات کا تنقیدی جائزہ پیش کریں گے: ایک وہ موقف جو خلافت کی فرضیت کا انکار کرتا ہے؛ اور دوسرا وہ جو اگرچہ نظریاتی طور پر اس کے جواز کو تسلیم کرتا ہے، لیکن عملاً اس کے امکان کو رد کر تا ہے۔ پہلا رجحان خلافت کو صرف ایک تاریخی و سیاسی واقعہ قرار دیتا ہے، اور اس کے کسی مستقل شرعی جواز یا دینی اہمیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس فکر کی نمایاں مثال علی عبدالرزاق (۱۸۸۸–۱۹۶۶ء) کا وہ نظریہ ہے جس کے مطابق خلافت محض ایک تاریخی اتفاق ہے، نہ کہ کوئی شرعی فریضہ۔ اس فکری منہج کی معاصر ترجمانی ڈاکٹر جاوید احمد غامدی کے افکار میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔دوسرا رجحان اصولی سطح پر خلافت کے جواز کی تائید تو کرتا ہے، لیکن عملی اعتبار سے اس کا انکار اس طرح کرتا ہے کہ یہ تائید بالآخر بے معنی رہ جاتی ہے۔ عصرِ حاضر میں یہی نقطۂ نظر زیادہ نمایاں اور غالب دکھائی دیتا ہے، جس کے باعث اس پر سنجیدہ علمی مکالمہ کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس رجحان کی معاصر مثالیں شیخ اکرم ندوی اور شیخ حمزہ یوسف کے تقریروں اور تحریروں میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

آئندہ صفحات میں ہم ان دونوں فکری رجحانات کی پیش کردہ ایک ایک دلیل کا علمی و تنقیدی جائزہ پیش کریں گے، اور خاص طور پر ان بنیادی استدلالات کا تجزیہ کریں گے جو ان مواقف کی تائید میں پیش کیے جاتے ہیں۔

صریح انکار: ایک فکری تجزیہ

جاوید احمد غامدی کا یہ صریح موقف کہ خلافت مسلمانوں پر کوئی شرعی فریضہ نہیں، دراصل چند بنیادی مقدمات پر مبنی ہے جنہیں وہ تخلیقی طور پر یکجا کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام کا اصل خطاب فرد سے ہے، نہ کہ اجتماعی ہیئت سے۔ ان کا استدلال ہے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں، اور "خلافت” کوئی شرعی اصطلاح نہیں کیونکہ اسے نہ اللہ تعالیٰ نے وضع فرمایا اور نہ ہی رسول اللہ نے، بلکہ یہ بعد کے علما کی ایک اجتہادی تعبیر ہے۔

مزید یہ کہ قرآن و حدیث میں کوئی صریح ہدایت موجود نہیں جو تمام مسلم علاقوں کے ایک متحدہ نظمِ حکومت کو لازمی قرار دیتی ہو 2 ۔

غامدی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ شریعت نے مسلم معاشرے کو بعض اجتماعی فرائض کا پابند کیا ہے، جن میں تبلیغِ دین، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، جہاد، عدل کا قیام، اور نماز و زکوٰۃ کا نظام شامل ہیں – اور یہ تمام کام حکومتی سطح پر ہی انجام دیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ان کا موقف یہ ہے کہ اگر مسلم حکومتیں ان میں سے کسی بھی فریضے کی ادائیگی نہ کریں، تو علماء اور دینی قیادت کا کام صرف نصیحت کرنا ہے۔ ان کے نزدیک، نہ تو ان حکومتوں کو مجبور کرنے کی کوئی شرعی ذمہ داری علماء پر عائد ہوتی ہے، اور نہ ہی اسلامی حکومت کے قیام کی کوئی شرعی تکلیف باقی رہتی ہے، اگر وہ بالفعل موجود نہ ہو۔

