امت کی امتیازی حیثیت اور دوہری رسوائی کا امکان

یہ مقالہ وحدتِ امت کے موضوع پر پیش کیے جانے والے ایک سلسلہ وار علمی مکالمے کی تمہیدی کڑی ہے،اس سلسلے کا تعارفی مضمون یہاں ملاحظہ فرمائیں:

لا يصلُحُ آخرَ هذه الأمّة إلا بما صَلُحَ به أولُها

"اس امت کا آخری دور بھی اُسی نسخۂ اصلاح کا محتاج ہے، جس نے اس کے ابتدائی دور کو سنوارا تھا۔” 1

خلاصہ:

امتِ مسلمہ نے جو عہدِ میثاق اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم کیا ہے، وہ بیک وقت شرف کا مقام بھی ہے اور ایک عظیم ذمہ داری بھی۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ امت کو دنیا میں سرفرازی اور آخرت میں نجات صرف اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے، جب وہ اسلامی وحدت اختیار کرے—یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو ۔ یقیناً انفرادی تقویٰ اس راستے کا پہلا اور ناگزیر مرحلہ ہے، لیکن اسے اجتماعی دینی فریضے سے تغافل، تحقیر یا اعراض کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر ہم نے اس بنیادی ذمہ داری کو نظرانداز کیا، تو اندیشہ ہے کہ ہمارا انجام بھی اُن یہودی قبائل جیسا ہو جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر ملامت فرمائی کہ وہ الٰہی کتاب پر جزوی ایمان رکھتے تھے اور بعض احکام کو دانستہ طور پر رد کر دیتے تھے ۔

امتِ مسلمہ، جو خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ کی امت ہے، ایک ایسے الٰہی منصب کی حامل ہے جو بیک وقت اعزاز بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اسے یہ فریضہ سونپا گیا ہے کہ وہ انسانیت کے سامنے حق کی گواہی دے—یعنی منصبِ شہادت علی الناس ادا کرے۔ یہ دراصل وہی ذمہ داری ہے جو خاتم الانبیاء کی بعثت کے بعد اس امت کو سونپی گئی۔ یہ امتیاز نہ کسی نسلی نسبت کی بنا پر ہے، نہ قومی شناخت یا لسانی وابستگی پر؛ بلکہ اس بنیاد پر ہے کہ اس امت نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ وہ اُس کے پیغام کو دنیا تک پہنچائے گی، اور اپنے کرداریہ قول امام مالک بن انسؒ کی طرف منسوب ہے۔

کے ذریعے اس کی عملی تعبیر پیش کرے گی۔ وہ انسانیت کے درمیان حق و باطل کے فرق کو واضح کرنے والی گواہ کے طور پر کھڑی ہوگی—خواہ یہ گواہی انسانوں کے حق میں ہو یا ان کے خلاف۔

‎﴿‏ وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا﴾

(( اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک "امت وسط” بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو)) 2

یہ عظیم ذمہ داری قوت، قیادت اور تنظیم کا تقاضا کرتی ہے—اور یہ تمام عناصر سیاسی وحدت کے بغیر ممکن نہیں۔

مسلم دنیا میں مغربی نظریات کی اندھی تقلید اور فکری خودمختاری کے فقدان نے کئی اذہان کو اس قدر محدود کر دیا ہے کہ جب وہ زوال کے اسباب پر غور کرتے ہیں، تو وہ بےساختہ اسی جواب کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، جو کسی مقبول مغربی نظریے کی کامیابی سے جڑا ہوا ہو۔ جیسے، "آزادی!” — لبرل فکر کا نمائندہ یہی تجویز پیش کرتا ہے؛ "معاشی مساوات!” — سوشلسٹ نقطۂ نظر اسی کو نجات دہندہ سمجھتا ہے؛ اور "صنفی مساوات!” — فیمینسٹ بیانیہ اسی کو فلاح کا راستہ قرار دیتا ہے۔ بعض حلقے جمہوریت، آئینی بالادستی، مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچوں، یا شی جن پنگ اور پیوٹن جیسے آمرانہ مگر فعال حکمرانوں میں تمام مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ یوں مختلف نظریات اور ان کے تجویز کردہ حل کی فہرست مسلسل طویل ہوتی جا رہی ہے۔ ان میں سے بعض کو یقیناً وقتی یا عملی لحاظ سے کچھ افادیت حاصل ہو سکتی ہے، تاہم یہ تمام جوابات ایک جامع حقیقت تک رسائی فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

