تفصیل
ایک متحد اور خوشحال امت کی بنیاد امتّی بچوں کی تربیت سے رکھی جاتی ہے۔ ایک ایسے مسلم کردار کی تشکیل کے لیے جو زندگی کو امتّی زاویے سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، لازم ہے کہ ایمان کی پختگی، اخلاقی دیانت، اور خودمرکزی سے ہٹ کر اجتماعی بھلائی اور امت کے مفاد کے احساس کو پروان چڑھایا جائے۔ اس عمل میں والدین کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس مذاکرے میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ "امتّی بچہ” کسے کہا جا سکتا ہے اور ایک بالغ، باشعور مسلم شناخت کی تعمیر کے لیے کون سے بنیادی عناصر ضروری ہیں۔ موجودہ تربیتی چیلنجوں کے پیش نظر، اس میں ان عملی طریقوں اور حکمتِ عملیوں پر بھی بات کی گئی جو والدین اپنے بچوں میں امتّی شناخت پیدا کرنے کے لیے اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ گفتگو ایک مضبوط اور خوشحال امت کی تشکیل میں خاندانی تربیت کے کردار کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
ڈاکٹر عثمان عمرجی اسلامیات اور تعلیمی نفسیات کے ماہر ہیں۔ انہوں نے مصر کی جامعہ ازہر سے تعلیم حاصل کی اور کیلیفورنیا یونیورسٹی، اروائن سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اس وقت یَقین انسٹیٹیوٹ برائے اسلامی تحقیق میں سروے ریسرچ اور ایویلیوایشن کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ مذہب، نفسیات، اور تعلیم کے باہمی تعلق پر تحقیق کرنے والے ماہرِ تعلیم اور مذہبی اسکالر ہیں۔ ان کے تحقیقی موضوعات میں دینداری کی نشوونما، انسانی تحریک (motivation)، اور فیصلہ سازی شامل ہیں۔
گفتگو اور سوال و جواب کے سیشن کی نظامت ڈاکٹر اسامہ العظمی (Vrije Universiteit Amsterdam) نے کی۔
خلاصہ مجلس مذاکرہ
مقالہ
تمہید
- امت کے حوالے سے مباحث عموماً مادی وسائل کے استعمال تک محدود رہتے ہیں، حالانکہ اس سے زیادہ بنیادی اہمیت انسانی وسائل کو حاصل ہے—خصوصاً ایسے افراد کی تربیت، جو امت کے لیے فعال کردار ادا کریں۔
- یہاں معیار کو مقدار پر ترجیح حاصل ہے؛ ایک فرد بسا اوقات ہزار افراد کے برابر اثر رکھتا ہے۔
- اولاد کی تربیت کے عمل میں نوجوانی کا مرحلہ نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
نوجوانی
- نوجوانی دراصل شناخت کے تعین اور دنیا میں اپنی جگہ کے شعور سے متعلق ایک اہم مرحلہ ہے۔
- نوجوان بیک وقت دو بظاہر متضاد سوالات کو سمجھنے اور ان کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
- میں اپنے اردگرد کی دنیا میں اپنی جگہ کیسے بناؤں؟
- میں اس دنیا میں خود کو کس طرح نمایاں کروں؟
امتی تربیت
- مغربی معاشروں میں اولاد کی پرورش کے دباؤ کے باعث بہت سے والدین اپنی توقعات محدود کر لیتے ہیں اور بس یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اسلام کی بنیادی تعلیمات سے واقف ہوں۔
- اس سے کچھ بلند معیار یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایسے مسلمان تیار کیے جائیں جو ذاتی طور پر متقی ہوں اور دنیاوی میدان میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کریں—لیکن قرآن تربیت کی ذمہ داری کو اس انداز میں پیش نہیں کرتا۔