اسلام کو محض انفرادی سطح پر مخاطب قرار دینے کے تصور میں ایک قابلِ توجہ تجزیاتی پہلو ہے، اور "خلافت” کو غیر شرعی اصطلاح قرار دینے کے اس بے بنیاد دعوے پر بھی تفصیل سے گفتگو کی جا سکتی ہے ۔ تاہم، اختصار کے پیشِ نظر ان نکات کی تفصیل فی الحال زیرِ بحث نہیں لائی جا رہی، کیونکہ یہ اعتراضات بڑی حد تک ایک خیالی معترض کے تصور پر مبنی ہیں اور خلافت کی فرضیت کے انکار کے مرکزی3 استدلال سے براہِ راست متعلق نہیں۔ غامدی کے استدلال کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ نصوصِ شرعیہ میں کوئی صریح حکم موجود نہیں جو خلافت کے قیام کو لازم قرار دیتا ہو۔ ان کے نزدیک وہ اجتماعی فرائض، جو خلافت کی صورت میں ادا کیے جاتے —اگر ایسا نظام کسی طور وجود میں آ بھی جائے— انہیں معاصر مسلم قومی ریاستیں بھی انجام دے سکتی ہیں۔ بلکہ وہ اس سے آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر یہ فرائض سرے سے ادا نہ بھی کیے جائیں، تب بھی امت شرعاً گناہگار قرار نہیں پاتی۔

یہاں سب سے پہلا قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ وہی شرعی فرائض، جنہیں کلاسیکی علماء نے خلافت کے وجوب پر تقریباً اجماعی دلیل کے طور پر پیش کیا تھا—اور جن کے اثبات میں "ما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب” (جو چیز واجب کے لیے ضروری ہو وہ خود بھی واجب ہے) کے اصول کو بنیاد بنایا گیا—ان فرائض کو صرف حکمرانوں تک محدود کر کے، ان کی شرعی وجوبیت کو عملاً ناقابلِ عمل بنا دیا گیا ہے۔ درحقیقت، یہ تمام فرائض فرائضِ کفایہ کی حیثیت رکھتے ہیں جو بنیادی طور پر پوری امت مسلمہ کو مخاطب کرتے ہیں، اور صرف عملی نفاذ کے مرحلے میں حکمرانوں کو امت کے نمائندے کی حیثیت سے مکلف بناتے ہیں۔ مزید برآں، شریعت میں واضح ہدایات موجود ہیں کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اسلام کے تحت اور ایک متحدہ قیادت کے سایہ میں زندگی گزاریں۔ اس کی واضح مثال صحیح بخاری و مسلم میں موجود وہ احادیث ہیں جن میں ایک ہی حکمران کے وجود پر زور دیا گیا ہے، حتیٰ کہ اگر کسی خلیفہ کے ساتھ بیعت شرعی طور پر مکمل ہو چکی ہو تو اس کے مخالفین سے قتال کی بھی – بطورِ آخری چارہ – اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ دیگر ذرائع ناکام ہو چکے ہوں۔ غامدی ان نصوص سے واقف ہیں اور ان کا حوالہ بھی دیتے ہیں، لیکن ان کی تاویل اس انداز میں کرتے ہیں کہ گویا یہ احکام پوری امت مسلمہ کے لیے نہیں بلکہ ہر مسلم ریاست کے لیے علیحدہ علیحدہ نازل ہوئے ہوں 4 – گویا شریعت کا نزول جدید قومی ریاستوں کے تناظر میں ہوا ہو۔

غامدی کے فکری نظام کا سب سے نمایاں کمزور پہلو جدید قومی ریاست سے متعلق ان کا غیر تاریخی تصور ہے، جس کے تحت وہ قومی ریاست کو نظریاتی طور پر ایک غیر جانب دار اور محض انتظامی اکائی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے بیانیے میں جدید سیکولر اور خودمختار قومی ریاست کو ایک ایسی تحفظ یافتہ نیم مقدس حیثیت حاصل ہو جاتی ہے جس پر تنقیدی نظر ڈالنا ممکن نہیں رہتا۔ ان کے اپنے الفاظ میں: "ان سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی قومی ریاستوں اور قومی شناختوں کو ترک کر دیں اور ایک قوم اور ایک ریاست بن جائیں۔” یہ تعبیرات بظاہر حیران کن فکری موشگافیوں پر مشتمل ہیں، جن کے ذریعے ایک توخلافت کو ایک محض تاریخی اور قابل ترک ادارہ قرار دے کر اسے مکمل طور پر غیر مذہبی قرار دے دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی قومی ریاست کو ایک ناگزیر اور ناقابل تنقید ادارے کے طور پر مقدس بنا دیا جاتا ہے۔