تاہم، وہ اصل صداقت جسے اہلِ ایمان بلا تردّد اور یقین کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں، ہمیشہ ایک ہی رہی ہے: ایمان۔ یا اگر اسے رسول اللہ کے الفاظ میں بیان کیا جائے تو وہ "الوھن” ہے جسے آپ نے امت کی سب سے بڑی کمزوری کے طور پر ذکر فرمایا یعنی: "دنیا کی محبت اور موت سے کراہت” 3 ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو آج بھی امتِ مسلمہ کے ہر گوشے میں منبروں سے سنائی دیتی ہے۔چونکہ رسولِ اکرم کا ارشاد ہے کہ ایمان کی شاخیں ستر سے کچھ زائد ہیں، لہٰذا بنیادی سوال یہی ہے کہ ہم ان میں سے کن صفات سے محروم ہو چکے ہیں؟ اور یہ کہ ان کی بازیافت کس حکمت اور طریقے سے ممکن ہے؟یہ سوال نہ صرف فکری و نظری سطح پر اہم ہے، بلکہ یہ ایسا سوال ہے جس پر سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ کوئی ایسی بات نہیں جو سمجھ سے بالاتر ہو یا کسی پردے میں چھپی ہوئی ہو، بلکہ ایک نمایاں حقیقت ہے جو قرآن پڑھنے والے پر یوں ظاہر ہوتی ہے جیسے کوئی سچائی بار بار پکار کر اپنی طرف متوجہ کر رہی ہو۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں نہ صرف براہِ راست اس حقیقت سے آگاہ فرمایا، بلکہ پچھلی امتوں—یعنی اہلِ کتاب—کی تاریخ و سیرت میں بھی ہمارے لیے عبرت کے کئی پہلو رکھے، جنہیں ہم سے قبل الٰہی پیغام اور منصبِ شہادت عطا ہوا تھا۔ ایک معروف حدیث میں رسول اللہ نے واضح تنبیہ فرمائی: ((تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے”)) 4 ۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟ فرمایا پھر اور کون۔ قرآن مجید نے سابقہ اقوام کا ذکر کرتے ہوئے نہ صرف ان کی لغزشوں اور انجام سے ہمیں خبردار کیا، بلکہ آئندہ پیش آنے والے فتنوں، آزمائشوں اور تجدید و استقامت کے وسائل سے بھی آگاہ کیا۔ لہٰذا، ہر دور کی اصلاحی تحریک کی طرح، آج بھی تجدید و احیائے دین کا واحد نقطۂ آغاز اللہ کے کلام کی طرف صدقِ دل سے رجوع ہے۔

سابقہ اقوام سے سبق: سیاسی وحدت اور یکجہتی امت کا ناگزیر تقاضا

یہ قرآن مجید کی ایک صریح نص ہے، جس میں اُس قوم کے انجام کی وجہ بیان کی گئی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کبھی ہدایت اور انبیاء جیسے عظیم انعامات سے نوازا تھا، مگر وہ اپنے ایک سنگین گناہ کے باعث اس کے عذاب کا مستحق ٹھہری۔

﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنفُسَكُم مِّن دِيَارِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ ‎﴿٨٤﴾‏ ثُمَّ أَنتُمْ هَٰؤُلَاءِ تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِّنكُم مِّن دِيَارِهِمْ تَظَاهَرُونَ عَلَيْهِم بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِن يَأْتُوكُمْ أُسَارَىٰ تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ ۚ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ﴾‏

))پھر ذرا یاد کرو، ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ ایک دوسرے کو گھر سے بے گھر کرنا تم نے اس کا اقرار کیا تھا، تم خود اس پر گواہ ہو، مگر آج وہی تم ہو کہ اپنے بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو، اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بے خانماں کر دیتے ہو، ظلم و زیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھے بندیاں کرتے ہو، اور جب وہ لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں، تو ان کی رہائی کے لیے فدیہ کا لین دین کرتے ہو، حالانکہ انہیں ان کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھا تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے، جو تم کر رہے ہو)) 5

جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت کے مخاطبین مدینہ کے وہ یہودی قبائل ہیں، جنہوں نے بعثتِ نبوی ﷺ سے قبل مشرک عرب قبائل—جو باہم برسرِ پیکار تھے—سے سیاسی اتحاد قائم کیا۔ اس اتحاد کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُنہوں نے اپنے ہی ہم مذہب یہودی گروہوں کے خلاف نہ صرف قتال کیا، بلکہ ان کی جلاوطنی اور اسیری جیسے مظالم میں بھی عملاً شریک ہو گئے۔جب یہی قیدی ان کے ہاتھ لگتے، تو وہ تورات کے حکم کے مطابق ان کا فدیہ ادا کر کے انہیں رہا کرتے—یوں گویا وہ اپنے مذہبی قانون کی پاسداری کا مظاہرہ کرتے تھے۔تاہم، جب انہوں نے سیاسی مصلحت اور معاشی منفعت کے تحت مشرکین کا قبائلی نظام اپنا لیا، تو درحقیقت وہ اس عہد کی بنیادی روح سے انحراف کر بیٹھے جو انہوں نے اپنے رب سے باندھا تھا۔ انہوں نے حسبِ مفاد قبائلی وابستگیاں اختیار کیں اور اپنے ہم مذہبوں کے خلاف تلوار اٹھائی، یہاں تک کہ خود بھی داخلی تفرقے اور خانہ جنگی کا شکار ہو گئے۔ البتہ جب کوئی شرعی حکم ان کو بظاہر سہل یا فائدہ مند محسوس ہوتا —جیسا کہ قیدیوں کی رہائی کا حکم—تو وہ اس پر اہتمام کے ساتھ عمل کرتے، حالانکہ انہی قیدیوں کی حالتِ زار کے اصل ذمہ دار وہ خود تھے۔معتبر تاریخی مصادر اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ اپنے مذہبی قانون کی سطحی پیروی میں نہایت متشدد دکھائی دیتے تھے، اور بعض مواقع پر اس راہ میں ذاتی نقصان تک برداشت کر لیتے تھے 6 ۔