- قرآن میں مسلمان کا مثالی تصور یوں بیان ہوا ہے: "اور اُس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہو گی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں” [41: 33]
- اصل سوال یہ ہے کہ اولاد کو مضبوط امتی شناخت کے ساتھ کیسے پروان چڑھایا جائے، یعنی ایسے افراد کیسے تیار کیے جائیں جو اس عالمی مسلم امت کے ساتھ گہرا تعلق محسوس کریں جس کا وہ حصہ ہیں۔
- وابستگی انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اگر اولاد کو امت کے ساتھ اپنی وابستگی کا احساس نہ ہو تو وہ اسے کسی اور جگہ تلاش کرے گی، جیسے قومیت، نسل، نسلی قومیت، جنس، طبقہ، سیاست یا مسلک۔
امتی سماجی تشکیل
- متعدد شناختوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے بچے اپنی مختلف شناختوں کو اس بنیاد پر ترتیب دیتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ان کا تعلق کس قدر مضبوط ہے۔
- کسی شناخت کو جو ترجیح دی جاتی ہے، وہ دراصل ایک سماجی تربیتی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔
- اہمیت کے لحاظ سے امتی یکجہتی کو ترجیح دینے کا نتیجہ درج ذیل عوامل سے پیدا ہوتا ہے:
- خاندانی اثر و رسوخ
- محلے اور کمیونٹی کا اثر
- وسیع تر معاشرے اور ثقافتی اثرات
امتی تربیتِ اولاد
بچوں میں امت کے بارے میں فکر پیدا کرنے کے لیے والدین کے اہم اقدامات میں شامل ہیں:
- عملی نمونہ
- اولاد کو اپنے والدین کے عمل اور رویے میں امت سے وابستگی کا واضح اظہار نظر آنا چاہیے۔
- اس کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ آیا والدین صرف اپنے نسلی پس منظر سے متعلق مسائل تک محدود رہتے ہیں یا دیگر مسلم مسائل کے لیے بھی حساسیت اور دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔
- فکری تشکیل اور ترغیب
- والدین کو شعوری طور پر اولاد میں امت کے لیے احساسِ ذمہ داری پیدا کرنی چاہیے اور انہیں اس کی حمایت کے لیے آمادہ کرنا چاہیے۔
- موجودہ سیاسی بے اختیاری کے حالات میں یہ نہایت اہم ہے کہ عملی اختیار، مثبت تبدیلی کی صلاحیت، اور مستقبل کے بارے میں امید افزا تصور کو اجاگر کیا جائے۔
- والدین اور بچوں کی مشترکہ سرگرمیاں
- والدین کو چاہیے کہ وہ اولاد کے ساتھ مختلف سرگرمیوں اور تجربات میں شریک ہوں۔
- امتی وسائل اور تجربات کی فراہمی
- لسانی وسائل: اولاد کو دنیا بھر کے مسلمانوں اور ان کی تاریخی و زندہ فکری روایت تک رسائی فراہم کی جائے۔
- سفر: اولاد کو مسلم ممالک، اسلامی طرزِ تعمیر اور مختلف مسلم معاشروں سے روشناس کرایا جائے؛ انہیں ایسے مساجد دیکھنے کا موقع دیا جائے جو ان کے معمول سے مختلف ہوں، تاکہ ان میں وسعتِ نظر اور عظمت کا احساس پیدا ہو۔
بحث ومباحثہ
امید اور مثبت سوچ کی تشکیل
- اولاد کو یہ دکھایا جانا چاہیے کہ نسل کشی جیسے ناقابلِ بیان مظالم کے باوجود بھی مسلمان بالآخر کامیابی اور فتح سے ہم کنار ہوتے ہیں۔
"پوشیدہ شناخت” اور نمایاں اسلامی طرزِ عمل