مرکزی دھارے میں خلافت کا عملی انکار

"مرکزی اسلامی فکر” میں ایک دوسرا، نسبتاً معتدل خیال کیا جانے والا بیانیہ بظاہر غامدی کے قطعی انکاری مؤقف سے مختلف دکھائی دیتا ہے، تاہم عملاً یہ بھی اسی نتیجے پر منتج ہوتا ہے۔ البتہ اصل فرق صرف اس قدر ہے کہ یہ موقف خلافت کے شرعی وجوب کا صریح انکار نہیں کرتا، بلکہ اسے ترجیحات کی فہرست سے نکال کر ایک عملی انکار کی شکل دے دیتا ہے۔ اس بیانیے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ خلافت کو بلاشبہ ایک مفید اور بعض مواقع پر قابلِ ترجیح ادارہ تسلیم کرتا ہے، تاہم اسے اسلامی عقیدے یا شریعت کے لازمی اجزاء میں شامل نہیں گردانتا۔ اس تصور کے تحت اسلام کو بنیادی طور پر فرد اور رب تعالیٰ کے درمیان ایک انفرادی و روحانی تعلق کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے، اور مومن کی نجات کا دار و مدار خلافت کے قیام یا عدم قیام پر نہیں رکھا جاتا۔ مزید برآں، اگرچہ اصولی طور پر اس بات کا اعتراف موجود ہے کہ شریعت خلافت کے قیام کا تقاضا کرتی ہے — وہ بھی بطورِ ذریعہ، نہ کہ بطورِ غایت — تاہم موجودہ مسلم معاشروں کی دینی پسماندگی اور عملی رکاوٹوں کو بنیاد بنا کر اس مطالبے کو ناقابلِ عمل قرار دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں خلافت کا ادارہ ایک غیر ضروری اور غیر متعلقہ تصور بن کر رہ جاتا ہے۔ اس بیانیے کا عملی نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ خلافت اور اجتماعی نظم جیسے تصورات کو پس منظر میں ڈال کر محض انفرادی ایمان، عقیدہ اور عبادات جیسے بنیادی امور کو اصل توجہ کا مرکز قرار دیا جائے۔

اس فکری رجحان کی ترجمانی کرنے والی معاصر شخصیات میں مولانا اکرم ندوی کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے 5 ۔ شیخ حمزہ یوسف اور حاتم الحاج بھی، اگرچہ مختلف فکری راستوں سے گزرتے ہوئے، بالآخر اسی عملی نتیجے تک پہنچتے ہیں۔ شیخ حمزہ یوسف کا سکوت پر مبنی قدامت پسندانہ رجحان انہیں یا تو مسلم ممالک کے سیاسی حالات پر خاموش رہنے پر مجبور کرتا ہے، یا بعض حکومتوں (مثلاً مراکش اور متحدہ عرب امارات) کو شرعی جواز دینے کی طرف لے جاتا ہے۔ ان کے فکری سانچے میں کسی بڑی سیاسی یا انقلابی تبدیلی کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ اس کے برخلاف، مولانا اکرم ندوی اور ڈاکٹر حاتم الحاج سیاسی تبدیلی کے امکانات کو اصولی طور پر تسلیم کرتے ہیں، لیکن ان کی فکری امیدیں بالآخر جدید سیکولر طرزِ حکمرانی سے وابستگی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں 6 ۔

مولانا ندوی کا موقف بطورِ خاص توجہ طلب ہے، جس کے مطابق دین ایک خالص انفرادی معاملہ ہے، جو بندے اور اس کے رب کے درمیان محدود ہے۔ ان کے نزدیک دین کا اصل مقصد ہر فرد کا اپنی ذمہ داریاں نبھانا اور نیک مسلمان بننا ہے۔ اگر معاشرے میں ایسے افراد کثیر تعداد میں موجود ہوں تو ان پر اجتماعی نظم کو بھی اسلامی اصولوں کے مطابق ترتیب دینا لازم ہو جاتا ہے۔ البتہ ایسی حکومت کا قیام نہ تو شرعی طور پر فرض ہے اور نہ ہی اسے فرد کی نجی دینداری کے لیے کوئی لازمی شرط تصور کیا جاتا ہے؛ کیونکہ ان کے نزدیک انفرادی دینداری ہی دین کا اصل ہدف ہے۔