ان آیاتِ مبارکہ میں جس گناہ کو غیر معمولی صراحت اور شدت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، وہ سیاسی وحدت کو ترک کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جرم کے ارتکاب پر جو سزا بیان فرمائی، وہ دوہری ذلت کی صورت میں ظاہر ہوئی: دنیا میں رسوائی اور پستی، اور آخرت میں دردناک عذاب۔ یہ سزا اُن لوگوں کے طرزِ عمل کا نتیجہ ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو اپنی خواہشات کے مطابق چن لیا—کچھ احکام پر عمل کیا اور باقی کو نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے سیاسی اتحاد جیسے واجب شرعی حکم کو پسِ پشت ڈالا، اور اپنے معاشرے کے ہر قبیلے اور ہر مؤمن کی جان و مال کے تحفظ سے متعلق الٰہی ہدایات کی صریح خلاف ورزی کی۔ قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ قرآن مجید نے ان کے اس رویے کو کفر (تَكْفُرُونَ) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے—باوجود اس کے کہ وہ انفرادی سطح پر صدقات دیتے، عبادات کی ظاہری پابندی کرتے، اور رفاہی سرگرمیوں میں فعال نظر آتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اپنے ہی ہم مذہب افراد کی جان و مال کی حرمت کو پامال کیا، اس لیے وہ اس دنیوی و اخروی ذلت کے سزاوار ٹھہرے۔

انہوں نے خود کو مختلف قبائل میں تقسیم کر لیا— بعینہٖ وہی طرزِ عمل جو آج کے مسلمان قومی ریاستوں کی شکل میں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مشرکین کے ساتھ سیاسی مفاہمت کے معاہدے قائم کیے، اور یہی رجحان عصرِ حاضر کی متعدد مسلم ریاستوں میں بھی نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ آج عالمِ اسلام میں شاید ہی کوئی سرحد ایسی ہو جو باہمی کشیدگی، دشمنی یا رقابت سے محفوظ ہو۔سعودی عرب اور یمن، ایران اور عراق، پاکستان اور افغانستان، مصر اور سوڈان، الجزائر اور مراکش—ان تمام ممالک کی سرحدیں باہم تصادم، خونریزی اور سیاسی انتشار کی علامت بن چکی ہیں، جب کہ ان کے پس منظر میں اکثر اسلام مخالف قوتوں سے سیاسی یا عسکری وابستگی بھی کارفرما رہی ہے۔سعودی-ایرانی کشمکش نے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے، اور گزشتہ ایک دہائی میں شام و یمن میں وقوع پذیر ہونے والے انسانی المیے اسی سیاسی تصادم کا نتیجہ ہیں۔اسی تسلسل میں، غزہ کے حالیہ المیے پر مسلم ریاستوں کی اجتماعی سطح پر مجرمانہ خاموشی اور واضح بےحسی اُس دوہری ذلت کا عینی مظہر ہے، جس سے قرآن پہلے ہی خبردار کر چکا ہے ۔

جو لوگ مسلمانوں کو سیکولر قومی ریاست کے ساتھ مصالحت کا مشورہ دیتے ہیں، انہیں سنجیدگی سے اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک منتخب شدہ قوم کے بارے میں واضح طور پر فرمایا: ((اور ہم نے انہیں زمین میں مختلف قوموں میں تقسیم کر دیا)) 7 ۔یہ تقسیم ان کے حق میں کسی تمدنی ارتقاء کا مظہر نہ تھی، بلکہ عذابِ الٰہی کی نہایت سخت صورت تھی۔اس آیت میں امت کے لیے ایک ایسا واضح اور قطعی پیغام موجود ہے جو غفلت کی کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑتا۔ وہ امت جو الٰہی پیغام کی امین بنائی گئی ہو، اگر وہ اس کی اطاعت سے منہ موڑے، یا اللہ کی کتاب کے بعض احکام کو اختیار کر کے بعض کو ترک کر دے، تو وہ بھی اس دوہری ذلت کی مستحق قرار پاتی ہے۔ اگر امت انفرادی عبادات اور اخلاقی ضوابط میں سختی برتتی ہو، مگر امتّی وحدت جیسے شرعی حکم کو جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی ہو، تو ایسی جزوی دینداری نجات کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کرتی۔

قرآن و سنت بارہا امتِ مسلمہ کو پچھلی اقوام کی لغزشوں سے بچنے کی تنبیہ کرتے ہیں۔ ان میں سب سے ہلاکت خیز اور بارہا دہرایا جانے والے اعمال، مومنوں کے مابین تفرقہ اور نزاع ہے۔ اللہ تعالیٰ جب بھی کسی ایسی امت کا ذکر فرماتے ہیں جسے وحی کی نعمت سے سرفراز کیا گیا ہو، تو جس بنیادی انحراف کو نمایاں کرتے ہیں، وہ یہی ہے کہ وہ آپس میں جھگڑ پڑے، گروہوں میں بٹ گئے، اور ایک دوسرے پر زیادتی کرنے لگے۔ قرآنِ مجید میں اس قسم کے رویے کو بیان کرنے کے لیے جو الفاظ بارہا استعمال کیے گئے ہیں، وہ یہ ہیں: تَفْرِقَہ، اِخْتِلَاف، تَنَازُع، اور بَغْی 8 —یعنی تقسیم، جھگڑا ، نزاع، اور زیادتی۔ اس کے برعکس، وحدت، دلوں کے درمیان الفت (تألیف)، صفوں کا اجتماع، اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا (اعتصام)—یہ سب وہ اقدار ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں اور عنایات میں شمار فرماتے ہیں، اور ان کو ہدایت یافتہ امت کی علامات قرار دیتے ہیں۔