- اسلاموفوبیا اور "وار آن ٹیرر” جیسے دباؤ والے ماحول میں مسلمان، خصوصاً معاشی طور پر خوش حال اور کامیاب افراد، بعض اوقات اپنی مسلم شناخت کو چھپانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
- عملی نمونہ اور اس کے اشارے: والدین کو چاہیے کہ وہ اعتماد کے ساتھ نمایاں اسلامی طرزِ عمل کا نمونہ پیش کریں اور ان باریک پہلوؤں پر توجہ دیں جو اولاد کی شناخت کو مضبوط یا کمزور بنا سکتے ہیں۔
- والدین کا عوامی مقامات پر نماز کا اہتمام، خواہ حالات جیسے بھی ہوں، اولاد کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ایمان کوئی ایسی چیز نہیں جسے چھپایا جائے۔
- اس کے برعکس،والدین کا اسلامی شناخت کو غیر محسوس انداز میں کم ظاہر کرنا—جیسے نام کو مختصر یا بدل لینا تاکہ دوسروں کے لیے زیادہ قابلِ قبول ہو—یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ مسلمان ہونا کوئی ایسی بات ہے جسے چھپانا چاہیے۔
- جماعت اور سماجی وابستگی کی اہمیت: انسان فطرتاً سماجی مخلوق ہے، اس لیے اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ محض فرد کی حیثیت سے ترقی کرے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جو اس کے لیے ناموافق ہو۔
- جب اولاد ایسے افراد کے درمیان ہوتی ہے جو ان کے ایمان میں شریک ہوں تو انہیں اپنے ایمان اور نیک اعمال پر قائم رہنے کا اعتماد حاصل ہوتا ہے۔
- والدین کو چاہیے کہ وہ شعوری طور پر ایسے ماحول تلاش کریں یا تشکیل دیں جہاں اجتماعی اسلامی عبادات معمول کا حصہ ہوں۔
- "ہجرت” ہر حال میں ضروری نہیں؛ تاہم ایسے شہر یا محلے میں منتقل ہونا جہاں مسلمانوں کی معقول تعداد موجود ہو، اجنبیت کے احساس کو کم کر سکتا ہے۔
مضبوط اور پائیدار کمیونٹیز کی تعمیر
والدین کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنے اختیار اور عملی صلاحیت کا واضح شعور رکھیں۔
- اگر وہ کسی شہر میں واحد مسلمان ہوں تو انہیں چاہیے کہ چھوٹی اور سادہ سطح سے اپنی کوششوں کا آغاز کریں۔
- نسبتاً تنہائی کے ایسے حالات میں یہ اقدامات مختلف نسلی گروہوں کے مابین تعاون کی ضرورت کے پیشِ نظر امتی شعور کو فروغ دیتے ہیں۔
- اگر موجودہ ماحول میں بچوں کی عبادت، تعلیم اور سماجی روابط کے لیے مناسب جگہیں میسر نہ ہوں تو والدین اپنے اختیار کا اظہار دو صورتوں میں کر سکتے ہیں: یا وہ خود ان مقامات کے قیام کی قیادت کریں [٢٥:٧٤]، یا ایسے ماحول کی طرف منتقل ہو جائیں جہاں یہ سہولیات دستیاب ہوں [٤:٩٧]۔
بعد کے مراحل میں شناخت کا تحفظ اور اس کی نئی تشکیل
- امتی شناخت کو پروان چڑھانے کے لیے کبھی بھی دیر نہیں ہوتی۔
- حتیٰ کہ بیس کی دہائی میں، جب نوجوان زیادہ خودمختار ہو جاتے ہیں، انہیں گیپ ایئر کے سفر، زبانوں کے حصول، مسلم ممالک کے تبادلہ پروگراموں اور مختلف مسلم ثقافتوں سے واقفیت کے ذریعے مؤثر انداز میں متاثر کیا جا سکتا ہے—ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور معاونت والدین کی ذمہ داری ہے۔
- امتی شعور شادی کے دائرے میں مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔
- وہ والدین جو صرف اپنی نسلی برادری تک شادی کو محدود رکھنے پر اصرار کرتے ہیں، عموماً امتی اقدار سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔
- خصوصاً اقلیتی تناظر میں، مختلف نسلی گروہوں کے درمیان شادیاں امتی روابط کو تقویت دیتی ہیں اور باہمی تقسیم کو کم کرتی ہیں۔
نوجوانی میں خودمختاری اور خاندانی تربیت کا توازن
- نوجوانوں کی نشوونما خودمختاری، اختیار اور جستجو کے تجربے سے ہوتی ہے؛ اس لیے والدین کو اس کے لیے مناسب گنجائش فراہم کرنی چاہیے۔
- اسلامی اعمال کی پابندی یا قرآنِ کریم کے حفظ کے لیے زبردستی کرنا بعض اوقات الٹا اثر ڈال سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ذہنی دباؤ یا اسلام کے ساتھ غیر متوازن تعلق پیدا ہو سکتا ہے، جب کہ بچے کے اختیار اور انتخاب کو تقویت دینا عموماً زیادہ مثبت اور پائیدار نتائج کا باعث بنتا ہے۔
- اگرچہ نوعمری میں بچے عارضی طور پر دوری اختیار کر سکتے ہیں، تاہم ابتدائی جوانی میں وہ عموماً دوبارہ قریب آ جاتے ہیں، جب وہ سیکولر طرزِ زندگی کی حدوں اور اس کے اثرات کو سمجھنے لگتے ہیں۔
- اس پورے عمل میں والدین کی شفقت اور کشادہ دلی بنیادی اہمیت رکھتی ہے؛ انہیں چاہیے کہ اپنے بچوں کے لیے دروازے ہمیشہ کھلے رکھیں اور کسی بھی صورت میں انہیں خود سے الگ نہ کریں، حتیٰ کہ اگر بچہ یہ کہے: "میں اب مسلمان نہیں رہا۔”
فرقہ واریت کا تدارک
- وہ بچے جو صرف اپنی نسلی برادری کے غالب فقہی مسلک سے واقف ہوتے ہیں، عموماً امت میں موجود دیگر فقہی مکاتب کو درست اور معتبر سمجھنے کی صلاحیت سے محروم رہتے ہیں۔
- والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو شعوری طور پر مختلف فقہی روایات سے متعارف کرائیں، مثلاً مراکش میں مالکی اور جنوبی ایشیا میں حنفی روایت۔
- اسلامی تاریخ کی تعلیم اس امر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ یہ اختلافات ایک وسیع، متنوع اور معتبر علمی روایت کا حصہ ہیں۔
- ذاتی اور سیاسی وابستگیاں ہمیشہ یکساں نہیں ہوتیں؛ مسلمان، عقیدتی اور فرقہ وارانہ اختلافات کے باوجود، اتحاد اور باہمی تعاون کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، جیسا کہ فلسطین کے حوالے سے یمن کی حمایت کی مثال سے واضح ہوتا ہے۔
شناخت کو سمجھنا
- امتی شناخت—جس میں مذہبی اور سیاسی دونوں جہتیں شامل ہیں—اس مذہبی شناخت سے مختلف ہے جو صرف ذاتی تقویٰ سے متعلق ہوتی ہے۔
- اس کا مقصد یہ نہیں کہ ذاتی تقویٰ کو امت سے الگ سمجھنے والے سیکولر تصور کی تائید کی جائے، بلکہ یہ تسلیم کرنا ہے کہ نفسیاتی طور پر یہ شناخت موجود ہوتی ہے کیونکہ بچوں کو اسی طرح سوچنے کی سماجی تربیت دی جاتی ہے۔
- والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس امتی شناخت کی آبیاری شعوری طور پر کریں اور اس مقصد کے لیے روایتی مذہبی تعلیم کے اُن طریقوں سے آگے بڑھیں جو دین کو محض ذاتی تقویٰ تک محدود کر دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا
- بچوں پر سوشل میڈیا کے اثرات نہایت وسیع اور گہرے ہیں، جن کا مکمل اندازہ لگانا آسان نہیں۔
- ہر فرد کسی نہ کسی صورت سوشل میڈیا سے وابستہ ہے؛ حتیٰ کہ وہ بچے بھی اس کے اثر سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہتے جو اس سے دور رکھے جاتے ہیں۔ اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی اپنی سماجی دنیا سے جڑنے کی خواہش کو سمجھیں اور اس کی مناسب رہنمائی کریں۔
- بچے اس فضا میں باآسانی ہیرا پھیری، ظاہری تاثر کے حد سے بڑھے ہوئے احساس، اور شناختی الجھن کا شکار ہو سکتے ہیں۔
- یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز خاص طور پر اس لیے خطرناک ہیں کہ ان کے الگورتھم بچوں کو تدریجاً نامناسب مواد کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
- اس ضمن میں چند عملی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں:
- اسمارٹ فون تک رسائی کو نوجوانی کے آخری مراحل تک مؤخر کرنا۔
- یوٹیوب کے بجائے ویڈیو گیم کنسول جیسے محدود اور قابلِ نگرانی آلات کو ترجیح دینا۔
- بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویّوں کی تعلیم دینا۔/li>
امتی تکنیکی اور ثقافتی خودمختاری
- امتی تکنیکی خودمختاری اور ایسی ٹیکنالوجیوں کی ترقی ایک بنیادی مسئلہ ہے جو اسلامی اقدار کے تابع ہوں، نہ کہ سیکولر سرمایہ دارانہ منطق کے۔
- بچے درسی کتب اور رسمی تعلیم کے مقابلے میں زیادہ تر ثقافتی اثرات سے متاثر ہوتے ہیں؛ گانے، کہانیاں اور تفریح ان کے نقطۂ نظرِ حیات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
- اسلامی اقدار اور عالمی مسلم بیانیوں کی عکاسی کرنے والا امتی میڈیا اور ادب تیار کرنا نہایت اہم ہے، جس میں افسانہ، کارٹون، ویڈیو گیمز اور بورڈ گیمز شامل ہوں۔
- اس وقت معیاری مسلم ادب کی واضح کمی پائی جاتی ہے جو نوجوانوں سے براہِ راست مخاطب ہو۔
- تفریحی مطالعہ کو شعوری طور پر فروغ دینا چاہیے:
- گھریلو کتب خانے قائم کیے جائیں۔
- مطالعے کی عادت کا عملی نمونہ پیش کیا جائے۔
- اجتماعی مطالعے کی سرگرمیوں کو رواج دیا جائے۔
- حتیٰ کہ مطالعے کے لیے بھی آلات پر حد سے زیادہ انحصار سے گریز کیا جائے۔
اختتامی تأملات
- قرآن کی تلاوت کو انبیاء کے واقعات اور سیرت کے ساتھ مربوط کیا جا سکتا ہے۔
- امتی ادب، جو کسی حد تک عربی میں موجود ہے، اسے مختلف زبانوں میں منتقل کر کے وسیع پیمانے پر دستیاب بنایا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر عثمان عمر جی
ڈاکٹر عثمان عمر جی اسلام اور تعلیمی نفسیات کے اسکالر ہیں۔ انہوں نے قاہرہ، مصر کی الازہر یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی، ارون سے تعلیم میں۔ وہ اس وقت یاقین انسٹی ٹیوٹ فار اسلامک ریسرچ میں سروے ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ ایک تجربہ کار مذہبی اسکالر اور ترقی پسند سائنس دان ہیں جو مذہب، نفسیات اور تعلیم کے باہمی ربط پر تحقیق کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کی مہارت کے شعبوں میں مذہبیت کی ترقی، انسانی ترغیب اور فیصلہ سازی شامل ہے۔