ڈاکٹر اکرم ندوی کے نزدیک موجودہ حالات میں مسلم ممالک کے لیے سب سے موزوں راستہ سیکولرازم کو اختیار کرنا ہے۔ ان کے مطابق ہر معاشرے کی سیاست وہاں رائج اقدار اور سماجی ڈھانچوں پر استوار ہوتی ہے، اور چونکہ مسلم ممالک میں بالعموم اسلامی اقدار غالب نہیں ہیں، اس لیے مذہبی یا اسلام پر مبنی سیاسی نظام ناگزیر طور پر ناکامی سے دوچار ہوگا۔ اسی بنا پر وہ استدلال کرتے ہیں کہ سیاسی میدان میں سیکولر طرزِ عمل اپنانا چاہیے تاکہ اسلامی اقدار کو آزادانہ طور پر نمو پانے کا موقع مل سکے۔ ان کے نزدیک "سیکولرازم” سے مراد ایسا نظام ہے جس میں ریاست تمام شہریوں کے ساتھ مساوی اور منصفانہ برتاؤ کرے اور ہر مذہب (بشمول اسلام) کو ریاستی جبر یا مداخلت کے بغیر اپنی داخلی زندگی اور سماجی سرگرمیوں کو آزادانہ طور پر جاری رکھنے کا حق حاصل ہو۔ تاہم، ان کی رائے یہ ہے کہ فی الحال مسلم ممالک میں اس طرح کی آزادی میسر نہیں، کیونکہ ان ممالک میں سیکولرازم صرف نام کی حد تک موجود ہے، حقیقت میں نہیں۔

اگرچہ اس موقف پر تفصیلی گفتگو کی گنجائش موجود ہے، تاہم ہم یہاں محض دو ایسے بنیادی نکات پر اکتفا کریں گے جو اس کے فکری ضعف کو نمایاں کرتے ہیں۔

اوّلاً، یہ موقف—جو غامدی صاحب کے افکار سے ہم آہنگ ہے—دینداری کو محض ایک انفرادی معاملہ قرار دیتا ہے۔ اس میں جدید پروٹسٹنٹ طرزِ فکر کی بازگشت سنائی دیتی ہے، جہاں دین کو شخصی نجات، روحانی اطمینان، اور فرد و ربّ کے باہمی تعلق تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً، شریعت کے اجتماعی پہلو یا تو مشروط حیثیت اختیار کر لیتے ہیں یا بالکلیہ غیر ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اس تصور میں انفرادی دینداری کا فہم، اجتماعی ذمہ داریوں سے جدا کر کے قائم کیا جاتا ہے۔

ثانیاً، اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ خلافت کا قیام نہ تو نجاتِ اُخروی کے لیے شرط ہے اور نہ ہی مقاصدِ دین کے لیے بنیادی تقاضا، تو اسی اصول کے تحت دیگر اجتماعی فرائض—جیسے جہاد، نظامِ زکوٰۃ، شرعی تجارت و معیشت، اور قضاء و عدالت—بھی اپنی لازمی حیثیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اور جب یہ تمام اجتماعی احکام اپنی شرعی حیثیت سے گرجائیں تو اسلام، بحیثیت ایک ہمہ جہتی دینی نظام کے، محض ایک انفرادی اخلاقی خاکہ بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں دین اپنی وہ جامعیت اور تمدنی فعّالیت کھو بیٹھتا ہے جو اس کی اصل روح اور پیغام کا تقاضا ہے۔