جب کوئی مذہبی امت اپنا سیاسی اختیار اور خودمختاری کھو بیٹھتی ہے اور مختلف تمدنی و سیاسی سانچوں میں تحلیل ہو جاتی ہے، تو اس کی مذہبی شناخت اور فکری وحدت ناگزیر طور پر خطرے سے دوچار ہو جاتی ہے۔ یہ حقیقت بالخصوص یہودی تاریخ میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معروف امریکی سیاسی مفکر اور یہودی النسل دانشور مائیکل والزر لکھتے ہیں کہ جب یہودی قوم کو سیاسی آزادی سے محرومی کا سامنا ہوا، تو ان کی مذہبی فکر میں گہری فکری تبدیلیاں رونما ہوئیں: "چونکہ جلاوطن یہودی مصنفین اس تجربے کو اس کی اصل صورت میں ازسرِ نو اختیار کرنے کی حالت میں نہ تھے، جس کی نمائندگی عبرانی بائبل میں موجود تھی، اس لیے وہ اس کے مفہوم کی ایک بنیادی ازسرِنو تعبیر، یا — زیادہ درست الفاظ میں — اس کی ایک مسلسل تعبیری تشکیل پر مجبور ہو گئے” 9۔

اور اسی حقیقت کو امام الماورديؒ (متوفی 1058ء) نے کہیں زیادہ بصیرت افروز انداز میں یوں بیان فرمایا ہے:

فَلَيْسَ دِينٌ زَالَ سُلْطَانُهُ إلَّا بُدِّلَتْ أَحْكَامُهُ، وَطُمِسَتْ أَعْلَامُهُ. وَكَانَ لِكُلِّ زَعِيمٍ فِيهِ بِدْعَةٌ، وَلِكُلِّ عَصْرٍ فِيهِ وِهَايَةُ أَثَرٍ. كَمَا أَنَّ السُّلْطَانَ إنْ لَمْ يَكُنْ عَلَى دِينٍ تَجْتَمِعُ بِهِ الْقُلُوبُ حَتَّى يَرَى أَهْلُهُ الطَّاعَةَ فِيهِ فَرْضًا، وَالتَّنَاصُرَ عَلَيْهِ حَتْمًا، لَمْ يَكُنْ لِلسُّلْطَانِ لُبْثٌ وَلَا لِأَيَّامِهِ صَفْوٌ، وَكَانَ سُلْطَانَ قَهْرٍ، وَمَفْسَدَةَ دَهْرٍ.

جب دین کو اقتدار کی پشت پناہی حاصل نہ رہے، تو نہ اس کے احکام محفوظ رہتے ہیں اور نہ ہی اس کی علامات باقی رہتی ہیں۔پھر ہر دور کے اربابِ اختیار اپنی من پسند بدعات کو اس میں شامل کرتے ہیں، اور دین کی اصل روایت سے منحرف ہو کر اسے اپنی فکری ترجیحات کے تابع بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح، اگر کوئی سلطنت کسی ایسے دین پر قائم نہ ہو جو قلوب کو جوڑنے کی معنوی قوت رکھتا ہو—اور جس کی اطاعت و نصرت کو حکمران شرعی فریضہ نہ سمجھیں—تو وہ سلطنت نہ صرف داخلی استحکام سے محروم ہو جاتی ہے، بلکہ اس کی بقاء بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ بالآخر ایسی ریاست ظلم و استبداد اور فتنہ و فساد کا سرچشمہ بن جاتی ہے، جو زمانے کے لیے ایک وبال کی صورت اختیار کرتی ہے۔

جو لوگ سادہ لوحی میں یہ گمان رکھتے ہیں کہ اسلام کو سیکولر قالب میں ڈھال کر صرف انفرادی زندگی تک محدود کر دینا، اور ان جدید خودمختار ریاستوں کی سیاست اختیار کر لینا—جو ماضی کے اندلس کی چھوٹی چھوٹی منتشر مسلم حکومتوں کی یاد تازہ کرتی ہیں—انہیں اسلامی وجود کے خلاف صلیبی تحریک جیسے انجام سے محفوظ رکھے گا، یا یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے اجتماعی مصائب سے منہ موڑ کر بھی وہ دینی نجات کے حق دار بن سکتے ہیں، تو ایسے افراد کو اپنے رویے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اندلس کی وہ منتشر چھوٹی حکومتیں، جن کا نتیجہ مسلمانوں کے مکمل قتلِ عام، ذلت آمیز شکست، اور جزیرہ نما آئبیریا سے اسلام کے صفایا پر نکلا، آج بھی ہمارے لیے ایک زندہ اور عبرت خیز علامت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر آج کی مسلم اقلیتیں اور معاشرتیں، جنہیں گوناگوں خطرات لاحق ہیں، فکری وابستگی، وحدتِ امت، اور دینی بیداری اختیار نہ کریں، تو ان کا انجام بھی اسلامی تاریخ کے ایک اور خوں چکاں باب کے روپ میں سامنے آ سکتا ہے 10 ۔