جہاں کلاسیکی اسلامی فکر میں نجاتِ اُخروی کے لیے انفرادی عبادات اور اخلاقیات کی پابندی کے ساتھ ساتھ اجتماعی دینی ذمہ داریوں میں حسبِ استطاعت شرکت کو بھی لازم سمجھا گیا ہے—اور ان فرائض کی انجام دہی کو پوری امت کی غیر مشروط شرعی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے—وہیں جدید، یا یوں کہیے کہ جدیدیت سے متاثرہ، نقطۂ نظر دین کو محض فرد کا ذاتی تجربہ بنا کر اجتماعی پہلوؤں سے یکسر کاٹ دیتا ہے۔ یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ دین کو صرف ایک شخصی معاملہ تصور کرنے کا یہ رجحان نہ تو قرونِ اولیٰ کے مسلمان علما و فقہا، بلکہ تمام پیش جدید مسلم معاشروں کے لیے بھی قطعی طور پر اجنبی تھا—بلکہ اس زاویے کو وہ اپنی زبان اور سوچ میں بیان بھی نہیں کر سکتے تھے۔ یہ محض جدید عہد کے فکری سانچوں اور سیکولر تصورات کا نتیجہ ہے کہ آج ہم دین کو محض ایک ذاتی تجربہ یا امر سمجھنے لگے ہیں اور بلا تنقید اسے قبول بھی کر لیتے ہیں۔

دوسرا اہم مسئلہ – جو پہلے نکتے سے گہرا تعلق رکھتا ہے – سیکولرازم کو ایک غیر جانبدار نظام حکمرانی سمجھنے کا وہ عمومی مفروضہ ہے جو ہر فرد کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ تصور، جو اب علمی حلقوں میں خاصی حد تک مسترد کیا جا چکا ہے، درحقیقت آزاد خیال (لبرل) طبقے کی خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں – بلکہ اگر اسے جان بوجھ کر پھیلایا جانے والا فکری پروپیگنڈا قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سیکولرازم کسی بھی دوسرے نظریہ حیات یا مذہبی نظام کی طرح نہ تو غیر جانبدار ہے اور نہ ہی نظریاتی تعصبات سے بالاتر۔ جیسا کہ طلال اسد، صبا محمود اور دیگر معاصر محققین نے اپنی تحقیقات میں واضح کیا ہے کہ سیکولرازم محض مذہبی آزادی کے نعروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اپنے مخصوص اقداری نظام اور معیارات کے تحت مذہب کی تشکیل نو کرتا ہے، اس پر پابندیاں عائد کرتا ہے اور بعض صورتوں میں اسے یکسر مسترد بھی کر دیتا ہے 7 ۔ ایسے میں یہ کہنا کہ اگر سیکولر قوتیں "صحیح طریقے” سے کام کریں تو اسلامی اقدار کو ترقی کرنے کا موقع ملے گا – نہ صرف انتہائی سادہ لوحانہ تصور ہے بلکہ ایک خطرناک مغالطہ بھی۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس قسم کے مفروضے آج بھی سنجیدہ علمی حلقوں میں سننے کو ملتے ہیں – جو نہ صرف ان کے فکری اثرات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ موجودہ علمی و فکری منظرنامے میں ایک نہایت اہم خلا کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

یہ تحریر خلافت سے متعلق معاصر مسلم فکری منظرنامے کے پیچیدہ اور متنوع رجحانات پر چند ابتدائی اور تمہیدی تأملات پیش کرتی ہے۔ ہماری کوشش صرف اتنی رہی ہے کہ اس بحث میں خلافت کی شرعی حیثیت کو بطور بنیادی محور سامنے رکھتے ہوئے ایک سنجیدہ علمی گفتگو کی ابتدا کی جائے۔ تاہم واضح ہے کہ جب اس موضوع کے دیگر پہلو زیربحث آئیں گے تو وہاں بھی اسی نوعیت کے فکری سوالات اور چیلنجز سامنے آئیں گے، جو مزید علمی تدبر اور تنقیدی گہرائی کے متقاضی ہوں گے۔

عثمان بدر

عثمان بدر امیٹکسس انسٹی ٹیوٹ میں ریسرچ آپریشنز مینیجر ہیں۔ وہ عربی، اسلامی علوم اور کانٹی نینٹل فلسفے کے طالب علم ہیں۔ وہ فی الحال ویسٹرن سڈنی یونیورسٹی میں فلسفہ میں پی ایچ ڈی کے آخری مراحل میں ہے، جس کا مرکز لبرل سیاسی فلسفے میں سیکولریت کے تصور اور سیکولرازم کی قانونی حیثیت پر تنقید ہے۔