اجمالاً، وہ قطعی الٰہی ہدایت جو اہلِ ایمان کو عطا کی گئی—یعنی اُس امت کو جو اللہ کے پیغام کی امین اور اس کی ہدایت کی وارث بنائی گئی—ہمیں بھی بعینہٖ اسی تاکید کے ساتھ دی گئی ہے جس طرح بنی اسرائیل کو دی گئی تھی: ((سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو)) 11 ۔ قرآنِ حکیم اسی سیاق میں یہ حقیقت بھی واضح فرماتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ ہدایت کو کلی طور پر اپنانا نہ صرف دنیوی فلاح اور سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ ہے، بلکہ دلوں کی تألیف اور اجتماعی وحدت کا بھی بنیادی ذریعہ ہے۔اور جب انسان اللہ کے پیغام کا کوئی حصہ پسِ پشت ڈال دیتا ہے، تو اس کے اثرات افتراق، عداوت، اور قلوب کے درمیان بغض کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے: ((اس کا ایک بڑا حصہ اُنہوں نے فراموش کر دیا آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دشمنی اور آپس کے بغض و عناد کا بیج بو دیا)) 12 لہٰذا، یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ قرآن کی یہ دونوں تعلیمات—یعنی دینِ الٰہی کی مکمل اطاعت اور بطورِ امت اس پر متحد ہو کر عمل کرنا—درحقیقت ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیں۔ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا نہ صرف شرعی طور پر ناقابلِ قبول ہے، بلکہ تمدنی اور تہذیبی سطح پر بھی مہلک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

میثاقِ امت: ایک امتیازی حیثیت

چونکہ امتِ مسلمہ کو دیگر اقوام پر گواہ بننے کے لیے منتخب کیا گیا ہے، اس لیے اس کی حیثیت غیرمعمولی اور امتیازی ہے۔ اس انتخاب کو ہم "امتّی امتیاز” سے تعبیر کر سکتے ہیں ۔ یہ امتیاز اُس میثاقِ ربانی پر قائم ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اس امت سے لیا تھا، اور جس کی پاسداری ہی دنیا و آخرت میں فلاح یا خسران کا فیصلہ کن معیار ہے۔

یہ عقیدہ کہ امتِ مسلمہ ایک امتیازی حیثیت کی حامل امت ہے—یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک خصوصی میثاق میں بندھی ہوئی ہے—اسلامی عقیدہ میں کوئی نئی یا اجنبی بات نہیں۔اہلِ ایمان نے ہمیشہ اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النبیین ہیں، اور اسی منصبِ ختمِ نبوت کے تقاضے کے تحت یہ امت اللہ کی آخری وحی کی امین، علمبردار، اور داعی قرار پائی ہے۔ اس عقیدے کا ایک ناگزیر تقاضا یہ بھی ہے کہ یہ امت اللہ کی نافرمانی یا احکامِ الٰہی سے انحراف کی حالت میں دنیاوی فلاح حاصل نہیں کر سکتی۔افسوس کہ اس عقیدے کے سیاسی اور سماجی مضمرات کو عمومی طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ امت منتخب اور ممتاز ہے، اس لیے وہ اللہ کی ہدایت سے روگردانی کرتے ہوئے، یا کتابِ الٰہی کے بعض احکام کو اختیار کرتے ہوئے بعض کو ترک کر کے، کبھی بھی حقیقی ترقی اور پائیدار استحکام حاصل نہیں کر سکتی۔

یہی حقیقت اس نکتہ کو بھی آشکار کرتی ہے کہ مسلم قومی ریاستیں اس دنیاوی ترقی سے کیوں محروم رہیں، جو بعض غیراسلامی اقوام نے سیکولرزم، سرمایہ داری، قوم پرستی، اور دیگر غیر اسلامی نظریات کے ذریعے حاصل کی—حالانکہ یہی فکری و سیاسی اسالیب مسلم ریاستوں نے بھی اپنائے تھے۔یہ محرومی درحقیقت اسی اصولی تصور کا منطقی نتیجہ ہے، جسے ہم "امتّی امتیاز” سے تعبیر کرتے ہیں۔اگر ہم دینی اصولوں سے روگردانی کرتے ہوئے، غیروں کی مشابہت میں عزت اور سرفرازی کے خواہاں ہوں گے، تو ہمیں ہمیشہ ناکامی و نامرادی کا سامنا کرنا پڑے گا۔اسی حقیقت کو امام مالکؒ نے نہایت بصیرت افروز انداز میں یوں بیان فرمایا: "لایصلح آخر ھذہ الأمۃ إلا بما صلح بہ أولھا” یعنی (اس امت کا آخری دور بھی اُسی نسخۂ اصلاح کا محتاج ہے، جس نے اس کے ابتدائی دور کو سنوارا تھا) ۔

امتّی امتیاز کے تصور کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ امت کی وحدت اور الٰہی ہدایت کے درمیان ایک گہرا ربط پایا جاتا ہے۔جب امت یکجہتی اختیار کرتی ہے، تو وہ اللہ کی خصوصی رہنمائی اور نصرت کی مستحق ٹھہرتی ہے۔ رسول اللہ نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا: "اللہ میری امت کو گمراہی پر مجتمع نہیں کرے گا” 13 ۔اسی مفہوم کی طرف جمہور مفسرین نے اس وقت اشارہ کیا، جب قرآن مجید نے امت کو بحیثیتِ مجموعی وارثِ نبوت، امینِ ہدایت اور شہادت علی الناس کا منصب عطا کیے جانے کی خبر دی 14 ۔

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض سیکولر مؤرخین نے بھی اسلام کی امتیازی حیثیت کو بعض پہلوؤں سے تسلیم کیا ہے۔ مثال کے طور پر، بعض محققین نے نشاندہی کی ہے کہ اسلامی خلافت، مغربی ایشیا کی طویل سلطنتی تاریخ میں ایک نادر مثال تھی—اس لیے کہ اس کی بنیاد کسی نسلی یا جغرافیائی مفاد پر نہیں، بلکہ ایک دینی پیغام پر استوار تھی؛ جب کہ تاریخ میں اکثر بڑی سلطنتوں میں مذہب محض ایک سیاسی ہتھیار رہا ہے، نہ کہ اس کا اصل محرّک۔

تاریخِ عالم کے بڑے واقعات میں شاید ہی کوئی واقعہ ایسا ہو جو اس حقیقت کو اُس حد تک قطعیت کے ساتھ نمایاں کرتا ہو، جس شدت کے ساتھ اسلام کے ظہور اور ابتدائی خلافت کے قیام نے اس امر کو آشکار کیا—کہ انسانی تمدن کی تشکیل صرف مادی طاقتوں کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ افکار و نظریات بھی اس میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ بجا ہوگا کہ بعض اوقات یہی نظریات تاریخی قوتوں کے توازن پر اس قدر اثرانداز ہوتے ہیں کہ وہ انسانی معاشروں کی بنیادی سمت متعین کر دیتے ہیں، اور ان کے لیے ایک ایسا پائیدار تمدنی سانچہ وضع کرتے ہیں جو صدیوں تک اپنی اثرانگیزی باقی رکھتا ہے 15۔

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان، جب اسلامی نظم و قیادت کے تابع رہے، تو انہوں نے دنیاوی میدانوں میں نمایاں کامیابی، کشادہ ذہنی، اور بالغ نظری کا مظاہرہ کیا—برعکس اُن تہذیبوں کے، جو مذہب ترک کر کے ان اوصاف کے دعوے دار بنیں۔

علمِ ادیان کے محققین اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اسلام اُن معدودے چند مذاہب میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جن کی بنیادی نصوص میں بطورِ دین اپنی منفرد شناخت کا شعور نہایت وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، اسلامی متن اور پیغام کا محفوظ رہنا، نیز مسلمانوں کا اپنے دین کی صداقت اور عصرِ حاضر میں اس کی معنویت پر مسلسل یقین اور التزام، اسلام کو ایک مخصوص فکری و تمدنی امتیاز عطا کرتا ہے 16۔

متعدد محققین نے اس پہلو کو بھی اُجاگر کیا ہے کہ اسلام کے سماجی اور سیاسی تصورات—جیسے آزادی، احتساب پر مبنی حکومت، سیاسی بیداری، اور اجتماعی وحدت—عصرِ جدید کے معروف تصورات کے مقابلے میں ایک ایسا متوازن، پائیدار اور اصولی متبادل پیش کرتے ہیں، جو فکری اور اخلاقی سطح پر یکساں طور پر مؤثر اور قابلِ عمل ہے۔

مسلم سیاسی شناخت نے دورِ جدید کے آغاز پر ایک واضح اور مؤثر کردار ادا کیا۔ اگرچہ جدید دنیا کے قومی تصور اور قوم پرستانہ نظامِ فکر نے اس شناخت کو کسی حد تک پس منظر میں دھکیلنے کی کوشش کی، تاہم شعورِ امّت نے اپنی معنوی پائیداری اور داخلی قوت کی بنیاد پر ابلاغی ذرائع کی وسعت سے بھرپور استفادہ کیا۔ چنانچہ اسلامی ربط و یگانگت کی وہ دیرینہ روایت، جو صدیوں سے مسلم دنیا کو جوڑے رکھتی آئی ہے، آج کی دنیا میں سرحدوں سے ماورا تحریکی امکانات کو جنم دے رہی ہے۔ اس کے برعکس، جدید قوم پرستی کے ظاہری غلبے کے باوجود، نسلی و قومی شناختیں اخلاقی بالادستی کا کوئی مستحکم معیار قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں دنیا کے اکثر مسلمان خود کو سب سے پہلے مسلمان اور بعد ازاں اپنی قومی ریاست کے شہری تصور کرتے ہیں 17 ۔

اسلام کو اس کے تاریخی تسلسل اور اعتقادی اساس کے متعدد پہلوؤں کی روشنی میں ایک ایسا دین قرار دیا گیا ہے جو بیک وقت جدید ترین بھی ہے اور مغربی جدیدیت کے لیے سب سے بڑا فکری چیلنج بھی 18 ۔