نوٹس

  1. Anjum, O (2019, Oct 31), ‘Who Wants the Caliphate?’, Yaqeen Institute for Islamic Research: https://yaqeeninstitute.org/ovamiranjum/who-wants-the-caliphate
  2. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:
    Ghamidi J (2016, Feb 03), ‘Islam and the State: A Counter Narrative’, Al-Mawrid: http://bit.ly/islam-and-state; and Ghamidi J (2015, Mar 03), ‘Khilafah, Not a Religious Term’ (S Saleem, trans.), NewAgeIslam: http://bit.ly/khilafah-not-religious
  3. یہ امر اہم ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس لفظ کا استعمال شرعاً واجب ہے؛ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ اصطلاح اور اس کا مفہوم — جو اس سے مراد لیا جاتا ہے — شریعت میں ثابت و مستند حیثیت رکھتے ہیں۔
  4. اس موقف کو تقویت دینے کے لیے بعض اوقات غیر شعوری طور پر ایسی تعبیریں اختیار کی جاتی ہیں جو اصل متن کے مفہوم میں کسی قدر تحریف پیدا کرتی ہیں۔ مثلاً جناب جاوید احمد غامدی صاحب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ: "ریاست کا حاکم ایک ہی ہو سکتا ہے”۔ تاہم جس روایت کا حوالہ وہ دیتے ہیں، یعنی امام بیہقی کی السنن الکبرى (حدیث: 16550)، اس میں ریاست یا ریاستی نظام کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ اصل روایت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: "لا یحلّ أن یکون للمسلمین أمیران” یعنی "یہ جائز نہیں کہ مسلمانوں کے دو امیر ہوں”۔ یہاں "المسلمین” پر داخل لامِ جنس اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خطاب تمام مسلمانوں سے ہے، نہ کہ کسی مخصوص ریاست یا جغرافیائی وحدت سے۔ مزید برآں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اسی روایت میں اس ممانعت کی علت بھی بیان فرماتے ہیں کہ دو یا زیادہ امراء کی موجودگی امت میں انتشار، افتراق اور فتنہ و فساد کا باعث بنے گی۔ ظاہر ہے کہ خودمختار ریاستوں کی کثرت عین اسی تفرقہ و فساد کو جنم دیتی ہے جس سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خبردار فرمایا۔
  5. ان کے موقف کی وضاحت کے لیے دیکھیے:
    Nadwi, A (2017, Sep 10), ‘Should Muslims Establish the Khilafah’ [Video], YouTube: https://www.youtube.com/watch?v=iJ2ml87pTrs; and Nadwi, A (2020, Jul 22),’ Ask Shaykh YQ Special with Dr. Akram Nadwi’, https://www.youtube.com/watch?v=TjFCF2QsMQ8&t, 23.00-29.30.
  6. اس موضوع پر حالیہ موقف کی تفصیل کے لیے دیکھیے: شیخ حاتم الحاج کی فیس بک پوسٹس
    https://www.facebook.com/drhatemalhaj/posts/404953144333562 اور
    https://www.facebook.com/drhatemalhaj/posts/409161013912775.
    اسی سیاق میں دیکھیے: شیخ حمزہ یوسف کا نقطۂ نظر، جس میں وہ سیکولرازم کو اسلام کے ساتھ ہم آہنگ تصور کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو: https://www.youtube.com/watch?v=BV2biid2SSA
  7. Asad T, Formations of the Secular, Stanford University Press, 2003, and Mahmood S, Religious Difference in a Secular Age. Princeton University Press, 2016.

مزید دریافت کریں۔

سائبر امت، الگورتھمک بالادستی، اور ڈیجیٹل ڈیکالونائزیشن

اکتوبر 30, 2025
ڈاکٹر سحر خامس

انجینئرنگ ایک قومی اسلام: دیانیت کی کمالسٹ میکنگ

ستمبر 15, 2025
ڈاکٹر امیر کایا

امیٹکسس کی ضرورت کیوں ہے؟ایک فکری مناقشہ

اگست 6, 2025
اوامیر انجم

نیویگیٹ کریں

امّیٹکس فورمز
توجہ کے علاقے
تحقیقی مقالات
اشاعتیں
امّیٹکس کے بارے میں
تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

ہمارے نیوز لیٹر میں سائن اپ کریں۔