اختصار کے ساتھ کہا جائے تو، بحیثیتِ امتِ مسلمہ، ہماری فکری ترقی، تمدنی استحکام، اور معاشرتی و ادارہ جاتی اصلاح اسی وقت بارآور ہو سکتی ہے جب اس کی بنیاد اُس امتی شعور پر رکھی جائے جو وحدتِ امت، باہمی یگانگت، اور منصبِ شہادت علی الناس کے شعوری ادراک پر قائم ہو—یعنی وہی شعور جو اسلامی دعوت اور دینی ذمہ داری کا مرکزی محور ہے۔ اس کے برعکس، اگر اس اصولی بنیاد سے روگردانی کی جائے، تو ہم ناگزیر طور پر انحطاط و زوال کی اس گہرائی میں جا گریں گے، جو نہ صرف ہماری اجتماعی محرومی کا سبب بنے گی، بلکہ ہمیں اُس تاریخی اور الٰہی سزا کا سامنا بھی ہو گا، جس کی تعبیر قرآن "دوہری ذلت” کے الفاظ میں کرتا ہے: دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب۔

اوامیر انجم

اووامر انجم امیٹکسس انسٹیٹیوٹ میں چیف ریسرچ آفیسر ہیں۔ وہ 2019 میں یقین انسٹیٹیوٹ میں شائع ہونے والے مضمون “خلافت کون چاہتا ہے؟” کے مصنف ہیں، جو اس منصوبے کے لیے تحریک کا باعث بنا۔ وہ یونیورسٹی آف ٹولیڈو کے شعبہ فلسفہ و مذہبیات میں اسلامیات کے پروفیسر اور چیئر ہولڈر ہیں، *امریکن جرنل آف اسلام اینڈ سوسائٹی* (جسے پہلے *امریکن جرنل آف اسلامک سوشل سائنسز* کہا جاتا تھا) کے شریک مدیر ہیں، اور حال ہی میں یقین انسٹیٹیوٹ کے ریویو بورڈ کے ایڈیٹر ان چیف مقرر ہوئے ہیں۔

ان کی تحقیق کے شعبہ جات میں اسلامی تاریخ، الٰہیات، سیاسی نظریہ، اور عمومی تاریخ شامل ہیں۔ ان کی تصانیف میں اسلامی فکر میں سیاست، قانون اور برادری: تیمیاں لمحہ (کیمبرج یونیورسٹی پریس، 2012) اور الہی متلاشیوں کے درجات: ابن القیم کا ترجمہ مدارج السالکین (بریل، 2020) شامل ہیں، جو چار جلدوں پر مشتمل سیریز کی ابتدائی دو جلدیں ہیں۔

ان کی منتخب تصانیف یہاں دستیاب ہیں:
https://utoledo.academia.edu/OvamirAnjum

نوٹس

  1. یہ قول امام مالک بن انسؒ کی طرف منسوب ہے۔
  2. القرآن، سورۃ البقرہ، 2:143؛ نیز ملاحظہ ہو: سورۃ آلِ عمران، 3:110؛ سورۃ الحج، 22:78۔
  3. سنن ابو داؤد، حدیث: 4297
  4. یہ حدیث ابو سعیدؓ اور ابو ہریرہؓ سے مروی ہے، جسے امام بخاری (حدیث: 3456) اور امام مسلم (حدیث: 2669) نے روایت کیا ہے۔ حدیث میں مذکور پیمانے "شِبر” (ہتھیلی بھر) اور "ذِراع” (کہنی تک بازو) کے الفاظ ہیں۔
  5. القرآن، سورۃ البقرہ، 84-85
  6. ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، سورۃ البقرہ، آیت: 85 ،https://tafsir.app/ibn-katheer/2/85؛
  7. القرآن، سورۃ الأعراف، 168۔
  8. القرآن، سورۃ البقرہ: 103، سورۃ الشورى: 14؛ سورۃ آلِ عمران: 19، سورۃ الجاثیہ: 17، سورۃ البقرہ: 213، سورۃ البیّنۃ: 4۔
  9. Michael Walzer, “Introduction: The Jewish Political Tradition,” in Jewish Political Tradition, vol. 1, Authority, ed. Michael Walzer et al. (New Haven: Yale University Press, 2000), p. xxii.
    جب کوئی مذہبی امت اقتدار اور خودمختاری سے محروم ہو جاتی ہے، تو وہ اپنی بقاء کے لیے اکثر اپنے تصورِ حق میں تاویلی نرمی یا فکری لچک کا راستہ اختیار کرنے لگتی ہے۔ ممکن ہے کہ قرآنِ مجید میں جس تاریخی تفرقے کا ذکر آیا ہے—”اور ہم نے انہیں زمین میں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا” (الاعراف: 168)—وہ اسی جلاوطنی اور بکھراؤ کی طرف اشارہ ہو، جسے بعض مفسرین نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تعزیری عذاب قرار دیا ہے۔
  10. ابتدائی تاریخی تجزیے کے لیے دیکھیے:
    Hugh Kennedey, Muslim Spain and Portugal: A Political History of al-Andalus (Routledge, 1996), Ch 6, 8.
    مصنف اس بحث کے اختتام پر یہ جامع نتیجہ اخذ کرتا ہے: "مسلمانوں کا باہمی انتشار ان کی کمزوری کا ایک بڑا سبب تھا”—کیونکہ اس دور کے مسلم حکمران مسلسل اپنے ہی ہم مذہبوں کے خلاف، عیسائی اتحادیوں کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ (صفحہ 306)۔
  11. القرآن، سورۃ آلِ عمران، 103۔
  12. القرآن، سورۃ المائدہ، 14۔
  13. جامع الترمذی، حدیث: 2167؛ اسے امام البانی اور شیخ شعیب الأرناؤوط نے صحیح قرار دیا ہے۔ حدیث کا اصل متن ہے: إنَّ اللَّهَ لا يَجمعُ أمَّتي— أو قالَ: أمَّةَ محمَّدٍ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ — علَى ضلالةٍ، ويدُ اللَّهِ معَ الجماعةِ، ومَن شذَّ شذَّ إلى النَّار.ِ
  14. دیکھیے: القرطبی، الجامع لأحكام القرآن، تفسیر سورۃ البقرہ، آیت 143؛ جہاں وہ اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں، "ہمارے علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہمیں اپنے خاص فضل سے آگاہ فرمایا کہ اس نے ہمیں عدالت کے اسم سے موسوم فرمایا اور تمام مخلوق پر گواہی کا مرتبہ عطا فرمایا۔ اس نے مرتبہ کے اعتبار سے ہمیں اول بنایا اور زمانہ کے اعتبار سے آخر بنایا۔ ” اور مزید فرماتے ہیں، "اس میں اجماع کی صحت اور اس کے ساتھ حکم کے وجوب پر دلیل ہے "۔
  15. William H. McNeill, Pursuit of Power: Technology, Armed Force, and Society since A.D. 1000, 2nd ed (University of Chicago Press, 1984), 21.
  16. موجودہ دور میں کسی بھی مذہبی متن کے برعکس، قرآن مجید ایک ایسا صحیفہ ہے جو اپنی الٰہی حیثیت کا شعور نہایت واضح طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک مکمل عقیدہ اور عملی نظام کے ساتھ ایک مستقل دین کی دعوت دیتا ہے، بلکہ مخالفین کے اعتراضات کی نشاندہی کر کے ان کا مدلل جواب بھی پیش کرتا ہے، اور یہودیت و نصرانیت جیسے سابقہ ادیان کے مقابلے میں اپنا اصولی و قطعی موقف بھی واضح کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ وہ واحد آسمانی کتاب ہے جس کے بارے میں اپنے اور مخالفین سب اس بات کا عمومی اعتراف کرتے ہیں کہ یہ تحریف سے محفوظ ہے۔
  17. Michael Cook, Ancient Religion, Modern Politics (Princeton University Press, 2014), 52
    کک کی تحریر محض اسلامی سیاسی شناخت تک محدود نہیں، بلکہ وہ اسلام کی امتیازی حیثیت کو دیگر متعدّد سطحوں پر بھی نمایاں کرتے ہیں، بالخصوص اُن مذاہب کے مقابلے میں جو مغربی دنیا سے باہر وسیع اثر رکھتے ہیں، جیسے کیتھولک عیسائیت اور ہندومت۔وہ اسلام کو سماجی تنظیم (اسلامی مساوات اور باہمی یگانگت؛ ص 213–214)، سیاسی ڈھانچے (ص 359)، اور عسکری و دفاعی اقدار (ص 247) کے اعتبار سے ایک منفرد مذہب قرار دیتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کی بھی نشان دہی کرتے ہیں کہ بہت سے مسلمان اپنی مذہبی وابستگی میں اس قدر اصولی شدت رکھتے ہیں کہ وہ اپنی مقدس کتاب کو قطعی، مکمل خطا سے پاک مانتے ہیں، اور اس کی اصلی صورت کو بعد کی تفسیری توجیہات پر فوقیت دیتے ہیں (ص 373)۔
  18. یہ شادی حامد کے اس تصور کی توضیح ہے، جو انہوں نے اپنی کتاب:
    Islamic Exceptionalism: How the Struggle Over Islam is Reshaping the World (New York: St. Martin’s Press, 2017),، میں پیش کیا ہے۔ ان کا مؤقف نہ صرف مائیکل کک کے بیان کردہ نکتۂ نظر پر استوار ہے، بلکہ وہ اس میں بعض نئے فکری زاویے بھی شامل کرتے ہیں۔

مزید دریافت کریں۔

امتی بچوں کی پرورش: والدین کا چیلنج

نومبر 1, 2025
ڈاکٹر عثمان عمر جی

بین المسلمین گہرے اختلافات کا انتظام

نومبر 1, 2025
عمیر انجم اور ڈاکٹر یاسمین دافع اللہ

سائبر امت، الگورتھمک بالادستی، اور ڈیجیٹل ڈیکالونائزیشن

اکتوبر 31, 2025
ڈاکٹر سحر خامس

نیویگیٹ کریں

امّیٹکس فورمز
توجہ کے علاقے
تحقیقی مقالات
اشاعتیں
امّیٹکس کے بارے میں
تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

تلاش کریں۔

ہمارے نیوز لیٹر میں سائن اپ کریں۔